مولانا طارق جمیل صاحب کا ویڈیو بیان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 21
  •  

مولانا طارق جمیل صاحب نے اپنے حالیہ ویڈیو بیان میں عمران خان کی حمایت کی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر لوگ مختلف قسم کی آراء کا اظہار کررہے ہیں۔ میرے نزدیک مولانا طارق جمیل صاحب نے عمران خان کی حمایت خواہ مخواہ نہیں کی ہے بلکہ جن باتوں میں انہوں نے عمران خان کی حمایت کی ہے ان باتوں میں کوئی بھی ذی شعورانسان مولانا کی مخالفت نہیں کر سکتا مثلاً یہ کہ انہوں نے تصور ریاست مدینہ اورخاتون اول بشری بی بی کے پردہ کی حمایت میں اظہارخیال کیا کہ اس سے پہلے کے حکمرانوں نے تصورریاست مدینہ پیش کیا اورنہ ہی کسی خاتون اول کے بارے میں ایسی معلومات ملتی ہیں کہ وہ شرعی پردہ کی پابندی کرتی ہوں، سو کسی بھی مولوی یا صاحب علم کے پاس مولانا کی ان باتوں کی مخالفت کا کوئی جواز نہیں ہے بلکہ ہر ذی شعورانسان ایسے معاملات میں حمایت ہی کرے گا ریاست مدینہ کا تصور پیش کرنے والا شخص عمران خان ہو یا کوئی اور۔

مولانا طارق جمیل صاحب کی جانب سے ویڈیوبیان کی صورت جو موقف سامنے آیا ہے اس سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولانا نے عمران خان کی حمایت کی ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے انہوں نے صرف چند امورکا نام لیا اور انہی امور کے پیش نظر اپنا موقف بھی پیش کردیا کہ ہمیں ریاست مدینہ کے تصور کو عملی شکل دینے میں عمران خان کا ساتھ دینا چاہیے لیکن اس بیان کے سامنے آنے کے فوری بعد وہ اہل مذہب جن کا تعلق کسی نہ حوالے سے کسی سیاسی جماعت سے ہے وہ مولانا پر کیچڑ اچھالنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ دیکھیں کیا ہوگیا کہ مولانا نے عمران خان کی حمایت کردی جیسے انہوں نے کسی غلط کام میں حمایت کر دی ہو؟ اس دوران وہ اہل مذہب بھول جاتے ہیں کہ مولانا ایک مستند اورجیدعالم دین ہیں وہ اسلام کے داعی ہیں اور ہر دور کے حکمرانوں کے ساتھ وہ اس امید کے ساتھ ملتے رہے ہیں کہ شاید بھٹکی ہوئی امت راہ راست پر آجائے۔ تاریخ گواہ ہے ہزاروں بھٹکے ہوئے لوگ مولانا کی محنت کی بدولت راہ راست پرآئے ہیں۔

جو اہل مذہب مولانا طارق جمیل صاحب کے بارے سخت رویہ رکھتے ہیں انہیں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ مولانا کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں جبکہ مخالفت صرف وہی کر رہے ہیں جن کے سیاسی مفادات کی فہرست بہت طویل ہے، مولانا بھی انسان ہیں ان سے اصولی اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اس مخالفت کی آڑ میں مولانا کی ذات کو متنازع بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے اگر کسی مولوی یا اہل مذہب میں سے کسی نے ایسی حرکت کی بھی تو مولانا کی شان میں کوئی کمی نہیں ہو گی بلکہ بہت سے لوگ عزت سادات سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

اہل مذہب بھی یہی چاہتے ہیں ناں کہ ملک میں اسلامی قانون کا نفاذ ہو جب مدینہ کی ریاست قائم ہو گی تو اسلامی قانون کا نفاذ خودبخود ہوجائے گا اس لئے مولانا پر تنقید کی بجائے اہل مذہب کو مولانا طارق جمیل صاحب کی حمایت میں کھڑا ہوجانا چاہیے تاکہ ان کے دیرینہ خواب کو عملی شکل دی جا سکے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 21
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں