وسی بابا کے تجزیات غلط کیوں ہوتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ میں سے بہت سے اکثر حیران ہوتے ہوں گے کہ وسی بابے کے تجزیات غلط اور میرے درست کیوں ہوتے ہیں حالانکہ محنت اور بھاگ دوڑ وسی بابا زیادہ کرتا ہے۔ اس سوال کا جواب دینے کے لیے ہم دونوں کے تجزیہ کرنے کے انداز کو دیکھنا ہو گا۔

وسی بابا کے تجزیات غلط ہونے کی وجہ ان کا طریقہ کار ہے۔ انہوں نے کسی معاملے کا تجزیہ کرنا ہو تو معلومات اکٹھی کرنے میں جت جاتے ہیں۔ وہ ان دوستوں سے مشورہ کرتے ہیں جو اس معاملے سے آگاہی رکھتے ہیں اور بالکل صحیح معلومات فراہم کرتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد وہ اکیڈیمک ہو کر نتیجہ نکالتے ہیں۔ صحیح معلومات سے اکیڈیمک ہو کر نتیجہ کیسے نکالا جاتا ہے؟ اس کے لئے ہم مسبر ہائی سکول میں کیے جانے والے ایک اہم سائنسی تجربے کا ذکر کرتے چلیں۔

وسی بابا اور تازہ خان مسبر ہائی سکول کی لیب میں مینڈکوں پر تجربہ کر رہے تھے تاکہ سر میسی کو اپنی سائنسی قابلیت سے مرعوب کر سکیں۔ وسی بابا نے ٹریکٹر ٹرالی کا ایک پوں پوں والا ہارن پکڑا اور مینڈک کے پیچھے جا کر ایک دم بجا دیا۔ مینڈک نے گھبرا کر چھلانگ لگائی کہ جانے کیا آفت آئی ہے، آسمان ٹوٹ پڑا ہے یا بجلی گری ہے جو ایسی زور کی کڑک سنائی دی ہے۔ تازہ خان نے نہایت احتیاط سے فاصلہ ناپ کر وسی بابا کو بتایا۔ وسی بابا نے ڈائری میں نوٹ کیا ”ایک مینڈک ہارن کی آواز سن کر چار ٹانگوں سے پورے چار فٹ جمپ لگا سکتا ہے“۔

اس کے بعد تازہ خان اور وسی بابا نے مینڈک کا پیچھا شروع کیا، بمشکل اسے پکڑا، اور سرجری ٹیبل پر لے جا کر اس کی ایک ٹانگ کاٹ دی۔ مینڈک کے ہوش حواس بحال ہوئے تو وسی بابا دوبارہ اپنا پوں پوں ہارن لے کر اس کے پاس پہنچے اور بجا ڈالا۔ مینڈک نے پھر گھبراہٹ میں چھلانگ لگا دی۔ تازہ خان نے نہایت احتیاط سے پیمائش کی اور وسی بابے نے ڈائری میں نوٹ کیا ”ایک تین ٹانگوں والا مینڈک ہارن کی آواز سن کر تین فٹ جمپ لگا سکتا ہے“۔

تازہ خان اور وسی بابا کا تجربہ جاری رہا اور انہوں نے دوسری ٹانگ بھی کاٹ کر یہ اہم تحقیق کی کہ دو ٹانگوں والا مینڈک ہارن کی آواز سن کر دو فٹ لمبی چھلانگ لگا سکتا ہے۔ اب تازہ خان نے تحقیق جاری رکھتے ہوئے مینڈک کی تیسری ٹانگ بھی کاٹ دی اور وسی بابا نے اس کے پیچھے جا کر یک دم پورے جوش و جذبے سے پوں پوں والا ہارن بجا دیا۔ مینڈک بے حال ہوا پڑا تھا لیکن ہارن کی آواز سن کر اس نے سوچا کہ ”پھر پھنس گئے، یہ کوئی بڑی بلا ہے جو ایسے چیختی ہے اور پھر میری ٹانگ کھا جاتی ہے، اب جیسے بھی ہو جان بچاؤ۔ “ اس مظلوم نے بچی کچھی طاقت اکٹھی کی اور چھلانگ لگا دی۔ تازہ خان نے نہایت احتیاط سے پیمائش کی اور وسی بابا نے ڈائری میں نوٹ کیا ”مینڈک کی تین ٹانگیں کاٹ دی جائیں تو وہ ہارن کی آواز سن کر ایک فٹ لمبی جمپ لگا سکتا ہے۔ “

تازہ خان اور وسی بابا کا تجربہ ابھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ یہ دیکھنا باقی تھا کہ اگر مینڈک کی کوئی ٹانگ نہ ہو تو وہ جمپ لگا سکتا ہے یا نہیں۔ تازہ خان نے چوتھی ٹانگ بھی کاٹ ڈالی۔ اس کے بعد وہ دونوں دبے پاؤں چلتے ہوئے مینڈک کے پیچھے پہنچے اور وسی بابا نے پوری قوت سے پوں پوں والا ہارن اس کے قریب لا کر بجا دیا۔ مینڈک نے ان پر توجہ ہی نہ کی۔

وسی بابا کے پاس اب تمام مصدقہ حقائق جمع ہو چکے تھے۔ تمام تجربے کے وہ خود عینی شاہد تھے۔ انہوں نے اپنی ڈائری نکالی اور اپنے اکیڈمک تجزیے کا آخری نتیجہ سپرد قلم کر دیا ”مینڈک کی اگر تمام ٹانگیں کاٹ دی جائیں تو اسے سنائی دینا بند ہو جاتا ہے“۔

تو صاحبو، اسی طرح وسی بابا بالکل درست حقائق اور معلومات استعمال کرتے ہوئے ایک حیرت انگیز نتیجہ نکال دیتا ہے۔

جبکہ میرا تجزیہ کرنے کا انداز مختلف اور مستند سائنسی و ریاضیاتی اصولوں پر مبنی ہے۔ میں ہمیشہ دیکھتا ہوں کہ اس دن اخبار میں کیا چھپا ہے یا سوشل میڈیا پر کیا چل رہا ہے۔ اس کے بعد اس معاملے پر نہایت باریک بینی سے غور کرتا ہوں۔ ایک موقف کے حق میں موجودہ حقائق کو دائیں طرف اور اس کے خلاف موجود معلومات کو بائیں طرف رکھتا ہوں اور عمیق غور و فکر شروع کر دیتا ہوں اور پھر فائنل نتیجہ نکالتا ہوں۔

طریقہ اس کا یہ ہے کہ میں میز پر سے ایک سکہ اٹھاتا ہوں اور اسے اچھال کر ٹاس کر لیتا ہوں کہ ان دو ممکنات میں سے کون سا درست ہے، یعنی سکہ چت پڑتا ہے یا پٹ۔ اس فول پروف طریقے سے میرے تجزیات پچاس سے سو فیصد تک درست نکلتے ہیں اور دماغ بھی خرچ نہیں ہوتا جبکہ وسی بابا تمام تر محنت کرنے کے باوجود صفائیاں ہی دیتا پایا جاتا ہے کہ پانچ سیٹوں والی بات آپ نے سمجھی ہی نہیں ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1111 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar