درخت لگائیں! مگر سوچ سمجھ کر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے چلائی جانی والی مہمات میں اب تک کی سب سے کامیاب مہم میرے خیال میں درخت لگانے کی مہم ہے۔ پورے ملک میں اس مہم کے آغاز سے قبل تحریک انصاف خیبر پختونخوا میں یہ مہم چلاچکی ہے۔ ”بلین ٹری پراجیکٹ“ کے نام سے چلائی جانے والی مہم کے خلاف آپ کے پاس کئی اعداد و شمار ہو سکتے ہیں۔ کافی معلومات ہو سکتی ہے کہ خیبر پختونخوا میں بلین درخت نہیں لگائے گئے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ درخت لگائے گئے تھے۔

خواہ وہ لاکھوں ہوں یا ہزاروں۔ برسوں بعد اتنی بڑی سطح پر حکومت کو یہ خیال آنا بہت ہی مثبت پیش رفت اور خوش آئیند ہے کیونکہ اس سے قبل یا تو چھوٹی سطح پر یہ کوشش ہوتی تھی یا پھر مختلف سماجی اور تعلیمی تنظیمیں یہ شعور اجاگر کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ وفاق اور تین صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد ملکی سطح پر شجرکاری مہم کا آغاز ہو چکا ہے۔ لیکن تشویش ناک بات جو سامنے آرہی ہے وہ ہے غلط درختوں کا چناؤ۔ اس میں قصور ”غلط مشورے“ کا ہو، ”ناتجربہ کاری“ کا ہو یا پھر ”غلط پالیسی“ کا۔ نقصان پاکستان کا ہی ہوگا۔

دنیا میں ایک بات عام مشاہدے سے معلوم ہو سکتی ہے کہ ہر علاقے کی کچھ مخصوص سوغاتیں ہوتی ہیں۔ ہر فصل اور ہر پھل دنیا میں ہر جگہ نہیں ہوتا۔ بلکہ ہر جانور بھی دنیا کے ہر علاقہ میں نہیں ہوتا۔ آسٹریلیا کے مخصوص درخت دنیا میں اور کہیں نہیں ہوتے۔ ہمارے علاقہ میں پیدا ہونے والی گندم جو کروڑوں من ہر سال صرف پاکستان میں ہی پیدا ہوتی ہے افریقہ میں اس کا ایک شاید ایک سٹہ بھی پایا نہیں جاتا۔ ہر خطے کی آب و ہوا، زمین، مٹی اور ماحول ہر ایک پودے اور درخت کے لئے سازگار نہیں ہوتے۔

آج کل بھی یہ خبر سننے میں آ رہی ہے کہ پنجاب میں سفیدے (eucalyptus) کے درخت لگائے جا رہے ہیں۔ اس کے لگانے کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ یہ درخت بہت جلدی پروان چڑھتا ہے۔ لیکن اس کے نقصانات اس کے فوائد سے زیادہ ہیں۔ یہ درخت بیشک بہت تیزی سے پروان چڑھتا ہے لیکن یہ زیر زمین پانی بہت زیادہ چوستا ہے۔ اوسطاً 25 لیٹر پانی روزانہ اس درخت کو درکار ہوتا ہے۔ اس لئے سفیدے کا درخت صرف اس علاقہ میں لگایا جاتا ہے جہاں سیم و تھور ہو۔ جہاں زیر زمین پانی بہت قریب ہو اور اس کی مقدار کم کرنی ہو۔

فیصل آباد کی زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر محمد طاہر صدیقی کے مطابق پاکستان کی آب و ہوا کے مطابق درج ذیل درخت لگ سکتے ہیں :

”جنوبی پنجاب کی آب و ہوا زیادہ تر خشک ہے اس لئے یہاں خشک آب و ہوا کو برداشت کرنے والے درخت لگائے جانے چاہئیں۔ خشکی پسند اور خشک سالی برداشت کرنے والے درختوں میں ‌ بیری، شریں، سوہانجنا، کیکر، پھلائی، کھجور، ون، جنڈ اور فراش کے درخت قابل ذکر ہیں۔ اس کے ساتھ آم کا درخت بھی جنوبی پنجاب کی آب وہوا کے لئے بہت موزوں ہے۔

وسطی پنجاب میں نہری علاقے زیادہ ہیں اس میں املتاس، شیشم، جامن، توت، سمبل، پیپل، بکاین، ارجن اور لسوڑا لگایاجانا چاہیے۔

شمالی پنجاب میں کچنار، پھلائی، کیل، اخروٹ، بادام، دیودار، اوک کے درخت لگائے جائیں۔ کھیت میں کم سایہ دار درخت لگائیں ان کی جڑیں بڑی نہ ہوں اور وہ زیادہ پانی استعمال نہ کرتے ہوں۔

اسلام آباد سمیت خطہ پوٹھوہار کے لئے موزوں درخت دلو؛ پاپولر، کچنار، بیری اور چنار ہیں۔ اسلام آباد میں لگا پیپر ملبری الرجیکا سبب ہے اس کو ختم کرنا چاہیے۔ خطے میں اس جگہ کے مقامی درخت لگائے جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔ زیتون کا درخت بھی یہاں لگایا جا سکتا ہے۔

سندھ کے ساحلی علاقوں میں پام ٹری اور کھجور لگانا چاہیے۔ کراچی میں املتاس، برنا، نیم، گلمہور، جامن، پیپل، بینیان، ناریل اور اشوکا لگایا جائے۔ اندرون سندھ میں کیکر، بیری، پھلائی، ون، فراش، سہانجنا اور آسٹریلین کیکر لگاناچاہیے۔ کراچی میں ایک بڑے پیمانے پر کونو کارپس کے درخت لگائے گئے ہیں۔ یہ درخت کراچی کی آب و ہوا سے ہرگز مطابقت نہیں رکھتے۔ یہ درخت شہر میں پولن الرجی کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ دوسرے درختوں کی افزائش پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں جبکہ پرندے بھی ان درختوں کو اپنی رہائش اور افزائش نسل کے لیے استعمال نہیں کرتے۔

زیارت میں صنوبر کے درخت لگائے جانے چاہئیں۔ زیارت میں صنوبر کا قدیم جنگل بھی موجود ہے۔ زیارت کے علاوہ دیگر بلوچستان خشک پہاڑی علاقہ ہے اس میں ون، کرک، پھلائی، کیر، بڑ، چلغوزہ، پائن، اولیو اور ایکیکا لگایا جانا چاہیے۔

کے پی کے میں شیشم، دیودار، پاپولر، کیکر، ملبری، چنار اور پائن ٹری لگایا جائے۔ ”

درخت لگاناضروری ہے۔ لیکن کون سے درخت لگائیں جائیں اس کا شعور ہونا بھی ضروری ہے۔ اس سے قبل ہم اسلام آباد میں بیرون ممالک سے درخت منگوا کر لگانے کا تجربہ کر چکے ہیں۔ اسلام آباد کی آباد کاری کرتے ہوئے انڈونیشیا سے منگوائے گئے جنگلی شہتوت ( Paper Mulberry trees ) اسلام آباد میں پولن الرجی کا بہت بڑا باعث ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے یہ بھی انکشاف ہو چکا ہے کہ اسلام آباد میں conocarpus نامی ایک اجنبی درخت لگایا گیا ہے۔

(عارف علوی نے بھی یہی درخت لگایا تھا ) اس درخت کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ پانی کی تلاش میں اس کی جڑیں دور تک نکل جاتی ہیں اور زیر زمین پانی کے نقصان کے ساتھ ساتھ تعمیرات کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس لئے اس سے بھی اجتناب کرنا چاہیے۔ ایسے پودے یا درخت جو آب و ہوا کے مطابق نہیں ہوتے وہ نہ صرف الرجی کا باعث بنتے ہیں بلکہ دوسرے درختوں اور جانوروں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسلام آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں پر لگائے گئے Lantana Camara نامی امریکی درخت بھی مختلف ہوائی آلودگی اور الرجی کے باعث بنے ہوئے ہیں۔

اسلام آباد کو ”سر سبز“ بنانے کے چکر میں ہم نے ”ناموافق“ اور ”غیر موزوں“ درخت لگائے۔ اسی وجہ سے ہر سال موسم بہار اور سردیوں کے آغاز میں پولن الرجی سے سینکڑوں لوگ بیمار ہوتے ہیں۔ اسلام آباد میں پولن الرجی ایک عام بیماری ہے۔ اور پاکستان کے باقی شہروں کی نسبت سب سے زیادہ دارالحکومت میں ہونے کی وجہ بھی یہ ”اجنبی“ درخت ہیں۔

ہم وزیر اعظم پاکستان کی ”درخت لگاؤ مہم“ ”Plant For Pakistan“، ”Clean and Green Pakistan“ نامی سب مہمات میں ساتھ ہیں۔ ان کی تریج میں حصہ بھی لے رہے ہیں۔ لیکن خدارا اس مہم میں ناتجربہ کاری نہ دکھائیں۔ بلکہ اس پر پورا ”ہوم ورک“ کر کے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ بے شک پاکستان ان سر فہرست دس ملکوں میں شامل ہے جنہیں سب سے زیادہ ماحولیاتی آلودگی کا سامنا ہے۔ بے شک درخت لگانا ہی ہماری اولین ترجیح ہونا چاہیے۔

بے شک درخت ہی ہمیں ان مسائل سے نکال سکتے ہیں لیکن غلط درخت لگا کر ہم مزید مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لئے یہ ضروری ہے کہ ایک آگاہی مہم بھی چلائی جائے اور ایسے سنٹر بھی قائم کیے جائیں جہاں لوگ جا کر معلوم کر سکیں کہ ان کے علاقہ میں کون سا درخت لگانا مفید ہوگا۔ صحیح، موزوں اور آب و ہوا کے موافق درخت لگانا ہی ان مسائل سے نجات کا ذریعہ ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •