مذہبی چورن کے سٹالز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیسی عجیب بات ہے کہ ہم مذہب کو مانتے ہیں مگر دینی احکامات سے کنی کتراتے ہیں، دین کے پیروکار ہیں مگر احکامات کی پیروی کرنے سے ایسے اجتناب جیسے دور رہنے میں ہی عافیت ہو۔

اس سے بھی عجیب بات یہ کہ میرے دیس میں عجیب رواج رائج ہیں، ہم دین سے کوسوں دور مگر ہمارے بازاروں میں اسلامی دکانوں پہ لگا رش دیکھ کر ہنسی آتی ہے کہ جس چیز پہ مذہبی سٹکر چسپاں ہو تو اس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، اس کی مانگ میں اضافے کا سبب بھی ہم جیسے مذہب بیزار ہی بنتے ہیں۔

جذباتیت کی انتہا دیکھئے، جس چیز کو یہ قوم حرام سمجھتی ہو، جب اسی پر لگا اسلامی لیبل دیکھتی ہے تو نہ صرف وہ چیز حلال ہو جاتی ہے بلکہ اس کی مانگ میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

جیسا کہ کچھ لوگ بینکاری کو جائز نہیں سمجھتے مگر جب اس کے ساتھ اسلامک کا لفظ دیکھتے ہیں تو اسی قوم کے وہی انتہا پسند قسم کے مگر جذباتی لوگ حلال جانتے ہیں بلکہ اس پر لگائے گئے شرح سود کو جائز منافع کا نام دے کر جائز و حلال سمجھا جاتا ہے۔

میرے دیس میں مذہب کو مختلف پیکنگ میں ڈال کر فروخت کیا جا رہا ہے اور جذباتی قوم بڑی عقیدت سے اس کی خریدار بنی ہوئی ہے، بلکہ مذہبی ملاوٹ کاروبار سے ہوتے ہوئے ہماری سیاست میں بھی داخل ہو چلی ہے، جس سے سیاسی جماعتیں بڑے بھرپور انداز سے مستفید ہو رہی ہیں۔

اس دیس کی مارکیٹ میں مذہبی سٹال جابجا لگے دکھائی دیتے ہیں، اسلامک بینکنگ کے بارے اوپر کی سطور میں عرض کر چکا ہوں، اسی طرح اسلامک لیبل لگی مختلف قسم کی اشیاء کی ثواب جان کر خریدوفروخت عروج پہ ہے، کوئی مذہبی سٹکر لگا شہد فروخت کر رہا ہے تو کوئی لباس، جس کا یہاں داؤ لگ رہا ہے وہ اپنا سودا مذہبی ٹیگ کے ساتھ بڑی کامیابی سے بیچ رہا ہے۔

مذہبی سودے کا لفظ عرصہ پہلے صرف مذہبی لوگوں کے لیے استعمال ہوتا تھا کہ وہ اپنے فتووے بعوض پیسوں کے بیچا کرتے، جسے وہ بڑی مہارت سے اور اپنے بے پناہ علم کی وجہ سے بیچ پاتے، اور ان پیسوں کو وہ اپنا حق اور فیس سمجھ کر وصول کیا کرتے مگر پھر حالات بدلے، لوگوں کا رجحان اس طرف ہوا کہ مذہبی سودا بیچنے کے حقدار صرف مولوی نہیں ہونے چاہئیں بلکہ ہمیں بھی حصہ ملنا چاہیے چنانچے پھر اس طرح کمرشل دماغ مذہب میں ایسے داخل ہوئے کہ مذہبی چورن کے بازار بڑھتے چلے گئے۔

مذہبی بازاروں کی آبادکاریاں بڑھتی جارہی ہیں اور مؤرخ سوچ رہا ہے کہ مذہبی سٹالز پہ رش کی وجہ سے جابجا پھیلی عالیشان دکانوں پہ رش کم ہوتا جا رہا ہے، یہ عالیشان و خوبصورت دکانوں مذہب میں موجود ان ٹھیکیداروں کی ہیں جن کے نزدیک ان کے علاوہ باقی کے مسلک کے لوگ کافر ہیں، یہ اپنی دکانوں کو اللہ کا گھر یعنی مساجد کہتے ہیں مگر ان پہ مسلکی ٹیگ چسپاں کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

دیس کی موجودہ صورتحال اور ہر کام مذہب کی آڑ میں ہوتے دیکھ کر وہ مرد دوراندیش یاد آتا ہے، مولانا عبدالکلام آزاد نے برصغیر کی تقسیم سے قبل کیا خوبصورت پشین گوئی کی تھی جو آج حرف بحرف پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے، کہا تھا کہ تقسیم کے بعد پاکستان میں اسلام پھنس جائے گا اور ہندوستان میں مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی جائے گی۔
بس اسی پہ اکتفا کیجئے کہ مذہب برائے فروخت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •