ماحولیاتی بحران میں اقوام عالم کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟
ماحولیاتی تبدیلیاں جس طرح کرہ عرض پر اثر انداز ہو رہی ہیں، اس کے نتیجے میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں نے انسان کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ گلیشئیر پگھل رہے ہیں اور پانی کے ذخائیر خطرناک حد تک سکڑ رہے ہیں۔ پاکستان میں سردی کا موسم برائے نام رہ گیا ہے۔ سیلاب اور زلزلے بڑھتے جا رہے ہیں اور انسانوں کے مسائل میں بتدریج اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
ماحولیاتی تبدیلیوں کی دو وجوہات ہیں۔ آبادی میں بے پناہ اضافہ اور ایٹمی، غیر ایٹمی فضلات۔ ایٹمی تابکاری انسان دشمن ثابت ہو رہی ہے۔ کارخانے، فیکٹریاں اور دھواں چھوڑتی اربوں کی تعداد میں گاڑیاں ماحول دشمن ثابت ہو رہی ہیں۔ جہاں ایک طرف آبی وسائل کم ہو رہے ہیں وہیں ان کو استعمال کرنے والوں کی تعداد میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ آبادی پر کنٹرول تیسری دنیا کے ممالک میں کم از کم مفقود ہے۔ جہاں شہروں اور دیہاتوں میں پینے کا پانی مفقود ہوتا جارہا ہے وہیں دستیاب وسائل سے حاصل شدہ پانی بھی پینے کے لائق نہیں رہا۔ گندگی اور ملاوٹ کا عنصر اس پانی میں نمایا ں ہے۔ شہروں میں سیورج کے پانی کا سبزیوں اور کھیتوں میں استعمال اور دیہاتوں میں سیوریج کی غرض سے بنائی جانے والی غرقیاں اس ملاوٹ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ!
مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے پانی کے استعمال پر کنٹرول کیا جائے۔
پانی کے ضیاع پر قابو پایا جائے۔ یہ کام ہمیں اپنی ذاتی زندگی کے علاوہ اجتماعی طور پر بھی کرنا پڑے گا۔ اس مقصد کے لئے سیوریج کے پانی کی ری سائکلنگ کرنی پڑے گی۔ سیلابی پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے طریقے ڈھونڈنے پڑیں گے اور ڈیم بنانے پڑیں گے۔
پینے کے صاف پانی کے فوائد عام لوگوں تک پہنچانے کے لئے مہم جوئی کرنی پڑے گی۔ لوگوں کو بتانا پڑے گا۔
لوگ فلٹر والا پانی استعمال کریں۔ وہ دستیاب نہ ہو تو ابلا ہوا پانی استعمال کریں۔
گندے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے بارے عوام کا شعور اجاگر کرنا پڑے گا۔ لوگوں کو ہر ذریعے سے باور کرانا پڑے گا کہ گندا پانی پینے سے ہیپاٹایٹس ہوتا ہے۔ پیچش اور گیسٹرو جان لیوا ہو سکتی ہیں۔
بچوں میں شرح اموات کی سب سے بڑی وجہ جلاب اور گیسٹرو ہیں جو گندا پانی اور بچوں کو گندا فیڈر استعمال کرنے سے ہوتی ہیں۔
ماؤں کے ذہن میں یہ بات اچھی طرح بٹھانی ہوگی کہ وہ چھ ماہ تک بچے کو صرف اپنا دودھ پلائیں، اس کے لئے ماں کا دودھ مکمل غذا ہے۔ ماں کا دودھ ہوتے ہوئے اسے پانی کی قطعاْ ضرورت نہ ہے نہ ہی کسی اضافی خوراک یا ڈبے کے دودھ کی۔ بچوں کی پیدائیش میں مناسب وقفہ اور حمل کے دوران مناسب خوراک کا بندوبست ضروری ہے۔
پاکستان جنوبی ایشیا کے ممالک میں ماؤں کی زچگی کے دوران ہونے والی اموات میں سر فہرست ہے۔ یہاں ایک ہزار ماؤں میں سے تیہتر مائیں زچگی کے دوران زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔ وجہ گھروں میں ہونے والی زچگیاں ہیں اور بروقت طبی سہولیات کافقدان اموات میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔
یونیسیف کی فروری 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان بچوں کی شرح اموات کے حوالے سے سر فہرست ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر بائیس میں ایک بچے کو موت نگل جاتی ہے۔ جبکہ ان مرنے والے بچوں میں سے اسّی فیصد بچوں کی جان بچایئی جاسکتی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے 22 ملین لوگ گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ رورل ایریا کے نوے فیصد لوگ صاف پانی سے محروم ہیں۔ ہماری حکومتوں کی ترجیحات جو مرضی ہوں صاف پانی کی فراہمی، ماں اور بچوں کی صحت اور تعلیم کبھی کسی حکومت کی ترجیح نہیں رہی، نہ ہی یہ موجودہ حکومت کی ترجیح لگ رہی ہے۔ تعلیم اور صحت پر خرچ کیا جانے والا قلیل بجٹ اس بات کا گواہ ہے۔
اور تو اور ہم اپنا ہیومن ریسورس بھی قابو نہیں کر پا رہے۔ ہمارے ڈاکٹرز سڑکوں پر احتجاج کرتے پھرتے ہیں۔ جس کسی کو موقع ملتا ہے وہ باہر چلا جاتا ہے۔ ڈاکٹر یہاں سپیشا لایز کرنے کی بجاے سٹیپس کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ پاکستان کے اچھے ڈاکٹر گلف کی راہ لیتے ہیں۔ ہم اپنا آئی ٹی شعبہ بھی دنیا کو بانٹ رہے ہیں۔ یہاں اعلیٰ تعلیم کی کوئی قدر نہیں۔ جبکہ پاکستانی ڈاکٹر انجینیر پوری دنیا میں نام کما رہے ہیں۔
ہماری حکومتوں نے پانی کے وسائل کو محفوظ کرنے میں کبھی کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ ہمارے آدھے پانی پر انڈیا قابض ہو چکا ہے اور مزید پانی کنٹرول کرتا جارہا ہے۔ اللہ نے ہمیں بے شمار وسائل مہیاکئے ہیں۔ ہمارے پہاڑوں پر پانی کا بے پناہ ذخیرہ گلیشئیرز کی شکل میں محفوظ ہے۔ ہم شدید بارشوں کے بعد سیلاب کی شکل میں سارا پانی سمندر میں پھینک دیتے ہیں۔ پاکستان میں سورج سارا سال چمکتا ہے۔ ہم سن انرجی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ زیر زمین کوئیلہ اور بے پناہ دیگر ذخائیر موجود ہیں جن کو استعمال کیے بغیر ہم اقوام عالم میں پہلے ہی بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور اگر اب بھی ان وسائل کو استعمال نہیں کیا تو ہم اپنے وجود کو بحیثیت قوم شاید برقرار نہ رکھ سکیں۔


