پپو یار تنگ نہ کر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

لکھنے کو ویسے تو ہزار موضوعات دستیاب ہوتے ہیں پر گاہے طبیعت پر ایک بے معنی سا گریز چھا جاتا ہے۔شہزاد احمد کے بقول، ’ہمارے شہر میں ہے وہ گریز کا عالم‘ کہ اس میں اظہار کے کم و بیش سارے قرینوں پر خواہی نا خواہی بندشوں کا بھی اثر ہے۔ اور دوسرا یہ کہ بعض اوقات سماج میں موجود طبقات کی چیزوں کو عمومی کلیت میں دیکھنے کا رجحان بھی اظہار کے قرینے مشکل بنا دیتے ہیں۔ ایک سبب غالباََ یہ بھی ہے کہ ہم ایک ایسے سماج کے باسی بنتے جا رہے ہیں جہاں منفی اقدار ، بطور لازمی اقدار کے سماجی رویوں میں سرایت کر چکے ہیں۔ ایسے میں آدرشوں کے پیمانے اپنے مقام سے گرانے پڑتے ہیں۔ اور وہ ٹھیک بھی ہے کیونکہ ہم بطور معاشرہ بدقسمتی سے ا نسانی اجتماعی دانش میں اپنا کوئی حصہ نہیں رکھتے۔ ہمارے پاس اجتماعی سطح پر نظریات اورنظام ہائے زندگی چاہے آفاقی ہوں چاہے غیر آفاقی دونوں مانگے تانگے کے ہیں، جس کی وجہ سے غالباََ ہم کوئی مثبت اقدار کا ایسا سماجی نظام مرتب نہیں کر سکے جس نے سماج کے اندر سے جنم لیا ہو۔ حالانکہ تحریر سے گریزپائی کی جملہ وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اکثر تحاریراب کے مشکل مسائل سے بوجھل ہوتی ہیں جو اذیت میں اضافہ ہی کرتی ہیں مگر یہاں بات وہیں جاتی محسوس ہو رہی ہے۔ سو مختصراَ مدعا بیان کر دیتے ہیں۔

ایک سادہ بات تو یہ ہو گئی کہ تحریر نہ لکھنے کے جملہ مسائل کیا درپیش ہیں۔ ایک سادہ بات اس سے ملتی جلتی یوں ہے کہ ہمارے ایک دوست کے بھی شخصیت کے ایسے ہی مسائل ہیں۔ یعنی ہمارے وہ دوست بیک وقت ایک قوم پرست بھی ہیں، علم بشریات کے ماہر بھی ہیں، شاعر بھی ہیں، خود کو تنقید نگار بھی سمجھتے ہیں، گاہے فلسفیانہ موشگافیاں بھی کرتے ہیں، کبھی بطور سماجی سائنسدان کے اپنا سکہ جمانا چاہتے ہیں۔ گویا اپنے آپ میں ایک انجمن ہیں۔ مشکل یہ ہے کہ ان تقاضا ہمیشہ دوستوں سے بھی یہی رہتا ہے کہ وہ بھی یہ جملہ اوصاف ان کی شخصیت کا انفرادی حق مان لیں۔ ان دونوں باتوں تک اپنے شہر ایک آدمی یاد آگئے۔ لیویز فورس کے ماما۔

گورا دور شاہی میں قبائلی علاقوں میں ایک فورس تیار کی گئی تھی جو دیہی علاقوں میں قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری ادا کرتی تھی۔ اس فورس کا نام کہیں خاصہ دار فورس تھا اور کہیں لیویز فورس۔ یہ فورس اس طرح تیار کی گئی تھی کہ اس کے سپاہی ایک کوٹہ سسٹم پر قبائل سے ہی لئے جاتے تھے تاکہ وہ قبائلی معاشرت سے کچھ ہم آہنگ رہے۔ عموماََ ہر گاﺅں میں سے یا ہر قبیلے میں سے برابری کی بنیاد پر لوگ بھرتی کئے جاتے تھے۔ بلوچستان میں اس کو لیویز فورس کہا جاتا ہے۔ یہ آج بھی دیہی علاقوں میں برقرار ہے اور قبائلی و دیہی مزاج سے شناسائی کے سبب پولیس کے مقابلے میں قدرے پسندیدہ نگاہ سے بھی دیکھی جاتی ہے۔ اس فورس میں کے کسی ذیلی دستور میں ( معلوم نہیں شاید رواجاَ ہو) ایک شق یہ بھی ہے کہ باپ کے ریٹائر ہونے پر بیٹا خودبخود فورس کا حصہ بن جاتا ہے۔ گویا پشتینی نوکری ہے۔ ماما اسی فورس کے آدمی تھے۔

ماما کی بھرتی اولین لوگوں میں سے تھی۔ ان کے بقول انہیں چالیس سال ہو گئے فورس میں۔ اب صورتحال یوں تھی کہ ماما خود صاحب اولاد نہیں تھے۔ ان کے ساتھ دیگر جتنے بھی دوست احباب تھے وہ کب کے ریٹائر ہو چکے تھے اور ان کی جگہ ان کے بیٹوں یا بعض اوقات تو پوتوں نے بھی لے لی تھی۔ اس پس منظر کے ساتھ ماما کو پوری فورس میں بہت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا کہ لوگ ان کو اپنے باپ کے دوست ہونے کے سبب باپ جیسا احترام ہی دیتے تھے۔ اس احترام کا فائدہ ماما نے یوں لیا کہ انہوں نے دفتر جانے، حاضری لگانے، ڈیوٹی دینے جیسے جملہ مسائل سے خود کو مکت سمجھ لیا تھا۔

 ہوا یوں کہ ایک بار لاہور سے ایک اعلی افسر کسی چکر میں کوئٹہ ٹرانسفر کر دیئے گئے۔ یہاں سے مزید تنزلی پا کر ان کا تبادلہ قبائلی علاقے میں بطور اسٹنٹ کمشنر کر دیا گیا یا ان کو عارضی چار چ دیا گیا۔ بہرحال وہ اس فورس کے سربراہ کے طور پر وہاں آ گئے جہاں ماما بطور ملازم اپنے خدمات انجام دیتے تھے۔ اب مشکل یہ تھی کہ اعلی افسر صاحب کو علاقے کے رسم و رواج سے بھی کوئی شناسائی نہیں تھی اور لیویز فورس کو سمجھنے کا بھی کوئی تجربہ نہیں رکھتے تھے۔ انہوں اسے پولیس فورس کی طرح ڈیل کرنا شروع کر دیا۔ پہلے ایف آئی آرز کیوں نہیں ہوتے کا معاملہ تھا، پھر پٹرول کے حساب کتاب اور دیگر معاملات درپیش آئے اور آخر میں آکر حاضری رجسٹروں کی جانچ پڑتال کا کام شروع ہوا۔ اس افسر شاہی کی لپیٹ میں بالآخر ماما بھی آگئے۔ کمشنر صاحب نے ماما کی لائن حاضری کا فرمان جاری کر دیا۔ راوی بتاتے ہیں کہ کمشنر صاحب کو بہتیرے ان کے دیگر ماتحتوں نے اشاروں کنایوں میں سمجھانے کی کوشش کی کہ ماما کو معاف رکھا جائے مگر کمشنر صاحب اصول کے پکے نکلے۔

ماما بتاتے ہیں کہ عرصہ بیس سال میں پہلی بار ان کو کمشنر صاحب کے دفتر پیش ہونے کا حکم جاری ہوا تھا۔ ماما اپنی اسی افتاد طبع ( کہ سب میری عزت کرتے ہیں) کے ساتھ کمشنر صاحب کے دفتر پہنچ کر دیگر سائیلین کے ساتھ ایک کرسی پر براجمان ہو گئے۔ ان کی باری آئی تو کمشنر صاحب نے پوچھا، ’ جی آپ کیسے تشریف لائے ہیں‘ ؟ ماما نے بتایا کہ آپ نے حاضری کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے ماما کا تعارف مانگا۔ ماما نے بتایا کہ وہ لیویز میں سپاہی ہیں۔ اس پر کمشنر صاحب بگڑ گئے کہ تمہاری جرات کیسے ہوئی کرسی پر بیٹھنے کی؟ اور یہ کہ تم ڈیوٹی کیوں نہیں دیتے۔ اس غصے میں غالباَ ایک آدھ گالی بھی شامل تھی۔ اس صورتحال کا ماما کو کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ وہ اچانک کھڑے ہوگئے۔ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ کیا ردعمل ہونا چاہیے کہ کمشنر صاحب پوچھا اگر کام نہیں کر سکتے تو ریٹائر کیوں نہیں ہوتے؟ ماما نے بتایا کہ صاحب، ’ میں بے اولاد آدمی ہوں۔ یہی تنخواہ گزر بسر ہے اور ویسے بھی فورس میں دس جوان میری جگہ ڈیوٹی دینے کو تیار ہیں۔ کمشنر صاحب نے پوچھا، وردی ہے؟ جی ہے۔ ٹوپی ہے؟ جی ہے۔ بیلٹ ہے؟ جی ہے۔ چپل (عمران خان صاحب والی چپل) ہیں؟ جی ہیں۔ پوچھا، اسلحہ کونسا الاٹ ہوا ہے؟ ماما نے بتایا، صاحب میں جس زمانے میں بھرتی ہوا تھا اس زمانے میں تلوار الاٹ ہوئی تھی۔ اب کے کمشنر صاحب نے ماما کو کہا، ’آپ یوں کریں کہ گھر جائیں، وردی پہنیں، ٹوپی پہن لیں، بیلٹ باندھ لیں، جوتے پہن لیں اور تلوار اٹھا لیں‘۔ ماما بھی ابتدائی جھٹکوں سے سنبھل چکے تھے، بولے، اچھا صاحب پھر؟ کمشنر صاحب نے فرمایا کہ پھر آکر یہ پروانہ ( نوٹس طلبی) فلاں شخص کے گھر دے آﺅ۔ ماما تھوڑی دیر کمشنر صاحب کو دیکھتے رہے پھر یوں گویا ہوئے، ’صاحب یا تو آپ یہ جملہ چیزیں کم کر دیں یا پھر پروانہ رہنے دیں۔ یہ دونوں ایک ساتھ مجھے ہوتے نظر نہیں آتے‘۔

توعرض مدعا یہ تھا کہ ایک تو تحریر کے جملہ مسائل زیادہ ہیں اور دوسرا بتانا یہ تھا کہ ہمارے اس دوست کے تقاضے بھی کمشنر صاحب جتنے ہی زیادہ ہیں۔ تیسرا مسئلہ یہ درپیش ہے کہ حکومت وقت بھی ہمارے دوست جیسے مسائل کا شکار ہے جس کے تقاضے زیادہ ہیں اور کارکردگی ماشاءاللہ۔ اس لئے سیاست پر لکھنا ایک عجیب سا کار عبث لگتا ہے۔ معلوم نہیں کس نے کہا تھا مگر کہا خوب تھا کہ ’ موجودہ حکومت نے عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا رکھا ہے اور مشکل یہ بھی ہے کہ ٹرک کے پیچھے لکھا ہوا ہے ’پپو یار تنگ نہ کر‘۔

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 181 posts and counting.See all posts by zafarullah