چلاس: کافر چٹان، محب الوطن پاکستانی بن گئی!


سفر ہے شرط پروگرام کرنے کے دوران جس حقیقت نے مجھے حیرت سے دوچار کیا تھا وہ چلاس کی تاریخی ورثہ کے حوالے سے اہمیت تھی۔ حیرت اس بات پر تھی کہ چلاس جیسے شہر میں تو سیکڑوں ہوٹل ہونے چاہیے تھے جہاں رہنے کو کمرہ دستیاب نہ ہو جبکہ چلاس کی شہرت شدت پسند رویوں کے تناظر میں اس قدر منفی ہوتی گئی کہ اس کی آثار قدیمہ کے حوالے سے اہمیت پس منظر میں چلی گئی۔

پروگرام میں ہی بتایا تھا کہ چلاس، گلگت بلتستان کی تہذیب کا مرکز رہا تھا۔ گلگت یعنی سارگن شہر تو ابھی کل کی بات ہے یعنی کوئی پندرہ سو سے دو ہزار سال پرانی بات ہے جبکہ چلاس، داریل اور تانگیر سندھ تہذیب کے مراکز میں سے تھے۔ اسی چلاس میں ایک ایسا بت بھی ہوتا تھا جس کے قدموں کے نیچے سے ’ٹریفک‘ گزرتی تھی۔

چلاس میں ہی ایک قلعہ ہے۔ چلاس اور استور کی آخری فیصلہ کن جنگ کا آنکھوں دیکھا احوال پروفیسر لیٹنر نے داردستان کتاب میں لکھا ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے پہلے پرنسپل پروفیسر لیٹنر 1860 کی دہائی میں پیدل چلاس تک پہنچے۔ جب پروفیسر لیٹنر پہنچے تو چلاسی قلعہ میں بند تھے۔ بعد میں قلعہ میں آنے والے پانیوں میں استور کی فوج جس کو مہاراجہ کشمیرکی مدد حاصل تھی نے زہر ملا دیا جس سے کافی اموات ہوئیں۔ داردستان میں پروفیسر لیٹنر نے بہت وضاحت سے اس جنگ کا نقشہ کھینچا ہے۔ یہاں تک کہ مال غنیمت کوبھی مکمل رپورٹ کیا ہے۔

قراقرم ہائی وے پر ہنزہ سے شتیال تک چٹانوں پر کندہ کاری تحریر کی پچاس ہزار سائیٹس ہیں۔ ہنزہ نگر میں ہلدیکش کے مقام پر یہ چٹانیں سڑک کے ساتھ ہیں۔ ان چٹانوں کے گرد باڑ لگا کر ان کو محفوظ بنایا گیا ہے جبکہ ایسے بورڈز بھی نصب کیے گئے ہیں جن پر چٹانوں کو نقصان پہنچانے کی صورت میں سزا کی اطلاع دی گئی ہے۔ خیر یہ تو ایک ایسے علاقے کا تذکرہ کر رہا ہوں جو سیاحت کی اہمیت اور ورثوں کو محفوظ بنانے کے ہنر سے واقف ہے۔

چلاس چٹانوں کی اس کندہ کاری تحریر کا مرکز ہے لیکن جس بے دردی کے ساتھ اس انتہائی نایاب تاریخی ورثے کواجاڑا جا رہا ہے افسوس ہوتا ہے۔ چلاس میں ملنے والی تصویری تحریروں یا کندہ کاری کو خروشتی کہتے ہیں جس کی تاریخ پانچ ہزار سے ایک ہزار قبل مسیح تک ہے۔ چلاس پر پروفیسر احمد حسن دانی کا کام انتہائی قابل تعریف ہے۔

چلاس سے گزرتے ہوئے سڑک سے ہی ایک چٹان نظر آتی ہے جس پر کندہ کاری کی ہوئی ہے۔ یہ چٹان بعد میں چلاس کا لینڈ مارک ثابت ہوئی۔ اس کے بعد دیگر چٹانوں کی طرح اس چٹان پر جا بجا اشتہار نظر آنے لگے۔ اگر کوئی غیرملکی ہمراہ ہوتا اور تقاضا کرتا کہ ہم چلاس سے گزر رہے ہیں تو وہ چٹان دیکھنی ہے تو یقین کریں اس کو بڑی مشکل سے ٹالتے۔ چٹان سے گزرنے کے بعد کہتے۔ یہیں کہیں تھی وہ چٹان۔ لیکن نہ جانے کہاں گئی۔ چلیے واپسی پر آپ کو دکھا دیں گے۔ مصیبت یہ ہے یہ چٹان دکھانے کا مطلب یہی ہے کہ اپنے وطن اور ہم وطنوں کی بے عزتی کروائی جائے۔

آج سے چند دن پہلے اس چٹان کے پاس گزرتے ہوئے طمانیت کا احساس ہوا۔ کسی ستم ظریف نے پہلے تو اس پر کالا رنگ کیا۔ پھر اس کے اوپر دل دل پاکستان لکھ دیا۔ طمانیت یوں ہوئی کہ نہ اب کسی غیر ملکی کو وہ کندہ کاری نظر آئے گی، نہ وہ رکنے کا تقاضا کرے گا اور نہ ہماری بے عزتی کا سامان ہوگا۔

ہم شاید دنیا کی وہ واحد قوم ہیں جن کو آزادی حاصل کرنے کے 70 برس بعد بھی یقین نہیں آ رہا کہ ہم آزاد ہو چکے ہیں۔ اپنے آپ کو اور اپنے ہم وطنوں کو آزادی کی یقین دہانی کروانے لے لیے ہمیں ہر دیوار اور دکان کے بند شٹر پر جھنڈا بنانا پڑتا ہے۔ ملک سے محبت کی یقین دہانی کے لیے جگہ جگہ دل دل پاکستان لکھنا پڑتا ہے چاہے یہ جگہ ہزاروں سال قدیم تاریخی دستاویزات کی حامل کیوں نہ ہو۔

سب سے زیادہ افسوس چلاس کی بدقسمتی پر ہوتا ہے۔ چلاس کی شہرت، سیاحت کے ہزار امکانات لیے ہوئے ہے لیکن ان امکانات کو جس بے دردی سے چلاس نے ختم کیا ہے اس پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ چلاس کے تعلیم یافتہ نوجوان واحد امید ہیں۔ شاید یہ نوجوان اٹھیں اور چلاس کے قیمتی نوادرات کو بچا سکیں۔ شاید یہ نوجوان بیدار ہوں تعلیم حاصل کریں اور پوری دنیا کو بتائیں کہ چلاس اپنی لینڈ سکیپ اور تاریخی ورثے کے حوالے سے کس قدر اہم ہے۔ شاید انہی نوجوانوں کی وجہ سے چلاس، پاکستان کا نمبر ون سیاحتی مرکز بن جائے۔

Facebook Comments HS

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 180 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik