جب داغ کسی کو لگتا ہے
شاہد تینوں ڈریس لے کر چل پڑا۔ شہلا اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ میرا دل بے طرح دھڑکنے لگا۔ شہلا کو روکنا چاہتی تھی لیکن کیسے روکتی۔ آفس میں لے جا کر شاہد نے جو کچھ کہا۔ اسے بلیک میلنگ کہا جاتا ہے۔
شہلا کی حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ شاہد مکاری سے مسکرا رہا تھا۔ اس نے ڈریسنگ روم میں خفیہ کیمرے سے شہلا کی وِڈیو بنا لی تھی۔ ایک جھلک دکھا کر اسے بتایا کہ یہ وِڈیو وہ عام کر سکتا ہے۔ لیکن شہلا اگر تعاون کرے تو نہ صرف ڈریس اس کے ہو جائیں گے بلکہ پیسے بھی نہیں دینے پڑیں گے۔ شہلا بے چاری اس کی منتیں کرنے لگی کہ وہ اسے بد نام نہ کرے۔ وہ ڈرتی تھی کہ اور لوگوں کے ساتھ اس کے منگیتر کو پتا نہ چل جائے۔
شاہد نے کہا۔ اچھا میں یہ وِڈیو ڈیلیٹ کر دیتا ہوں۔ آفس کا ایک دروازہ کھول کر بولا آؤ اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔ میں وِڈیو ڈیلیٹ کرتا ہوں۔ شہلا شدید پریشانی میں اندر داخل ہوئی تو اچانک دراوزہ بند کر دیا۔ شہلا چونکی مگر وہ جال میں آ چکی تھی۔ یہ خفیہ کمرا ساؤنڈ پروف تھا۔ شاہد نے جھوٹ بولا تھا۔ وہ شہلا کو یہاں تک لانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ شہلا ان لڑکیوں میں سے نہیں تھی۔ جو اس کے بقول تعاون کرتی ہیں۔ یہاں تو زبردستی والی بات تھی۔ لیکن جب اس نے پیش قدمی کی تو شہلا کا ردِ عمل شدید تھا۔ وہ اسے آسان شکار سمجھ رہا تھا۔ لیکن شہلا ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھی۔ اس نے اپنے پرس سے ایک چاقو نکالا اور ہوا میں لہراتے ہوئے کہا۔ ”خبردار! جو میری طرف بڑھے، بہت پچھتاؤ گے۔ “ اس نے مضبوط لہجے میں کہا۔
”اوہو جسے کبوتری سمجھا تھا وہ تو شیرنی نکلی۔ “ شاہد طنزیہ انداز میں ہنسا۔ اور پھر چاقو کی پروا نہ کرتے ہوئے اسے دبوچ لیا۔ شہلا آخر ایک لڑکی ہی تو تھی اس نے خود کو بچانے کے لیے شاہد پر کئی وار کیے لیکن شاہد نے ایسے پینترے بدلے کہ اسے کچھ نہ ہوا اور چاقو میرے جسم پر پھر گیا۔ میرے جسم پر کئی کٹ لگے کئی زخم آ گئے۔ لیکن جب میں نے شہلا کو دیکھا تو اپنے زخم بھول گئی اس کی تو جسم کے ساتھ ساتھ روح بھی زخمی ہو گئی تھی۔
شاہد اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا تھا۔ شہلا اس جگہ سے داغ دار ہو کر روتے ہوئے نکلی تھی۔ شاہد نے اسے جاتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر وہ خاموش رہی تو اس کی وِڈیو کبھی منظر عام پر نہیں آئے گی اور اگر کسی کو بتایا تو وِڈیو انٹر نیٹ پر ہو گی۔ اس کے جانے کے بعد اس نے مجھے دیکھا۔ میں بے بسی سے زمین پر پڑی تھی۔ جسم پر کئی کٹ لگے تھے۔ کپڑے بدل کر اس نے مجھے اٹھایا اور کمرے سے باہر آیا۔ پہلے تو پھینکنے کا ارادہ تھا لیکن ایک کنجوس باپ کا کنجوس بیٹا تھا دکان کے ٹیلر ماسٹر کو پکڑا دیا۔ ٹیلر ماسٹر نے بڑی محنت سے میرے تمام زخم سی دیے لیکن مجھے بھی داغ لگ چکا تھا۔
اگلے دن مجھے ان جیکٹس کے ساتھ ڈال دیا گیا جن پر پچیس سے پچھہتر فی صد تک رعایت تھی۔ روز کئی گاہک آتے اور ایک بڑی میز پر پڑی جیکٹیں دیکھتے۔ کسی کو کوئی پسند آتی تو وہ لے بھی جاتا۔ ان میں زیادہ تر پرانے ڈِزائن کی جیکٹس تھیں۔ صرف میں ایک ایسی تھی جو داغ دار تھی۔ جسے رفو کیا گیا تھا۔ مجھے ہاتھ میں لے کر دیکھنے والا دوبارہ نہیں دیکھتا تھا۔ واپس میز پر ڈال دیتا تھا۔ تب مجھے اندازہ ہوا کہ جب کسی کو داغ لگتا ہے تواس کی کیا قدر وقیمت رہ جاتی ہے۔
میں اپنے شانی کا انتظار کرتی تھی۔ شاید وہ میرے زخموں پر مرہم رکھے گا۔ پھر میں دعا کرنے لگی کہ وہ اس دکان میں کبھی نہ آئے، وہ مجھے اس حالت میں کبھی نہ دیکھے۔ لیکن میری دعا قبول نہ ہوئی ایک دن میں نے شانی کو دکان میں آتے دیکھا۔ میرا رؤاں رؤاں کانپنے لگا۔ وہ یونھی سرسری سا جائزہ لے رہا تھا میں ایک براؤن جیکٹ کے نیچے چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔ میرا ایک بازو باہر تھا۔ اور پھر شانی کی نظر پڑی اس نے ایک لمحے میں مجھے پہچان لیا۔ فوراً مجھے جیکٹس کے نیچے سے نکالا۔ میرے زخموں پر اتنے پیار سے انگلیاں پھیریں کہ میں سارا درد بھول گئی۔
پھر وہ مجھے اٹھا کر سیلز مین کی طرف بڑھا۔ ”یہ کتنے میں ملے گی۔ ؟ “
”جی ویسے تو یہ پچھہتر فی صد ڈسکاؤنٹ پر ڈھائی ہزار میں ہے لیکن آپ دو ہزار دے دیں۔ “
”دیکھیں میرے پاس صرف پانچ سو روپے ہیں لیکن مجھے یہ چاہیے۔ “
”سوری سر! اتنے میں نہیں مل سکتی“۔
اچانک شاہد کہیں سے نکلا۔ کوئی بات نہیں، تم پانچ سو ہی دے دو۔ لے جاؤ۔ پتا نہیں کیوں وہ مجھ سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔ شانی نے مجھے بڑے پیار سے پہن لیا اور خوش خوش گھر پہنچا۔ گھر میں اس کی بوڑھی ماں نے مجھے دیکھا تو بول اٹھی۔ ارے یہ تجھے اتنی پسند آئی تھی مل کیسے گئی؟ ”
”بس ماں دیکھ لو۔ تیرے بیٹے کو اس کی پسند مل گئی۔ “
” لیکن بیٹا اس کو تو کئی جگہ سے رفو کیا گیا ہے، یہ داغی ہے۔ “
اس کی ماں نے اپنی کم زور آنکھیں ملتے ہوئے کہا۔
”ماں تو نے اس کے داغ کو دیکھ لیا اور یہ نہیں دیکھا کہ یہ کتنی پیاری ہے، مجھے کتنی پسند ہے اور پھر جو اس کا کام ہے وہ کام تو یہ کرے گی۔ یہ میری سرد شاموں کی ساتھی بنے گی۔ یہ مجھے سردی سے بچائے گی۔ نشتر کی طرح چبھتی ٹھنڈی ہوا میں میری ڈھال بنے گی اور کیا چاہیے۔ “
اس کی ماں لاجواب ہو گئی۔ شانی مجھے پا کر بے حد خوش تھا اور میری خوشی کی تو انتہا نہیں تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے میں ہواؤں میں ہوں۔ اتنی خوشی ملی تھی کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے میں دلہن بن گئی ہوں۔
میں سوچنے لگی شہلا کے ساتھ کیا ہوا ہو گا، شاید اس کے منگیتر نے بھی اسے داغ کے ساتھ قبول کر لیا ہو گا وہ بھی میری طرح خوش ہو گی۔ لیکن میں کتنی غلط تھی۔ سب میرے شانی کی طرح تو نہیں ہوتے۔ کسی کو داغ کے ساتھ کون قبول کرتا ہے۔ جب کسی کو داغ لگتا ہے تو پھر ان مول نہیں رہتا، بے مول ہو کر رہ جاتا ہے۔ ٹوٹے ہوئے پیالے کی طرح بے وقعت اور پھینکے جانے کے قابل۔
دوسرے دن جب شانی مجھے پہن کر باہر نکلا۔ میں اس کے بدن کی خوش بو سے مہکتے ہوئے بے حد مسرور تھی کہ اچانک ایک جگہ پر ہجوم دکھائی دیا۔ شانی دوڑ کر وہاں پہنچا۔ اور پھر میری نظروں نے وہ الم ناک منظر دیکھا۔ وہ شہلا تھی اور خون میں لت پت تھی۔ اس کی ہڈیاں ٹوٹ چکی تھیں، وہ مر چکی تھی۔
”جوان لڑکی نے اس اونچی بلڈنگ سے چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی۔ “ ایک شخص نے بتایا۔
لوگ حیران تھے لیکن مجھے معلوم تھا کیا ہوا ہے۔ جب داغ لگتا ہے، تب سمجھ میں آتا ہے۔ اس کا منگیتر میرے شانی جیسا نہیں تھا کہ اسے قبول کر لیتا۔ شہلا کو دیکھنا چاہا مگر دیکھ نہ سکی۔ آنسو ہی اتنے امڈ آئے تھے کہ سارا منظر دھندلا گیا۔

