سماء کے کیمرہ مین کا میاں صاحب کے محافظ پر تشدد
یہ ان دنوں کی بات ہے جب ”مجھے کیوں نکالا“ کا دردناک الاپ شروع ہوا تھا۔ پرچی اور لقموں کے محتاج خود ساختہ قائد جمہوریت کے کان میں کسی نے یہ لقمہ انڈیل دیا کہ، میاں صاحب آپ براستہ جی ٹی روڈ اگر لاہور روانہ ہو جائیں تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر آپ کی حمایت کے لئے گھروں سے باہر نکل آئے گا اور آپ کے لاہور پہنچنے سے پہلے ہی ان پانچ لوگوں کے پسینے چھوٹ جائیں گے اور وہ عوامی دباؤ کے آگے لاچار ہو کر آپ کی برطرفی کا فیصلہ واپس لے لیں گے۔
میاں صاحب اپنے حواریوں کے ساتھ ماتم کناں لاہور کی طرف روانہ ہوئے، تو راستے میں ان کے قافلے میں شامل ایک گاڑی ایک بچے کے اوپر سے گزر گئی۔ اس قافلے میں کئی ایمبولینسیں بھی شامل تھیں۔ لیکن غریب کے بچے کے لئے کسی نے بھی رکنا گوارا نہیں کیا۔ اس بیچارے کو چنگ چی میں ڈال کر ہسپتال لے جانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ بجائے اس کے کہ غمزدہ غریب خاندان کے آنسو پونچھنے کوئی ان کے پاس جاتا۔ ان بے حسوں نے وہیں گھر بیٹھ کر اس بچے کو اپنے قافلہ جمہوریت کا پہلا شہید قرار دے دیا۔
اس واقعے کے بعد روز کہیں نہ کہیں جلسے ہوتے جن میں دو چار دیہاڑی دار چمچے کڑچھے نعرے لگا دیتے ”میاں صاحب وی لو یو“ اور میاں صاحب سٹیج سے فلائینگ کس اچھال کر اپنے بیٹھے ہوئے گلے سے ”نواز شریف لو یو ٹو“ کہہ کہہ کر ہاتھ ہلاتے رہتے۔ ایک دن میاں صاحب کے ایک متوالے نے سٹیج پر چڑھ کر یہ لو چیک کرنے کے لئے ہاتھ ملانے کی جسارت کر لی تو میاں صاحب کے سیکیورٹی سٹاف نے چھتر مار مار کر اس عاشق کے سر سے عشق کا بھوت وہی پر ہی اتار دیا۔
ان جیسے ہوس پرست اور کاروباری سیاست اور جمہوریت کے نام پر ہمیشہ سے لوگوں کو آگے لگاتے اور استعمال کرتے آئے ہیں۔ نہال، طلال اور دانیال اسی طرح کے اور کئی لعل ان کی جیبوں میں پڑے رہتے ہیں۔ جن کو ٹشو کی طرح استعمال کر کے یی لوگ پھینکتے آئے ہیں، اسی لئے تو جب دو بار نہال ہاشمی ان کی خاطر جیل کی ہوا کھانے کے بعد ان کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر ان سے ہاتھ ملانے کے لئے آگے بڑھے تو میاں صاحب ان کو نظرانداز کر کے آگے بڑھ گئے۔
دو دن پہلے جب سماء ٹی وی کے کیمرہ مین سید واجد صاحب پر میاں صاحب کے دو سیکیورٹی گارڈز نے تشدد کیا تو اس پر تعجب نہیں ہونا چاییے تھا۔
یہ نام نہاد عوامی اور جمہوری لیڈر اس طرح کی حرکتوں سے اپنی فرعونیت اور ڈر لوگوں پر برقرار رکھتے ہیں۔ صرف چند دن پہلے ہی میاں صاحب کی عدالت پیشی کے موقع پر راولپنڈی سے نون لیگ کے ایک ٹکٹ ہولڈر لیڈر کو میاں صاحب کے ایک سیکیورٹی گارڈ نے گدی پر تھپڑ رسید کر کے میاں صاحب کی قدم بوسی پر مجبور کر دیا تھا، اور میاں صاحب اس دوران شان بے نیازی سے آگے بڑھ گئے تھے۔
دو دن پہلے کے اس واقعہ میں سب لوگ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح میاں صاحب کے سیکیورٹی گارڈ پیچھا کر کے غریب کیمرہ مین کو لات مار کر پہلے گراتے ہیں اور پھر دوسرا گارڈ اس گرے ہوئے کے چہرے پر لات مار کر گزر جاتا ہے۔ لوگ چیختے چلاتے میاں صاحب کو رکنے کے لئے کہتے ہیں لیکن میاں صاحب اسی رعونت سے وہاں سے روانہ ہو جاتے ہیں۔
یہ سب کچھ کئی لوگ فلم بند کر چکے ہیں، اور اس پر پورے ملک سے شدید ردعمل بھی آیا، لیکن سب کل حیران رہ گئے جب حسب معمول پکڑائی گئی پرچی کے مطابق میاں صاحب نے اصل صورتحال واضح کی، جس کے مطابق جارح مزاج کیمرہ مین سید واجد نے نے ان کے سیکیورٹی گارڈ کو کیمرہ دے مارا تھا۔ اب چونکہ اتنا بڑا لیڈر یہ بات کر رہا ہے کہ تشدد کیمرہ مین واجد نے ان کے معصوم سیکیورٹی گارڈ شکور پر کیا تھا، جس سے اس کے ماتھے سے خون بھی بہتا رہا، تو اتنے بڑے لیڈر کی بات پر شک نہیں کرنا چاہیے۔
باقی میڈیا والے میاں صاحب کے بتائے ہوئے واقعے کی اگر فلم بندی نہیں کر سکے تو یہ ان کی نا اہلی ہے، اور اگر کر کے چھپا گئے ہیں تو یہ صریحاً صحافتی بد دیانتی ہے۔ اور باقی رہا کیمرہ مین پر تشدد کے مناظر تو یہ محض نظر بندی یا پھر ایڈیٹنگ کا کمال بھی تو ہو سکتا ہے۔ میڈیا تو ویسے ہی بات کا بتنگڑ بنا دیتا ہے۔
ہم تو پہلے بھی میاں صاحب کو مظلوم اور سچا سمجھتے تھے۔ یعنی ان کے بارے جو رام لیلا جے آئی ٹی اور احتساب عدالتوں میں سنائی جا رہی ہے، وہ سب یقیناً جھوٹی ہوگی، لیکن ان کے اس بیان کے بعد تو ہم مکمل طور پر ان کی معصومیت کے قائل ہوچکے ہیں۔ اور اگر ہم ایسا نہ بھی سمجھیں، تو ہمیں ان کی بے گناہی اور معصومیت پر قائل کرنے کے لئے ہمارے ملکی میڈیا میں ان کے کئی ماشکی، جاروب کش، نائی اور میراثی موجود ہیں جو جلد ہی اپنی تحریروں سے سب لوگوں کو دوبارہ ان کا گرویدہ بنا لیں گے۔


