آن لائن خریداری میں احتیاط ضروری


سائنس بہت تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دُنیا میں چوتھا صنعتی انقلاب آنے والا ہے۔ بہت جلد ایسی مشین تیار کر لی جائیں گی جو انسان کی زندگی کا ہر کام کرلیں گی۔ بلکہ ایسی بہت سے ایجادات نے انسان کی جگہ لے بھی لی ہے۔ اس کی وجہ سے بہت سارے کام بآسانی ہو جائیں گے کم اخراجات میں کام ہو سکیں گے لیکن دوسری طرف کئی افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔ آئن لائن خریداری کا رحجان بھی بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

1979 ء میں مائیکل ایلڈ رچ نامی شخص نے پہلی بار ٹیلی شاپنگ کا تصور پیش کیا تھا۔ آن لائن شاپنگ کے حوالے سے ایک حالیہ سروے کے مطابق ایشیاء میں جنوبی کوریا وہ واحد ملک ہے جس میں آن لائن خریداری کی شرح سب سے زیادہ 59 فیصد ہے۔ جنوبی ایشیاء کے خطے کے 35 فیصد صارفین اپنی آمدن کا 11 فیصد حصہ آن لائن خریداری پر خرچ کرتے ہیں جبکہ دنیا بھر میں آن لائن خریداری کی شرح 27 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آن لائن شاپنگ کا کاروبار تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور نوجوان طبقہ آن لائن خریداری کو ہی ترجیح دیتا ہے جس سے پاکستان میں آن لائن خریداری کا سالانہ حجم 3 ارب روپے سے بڑھ چکا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ میں شامل خصوصی تجزیے میں کہا گیا ہے کہ مقامی اور انٹرنیشنل ای کامرس مرچنٹس کی فروخت کا حجم مالی سال 2016۔ 17 میں 20.7 ارب روپے تھا جو 2017۔ 18 میں بڑھ 40.1 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اس طرح سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ای کامرس کے حجم میں 94 فیصد تک اضافہ ہوا، یہ خریداری کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز، انٹربینک فنڈز ٹرانسفر کی سہولت، پری پیڈ کارڈز اور موبائل والٹس کے ذریعے کی گئی جبکہ اشیا موصول ہونے پر نقد قیمت کی ادائیگیوں کی مالیت اس حجم میں شامل نہیں ہیں۔

مارکیٹ کے تخمینے کے مطابق ای کامرس کے ذریعے پاکستان میں 80 سے 90 فیصد اشیا کی ادائیگی خریدی گئی۔ اشیا موصول ہونے پر (کیشن آن ڈلیوری) ادا کی جاتی ہے، کیشن آن ڈلیوری کی مالیت کو شامل کیا جائے تو مالی سال 2017۔ 18 میں ای کامرس کا مجموعی حجم 99.3 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ مالی سال 2019۔ 20 تک ای کامرس لین دین کا حجم 158 ارب روپے تک پہنچنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں تھری جی اور فورجی ٹیکنالوجی عام ہونے، برانچ لیس بینکاری کی سہولت اور بینکوں کے مابین فنڈز ٹرانسفر کے انتظام سے ای کامرس کے لیے سازگار ماحول مہیا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت وترقی (یون این سی ٹی اے ڈی) کے بزنس ٹو کسٹمر ای کامرس ریڈینیس انڈیکس 2017 کی مرتب کردہ فہرست میں پاکستان کو 144 ملکوں کی فہرست میں 120 ویں نمبر پر کیا گیا ہے۔ اس فہرست میں چین 65 ویں، سری لنکا 73 ویں، ویتنام 74، بھارت 83، فلپائن 96، بنگلہ دیش 103 جبکہ نیپال 108 ویں نمبر پر شمار کیا گیا ہے۔ ایک سروے کے مطابق وطن میں آئن لائن خریداری رواں سال 2018 میں دُنیا بھر میں ہونے والی ریٹیل فروخت کا 10 %حصہ انٹرنیٹ کے ذریعے ہونی والی خریداری پر مشتمل ہے۔

”گلوبل کنزیومر انسائٹ سروے“ برائے سال 2018 میں یہ بات سامنے آئی کہ کمپنی کی جانب سے لگائے گئے تخمینے کے مطابق 2017 ء میں دُنیا ای۔ کامرس کے ذریعے ہونے والی فروخت 23 کھرب ارب ڈالر ہوئی جو کہ سال 2016 ء کے مقابلہ میں 24.8 فیصد زائد تھی۔ پاکستان میں جنوری تا مارچ گھروں سے کی جانی والی آن لائن خریداری 4.4 ارب روپے رہی۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے مطابق مالی سال 2018 ء کے دوسرے سہ ماہی کے دوران آن لائن فروخت کنندگان کی تعداد 905 تھی جوکہ تیسری سہ ماہی میں اضافے کے بعد 1 ہزار 23 ہوگئی تھی۔

بمطابق مرکزی بنک رپورٹ آمدنی میں اضافہ، مواصلاتی رابطوں کی تیزی، انٹرنیٹ تک رسائی اور آن لائن بینکنگ، پاکستان میں ای کامرس صارفین کی تعداد میں اضافہ کی بڑی وجہ ہے۔ اسی سلسلہ میں اقوامِ متحدہ کی ایجنسی برائے اطلاعات و مواصلات کی جانب سے لگائے جانے والے تخمینے کے مطابق انٹرنیٹ استعمال کرنے والے 4 کروڑ 46 لاکھ فعال صارفین میں سے انٹرنیٹ کے ذریعے خریداری کرنے والوں کی تعداد 22 فیصد ہے۔ جوکہ 4 سال قبل صرف 2 فیصد تھی۔

اور پھر Kepios (کنسلٹینسی فرم کیپاؤس) کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت سوشل میڈیا کے فعال افراد کی تعداد تقریباً 3 کروڑ سے زائد ہے۔ جدید ٹیکنالوجی انٹرنیٹ کی بدولت شاپنگ جو ایک جان جوکھوں کا کام ہے گھر بیٹھے پر سکون انداز میں ہونے لگا۔ انٹر نیٹ کے ذریعے کی جانے والی شاپنگ کو ای یا آن لائن شاپنگ کہتے ہیں۔ آن لائن شاپنگ میں وہ لوگ جو مصروفیت کی وجہ سے اور شاپنگ کی دشواریوں سے بچنے کے لئے گھر بیٹھے انٹر نیٹ پر اپنی مرضی کی جو بھی اشیاء جس کی انہوں نے خریداری کرنی ہوتی ہے وہ آسانی سے دیکھ سکتے ہیں اور متعلقہ پسند آنے والی چیز کو بذریعہ آرڈر بآسانی گھر پر منگوا سکتے ہیں۔

آن لائن خریداری نے کئی مشکلات میں کمی کی شہروں کے سفر، مصروفیت کے باعث بازار میں نہ جانا، ان سب کی جگہ زندگی کے لوزامات کا ہر سامان انٹرنیٹ پر موجود شاپنگ ویب سائٹس پر دستیاب ہے۔ اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ چوبیس گھنٹے جب بھی منگوانا چاہیں مشکل نہیں درپیش ہوتی۔ آئی ٹی کا شعبہ ترقی کے منازل طے کر رہا ہے۔ ویسے ویسے آن لائن شاپنگ کے ٹرینڈ کے حوالے سے بھی شعوربڑھ رہی ہے۔ لوگ آن لائن آرڈر پر ٹرسٹ کرنے لگے ہیں اب دیہاتوں میں بھی انٹر نیٹ آ چکا ہے۔

دیہاتوں اور دور دراز کے علاقوں سے لوگ ہر ماہ اور شادی بیاہ کے موقع پر شاپنگ کے لئے بڑے شہروں کا رخ کرتے تھے۔ مگر اب انٹر نیٹ تک رسائی کی بدولت دیہات کے لوگوں کو بھی گھر بیٹھے برانڈڈ پراڈکٹس مل سکتی ہیں۔ آن لائن شاپنگ کے لئے سائٹس سے بھی رہنمائی لی جا سکتی ہے اور صارفین ویب سائٹس پر اپنی پسندیدہ اشیاء دیکھنے کے بعد آرڈر کر سکتے ہیں۔ تمام شعبہ زندگی کے لوگ اس ذریعے سے شاپنگ کو ترجیح دیتے ہیں۔ گھریلوخواتین بڑے بڑے بزنس مین ’دفاتر میں کام کرنے والے خاص طور پر اس سروس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں آئن لائن خریداری کا رحجان عوام کے لیے آسانیاں پیدا کر رہا ہے۔ لیکن وطنِ عزیز میں اس کے فوائد کا اس طرح ادراک نہیں کیا جا سکا جیسا کہ امریکا، یورپ اور بھارت میں کیا گیا۔ پاکستان میں محددو سطح پر آن لائن خریداری ہو رہی ہے۔ صارفین کی سطح پر بھی شعور کی کمی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ڈیجیٹل سہولتوں کو متقابل ملکوں کی مانند تیزی سے فروغ نہیں مل رہا۔ وطنِ عزیز میں آن لائن خریداری میں کمی کی ایک وجہ ہمارے ہاں لین دین میں دھوکہ دہی، جھوٹ ہیں۔

ایک طرف تو آن لائن خریداری نے انسانی زیست کو سہل بنایا لیکن ہر شعبہ ہائے زندگی میں منفی سوچ، ذاتی مفادات کی خاطر اشیاء کا غلط استعمال کرنے والوں نے نہ صرف عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی بلکہ ملک و ملت کا بھی نا قابلِ تلافی نقصان ہوا۔ ہمارے اس طرح کے رویوں سے وہ وطن جو اسلام کے نام پر بنا ہمیں دوسروں کے لیے مشغلِ راہ ہونا چاہیے۔ ہماری دیانت داری، ایمانداری سے اقوامِ عالم متاثر ہوں۔ لیکن شومئی قسمت وطنِ عزیز میں کئی ویب سائٹس پر لگی اشیاء کی تصاویر او ر جو ڈیلیور کی گئی اشیاء میں فرق ہوتا ہے۔

اور پھر ایسے فون نمبر درج ہوتے ہیں جو یا تو ملتے ہی نہیں یا پھر کسی کے ذاتی گھر کا نمبر ہوتا ہے۔ جس سے صارفین شدید اضطراب کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسا بھی کئی جگہوں ہوتا ہے کہ دکھایا جو جاتا ہے وہ بھیجا نہیں جاتا۔ یہ بات نہیں کہ سب ان لائن ایسی شاپنگ تمام جگہوں یکساں ہیں لیکن کچھ مچھلیاں سارے تالاب کو گندا کر رہی ہیں۔ میں اس موقر اخبار کی توسط سے گزارش کروں گا کہ عوام کے اعتماد کو وقتی ذاتی فائدے کے لیے اس جدید سہولت سے متنفر نہ کیا جائے۔ صارفین کو بھی چاہیے کہ وہ جس پروڈکٹ کی خریداری کرنا چاہتے ہیں پہلے اس کے بارے میں اچھی طرح معلومات لے لیں۔ اچھی طرح تسلی کرنے کے بعد آن لائن شاپنگ کا آرڈر دیں۔

Facebook Comments HS