مارننگ شوز، ادب اور مکالمے کی روایت
گذشتہ کچھ ماہ سے طبیعت کی خرابی اور ذاتی مسائل کی وجہ سے گھر سے ہی اشاعتی اداروں اور پروڈکشن ہاؤس کے ساتھ کام کا سلسلہ جاری ہے۔ اس لیے صبح ناشتے میں ٹی وی یاترا جاری رہتی ہے ورنہ پہلے ناشتے میں اخبار لازمی ہوتا تھا وہ اب نیٹ پر مل جاتاہے اس لیے ٹی وی پر ڈھائے جانے والے ستم سہنے پڑتے ہیں مگر خبریں نہیں، صبح صبح کچھ ہٹ کر چاہیے۔ اگر مزاج کے مطابق مل جائے تو کیا کہنے مگر شاید ایسا ممکن نہیں۔
کافی عرصے سے اس موضوع پر لکھنا چاہ رہی تھی، اسی لیے ایک مکمل تحریر لکھنے کے لیے گذشتہ کئی دنوں سے انتہائی فضول قسم کے مارننگ شوزدیکھنے پڑے، جس نے ذہنی اور روحانی کوفت میں بلاکا اضافہ کر دیا، کچھ شوز یوٹیوب پر دیکھے۔ جس کے بعد یہ کہنا پڑ رہا ہے یہ مارننگ شوز ہماری خواتین کوسماجی، معاشی تباہی اور فکری بانجھ پن کی جس سطح پر لے کر جا رہے ہیں، وہ انتہائی تشویشناک ہے۔ جس پر قلم نہ اٹھانا شاید ایک قومی جرم ہو گا۔
تمام ٹی وی چینلز پر پیش کیے جانے والے مارننگ شوز نا صرف ہر قسم کی مقصدیت سے خالی ہیں بلکہ جس کلچر کو فروغ دے رہے ہیں وہ اس قوم کو کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔ کہیں مہندی کی رسمیں دکھائی جا رہی ہیں، کہیں جادوٹونے اور پیری فقیری کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ تو کہیں بد تمیز بچے کو مشہور کر کے یہ سبق دیا جارہا ہے، بچوں مستقبل میں بدتمیزی ہی شہرت کی ضامن ہے۔ کیا کرنا پڑھائی کر کے اور بڑوں کی عزت کر کے۔ اس سے بھی آگے میاں بیوی کے بیڈ روم کے جھگڑے ٹی وی اسکرین پر، وہی ساس بہو کی سازشیں، لا حول ولا قوۃ۔
کئی دنوں سے جاری اس مشق نے مجھے جس ذہنی ابتری کا شکار کیا، اس کی کوفت دور کرنے کے لیے ایک دن سہ پہر کواشرف سلیم صاحب کے اشاعتی ادارے دستاویز جا پہنچی۔ جہاں معروف شاعر آفتاب خان پہلے سے ہی موجود تھے۔ وہاں اسی موضوع پر مکالمہ شروع ہو گیا۔ مارننگ شوز کا موڈ کیسا ہونا چاہیے؟ ہمارا موضوع آج کا ادب، ادیب، شاعر، موسیقی، موسیقار پر میڈیا کا کردار تھا کہ میڈیا اس حوالے سے کیا کر سکتا ہے اور اسے کیا کرنا چاہیے اور مارننگ شوز اس سلسلے میں کیا کر سکتے ہیں؟
اس رائے بارے کوئی شک نہیں کہ پرنٹ میڈیا کے موجودہ ادبی پرچے معیارسے خالی ہیں اور صرف مخصوس لوگوں کے ناموں سے سجے ہوئے ہیں۔ شہر کی ادبی بیٹھکیں بھی گروپ بندی کا شکار ہیں۔ صرف ایک لاہور پریس کلب ہی ہے جہاں گذشتہ تین سال سے موجودہ جنرل سیکرٹری اور سینئرصحافی عبد المجید ساجد کی قیادت میں لابی ازم سے ہٹ کر ادبی سرگرمیوں کو فروغ دیا گیا۔ ورنہ ہر جگہ وہی مخصوص گروپ اور ان کے ساتھی چھائے رہتے تھے۔ جہاں اپنے اپنے گروپ کے بندے کی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر دیے جاتے تھے، افسوس کہ ریڈیوپاکستان بھی اسی طرح کی گروپ بندی کا شکار ہے۔ تاہم کلب نے ثابت کیا کہ صحافت اور ادب کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور کلب آئندہ بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ ادب، ادیب، شاعر اور کتابوں کی فروغ کے حوالے سے جو مثبت روایات گذشتہ تین سال سے کلب جاری رکھے ہوئے ہے، اس سے شہر میں جاری جمود کسی حد تک کم ہو گیا مگر اصل کردار میڈیا ہاؤسز اور مارننگ شوز کا ہے، جس کا اس طرف دھیان نہیں جا رہا۔
مکالمے کا دوسرا حصہ موسیقی سے منسلک تھا، کیونکہ گذشتہ کچھ عرصے سے اچھا میوزک بھی سننے کونہیں مل رہا، اورموسیقی کے نام پر جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے وہ روحانی طور پر تکلیف دے ہے۔ بے ہنگم میوزک، نہ سر نہ لے اور شاعری تو نہ ہونے کے برابر ہے۔ کوک اسٹویو میں جس طرح کلاسک گانوں کی مٹی پلید کی گئی اس کی تعریف میں مجھے کوئی مناسب لفظ نہیں مل رہا اورجو مل رہا ہے اس کے لیے وجاہت مسعود بھائی اور عدنان خان کاکڑ سر نے مجھے مزید برداشت نہیں کرنا۔ اس لیے میرے قارئین یہاں اپنی اپنی مرضی کی تشریح خود ہی کر لیں۔
ہمارے ساتھ ظلم یہ ہو رہا ہے کہ اچھے گلوکار اور موسیقیار تو لگتا ہے کہیں سو گئے ہیں جبکہ ہمارے شاعر، کمال کی شاعری کر رہے ہیں اور ادب بھی بہت اچھا لکھا جا رہا ہے مگر ان کو میڈیا کا پروجیکشن نہیں مل رہا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اگر ہمارے مارننگ شوز میں فضول قسم کے موضوعات کو ختم کر کے شاعر، ادب اور شاعری کو پروموٹ کیا جائے۔ سماجی موضوعات پر مکالمہ کیا جائے اور اس مقصد کے لیے سکولوں اور یونیورسٹیز کے استادوں کو بلایا جائے۔ وہ مضافاتی شاعرجو لابی ازم کا شکار ہو کر صرف سوشل میڈیا تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں انہیں، ان کے کام وکلام کومارننگ شوز کے ذریعے سامنے لایا جائے۔ اچھے غزل گو سامنے لائے جائیں۔ اس طرح ڈرامہ فیم ماررننگ شوز کا کلچر ختم کرکے میڈیاکے ذریعے مثبت سرگرمیوں کوفروغ دیاجائے۔
کم ازکم کوئی ایک چینل تو بغاوت کر دے۔ مارننگ شوز کی روایات کو بدل دے، دوسری جانب کچھ مارننگ شوز میں جس طرح ہندی سینماکو فروغ دیا جاتا ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔ کسی کی سالگرہ اور برسی انہیں نہیں بھولتی جبکہ میرا سوال یہ ہے میڈیم نورجہاں، استاد مہدی حسن خان، نصرت فتح علی خان اور دیگر کی برسی اور سالگرہ کیا اسی طرح بھارتی میڈیا دکھاتا ہے جس طرح ہمارا میڈیادکھاتا پھرتا ہے تو یقینانہیں۔ مگر امن کی آشاکا علم اٹھانا اوراس یک طرفہ دوستی کے سارے تقاضے نبھانے کا سہرا لگتا ہے ہمارے ہی سر آیا ہے۔
اس کے بعد اسی موضوع پر ایک اورنشست میرے دوسرے اشاعتی ادارے نگارشات میں آصف جاوید صاحب کی سنگت میں ہوئی۔ جہاں معروف ادیب اور استاد جناب خالدمحمود اور عثمان سعید (بینکر) کے ساتھ انہی موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ حاصل وہی کہ ہمارا آج کاڈرامہ اگر معاشرتی گھٹن میں اضافے کا باعث بن رہا ہے تو وہیں مارننگ شو بھی، اخلاقیات کی دھجیاں اڑاتے نظر آتے ہیں۔ ڈرامہ کلچر تو ایک اور مفصل کالم کامتقاضی ہے۔ انشاء اللہ اس موضوع پر اگلے کسی کالم میں کھل کر بات ہو گی۔ تاہم موجودہ مارننگ شو ز کا موڈ اور مزاج تبدیل کرنے کی ضرروت ہے جس میں ادب اور مکالمہ کی چاشنی شامل کر کے کم از کم گھر بیٹھی خواتین کی سماجی اور گھریلومعاملات میں بہتر رہنمائی کی جا سکتی ہے۔ اس قوم کو تربیت کی ضرورت ہے اور اگر اسے قلمی اور مثبت تفریحی انداز میں کیا جائے تو کہیں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔


