بیادرفتگان رسول بخش نسیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 1
  •  

کئی بار قلم اٹھایا اور رکھ دیا، آنکھیں دھندلا جائیں تو لکھنا مشکل ہو جاتا ہے، کوئی زندگی کی رعنائیوں کا مرثیہ بے نم آنکھوں سے لکھ کر دکھائے تو مانوں، آخری قدم قبرستان سے باہر رکھنے لگا تو ایک بار پھر مڑ کر دیکھا، مٹی کا ایک ڈھیر سامنے تھا، تو کیا وہ رعنائی خیال، وہ تبسم، وہ تکلم، وہ علم، وہ بصیرت، وہ حسن خلق، سب پیوند خاک ہو گئے؟ کیا ان سے دائمی محرومی ہی انسان کا مقدر ہے؟ لگا دل اچھل کر سامنے آگیا ہے، دل نے چاہا کہ میں اس خاک سے مخاطب ہو کر غالب کے الفاظ میں شکوہ کروں کہ تو نے ”یہ“ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے؟ اداسی نے پاؤں جکڑ لئے، اللہ کا شکر کہ مرشد اقبال ؒ آگئے اور میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں سنبھل گیا، جکڑے ہوئے قدم اٹھنے لگے، انہوں نے سرگوشی کی

فرشتہ موت کا چھوتا ہے گو بدن تیرا
ترے وجود کے مرکز سے دور رہتا ہے

اوچ شریف میں صحافت کی باوقار شخصیت رسول بخش نسیم، جنہیں دنیا نسیم صاحب کے نام سے جانتی رہے گی، میرے والد تو تھے ہی، بہترین دوست اور استاد بھی تھے، مربی اور محسن بھی تھے، 9 دسمبر 2000 ء کو جب آفتاب مشرق سے مغرب کی طرف گامزن تھا، آسمان صحافت کا یہ درخشاں ستارہ ٹوٹ کر دور کہیں خلاؤں میں گم ہو گیا، شمع صحافت کو خون جگر سے جلائے رکھنے کے فن سے آشنا رسول بخش نسیم کی پیدائش یکم اکتوبر 1932 ء کو پانچ دریاؤں کے حسین سنگم میں واقع تحصیل علی پور کے ایک دورافتادہ گاؤں ٹبہ برڑہ سرکی میں ہوئی، بچپن یتیمی میں گزرا، غربت کی وجہ سے زیادہ تعلیم حاصل نہ کر سکے البتہ زمانے کی ٹھوکروں نے انہیں بہت کچھ پڑھا دیا، نسیم صاحب جیسا وسیع المطالعہ اور متنوع ذوق رکھنے والا میں نے زندگی بھر نہیں دیکھا، مذہب، سیاست، سماج، ادب، فلسفہ، فنون لطیفہ۔

زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں ان کی معلومات بے پناہ اور تجزیہ انتہائی گہرا نہ ہو، جوانی میں قدم رکھتے ہی پاک فوج میں بحیثیت سپاہی بھرتی ہو گئے، فوج میں ان کی صلاحتیں نکھریں، اس لئے فوج میں انہوں نے تیزی سے ترقی کی، ادب اور شاعری سے انہیں بچپن ہی سے لگاؤ تھا، چنانچہ وقتاً فوقتاً افواج پاکستان کے ماہنامہ جریدے ”ہلال“ میں لکھنے لگے، 1965 ء کی پاک بھارت جنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور سیالکوٹ کے محاذ پر دشمن کی گولہ باری سے زخمی ہوئے، ان کی فوجی خدمات کے اعتراف میں حکومت کی طرف سے انہیں میڈل بھی عطا کیا گیا، 1970 ء کی دہائی میں بطور صوبیدار انہوں نے پاک فوج سے ریٹائرمنٹ لے لی اور اپنے آبائی گاؤں کو خیر باد کہہ کر اوچ شریف کو اپنا مسکن بنا لیا، ریٹائرمنٹ کے بعد آُ نے کچھ عرصہ پڑھانے کا شغل اختیار کیا اور حکمت کا کام بھی کرتے رہے۔

اس دوران مسلسل اخبارات ورسائل میں کہانیاں اور مختلف موضوعات پر مضامین لکھتے رہے، اوچ شریف منتقل ہونے کے بعد انہوں نے تمام کشتیاں جلا کر صحافت اور ادب کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا، اوچ شریف سے انہوں نے امروز، مغربی پاکستان، نوائے وقت، دی نیشن، لیل ونہاراور الشمس سمیت کئی قومی ومقامی اخبارات و جرائد کی نمائندگی کی، آپ نے روزنامہ ”نوائے وقت“ کی مسلسل 30 سال تک نمائندگی کی، آپ نے اپنے علاقے کے مسائل اجاگر کرنے اور نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لئے انہوں نے اوچ شریف سے ماہنامہ ”جہاں گشت میگزین“ اور پندرہ روزہ اخبار ”نوائے اوچ“ کا آغاز کیا، انہوں نے اوچ پریس کلب کی بنیاد رکھی اور اس کے پہلے صدر منتخب ہوئے، تحصیل کی سطح پر صحافیوں کو منظم کرنے کے لئے یونین آف جرنلسٹ جبکہ نئے قلم کاروں کے لئے جہاں گشت رائیٹرز کلب جیسی تنظیموں کو قائم کر کے ادب اور صحافت کی عملی خدمت کی، آپ نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے بلکہ ان کے حل کے لئے عملی طور پر بھی کوشاں رہتے، حق سچ کہنے کی پاداش میں ان پر کئی قاتلانہ حملے بھی ہوئے لیکن کسی بھی موڑ پر انہوں نے اپنی کلاہ کو کج نہیں ہونے دیا۔

رسول بخش نسیم اصلاًعلم اور تحقیق کی دنیا کے آدمی تھے، اوچ شریف کی تاریخی حیثیت کے حوالے سے ان کی لکھی گئی تحقیقی کتاب ”روحانیت اوچ“ کو صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی طرف سے خصوصی انعام سے نوازا گیا تھا، ان کی خود نوشت داستان حیات ”پردے میں رہنے دو“ کے نام سے منصۂ شہود پر آچکی ہے، دیگر کئی کتابیں اور ناول ان کے قلم کی جولانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں، ادب اور صحافت کی خدمت کرتے کرتے آپ دل کے مریض بن گئے، دمہ کی تکلیف انہیں پہلے سے ہی تھی مگر انہوں نے لکھنا نہ چھوڑا، بعدازاں ان کی آنکھوں نے بھی جواب دے دیا، آپریشن وغیرہ کے ذریعے تھوڑی سی بینائی بحال ہوئی لیکن زیادہ لکھنے سے قاصر ہو گئے، اکتوبر 1999 ء میں لاہور میں مقیم اپنے چھوٹے بھائی حاجی رحیم بخش زاہد کی وفات کے بعد وہ تقریباً گوشہ نشین ہو گئے، اخبارات اور رسائل سے ان کا تعلق بس پڑھنے کی حس تک رہ گیا، باقی تمام وقت یادالٰہی اور یاد مصطفے ٰ ﷺ میں گزارت تھے، مئی 2000 ء میں ان کی شریک حیات فوت ہوئیں تو دنیا کی بے ثباتی پر ان کا یقین پختہ ہو گیا، اپنی شریک حیات کی وفات کے سات ماہ بعد رمضان المبارک کی مقدس ومعطر ساعتوں میں وہ بھی اپنے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

یہ جھلک ہے اس آدمی کی جسے 10 دسمبر 2000 ء کو ان کے آبائی قبرستان ٹبہ برڑہ تحصیل علی پور میں اپنے والدین کے پہلو میں سپردخاک کردیا گیا، آج سالوں پر پھیلی طویل رفاقت کی یادیں چین نہیں لینے دیتیں، آنکھیں پھر دھندلانے لگی ہیں، بس قلم رکھتا ہوں، اب ہاتھ غالب کے ہاتھ میں ہے

تھی وہ اک شخص کے تصور سے
اب وہ رعنائی خیال کہاں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 1
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں