جب داغ کسی کو لگتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 17
  •  

رنگ، خوش بو اور روشنی؛ میرے ارد گرد کا منظر کتنا خوب صورت تھا۔ مجھے آپ عنابی کہہ سکتے ہیں کیوں کہ میرا یہی رنگ تھا۔ مجھے اپنے خوابوں کے شہزادے کا انتظار تھا۔ ہر آہٹ پر میرا دل دھڑک دھڑک جاتا، شاید وہ آیا ہو۔ مجھے پورا یقین تھا کہ ایک دن وہ آئے گا اور مجھے خرید کے لے جائے گا۔ پھر میری خوش بو میں اس کے بدن کی خوش بو شامل ہو گی۔ زندگی کچھ اور بھی حسین ہو جائے گی۔

میں ذرا وضاحت کر دوں کہ میں عنابی رنگ کی بے داغ لیدر جیکٹ تھی، مجھے ایک دن پہلے ہی شہر کے اس مشہور شاپنگ مال میں لا یا گیا تھا۔ گارمنٹس کی یہ دکان تین منزلہ تھی جس میں عورتوں، مردوں اور بچوں کے لیے الگ الگ پورشن میں ہر طرح کے لباس کی ورائٹی موجود تھی۔ اس دکان کا مالک ایک بوڑھا شخص تھا جسے سب لوگ حاجی صاحب کہتے تھے۔

حاجی صاحب کم کم ہی آتے تھے۔ کاروبار ان کے عملے نے سنبھالا ہوا تھا۔ البتہ یہ بات مشہور تھی کہ انتہائی کنجوس آدمی ہیں۔ حاجی صاحب کا ایک بیٹا بھی تھا جو اصلی باس تھا۔ بڑا دل پھینک اور آوارہ مزاج تھا۔ دکان کے اکثر ملازمین دبے لفظوں میں اس کی آوارگی کے قصے ایک دوسرے کو سناتے تھے اور حظ اٹھاتے تھے۔ اس کا نام شاہد تھا۔ وہ دکان میں آنے والی ہر خو بصورت لڑکی سے راہ و رسم بڑھانے کی کوشش ضرور کرتا تھا خواہ اسے نا کامی ہو۔

ایک دن دو لڑکیاں دکان میں آئیں، ایک کا نام شہلا اور دوسری کا زینب تھا۔ زینب، شہلا کو کسی کا نام لے کر چھیڑ رہی تھی۔ پھر وہ اس پورشن میں آ گئیں جہاں میں موجود تھی میرے ارد گرد میرے جیسی کئی جیکٹس تھیں، بلیک، گرے، براؤن، ڈارک براؤن وغیرہ۔ میں ان کے درمیان بڑے غرور سے ٹنگی ہوئی تھی کیوں کہ مجھے اپنی رنگت اور بناوٹ سب سے پیاری لگتی تھی لیکن وہ کہتے ہیں ناں کہ حسن تو دیکھنے والے کی نظر میں ہوتا ہے۔ شہلا نے مجھے چھوڑ کر ایک بلیک جیکٹ کو پسند کر لیا۔

ہم سب جیکٹس نے اسے مبارک باد دی کہ اب تم ہمارے لیے پرائی ہو رہی ہو اور اپنے اصلی گھر جا رہی ہو۔ تمھیں پہننے والا خوش نصیب ہو گا۔ پتا چلا تھا کہ شہلا نے جیکٹ اپنے منگیتر کے لیے خریدی تھی۔ بہر حال شہلا خوش خوش جیکٹ لے کر کاؤنٹر کی طرف بڑھنے والی تھی کہ شاہد آن ٹپکا۔ اس نے شہلا کو دیکھا تو اس کے لبوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ آئی، جسے اس نے فوراً دوسروں سے چھپا لیا مگر میں دیکھ چکی تھی۔

شاہد نے شہلا کی پسند کی تعریف کرتے ہوئے چند اور لباس وغیرہ دکھانے کی پیش کش کی۔ شہلا نے جواب دیا کہ اس کے پاس وقت کم ہے، وہ صرف یہ جیکٹ لینے آئی تھی۔ شاہد نے ہمت نہ ہاری اور بولا۔ ”دیکھ تو لیں بڑی شان دار ورائٹی ہے۔ دیکھنے کے پیسے نہیں ہیں۔ “ شہلا رک گئی اور شاہد نے اپنی چکنی چپڑی باتیں شروع کر دیں۔ حالاں کہ وہ کنجوسی میں اپنے باپ سے بھی دو ہاتھ آگے تھا۔ لیکن اس نے شہلا کو اتنا ڈسکاؤنٹ دیا کہ وہ بھی حیران رہ گئی۔

شہلا چلی گئی تو میں سوچنے لگی کہ کب میری قسمت کا بند دروازہ کھلے گا۔ یہی وہ وقت تھا جب وہ دکان میں پہلی بار آیا۔ ایک دم سے میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ نہ جانے کیوں میرا دل چاہ رہا تھا کہ وہ صرف مجھے دیکھے لیکن وہ مختلف ڈریس اور جینز وغیرہ دیکھ رہا تھا۔ پھر میرے پاس سے گزرتے ہوئے اچانک اس کی نظر مجھ پر پڑی۔ وہ ٹھٹک کر رک گیا۔

شاید وہ جس کی تلاش میں تھا وہ میں تھی۔ کم از کم مجھے ایسا ہی لگ رہا تھا۔ پھر اس نے مجھے ہینگر سے نکال کر جیسے بازوؤں میں لے لیا۔ میرا عنابی رنگ شرم سے کچھ اور گہرا ہونے لگا۔ اس نے بڑے پیار سے لیدر پر ہاتھ پھیر کر نرمی کو محسوس کیا۔ میرے انگ انگ میں نشے کی سی کیفیت تھی۔ بڑی شدت سے دل چاہ رہا تھا کہ وہ مجھے پہن لے اور میں اس کے بدن سے لپٹ کر اس کے جسم کا ایک حصہ بن جاؤں۔ اس کے بدن کی خوش بو کو خود میں بسا لوں۔

اتنے میں ایک بوڑھی عورت اس کے قریب آئی۔ ”شانی بیٹا میں تمھیں ادھر ڈھونڈ رہی تھی اور تم یہاں ہو، آؤ چلیں یہاں تو قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ “ بوڑھی عورت نے افسردگی سے کہا۔

” ماں یہ کیسی ہے؟ “ شانی نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں تھی۔ وہ جیسے مجھے اپنی ماں سے ملوانا چاہتا تھا۔ اس کی ماں نے اب میری طرف دیکھا اور فوراً ہی اس کی آنکھوں سے پسندیدگی جھلکنے لگی۔ ”یہ تو بہت پیاری ہے، کتنے کی ہے؟ “

”ماں ابھی پہن کے تو دیکھ لوں۔ “ ایک بار پھر شانی نے جیسے جان بوجھ کر اس کا سوال نظر انداز کیا اور بڑے پیار سے مجھے اپنے بدن پر سجا لیا۔ پھر جب آئنے میں خود کو دیکھا تو اس کے ساتھ ساتھ مجھے بھی خود پر پیار آنے لگا۔ اس کا لمس میرے روئیں روئیں میں خمار کی کیفیت پیدا کر رہا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ وقت تھم جائے لیکن وقت کب رکتا ہے۔ یکا یک شانی نے مجھے خود سے الگ کیا اور سیلز مین سے میری قیمت پوچھی۔ ”جی یہ بہت نفیس لیدر جیکٹ ہے اور قیمت صرف دس ہزار روپے ہے۔ “ سیلز مین نے بتایا۔

شانی یک دم مایوس ہو گیا۔ اس کے منہ سے ایک لفظ نہ نکلا۔ اس نے مجھے واپس ہینگر میں لگانے کی کوشش کی۔ ”آپ رہنے دیجئیے میں لگا دیتا ہوں۔ “ سیلز مین نے جلدی سے کہا۔ شانی تھکے تھکے قدموں سے باہر کی طرف جانے لگا۔ اس کی حالت دیکھ کر اس کی ماں کا دل بھی کٹ کر رہ گیا۔ ”بیٹا میں نے تو پہلے ہی کہا تھا یہاں قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ “ ماں جیسے اسے تسلی دے رہی تھی۔ شانی نے ایک بار پھر مڑ کر مجھے حسرت بھری نگاہوں سے دیکھا۔ اور وہ چلا گیا۔

اس دن کے بعد میں بہت اداس رہنے لگی۔ شانی کچھ اس طرح سے دل میں کھب گیا تھا کہ اب کوئی اور اچھا ہی نہیں لگتا تھا۔ کئی نوجوان آئے۔ مجھے پہن کر دیکھتے تھے، مجھے بہت برا لگتا تھا۔ کئی نوجوانوں سے تو مجھے گھن آتی تھی۔ میں ایک ہی دعا کرتی تھی کہ میں ان میں سے کسی کو پسند نہ آؤں۔ اگر کوئی مجھے لے گیا تو میرے شانی کا کیا ہو گا۔ کاش وہ مجھے لینے آ جائے۔ مگر شانی نہ آیا۔

ایک شام کو موسم بہت ٹھنڈا ہو گیا۔ ہیٹنگ سسٹم کے باوجود اندر ٹھنڈ محسوس ہو رہی تھی۔ اس دن گاہک بھی بہت کم تھے۔ دسمبر کا مہینا تھا اور شاید باہر بہت زیادہ ٹھنڈ تھی۔ لوگ گھروں میں دبکے ہوں گے۔ شاہد جیکٹس والے پورشن میں آیا تو اچانک کچھ سوچ کر اس نے میری طرف ہاتھ بڑھایا اور ہینگر سے کھینچ کر مجھے پہن لیا۔ ناگواری کی لہر میرے رگ و پے میں اتر گئی۔ اس کے بدن کی بو کو برداشت کرنا میرے لے بہت مشکل تھا۔ لیکن میں مجبور تھی۔

وہ مجھے پہن کر دکان میں بنے ہوئے اپنے دفتر میں بیٹھ گیا۔ اور سی سی ٹی وی کیمرے کا ڈسپلے دیکھنے لگا۔ اکا دکا گاہک آ جا رہے تھے۔ اچانک وہ چونک اٹھا۔ شہلا اندر آ رہی تھی اور وہ اکیلی تھی۔ وہ اٹھ کر اس کے قریب گیا۔ شہلا ڈریس دیکھ رہی تھی۔ شاہد نے اسے سلام کیا اس کی خیریت پوچھی اور اپنے مخصوص انداز میں چکنی چپڑی باتیں کرنے لگا۔ شہلا ایک ڈریس خریدنا چاہتی تھی شاہد نے رنگ رنگ کے ڈریسز کی طرف اس کی توجہ مبذول کی اور پھر اصرار کیا کہ وہ انہیں پہن کر بھی دیکھے تب صحیح پتا چلے گا کہ ڈریس کیسا لگتا ہے۔

شہلا نے بھی یہی مناسب سمجھا اور ڈریسنگ روم میں کئی لباس ٹرائی کیے۔ پھر ایک ڈریس اسے پسند آ گیا۔ ”بس یہ والا چاہیے۔ “ اس نے کہا۔ ”مجھے لگتا ہے، آپ کو یہ دو بھی خاصی اچھے لگے ہیں۔ “ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”بات تو ٹھیک تھی پسند تو شہلا کو تین ڈریس ہی تھے لیکن اتنے پیسے نہیں تھے لیکن یہ بات شاہد کی تجربہ کار نگاہوں سے چھپی نہ رہی تھی۔ “ آپ میرے آفس میں آئیں، آپ کے لیے کچھ کرتے ہیں۔ ”

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 17
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں