کافکا کا دوست
مجھے پہلے ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ کوئی رئیس زادی ہے۔
’کیا آپ کا یہاں ٹھہرنا خطرناک تو نہیں؟ کہیں آپ کا محبوب آپ کی تلاش میں نہ نکلا ہو‘
’آپ بالکل بے فکر رہیں۔ وہ آپ کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا نہیں کرے گا۔ وہ جیل سے بھاگا ہوا ہے‘
’آپ کل گھر کیسے جائیں گی؟ ‘
’ مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ زندگی ویسے بھی بے مقصد ہے۔ میں زندہ تو نہیں رہنا چاہتی لیکن اس کے ہاتھوں مرنا بھی نہیں چاہتی‘
پھر ہم دونوں ایک ہی بستر میں لیٹ گئے۔
’آپ کو مجھ سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ‘ میں نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی ’میں بوڑھا اور عورتوں کے لیے بیکار ہو چکا ہوں۔ ‘
یہ کہنا تھا کہ اچانک مجھ پر خوف طاری ہو گیا۔ مجھے ڈر لگنے لگا کہ ابھی اس کا محبوب آجائے گا۔ ’
جب وہ میرے ساتھ لیٹی تو مجھے عجیب قسم کی گرمی کا احساس ہونے لگا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ میری قسمت نے میرے ساتھ ایک اور چال چلی ہے۔ بہت ہی اعلیٰ چال۔
پھر میں نے اسے اپنے قریب کر لیا۔ اس نے بھی کوئی مزاحمت نہ کی۔ پھر مجھے ماضی کا ایک سبت کا منظر یاد آیا جب ایک گائے اور بیل ذبح ہونے سے پہلے مباشرت کر رہے تھے۔
اس نے مجھے بوسہ دیا اور میرے کان میں سرگوشی کی۔
پھر مجھے کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ اچانک وہ بستر سے اٹھی اور زمین پر بیٹھ گئی۔ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے دروازہ نہ کھولا۔ اجنبی نے دروازہ توڑنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
صبح جانے سے پہلے اس نے مجھے اپنا فون نمبر دیا اور فون کرنے کو کہا لیکن میں نے اسے کبھی فون نہ کیا۔ میں نے ایک آسمانی کتاب میں پڑھا تھا کہ معجزے ہر روز نہیں ہوا کرتے۔
پھر جیک نے مجھے بتایا کہ کافکا بھی میری طرح عورتوں اور ادب کے بارے میں شرمیلا تھا۔ وہ محبت کرنا چاہتا بھی تھا اور شرماتا بھی تھا۔ وہ جملے لکھتا تھا اور پھر انہیں خود ہی کاٹ بھی دیتا تھا۔ ایک دن کافکا نے مجھے سے کہا ’خدا کھٹمل نہیں بناتا۔ ‘ اس کا یہ جملہ مجھے آج تک یاد ہے۔ اگر آپ ویانا کے باسی ہیں تو آپ کو اس جملے کی معنویت آسانی سے سمجھ آ جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کھٹمل خدا نے نہیں بنایا تو پھر کس نے بنایا ہے؟
ایک دن جیک اور میں کلب میں باتیں کر رہے تھے تو بیمبرگ آ گیا۔ کہنے لگا ’میں نے کافکا کی کتاب THE CASTLE پڑھی ہے۔ وہ ایک بیکار کتاب ہے۔ کافکا کو کہانی لکھنی نہیں آتی‘
بیمبرگ کی بات سن کر جیک نے فوراٌ اپنا نوالہ نگلا اور کہا ’بیٹھ جاؤ اور سنو۔ A MASTER DOES NOT HAVE TO FOLLOW THE RULES‘
’لیکن چند اصول تو ایسے ہیں جن کی اساتذہ ادیبوں کو بھی پیروی کرنی چاہیے۔ کسی ناول کو WAR AND PEACE سے بڑا نہیں ہونا چاہیے۔ ویسے وہ بھی بہت لمبا ناول تھا۔ اگر بائبل کے 18 سے زیادہ باب ہوتے تو لوگ انہیں بھی یاد نہ رکھتے‘
جیک بولا ’تمہاری بات درست نہیں زبور کے 38 باب ہیں اور یہودیوں نے انہیں نہیں بھلایا‘
’ یہودیوں کا یہی تو مسئلہ ہے۔ وہ کوئی چیز نہیں بھلاتے۔ انہیں فلسطین کی مقدس زمین سے نکلے دو ہزار سال ہو گئے ہیں اور وہ اب بھی وہاں واپس آنا چاہتے ہیں۔ یہ دیوانگی نہیں تو اور کیا ہے؟ ‘
پیمبرگ جیک کی باتوں کی تاب نہ لا سکا اور اٹھ کر کلب سے چلا گیا۔
میں نے جیک سے پوچھا ’کیا اس عورت نے تمہیں فون کیا جس نے تمہارے ساتھ ایک رات گزاری تھی؟ ‘
’کبھی کبھی فون کرتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ وہ دانشور ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ وہ ایسی دانشور ہے جو دانش سے عاری ہو۔ کافکا جس میڈم ٹینزک کی زلف کا اسیر ہوا تھا وہ بھی صرف جسم رکھتی تھی ذہانت اور دانائی سے عاری تھی۔ کافکا بہت شرمیلا تھا۔ ایک دفعہ میں اسے طوائفوں کے محلے لے گیا۔ میں نے ایک دروازہ کھولا اور ہم اندر چلے گئے۔ کافکا اتنا گھبرایا کہ جلد ہی لڑکھڑاتے ہوئے باہر آ گیا اور پھر اس نے ایک بچے کی طرح الٹی کر دی۔ جب ہم واپس آ رہے تھے تو ایک سیناگاگ کے آگے سے گزرے۔ کافکا گھبرا کر کہنے لگا اسے کوئی قتل کر دے گا۔
کافکا الفاظ کے سحر سے واقف تھا۔ خدا نے بھی تو چند الفاظ ہی کہے تھے اور ایک مٹی کا پتلا انسان بن گیا تھا۔
ایک دن جیک کہنے لگا ’میں ساری عمر موت سے ڈرتا رہتا تھا لیکن اب جب کہ میں بوڑھا ہو گیا ہوں اور موت کے قریب پہنچ گیا ہوں اب میں موت سے نہیں ڈرتا۔ یوں لگتا ہے کہ میری قسمت جو میرے ساتھ ساری عمر ایک دلچسپ کھیل کھیلتی رہی ہے اس میں کچھ سستی پیدا ہو گئی ہے۔ اب قسمت کافی دیر کے بعد کوئی چال چلتی ہے۔
جیک اٹھا اور دوسرے کمرے میں فون کرنے چلا گیا۔ میں اس کا انتطار کرتا رہا۔ وہ کافی دیر کے بعد آیا تو کہنے لگا ’ساتھ والے کمرے میں کافکا کی محبوبہ میڈم ٹینزک ہے۔ آؤ میں تمہیں اس سے ملواؤں۔ میں نے اس سے تمہارا ذکر کیا ہے‘
’ نہیں میں اس سے نہیں ملنا چاہتا‘ میں نے جواب دیا۔
’تم کافکا کی محبوبہ سے نہیں ملنا چاہتے‘ جیک کافی حیران ہوا
’میں بہت شرمیلا ہوں‘ میں نے وضاحت پیش کی۔
’ کافکا بھی ایک سکول کے بچے کی طرح شرمیلا تھا۔ لیکن میں شرمیلا نہیں ہوں۔ شاید اسی لیے میں ساری عمر کوئی عظیم کام نہیں کر سکا۔ اب مجھے گھر جانا ہے لیکن میرے پاس کرایہ نہیں ہے۔ ‘
’ میں نے جیب سے بہت سے نوٹ نکالے اور اسے چند نوٹ دے دیے۔
’ کیا تم نے کوئی بینک لوٹا ہے‘ جیک نے مسکراتے ہوئے کہا۔ چلو تم نے ایک نیک کام کیا ہے۔ اگر خدا ہے تو وہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔ اور اگر خدا نہیں ہے تو پھر جیک کوہن کے ساتھ یہ قسمت کا کھیل کون کھیل رہا ہے ’۔

