فرانس کی ’’ییلوویسٹ موومنٹ‘‘ اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نویں جماعت کا طالب علم تھا تو اخبارات کے ذریعے علم ہوا کہ فرانس نام کا کوئی ملک ہے۔ وہاں طالب علم سڑکوں پر نکل کر حکومت کو للکار رہے ہیں۔ اس تحریک کو مئی 1968ء تحریک کہا جاتا ہے۔اس زمانے میں انٹرنیٹ نہیں تھا۔ دُنیا ’’گلوبل ویلج‘‘ بھی نہیں ہوئی تھی مگر اس تحریک سے متاثر ہوکر دُنیا کے کئی ممالک میں کسی مشہورسیاست دان یا بڑی سیاسی جماعت کی رہنمائی کے بغیر طلبہ ازخود سڑکوں پر نکل کر اپنی حکومتوں کو للکارنا شروع ہوگئے۔

پاکستان اور فرانس کے درمیان تاریخی،تہذیبی یا معاشی روابط موجود نہیں۔ ہم بنیادی طورپر Anglo Saxonدُنیا سے منسلک رہے ہیں۔ مئی 1968ء والی تحریک کی طرح ہمارے ہاں بھی اکتوبر1968ء میں لیکن طلبہ کی احتجاجی تحریک شروع ہوگئی۔

اس برس ایوب خان کے اقتدار نے اپنے دس سال مکمل کئے تھے۔ حکومت کے لئے مثبت داستانیں مرتب کرنے والوں نے الطاف گوہر سے رہ نمائی حاصل کرتے ہوئے اکتوبر1968ء کو ’’جشنِ دس سالہ ترقی‘‘ کے طورپر منانے کا فیصلہ کیا۔ اس حوالے سے کافی مہینوں کی منصوبہ بندی کے بعد جن تقاریب کا اہتمام ہوا وہ طلبہ تحریک کی حدت کے سبب نظر ہی نہیں آسکیں۔ بالآخر معاشرے کے دیگر طبقات بھی احتجاج کا حصہ بن گئے۔

آج کا بنگلہ دیش ان دنوں مشرقی پاکستان کہلاتا تھا۔ وہاں جلائو گھیرائو والے مظاہروں نے بہت شدت اختیار کرلی۔ امن وامان کی خطرناک حد تک ابتر ہوتی صورت حال پر قابو پانے کے لئے جنرل یحییٰ کو مارشل لاء لگانا پڑا۔ایوب خان استعفیٰ دے کر گھر چلے گئے۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ ہے۔

مئی 1968ء کو یاد کرنے پر اس لئے مجبور ہوا ہوں کہ گزشتہ دو ہفتوں سے ایک بار پھر فرانس کا دارالحکومت مظاہرین کے نرغے میں آیامحسوس ہورہا ہے۔ پورے ملک سے ہزاروں بے روزگار افراد اور کم آمدنی پر جینے کی تگ ودو میں مصروف گھرانے جمعہ کی شام پیرس آنا شروع ہوجاتے ہیں۔

وہ خود کو نمایاں رکھنے کے لئے بغیر بازوئوں والی پیلی جیکٹ پہنے ہوتے ہیں۔ اسی باعث ان کی تحریک کو Yellow Vest Movementکہا جارہا ہے۔ فرانس کی حکومت آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے وحشیانہ استعمال کے باوجود اس تحریک پر قابو پانے میں ناکام نظر آرہی ہے۔

اس ہفتے کے آغاز سے اس تحریک سے متاثر ہوکر بلجیئم اور ہالینڈ کے بے روزگار اور کم آمدنی والے طبقات بھی منظم ہورہے ہیں۔ محسوس یہ ہورہا ہے کہ آنے والا ویک اینڈ ان ممالک کی حکومتوں کو بھی مظاہرین کے مقابلے میں بے بس ہوئے دکھا سکتا ہے۔ نظر بظاہر فرانس میں شروع ہوئی یہ تحریک اپنے صدر کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہی ہے۔

مظاہرین بہت شدت سے یہ سوچ رہے ہیں کہ ان کی معاشی مشکلات کو تخلیقی اور انقلابی انداز میں تبدیل کرنے کے نام پر منتخب ہوا صدر اپنے وعدے نبھانے میں ناکام رہا۔ شہریوں کی معاشی مشکلات کا ازالہ کرنے کے بجائے وہ فرانس کی بہت منظم مزدور تنظیموں کی کمرتوڑنا چاہ رہا ہے۔ سرمایہ داروں کو بہت بے رحمی سے یہ اختیار دے رہا ہے کہ وہ Right Sizingکے نام پر ’’فالتو اور کاہل‘‘ ملازمین کو بغیر کوئی وجہ بتائے فارغ کردیں۔

