سندر بن کے جنگلات، عید اور میں


اور جب شام کے سائے ڈھل رہے تھے، گاڑی دریائے بھیرب کے کنارے واقع پیپر مِل کے احاطے میں داخل ہور ہی تھی۔ جنرل مینجر عزیز الرحمن کی بیوی کی پور پور میں جیسے بنگال کا جادو بول رہا تھا۔ گھر کے بڑے چھوڑ بچے بھی روزے سے تھے، ایسے میں چائے حلق سے نیچے اترنی مشکل ہوگئی تھی۔ پھر پیپر مِل کی سیر کرائی گئی۔ کاغذکی تیاری کے سب مراحل دکھائے گئے اورمیں نے جانا کہ سندر بن کے ڈیلٹاؤں کی دلدلی زمین میں اگنے والے گیو ا درخت اس صنعت کے لئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ گیوا لکڑی کو دریا میں بھگونے، کاٹنے، پیسنے اور مشینوں پر رولروں کی صورت میں لپیٹنے، کٹنے تک کے مرحلے کتنے مشکل تھے کہ جس کا اندازہ دیکھے بغیر ہو ہی نہیں سکتا تھا۔

گاڑی میں ہی کھلنا شہر کا مختصر چکر لگا۔ خاصا بڑا ضلع ہے۔ بھیرب، جمنا اور مدھو متی جیسے دریاؤں سے گھرا ہوا۔

جب میں سونے کے لئے لیٹی میں نے کئی بار خدا کا شکر ادا کیا کہ صاحب خانہ نے باتیں کرتے ہوئے ایک بار بھی یہ نہیں کہا تھا کہ ان کے سندر بن کی لکڑی اور اتنی محنت ومشقت سے تیار کردہ پیپر سے ویسٹ پاکستان زرِ مبادلہ کما رہا ہے۔ ناشتے میں صرف ڈاب پی اور چائے کا کپ لیا۔

فارسٹ گھاٹ سے لانچ میں بیٹھے اور دریائے بھیرب میں سفر کا آغاز ہوا، تھوڑے سے سفر کے بعد لانچ دریائے پسر میں داخل ہوگئی۔ بگھیر گھاٹ پر پڑاؤ ہوا پھر لانچ چالنا جار کی۔ چالنا بہت بڑی بندر گاہ تھی جس کی توسیع کا بیشتر کام ہوچکا تھا اور کچھ ابھی بھی جاری تھا۔ منگلا سے ہم لوگ سمپان (کشتی) میں بیٹھے۔ سمپان عرب جہاز رانوں کی مخصوص وضع کی ایجاد کردہ کشتیوں کا نام ہے۔

سندر بن کا سلسلہ پیرو چپور، باقر گنج، چالنا، منگلا، مورلگینی اور جنوب کے چھوٹے چھوٹے ضلعوں سے خلیج بنگال تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ حیرتوں کا سفر تھا، فطرت کا حسن اپنی رعنائیوں اور دلفریبیوں کے ساتھ اتنا ننگا تھا کہ میں سناٹے میں آگئی تھی۔ آنکھوں میں دہشت اور خوف کے سائے لرزنے لگے تھے۔ شاید گدلی آنکھوں میں حُسنِ فطرت سمونے کی تاب نہ تھی۔ سمپان جیسے جیسے آگے بڑھ رہی تھی۔ دیو قامت سبز درختوں کے جھنڈوں کے پیچھے لشکارے مارتی ہرنوں کی ڈاریں، بے کراں پانیوں اور سبزے کے سلسلے، ”پروردگار!

شدت جذبات سے جیسے میرا مُو مُو فریادی بن گیا۔ میرا یہ وطن! حسن و رعنائی کا شاہکار۔ میری آنکھوں کے گوشے بھیگ رہے تھے۔ چوڑے پتوں والے گیو ا اور سندری کے درختوں، چیتوں، شیروں، رائل بنگال، ٹائیگرز، زہریلے سانپوں، اژدھوں اور خوفناک بھیڑیوں کے متعلق منصور الحق مجھے بتا رہا تھا پرمیرے کان جیسے بند تھے اور آنکھیں بدلتے منظروں سے پھٹی پڑ رہی تھیں۔ مور لگینی سے کشتی ایک چھوٹی ندی میں داخل ہوئی۔ یہ جنت کا کوئی ٹکڑا ہے جو آسمان کے سینے کو چیرتا ہوا یہاں آ گر ا ہے۔ میں نے بے اختیار سوچا تھا۔

کافی آگے جا کر دائیں ہاتھ ایک گاؤں کے آثار تھے۔ پھر کشتی نے گھاٹ کو چھوا اور ہم سب بانس کی جیٹی پر چلتے ہوئے زمین پر آگئے۔ دہشت ناک خاموشی درختوں میں گھرے بانسوں کے گھر جن کی دیواروں پر پھیلی رنگ برنگے پھولوں والی بیلیں۔ پھٹی پرانی ساڑھیوں میں دو عورتیں، تین بچے اور مرد بیٹھے چٹائیوں کے بنڈل بنا رہے تھے۔ درختوں کی گھنی چھاؤں میں سے سورج کے سنہری روپ کہیں کہیں مینا کاری کر رہے تھے۔ ہم ان کے گرد اکٹھے ہوگئے تھے۔ منصور الحق کے جاننے والے لوگ تھے۔ چائے اور کجھور کے گُڑ سے بنے مُرنڈے سے تواضع ہوئی۔ میں گھر کے اندر گئی، کمرے کی ایک ایک چیز جیسے زبان سے کہتی تھی کہ ہم گردن گردن تک غربت میں دھنسے ہوئے ہیں۔ میں انہیں کچھ دینا چاہتی تھی پر رک گئی کہ خوف نے گھیر لیا تھا کہ کوئی کچھ کہہ نہ بیٹھے۔

مختلف نالوں اور بڑی ندیوں کے شارٹ کٹ راستوں سے ہوتے ہوئے شام ڈھلے ہماری باریسال واپسی ہوئی۔
اس رات جب جب میری آنکھ کھلی میرے ہونٹوں پر دسیوں نہیں بیسویں بار یہ دعا تھرکی تھی۔ پروردگار میرا وطن کتنا خوبصورت ہے۔ اِسے ہمارا نصیب کیے رکھنا۔
تب نہیں جانتی تھی کہ خدا کے فیصلے میرٹ، انصاف اور خلوص پر ہوتے ہیں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2