سکردو کے سرکاری ہسپتال سے اللّہ بچائے
ہفتے کے دن چھٹی تھی تو میں دیر سے جاگا۔ سکردو کی سردی میں کون جلدی جاگنا چاہے گا۔ بہر حال ناشتہ کیا اور ارادہ تھا کہ پچھلے ہفتے دوست سے گفٹ ملی کتاب ”رومیز ڈاٹر“ پڑھی جائے جو شلف میں پڑی پڑی سردی میں ٹھنڈی پڑ گئی تھی۔ کتاب ہاتھ میں لی تھی کہ میرے کزن کی کال آگئی۔ اس نے درد سے کراہتے ہوئے بتایا کی کندھے میں شدید درد ہے ہسپتال جانا ہے اور میں خود بائک چلا کے جا نہیں سکتا۔ ہو سکتا ہے تو کسی کو بھیج دو یا خود آجاؤ۔
میں نے نہ چاہتے ہوے بھی ہامی بھر لی۔ آدھے گھنٹے تک تیار ہو کے بائک سٹارٹ کی اور نکل پڑا۔ دروازے پہ پہنچ کے کال کی تو وہ باہر آگیا۔ کزن کی حالت سچ میں بہت خراب لگ رہی تھی۔ پیٹ سے اوپر کا حصہ ہلایا نہیں جا رہا تھا اور چل ایسے رہا تھا جیسے کوئی روبوٹ چل رہا ہو۔ ذرا سا جھٹکا لگتا تو درد سے یا اللہ یا اللہ کی آواز نکلنے لگتی۔ سکردو کی سڑکوں میں بنے کھڈوں کی تعداد کا اندازہ اس دن بخوبی ہو گیا جب ہر جمپ کے ساتھ کزن اللہ اللہ کا ورد کر رہا تھا۔
شہر کے سب سے بڑے ہسپتال پہنچتے پہنچتے کزن نے تقریباً ستر ہزار نیکیاں تو کم ازکم کمائی ہوں گی۔ جیسے ہی ہسپتال پہنچنے کزن بائک سے اترا اور میں بائک کے لیے کوئی محفوظ مقام تلاش کرنے لگا کہ کوئی ٹھوک کے نہ چلا جائے۔ میری واپسی تک کزن نے پرچی بھی لے لی تھی۔ خوش قسمتی سے لوگوں کا رش کم تھا سو جلدی سے پرچی مل گئی۔ پرچی لے کر ایمرجنسی میں ڈاکٹر کے پاس گئے۔ کزن نے ڈاکٹر کو بتایا کی شولڈر ڈسلوکیٹ ہوا ہے۔ جس پہ ڈاکٹر صاحب کو ہنسی آگئی۔
کہنے لگے کہ آپ سے کس نے کہا کہ اسے شولڈر ڈسلوکیٹ ہونا کہتے ہیں۔ ہمیں تھوڑی شرمندگی ہوئی کہ شاید ہم سے کوئی غلطی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صاحب سے میں نے پوچھا ”چلیں آپ بتا دیں کیا کہتے ہیں اسے“ ۔ وہ بدستور مسکراتے رہے اور کوئی جواب دیے بغیر پرچی پے ایکسرے لکھ کے واپس کر دیا۔ میں نے کہا ”سر ایکسرے کی کیا ضرورت ہے گھر میں بیٹھے بیٹھے درد ہوا ہے کوئی ایکسیڈنٹ نہیں ہوا، کوئی مشین یا ایسا ڈاکٹر نہیں جو دیسی طریقے سے علاج کرے“ ۔
ڈاکٹر نے سخت لہجے میں جواب دیا ’دیسی علاج کرنا ہے تو کسی طبیب کے پاس چلے جائیں‘ ۔ ہم مزید بات کرنے کے قابل نہیں تھے سو خاموشی سے باہر نکل گئے۔ ایکسرے روم پہنچے تو کوئی بندہ بشر موجود نہ تھا۔ آس پاس کچھ لوگوں سے معلومات کیں تو پتہ چلا کی جناب کسی کام سے باہر گئے ہیں۔ ہم سیڑھیوں پہ بیٹھے نظام کی خرابیوں کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے اور خود کو گرم کرتے رہے۔ کافی ٹائم گزرنے کے بعد کوئی اور مریض اس بندے کو ڈھونڈ کے لے آیا۔
رش کم تھا تو جلدی جلدی ایکسرے ہو گیا اور وہاں سے ہمیں کسی سینئر ڈاکٹر کی طرف بھیج دیا گیا۔ آس پاس لوگوں سے پوچھتے پوچھتے ڈاکٹر صاحب کے آفس پہنچ گئے۔ دروازہ کھول کے جھانکا تو ان کا شاندار آفس گورنمنٹ کے اکثر دفتروں کی طرح بالکل خالی تھا۔ دروازہ کھولتے ہی اندر سے گرم ہوا کے جھونکے نکلنے لگے۔ ڈاکٹر کے موجود نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم نے دروازے کو تھوڑا سا وا رکھا اور ٹھنڈے ہاتھ گرم کیے۔ آدھے گھنٹے بعد اس دوسرے مریض نہ اطلاع دی کی ڈاکٹر صاحب آ رہے ہیں۔
ہم دروازے کے ساتھ کھڑے رہے۔ ڈاکٹر صاحب آ ئے اور اپنے روم چلے گئے۔ میں نے کزن کو ان کے پیچھے پیچھے آفس جانے کا اشارہ کیا۔ وہ دو منٹ میں واپس باہر آگیا اور مجھے ایک رجسٹر اور بہت سے کاغذات تھما دیے اور کہا کی دیکھو یار یہ ڈاکٹر نے کیا دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ جہاں جانا ہے چلے جاؤ۔ میں نے رجسٹر دیکھا اور کاغذات دیکھے مگر کچھ سمجھ نہ آئی۔ میں ڈاکٹر صاحب کے پاس گیا اور کہا ”سوری سر آپ کی بات سمجھ نہیں آئی آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔ کہاں ریفر کیا ہے آپ نے؟“
ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا ”اسلام آباد“ ۔
میں اور کزن حیران ہوگئے۔
میں نے کہا سر اسلام آباد؟ اتنی سی بیماری کے لئے؟
ڈاکٹر صاحب نے کہا جی! اسلام آباد میں کہیں بھی لے جائیں۔
میں نے کہا سر آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ دوبارہ پرچی دیکھیں۔
اتنے میں کچھ لیڈی ڈاکٹرز بھی روم میں آگئیں۔
ڈاکٹر صاحب نے پھر سے پرچی دیکھی اور کہا اچھا! آپ لوگ ہمیں آفیشل طریقے سے کام کرنے دیں نہیں تو ایسی غلطیاں ہوں گی۔ اب یہ بات ہمیں گھنٹہ سمجھ نہیں آئی کہ ان کا آفیشل طریقہ کون سا تھا۔ ہمیں بیٹھنے کو کہا گیا تو ہم بھی بیٹھ گئے اور ڈاکٹر صاحب لیڈی ڈاکٹرز کے ساتھ باتوں میں مصروف ہوگئے۔ کافی دیر وہ باتیں کرتے رہے درمیان میں کوئی کال آجاتی اور پھر سے گفتگو شروع ہو جاتی۔ اندازہ ہوا کہ لیڈی ڈاکٹر کو ڈاکٹر صاحب سے کوئی فیور چاہیے تھی۔
ڈاکٹر صاحب نے یقین دلایا کہ وہ کوشش کریں گے کہ ان کا کام ہو جائے گا۔ لیڈی ڈاکٹر کا سوالیہ اندازِ گفتگو سن کر ہم نے بھی دل ہی دل میں دعا دی کہ ان کا کام ہوجائے۔ ہم ٹائم دیکھتے اور برداشت کرتے رہے۔ آخر کار ہماری برداشت ختم ہونے سے پہلے ان کی گفتگو ختم ہو گئی اور لیڈی ڈاکٹرز کمرے سا باہر نکل گئیں۔ پھر ڈاکٹر صاحب کسی کال پہ لگ گئے اور کسی سے بڑی بڑی باتوں میں مصروف ہو گئے۔ بڑے بڑے عہدے داروں کے نام سنائی دیے اور کوئی جگاڑ کی بات بھی سنائی دی۔
پھر بالاخر ہماری باری آئی۔ اور پرچی دیکھ کر ڈاکٹر نے گلزار نام پکارا۔ تب احساس ہوا کی پرچی دینے والے نے نام بھی غلط لکھ دیا ہے۔ بہر حال میرے کزن نے حالات کو بروقت سمجھتے ہوئے نہ چاہتے ہوئے بھی ہامی بھر لی۔ ”جی سر میں ہوں گلزار“ ۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنے موبائل میں شاید ایکسرے دیکھا اور پرچی پر کچھ لکھ کر واپس کزن کو پکڑا دی۔
ہم شکر کرتے ہوے واپس ایمرجنسی روم والے ڈاکٹر کے پاس آگئے۔ ڈاکٹر نے پرچی دیکھی اور کہا ”ایکسرے ٹھیک ہے۔ کوئی ڈسلوکیشن بھی نہیں ہے“ ۔ میں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ کندھے پہ ہاتھ لگا کے دیکھیں صاف پتہ چل رہا ہے کہ ڈسلوکیشن ہے۔ اور دو دن سے بندہ بازو ہلا نہیں سکتا۔ ڈاکٹر نے پرچی پہ کچھ لکھتے ہوے کہا ”ابھی او پی ڈی میں عملہ نہیں ہے۔ میں یہ درد کی دوائی دے رہا ہوں آپ پیر کے دن آجائیں تو دیکھ لیں گے“ ۔ ہم ایماں کے سب سے نچلے درجے کا مظاہرہ کرتے ہوے دل ہی دل میں سب کو بُرا بھلا کہتے ہوئے ہسپتال سے نکل آئے۔
پرچی لے کر سیدھے پکوڑے والے کے پاس پہنچے اور بیس روپے کے پکوڑے پرچی میں لپیٹ کر ساتھ چائے والے ہوٹل میں بیٹھ گئے اور دس روپے والی چائے پی۔ چائے پیتے ہی عقل ٹھکانے آگئی اور ہم تین گھنٹے برباد کر کے سیدھے کسی طبیب کے پاس پہنچے اور معاملہ بتایا۔ ایک دو منٹ میں تین چار جھٹکوں اور پانچ چھہ چیخوں میں کزن کا کاندھا بالکل ٹھیک ہو گیا اور ہم بزرگ کو دعائیں دیتے ہوئے واپس گھر آگئے۔