Yellow Vest Movementکے تمام مطالبات پر ذرا غور کریں تو احساس ہوتا ہے کہ بات فقط فرانسیسی صدر کے استعفیٰ کے مطالبے تک محدود نہیں رہی۔ مظاہرین بہت شدت سے یہ تقاضہ بھی کررہے ہیں کہ ان کے ملک میں دولت کی تقسیم کو مساوی بنانے والا نظام متعارف کروایا جائے۔ امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر بنانے والی پالیسیوں کا خاتمہ ہو۔

اس تحریک کی وجوہات پر غور کرنے کے لئے کئی صحافیوں نے Yellow Vest Movementمیں متحرک کئی افراد کے گھروں میں جاکر ان کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کی۔متحرک ہوئے افراد کی بے پناہ اکثریت پیرس جیسے میٹروپولیٹن شہر کے مقابلے میں قصبات اور دیہی علاقوں میں آباد ہے۔

ان قصبات میں روزگار کے امکانات معدوم تر ہورہے ہیں۔ زرعی زمین سے گزارہ نہیں ہوتا۔ تنخواہ دار طبقات کی اکثریت کا دعویٰ ہے کہ انہیں جو تنخواہ ملتی ہے وہ مہینے کے آخری دس دنوں میں دو وقت کی روٹی فراہم کرنے کے قابل بھی نہیں رہتی۔ انہیں بہت احتیاط سے مہینے کے آغاز ہی میں کھانے پینے کی اشیاء یہ سوچ کرخریدنا اور ذخیرہ کرنا ہوتی ہیں کہ مہینے کے اختتام تک پیٹ بھرنے کا بندوبست ہوسکے۔

پیٹرول بچانے کی خاطر والدین نے بچوں کو گاڑیوں پر سکولوں تک پہنچانا اور وہاں سے لانا چھوڑ دیا ہے۔جن لوگوں کے انٹرویو ہوئے انہوں نے بہت حسرت سے یہ گلہ بھی کیا کہ کئی برس سے وہ اپنے خاندان سمیت گھر سے باہر کھانے کے لئے کسی ریستوران بھی نہیں گئے ہیں۔ فرانسیسی ثقافت میں ریستوران اور کافی شاپس کی جو اہمیت ہے اسے نظر میں رکھتے ہوئے ہی اس شکایت کی شدت محسوس کی جاسکتی ہے۔

Yellow Vest Movementمیں متحرک لوگوں کے دل ودماغ پر طاری اداسی کے بارے میں لکھے مضامین پڑھتے ہوئے احساس ہوا کہ غریب اور بے روزگار افراد کی زندگی یورپی تہذیب کے اہم ترین ستون-فرانس- میں بھی ناقابلِ برداشت ہوچکی ہے۔ اسے ذہن میںرکھتے ہوئے بے تحاشہ آبادی اور کم وسائل والے پاکستان کے حالات پر بھی گہری نگاہ رکھنا ہوگی۔

اس ضرورت کی تسلی کے لئے میں نے دس سے زیادہ ایسے شناسائوں سے اتوار کا دن ٹیلی فون پر گفتگو میں صرف کیا جو کئی برسوں سے بہت کامیاب سمجھے ریستوران چلارہے ہیں۔ان کی اکثریت نے بہت تفصیل کے ساتھ یہ انکشاف کیا کہ گزشتہ تین مہینوں میں ان کی ماہانہ سیل 20فی صد کمی سے چلتی ہوئی تقریباََ نصف تک پہنچ چکی ہے۔

پنجاب کے ایک بڑے صنعتی اور بہت آبادی والے شہر کے تقریباََ مرکز میں ایک ریستوران ہے جس کا مالک اوسطاََ صرف دوپہر کے کھانے کے اوقات میں تقریباََ ایک لاکھ روپے کی سیل کا عادی تھا۔ مجھے اطلاع یہ ملی ہے کہ گزشتہ ہفتے یہ سیل 19ہزار روپے تک گرگئی۔

سیل کی اس گراوٹ نے ریستوران کے مالک کو اتنا پریشان کیا کہ وہ گھر جاکر اداسی کی شدت سے سوگیا۔

ہماری صحافت میں معیشت کے ان پہلوئوں پر تفصیلی نگاہ ڈال کررپورٹ کرنے کا چلن موجود نہیں۔ نیوزسائیکل چسکہ فروشی کا عادی ہوچکا ہے۔کاش ہم اپنے چلن کو بدل سکیں۔فرانس میں مئی 1968ء کے بعد پاکستان میں اکتوبر 1968ء ہوگیا تھا۔ایسا نہ ہوکہ ہمارے ہاں بھی چند ماہ بعد ’’اچانک‘‘ کوئیYellow Vest Movementجیسی کوئی تحریک پھوٹ پڑے۔

بشکریہ نوائے وقت

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں