سٹنٹڈ گروتھ کا مسئلہ اور حکومت کے کرنے کے کام


وزیر اعظم جناب عمران خان نے قوم سے اپنے پہلے خطاب میں بچوں میں غذائیت کی کمی بات کی تھی، جو کہ نا صرف پاکستان بلکہ تیسری دنیا کے ہر ملک کا مسئلہ ہے۔ جب وہ یہ بات کر رہے تھے، تو لگ رہا تھا کہ وہ مسئلے کی سنجیدگی کو جانتے ہیں اور ضرور اس کے لیے کچھ کریں گے، لیکن چوں کہ وہ حکمران ہیں اور حکمرانوں کے لیے ”اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا“، کا لحاظ کرتے ہوئے سوچا کہ وہ جانے اور ان کے دکھ، کیوں نہ ”اپنے حصے کی شمع“ روشن کرنے کی کوشش کی جائے۔

غذائیت کی کمی دو طرح کی ہو سکتی ہے۔ ایک تو یہ کہ انسان کو مناسب مقدار میں کھانا ملتا ہی نہیں، جب کہ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ انسان ظاہری طور پر تو پیٹ بھر کے کھانا کھاتا ہے لیکن اس کی خوراک میں غذائیت کے اجزا کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ جسم کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں اور انسان غذائیت کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ دوسری قسم کو ”ہڈن ہنگر“ یعنی ”پوشیدہ بھوک“ کا نام دیا جاتا ہے اور اس وقت دنیا میں ہر نو میں سے ایک انسان کو وافر مقدار میں کھانا نہیں ملتا، جب کہ اس کا اڑھائی گنا انسان ایسے ہیں جو ظاہری طور پر وافر کھانا کھانے کے باوجود غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔

ویسے تو غذائیت میں بہت سے اجزا ہیں، جن کی کمی بہت سے مسائل کو جنم دے رہی ہے لیکن اس مضمون میں صرف زنک کی بات کی جائے گی، کیوں کہ اس کے ساتھ کچھ اپنائیت سی ہے۔

زنک زندگی کے لیے ایک نا گزیر غذائی جزو (اسینشل مائیکرونیوٹریئنٹ: ایسے غذائی اجزا جو زندگی کے لیے انتہائی کم مقدار میں لیکن اشد ضروری ہوتے ہیں ) ہے، اور دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی اس کی کمی کا شکار ہے۔ زنک کی کمی حاملہ خواتین میں قبل از وقت پیدائش (پری میچور ڈلیوری) ، بچوں میں تقلیل ِ بالیدگی (سٹنٹڈ گروتھ) اور تقلیل ِ حصولِ وزن (ریڈیوسڈ ویٹ گین) کا باعث بنتی ہے۔ جب کہ زنک کا مناسب مقدار میں کھانا مدافعاتی نظام کے درست کام کرنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

پاکستان میں اس وقت تقریباً 42 سے 48 فی صد خواتین، 39 فی صد بچے، زنک کی کمی کا شکار ہیں اور صرف 6 فی صد ایسے لوگ ہیں، جن کو زنک کی اہمیت کا کچھ علم ہے۔ جب کہ 94 فی صد لوگ زنک کے بارے میں بالکل نا بلد ہیں۔

یہاں تک تو بات ہو گئی زنک کی اہمیت اور اس کی کمی سے پیدا ہونے والے مسائل کی۔ اب بات کرتے ہیں زنک کی کمی کی وجوہات کی۔ وجہ تو صاف ظاہر ہے کہ زنک کی کمی کا شکار لوگ مناسب مقدار میں زنک نہیں کھا رہے۔ لیکن کیا وہ لوگ جو زنک کی کمی کا شکار نہیں ہیں، وہ تردد کر کے زنک کھا رہے ہیں، یا ان کے خوراک میں قدرتی طور ہی پر زنک خاصی مقدار میں آجاتا ہے، اور وہ اس کی کمی کا شکار نہیں ہوتے۔ اگر ہم دنیا کے اعداد و شمار کا مطالعہ کریں، تو یہ بات صاف ظاہر ہو جاتی ہے، کہ وہی لوگ زنک کی کمی کا شکار ہیں جن کی خوراک کا زیادہ تر انحصار اناج (گندم، مکئی اور چاول) اور دالوں پر ہے۔ کیوں کہ ان میں زنک بہت تھوڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر ہم دنیا کی زمینوں اور انسانوں میں زنک کی کمی کا موازنہ کریں تو دونوں اشکال میں کافی مشابہت پائی جاتی ہے۔ یعنی جن علاقوں میں زمین میں زنک کی کمی ہے، انھی علاقوں میں انسانوں میں بھی زنک کی کمی ہوتی ہے۔

کیوں کہ ان علاقوں میں زمین میں زنک کی کمی ہے، اس کی وجہ سے فصلوں کو کم زنک ملتا ہے اور ان کے دانوں وغیرہ میں بھی اس انتہائی اہمیت کے حامل مائکرو نیوٹریئنٹ کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔ جس کا نتیجہ انسانوں میں زنک کی کمی کی شکل میں نکلتا ہے۔ مزید یہ کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھی ہوئی مقدار بھی غذائی اجزا بشمول زنک کی مزید کمی کا باعث بننے کی پیشین گوئی کی جا رہی ہے اور یہ اثر زنک کی کمی سے متاثرہ علاقوں میں اور زیاد ہ شدید ہو گا۔

زنک کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اپنائی جائے؟ دنیا میں اس وقت مختلف طریقے رائج ہیں، جن سے زنک کی کمی کو پورا کیا جا رہا ہے۔ ان میں ایک تو یہ ہے کہ زنک ادویات کی شکل میں (سپلمنٹ کے طور پر) لے لیا جائے اور دوسرا یہ ہے کہ خوراک کو پروسیسنگ کے دوران زنک افزودہ (زنک انرچمنٹ) کیا جائے اور اسی پر انحصار کیا جائے۔ یہ دونوں طریقے زنک کی کمی کو پورا تو کر سکتے ہیں، لیکن مہنگے اور پے چیدہ ہونے کے سبب ہر شخص کی پہنچ سے دور ہیں۔ تو اگر ایسا کوئی طریقہ اپنایا جائے کہ ہماری گندم اور چاول وغیرہ میں زنک کی مقدار بڑھا دی جائے، تو آسانی سے زنک ہر شخص کی خوراک میں شامل ہو جائے گا، اور اس کی کمی پر قابو پایا جا سکے گا۔

گندم اور چاول میں زنک کی افزودگی کا ایک ہی طریقہ ہے، کہ ان فصلوں کو دوسری کھادوں کے ساتھ زنک کی بھی مناسب مقدار ڈالا جائے۔ اس سے نا صرف انسانوں کو روٹی، چاول میں مناسب مقدار میں زنک ملے گا، بلکہ زنک کے پودوں پر مثبت اثرات کی وجہ سے ان کی پیداوار بھی بڑھے گی، جو کسان کے لیے بھی خوش حالی کا باعث ہو گی۔ تو اس میں حکومت کے کرنے کے کام یہ ہیں کہ ایک تو کسانوں میں زنک کی پودوں کے لیے اہمیت اجاگر کرنے کی مہم چلائے اور ان کو بتائے کہ زنک کے استعمال سے ان کی فصلوں کی پیداوار میں تقریباً 15 سے 38 فی صد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ان کو سستے زنک فرٹیلائزر آسانی سے مہیا کیے جائیں۔ مزید یہ کہ حکومت کو چاہیے کہ زنک کوٹڈ فرٹیلائزرز کی پیداوار پر توجہ دے اور ان کے استعمال کو زیادہ بنانے کے لیے صرف انھی فرٹیلائزرز پر سبسڈی دے تاکہ کسان اپنا فائدہ دیکھتے ہوئے ان فرٹیلائزرز کا زیادہ استعمال کرے اور زنک افزودہ خوراک پیدا ہو۔

بہر حال یہ تو ہماری تجاویز ہیں، مگر حکومت کے لیے ”اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا“ اور ظاہر ہے کہ ”لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجیے“۔ ویسے ہارویسٹ پلس ایک ایسی آرگنائزیشن ہے جو اناج کی زنک افزودگی پر خاصی تحقیق کر رہی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں