آپ کو پتہ نہیں کہ آپ کا فیس بک فرینڈ دو سال قبل مر چکا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک کمرہ ہے جس میں بظاہر چار افراد بیٹھے باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ مگر قریب جا کر سمجھ آتا ہے کہ ہر ایک کے پاس موبائل ہے اور وہ ایک دوسرے کو یا تو سوشل میڈیا پر چلنے والی کوئی افواہ خبر سمجھ کر بتا رہے ہیں یا پھر کسی واقف کی وال سے جاسوسی کر کے کوئی انکشاف کر رہے ہیں یا پھر ایک دوسرے کو ہممممم ہاں سے کام چلا کر فون پر کسی اور کی باتوں کا جواب لکھ رہے ہیں۔ یہ ہے سوشل میڈیا ایج۔

ہم بظاہر دو ہیں مگر جب ہمارے ہاتھ اور دماغ فون کے ساتھ مصروف ہیں تو ایک ساتھ بیٹھ کر ہم صرف فارمیلیٹی پوری کر رہے ہیں۔ خاندان کے لوگ عموما ہماری اس پروفائل پر ایڈ نہیں ہوتے جہاں ہماری کالج، یونیورسٹی یا کمپنی کے افراد ہوں کیونکہ اگر کسی جنس مخالف کی ایک ڈی پی پر آپ نے لائیک بٹن دبا دیا تو اگلے دن سے خاندان میں افواہ گردش کرنے لگے گی کہ دال کالی پڑ چکی ہے۔ زمانۂ طالبعلمی کے دوست اب ایک ساتھ ’گیٹ ٹو گیدر‘ نہیں کرتے۔

سب نے ایک دوسرے کو ایڈ کر لیا تو ملنے کی کیا ضرورت۔ نئے دوست بھی بنتے گئے۔ پرانے ٹائم لائن سے غائب ہوتے ہوتے دلوں سے بھی اوجھل ہوئے۔ سیاست پر بحث کرتے کرتے دل و دماغ میں ایسا زہر بھرا کہ لہجوں میں کڑواہٹ آگئی۔ سب کو ملک کی ترقی بھی چاہیے اور عدم برداشت کا دامن بھی کسی نے نہیں چھوڑنا۔ سوشل میڈیا نے ”میں“ کی ضد کو اور مضبوط کر کے دلیل اور اتفاق رائے کو زوردار دھکا مارا ہے۔ ایک جانب شادی کو کالج کا سالانہ میلہ بنا دیا ہے کہ تقاریب روزانہ کی بنیاد پر ایک ہفتے میں جا کر مکمل ہوتی ہیں تو دوسری جانب چھوٹی سے چھوٹی بات کو اپنے پیاروں کے بجائے اجنبیوں کو بتانا ضروری لگنے لگا ہے۔ ایک اداکارہ کے شوہر نے انہیں پھول دیے اور دنیا کو بتایا۔ اگلے دن ان اداکارہ نے اپنے شوہر کا شکریہ ویڈیو کے ذریعے کیا کہ کل ہماری بات نہ ہو پائی۔ مجھے پھول اچھے لگے۔ واہ

پہلے جب کبھی کہیں پکنک، شادی یا کوئی پروگرام ہو تو سانس روک کر کھنچوائی گئی ایک تصویر سالوں بعد بھی کتنی یادیوں کا پٹارا اپنے ساتھ کھول بیٹھتی تھی۔ پورے پروگرام میں بمشکل کوئی کوئی اکیلی تصویر آتی تھی ورنہ تو سب کو ایک ہی فلم رول میں ایڈجسٹ کرنے کے لئے ”آپ یہاں کھڑے یوں، آپ بیٹھ جائیں“ کے دوران ہی کتنی یادیں بن جاتی تھیں اور پھر سسپینس کے ساتھ البم کا انتظار کہ یا الہیٰ کیسی ہوں گی۔ آج سب کے ہاتھ میں کیمرا ہے۔ ایک اپلوڈ ہونے والی سیلفی پر کتنے ہی فلٹر اور ایڈٹ کے وار لگا کر جب لائیکس کا مشن پورا ہو جاتا ہے تو وہ تصویر مزید تصاویر کے ڈھیر میں سب جاتی ہے اور درجن بھر کوششوں اور ایک ہی پوز میں لی گئی ڈھیروں تصاویر میں جیتی گئی وہ ایک تصویر جو اپلوڈ کے لائق بنی، اس کی کوئی خاص اہمیت یا یاد نہیں رہتی۔

وہ ہر موقع، تہوار اور قومی خبروں پر تبصرے کے میسیج کرتا، لائیک، کمنٹ، شیئر بھی کرتا۔ کسی گروپ میں ہم خیال پا کر شاید ہم فیس بک کی اصطلاح کے مطابق فرینڈز یعنی دوست بنے۔ بس ویسے ہی جیسے دوسرے سینکڑوں۔ اثر بھی نہ پڑا جب نئے دوست نئے تبصرے اور بحث میں الجھاتے گئے حتی کہ ایک دن کسی مشترکہ گروپ میں بتایا گیا کہ اس کی تو دو سال پہلے ایک حادثے میں وفات ہو چکی ہے۔

ہم جانتے بھی نہیں کہ ہمارے مختلف فورم یا میڈیم میں بنے یہ اجنبی دوست کون، کہاں کس حال میں ہے۔ کسے آج مائگرین کا درد تھا، کس کی آج والدین سے ناراضی ہوئی، کس کو آج نوکری سے نکال دیا گیا، کسے نشے کی لت ہے، کس کو مسترد کر دیا گیا، کون اپنے گھر میں رہتے ہوئے بھی گھر والوں سے دور ہے، کسے مالی مسائل کا سامنا ہے، کسے اپنا ہمسفر پسند نہیں یا کون اپنی زندگی کے پوشیدہ زخم سینے میں دبائے نفسیاتی مسائل کا شکار ہے۔

ہم نہیں جانتے وہ زندہ ہیں یا نہیں۔ ہمیں نہیں پتہ کہ ان کا اکاؤنٹ کوئی اور تو نہیں چلا رہا۔ یہ ایک طرح کی مصنوعی دنیا ہے جس میں ہم بڑی حد تک کھو چکے ہیں بلکہ ہوں کہیں کہ ہمیں لت لگ چکی ہے۔ بار بار بغیر بیپ کے بھی فون چیک کرنا دراصل ہماری لت ہے کہ کسی نے ہمیں لائک کیا، ریٹویٹ کیا، بحث کی۔ اس سے ہم اپنے حال اور موجود میں نہیں رہ پاتے۔ اس اسیری نے ہمیں حقیقی مسائل سے دور کر کے غیر اہم مسائل میں زیادہ الجھا دیا ہے۔

سنسنی، اشتعال اور خودپسندی نہ صرف بڑھ رہی ہے بلکہ ہم اسے اپنی آنے والی نسل کو بھی منتقل کر رہے ہیں۔ اس تحریر میں یہ پیغام نہیں کہ آپ فون پھینک دیں، دنیا سے کٹ جائیں اور کاغذ کے دور میں پہنچ جائیں۔ جی نہیں۔ وقت کے ساتھ چلیں، اپنی ذات کو اطراف کی ترقی کے ساتھ چلائیں مگر اعتدال کے ساتھ۔ کاغذ کے دور میں نہ سہی مگر کبھی کبھی کتاب پڑھیں۔ اپنے بچوں کو سکھاتے ہوئے ان کے ساتھ پینسل کلر کریں۔ موسیقی سنیں۔

روحانی یا جسمانی ورزش یا جو طریقہ آپ کو سکون دے اسے اپنائیں۔ چہل قدمی کریں۔ دن کا کوئی وقت اکیلے گزاریں۔ بغیر فون، ٹی وی، کتاب، لوگ۔ تنہائی انسان کو خود احتسابی کی طرف لے جاتی ہے اور جو خود کو جان لے وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا۔ اپنی ذات کو کبھی صرف اپنے لئے بھی مطمئین کیجیئے، خود کو بھی متاثر کریں۔ پر اعتماد بنیں کیونکہ آپ کے اطراف میں کچھ لوگ ہیں جنہیں آپ سے ہمت ملتی ہے۔ اور پھر ایک مثبت سوچ ہی تو گلاس کو آدھا بھرا دیکھ سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •