بارش نہ ہونے سے قریبی کنووں کا پانی خشک ہو چکا ہے، لہذا پانی بھر نے کے لئے پانچ ماہ کی حاملہ ریشماں کو کئی اضا فی کلومیٹر پیدل طے کر کے پانی تک پہنچنا ہے۔ موسم کی تبد یلیوں اوراس کے نتیجے میں ہونے والی خشک سالی سے انسان اورجانور، خوراک اور پانی کی کمی کا شکا رتو ہیں ہی لیکن تھر جیسے صحرائی علا قے میں یہ خشک سالی ایک عورت کی زندگی کے لئے زیادہ بے حم ہے، جہاں اپنے خاندان کے لئے پینے کے پانی کا بندوبست کرنا عورت کی ذمے داری تصور کیا جاتا ہے۔
24 سالہ ریشماں اپنی عمرسے کئی گنا بڑی لگتی ہے، 15 سال میں شاد ی ہوئی، ہر سال بچے کی پیدا ئش کی تکلیف اٹھا تی ہے، غذا ئی قلت، صحت کی خرابی کی وجہ سے پیدا ئش میں پیچد گیوں کے باعث اپنے کئی بچوں کو موت کے حوالے کرنے کا دُکھ الگ۔
خشک سالی سے معا شی حالات بھی ابتر ہیں، نتیجہ میں پریشانی اور بدحالی کا نفسیاتی اثر، مرد پر بے تحاشا ہے، گھرکے سربراہ کی حیثیت سے، گھر میں موجود اپنی ملکیت تصورکی جانی والی کمزور ہستی عورت کومارنا پیٹنا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے اور پھر ریشماں بھی اس سے محفوظ نہیں!
Read more