تیرے ہونے کا احساس؛ میری زندگی کی اساس


شریکِ حیات کے نام!

فی زمانہ ظاہری تناقص کا زمانہ ہے، جسے انگریزی اصطلاح میں پیراڈاکس کہتے ہیں۔ ہم آج کے دور میں دنیا کے دوسرے کونے پر بیٹھے انسان کے تو بہت قریب ہوچکے ہیں لیکن جو بہت قریب بیٹھے ہیں، اُن سے کوسوں دور جا چکے ہیں۔ سائنس نے جو ہمیں آسانیاں دی ہیں وہ غور کرنے پر مشکلات کی مترادف معلوم ہوتی ہیں ؛ اگر یہ سمجھنے میں دشواری پیش آ رہی ہو تو ایسے سمجھ لیں کہ آج سونے سے پہلے بلب بند کرنے کے لیے بھی انسان کہتا ہے ریمورٹ ہو اور لیٹے لیٹے بند کر دیں تو یہ آسانی، آسانی نہیں مشکل ہے جس نے کاہلی کو جنم دے دیا ہے۔

یہی صورتِ احوال محبت کی ہے۔ کبھی محبت کبھی کبھی کہیں کہیں ہوتی تھی آج ہر ایک کو ہے اور ہر ایک سے ہے جو درحقیقت محبت نہیں ہے دل لگی ہے، جسے انگریزی میں فلرٹ کہتے ہیں اسی لیے تو شاعر نے کہا:

تمھیں دل لگی بھول جانی پڑے گی، محبت کی راہوں میں آ کر تو دیکھو

تو جس محبت کا چرچا آج ہر جا ہے، وہ در اصل دل لگی ہے۔ دل لگی جسم کا تقاضا کرتی ہے اور محبت روح کے ملاپ کا نام ہے۔ دل لگی کرتے کرتے محبت ہو جائے تو واقعی دل لگی بھول جاتی ہے۔

یہاں معاملہ کچھ مختلف ہے تمام عمر دل لگی ہی کی، اور شاید اب بھی ہو رہی ہو، لیکن محبت فقط آپ ہی سے کی ہے۔ آپ کی محبت کے ساتھ ساتھ دل لگی بھی چلتی رہی۔ ہمیشہ ہی سے اس بات کا قائل رہا ہوں کہ میں آپ سے اتنا شاید پیار نہیں کرتا، جتنا آپ مجھ سے کرتے ہو۔ اس کی وجہ شاید یہی ہے کہ میں فلرٹ بھی ساتھ لے کر چلتا آرہا ہوں، لیکن میرا نقطہ نظر ہی کچھ ایسا بن گیا، کہ محبت کا سفر اگر طویل ہو تو بوریت کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ پھر اُس میں مختلف مخالف عناصر اپنا کردار ادا کر کے محبت کی اہمیت اور وقعت کو برقرار رکھتے ہیں۔ سوچا یہ دل لگی ہماری محبت کی جاذبیت کو تازہ رکھے گی۔ حفیظ ہوشیار پوری نے کہا تھا:
؎ تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا
اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا

میں اس انتظار کے ختم ہونے کے باوجود بھی باز نہ آیا اور آپ سب کچھ جانتے ہوئے بھی میری محبت سے باز نہ آئے۔ لیکن مسلئہ پھر وہی سوچ کا تھا کہ میں بلکہ آپ بھی اُن میں سے ہر گز نہیں تھے، جو لفظوں کے دکھاووں میں محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ جن کا ”جانو“ کے علاوہ گفت گو کا ہر جملہ ادھورا ہوتا ہے۔ لیکن دل محبت سے خالی ہوتے ہیں۔ محبت احساس کی بنیاد پر پروان چڑھتی ہے۔ ایک دوسرے کا احساس بڑھتا جائے تو محبت بڑھتی جاتی ہے اور یہی احساس وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوتا جائے، تو محبت کا دم گھٹنا شروع ہو جاتا ہے۔

ہم نے اور کچھ نہیں تو کم از کم اتنا تو کیا ہے کہ محبت کا دم نہیں گھٹنے دیا، اسے زندہ رکھا ہے اور پہلے سے زیادہ توانا بھی۔ اس میں زیادہ ہاتھ کس کا ہے یہ بحث اور ہے بلکہ میں خود ہی اس معاملے میں ہتھیار ڈال دیتا ہوں بلاشبہ اس کا سہرا آپ کے سر جاتا ہے۔

محبت التفات کی متقاضی ہوتی ہے، اور یہ اسے بھر پور میسّر ہو تو بھوک سے بھی نبرد آزما ہو جاتی ہے، ورنہ تو بھوک عقائد بھی بھلا دیتی ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں جس طرح آپ میرے ساتھ ساتھ رہے اس کا اجر تو آپ کو خدا ہی دے سکتا ہے اور میں شکر ہی ادا کر سکتا ہوں، کہ اُس نے میرے لیے ایسے جیون ساتھی کا انتخاب کیا۔

میری دل لگی اب بھی برقرار ہے یا نہیں، یہ مجھے بھی نہیں معلوم؛ لیکن محبت پہلے سے زیادہ بھرپور ہو گئی ہے۔ اگر چہ اپنے مختلف اشعار میں یہ کہتا پایا گیا ہوں، کہ محبت بار بار ہوتی ہے۔
؎ ایسا لگتا ہے دوبارہ نہیں ہو گی ہم سے
یہ محبت بھی شکار اپنا نیا گھیرتی ہے

تو مجھے بار بار ہوئی بھی اور آپ ہی سے ہوئی اور اس بار پہلے سے بھی زیادہ۔ کوئی مجھ سے پوچھے محبت کیا ہے تو محبت کسی کے وجود کو محسوس کرنا اور میرا آپ کو ہر پل ایسے محسوس کرنا کہ بس آپ ہی آپ ہو اور کوئی نہیں۔ مومن کا شعر اب سمجھ آیا۔
؎ تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

آپ اسی طرح سے اپنی محبت قائم رکھنا میں کوشش کروں گا کہ اس کی بوریت کو ختم کرنے کی کوشش نہ کروں اور اگر ایسی کوئی کوشش ہو بھی جائے تو بھی یہ محبت بڑھتی ہی جائے گی۔ مجھے یقین ہے کیوں کہ میں خود کو جانتا ہوں۔ میرے لیے آپ سے بڑھ کر تو کوئی بھی نہیں ہو سکتا اسی لیے تو کہتا ہوں۔
؎ آپ کے ہونے کا احساس ہی میری زندگی کی اساس ہے

ہے فقط تمھارا ہی
قمر بشیر

Facebook Comments HS