ہوائی خوشی اور دکھوں کا سفینہ
انگلینڈ کی جھنڈا بردار برٹش ائر ویز اگلے سال کے وسط میں اسلام آباد سے لندن کے لئے ہفتہ وار تین پروازوں کا آغاز کر رہی ہے۔ ڈریم لائنر بوئنگ 787 کو اس مقصد کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پے ریٹرن ٹکٹ تقریباً 632 ڈالر میں دستیاب ہو گی۔ انگلستان جانے والے احباب کے لئے یہ ایک بہت اچھی خبر ہے۔ دو ملکوں کے درمیان سستی معیاری اور متبادل ڈائریکٹ فلائٹ ممکن ہو سکے گی۔
خواتین و حضرات اس وقت لاہور سے پی آئی اے کی ہفتہ وار تین پروازیں ہیں جو بوئنگ 777 استعمال کرتے ہوئے لندن جاتی ہیں۔ اگر چار مہینے بعد کی ریٹرن ٹکٹ کی قیمت دیکھیں تو 1000 ڈالر سے بھی زیادہ ہے۔ یہ پی آئی اے کے چند منافع بخش روٹس میں سے ایک ہے۔
برٹش ائر ویز کا بوئنگ 787 کم تیل کھاتا ہے اور لگ بھگ ساڑھے تین سو مسافروں کی گنجائش رکھتا ہے جسے پر کرنا نسبتا آسان ہے۔ اس کے برعکس پی آئی اے کا بوئنگ 777 نسبتا زیادہ تیل کھاتا ہے اور چار سو سواریوں کی گنجائش رکھتا ہے جسے پر کرنا نسبتاً مشکل ہے۔
برٹش ٹریول ایڈوائزری کے مطابق ہر سال دو لاکھ ستر ہزار برطانوی شہری پاکستان آتے ہیں۔ جن میں زیادہ تر کی منزل جی ٹی روڈ کے ارد گرد کے علاقے ہیں۔
اب آپ بتائیں کہ جون 2019 کے بعد آپ لندن جانے کے لئے گورے میزبانوں کی معیاری سروس کے ساتھ چھ سو یا سات سو ڈالرخرچ کر کے اسلام آباد سے برٹش ائر ویز پے سفر کریں گے یا ہزار ڈالر دے کے پی آئی اے سے براستہ لاہور سے لندن جائیں گے۔
دوسرے لفظوں میں اگر آپ اسلام آباد سے لاہور جانا چاہتے ہوں اور آپ کے پاس دو آپشنز ہوں، اسلام آباد کے وسط میں واقع کراچی کمپنی سے مہنگی فیصل موور بھی لاہور جاتی ہو اور راول پنڈی سے سستی اور معیاری ڈائیو بھی لاہور جاتی ہو۔ طرز عمل اور رویوں کی اکنامس یہی کہتی ہے کہ آپ ڈائیو استعمال کریں گے۔ آپ آج بھی ڈائیو استعمال کرتے ہیں اس کے باوجود کہ وہ مہنگی بھی ہے اور اسلام آبادسے دور بھی۔
برٹش ائر ویز کا ہم پے کوئی احسان نہیں، وہ اپنے فائدے کے لئے آ رہی ہے۔ پہلے بھی اپنے نقصان کے ڈر سے گئی تھی۔ کئی ارب روپے کا ایک جہاز آتا ہے۔ کروڑوں کی کمائی کے لئے اربوں کا جہاز داؤ پے نہیں لگایا جا سکتا۔ میریٹ ہوٹل پے حملہ ہوا وہ چلی گئی۔ سری لنکا میں تامل باغیوں کی وجہ سے حالات خراب ہوئے برٹش ائر ویز نے اپنی سروسز معطل کردیں۔ سیکورٹی کے ڈر سے وہ ماضی میں لیبیا سمیت دیگرممالک کو بھی خیر باد کہہ چکی ہے۔
اسی طرح معاشی نقصان کے پیش نظر بھی کئی روٹ ترک کیے ہیں۔ مثلاً سری لنکا میں 2013 میں پروازیں بحال کردیں گئیں لیکن پھر تین سال بعد 2016 میں معاشی حقائق کی بنا پر پروازیں مستقل طور پر منسوخ کردیں گئیں۔ اس میں قطعی طور پے موجودہ حکومت کے پپو بخاری اور پچھلی حکومت کے ارسطو کی کوئی فنکاری قابل ستائش نہیں۔ نہ اس میں اتنے ڈھول پیٹنے کی ضرورت ہے۔ یہ محض چند ہزار افراد کی ہوائی خوشی ہے جو بہر حال ہمارے اجمتاعی دکھوں کے سفینے پر سوار ہے۔
عمومی طور پے دوسرے ممالک میں اپنے فلیگ کیرئر کو لینڈنگ رائٹس ملنے پے ضرور خوشی منائی جاتی ہے۔ لیکن بعض قوموں کی زندگیوں میں خوشیاں اتنی معدوم ہوتی ہیں کہ انہیں ہلکے پھلکے غم بھی خوشی کا پیرہن لگنے لگتے ہیں۔ وہ دوسروں ملکوں کے لینڈنگ رائٹس کی بحالی پے بھی ترنگ میں آ جاتے ہیں بھلے مستقبل میں وہ ان کے اپنے لینٹدنگ رائٹس کی معطلی کا باعث بن جائیں۔
برٹش ائر ویز اپنی پروازیں بحال کر رہی ہے تو اس میں اس کا معاشی فائدہ ہے۔ ہمارے لئے اس میں سیکھنے اور عمل کرنے کی دو اہم باتیں ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں بھی معاشی افادیت کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلوں کی عادت ڈالنی چاہیے۔ کمپنی کی مشہوری کے لئے فیصلہ سازی کے کلیے کو خیر باد کہہ دینا چاہیے۔ دوسرا پی آئی اے کے لئے دعا اور دوا کا فوری انتظام کرنا چاہیے ورنہ پی آئی اے کا لندن لاہور والا روٹ روٹھنے کو منہ پھلائے بیٹھا ہے۔


