عالمی ماحولیا تی کا نفرنس اور تھر کی ریشماں کا دُکھ
بارش نہ ہونے سے قریبی کنووں کا پانی خشک ہو چکا ہے، لہذا پانی بھر نے کے لئے پانچ ماہ کی حاملہ ریشماں کو کئی اضا فی کلومیٹر پیدل طے کر کے پانی تک پہنچنا ہے۔ موسم کی تبد یلیوں اوراس کے نتیجے میں ہونے والی خشک سالی سے انسان اورجانور، خوراک اور پانی کی کمی کا شکا رتو ہیں ہی لیکن تھر جیسے صحرائی علا قے میں یہ خشک سالی ایک عورت کی زندگی کے لئے زیادہ بے حم ہے، جہاں اپنے خاندان کے لئے پینے کے پانی کا بندوبست کرنا عورت کی ذمے داری تصور کیا جاتا ہے۔
24 سالہ ریشماں اپنی عمرسے کئی گنا بڑی لگتی ہے، 15 سال میں شاد ی ہوئی، ہر سال بچے کی پیدا ئش کی تکلیف اٹھا تی ہے، غذا ئی قلت، صحت کی خرابی کی وجہ سے پیدا ئش میں پیچد گیوں کے باعث اپنے کئی بچوں کو موت کے حوالے کرنے کا دُکھ الگ۔
خشک سالی سے معا شی حالات بھی ابتر ہیں، نتیجہ میں پریشانی اور بدحالی کا نفسیاتی اثر، مرد پر بے تحاشا ہے، گھرکے سربراہ کی حیثیت سے، گھر میں موجود اپنی ملکیت تصورکی جانی والی کمزور ہستی عورت کومارنا پیٹنا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے اور پھر ریشماں بھی اس سے محفوظ نہیں!
موسم اورعورت کی زندگی کا تعلق کتنا گہرا اور پیچیدہ ہے!
یہ خلاصہ ہے اس سادہ سی کہانی کا، جس کو اقوامِ متحد ہ کے جا نب سے پولینڈ میں ہونے والی عالمی کانفرنس برائے ماحولیاتی تبدیلی میں پیش کیا گیا۔ تین سے چودہ دسمبرتک جاری رہنے والی اس عالمی اجتما ع میں دنیا بھرکے ماحولیاتی ماہرین جمع ہیں، جہاں موسم اور ماحولیا تی تبد یلی کو کونسلِ انسا نی کے در پیش مسائل میں حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا بحران قرار دیا جا رہا ہے!
خواتین کے لئے ماحولیاتی انصا ف کی عالمی تحریک، ٖفر یڈا سے وابستہ ہونے کے نیجے میں، مجھے یہ مو قع ملا کہ ماحو لیاتی تبد یلی اوراس کے نئیجے میں بالخصوص عورت کی زند گی پراس کے اثرات کاجائزہ لوں اورفیلڈ کے تجر با ت کی رو شنی میں انسا نی الم کی تصویرکشی کروں، ر یشماں کی یہ کہانی حقیقت پرمبنی ہے جس کو پا کستا ن سے مثالی کہانی کے طور پر دیگراور ملکوں کی طرح عا لمی اشاعت میں شا مل کیا گیا، تا کہ اس مو قع پرد نیا کی تو جہ ماحولیا تی بگا ڈ سے درپیش مسائل پر انسان کے کرب کو اُجاگر کیا جاسکے۔
دُکھ کو الفاظ دینے اور اُن الفاظ کو عالمی منظرنامے پر لانے کے لئے مجھے ایک پیچدہ راستہ عبُورکرنا پڑا، لیکن میرا ماننا ہے کہ ماحولیاتی تخییر اوراس سے جُرے مسا ئل پر اب صرف الفاظ نہیں بلکہ اقدامات کرنے کا وقت ہے اور وہ بھی جنگی بنیادوں پر، جہاں یرانسا ن، ہرمحکمہ، ہرحکومت اورہرملک، اس کا م میں اپنا بھرپوراور حقیقی کردار ادا کرنا ہوگا۔
شروعا ت اپنی ذات سے ہی کی جا سکتی ہے!
مثلاً چھوٹے چھوٹے اقدامات کو معمولی سمجھ کرنظرانداز نہ کریں۔ درخت لگانا اور عملاً ان کی حفا ظت کرنا (کیونکہ اب پلا نٹیشن ڈرائیو کا انعقا د بھی فیشن اوردکھا وا بن گیا ہے ) ، کچرا اور پلاسٹک نہ جلا نا، پانی اور بجلی کا بے حد کفایت شعاری سے استعمال، ایسے اقداما ت ہیں، جوہر انسا ن اپنے طور پر کر سکتا ہے۔
حکومتی سطح پرماحول دوست پالیسوں کو ہرمنصو بے کا لازمی حصہ بنایا جاسکتا ہے، کاربن کا کم سے کم اخراج، صنعتی منصوبوں پرماحول کی حفاطت کو اولیت دینا، سرکاری سطح پرماحولیاتی حفاظت کے اقدامات، پالیسوں اورقوانین کا بھرپور اطلاق کیا جا سکتا ہے۔
اوراگرعالمی سطح پردیکھا جائے تو امریکہ کے گلو بل وارمنگ کو روکنے کے لئے کیے جانے والے اقدامات سے انکاری ہونے پر، عالمی برادری سخت احتجاج کرے اور یرممکنہ دباؤ ڈالے، سا تھ ہی عالمی ماحولیاتی تبدیلی اور بگا ڑ کو روکنے کے لئے عالمی بینک کی جا نب سے دو سو ارب ڈالرکے فنڈ مختص کرنے کے اعلان اور اس کے بعد کیے جانے والے اقداما ت اور پیشرفت پر، ماہرین اورسول سوسائٹی کڑی نظر رکھے۔
جہاں ایک طرف دنیا بھر کے معروف ماحولیا تی ماہرین، عالمی رہنما اور نامور شخصیا ت مثلاً آرنلڈشوازینگر، جو ماحول کے بچاؤ کی عالمی مہم میں۔ دی کلا ئمیٹ ٹرمینٹر،
The Climate Terminator
مشہور ہیں، عالمی ماحولیا تی کانفرنس کے اس موقعے پرسرجوڑ کر بیٹھے ہیں کہ کیسے کرہ ارض کو ماحولیاتی تباہی سے بچا یا جاسکے، وہیں ریشماں جیسی خواتین جو ماحولیاتی تبدیلی سے براہ راست متاثر ہیں، ان کی آواز بھی عالمی ایوانوں میں پہنچ رہی ہے!


