جن آزمائشوں اور مصیبتوں کا آج ہمیں سامنا ہے، ان میں سے ایک آزمائش اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار سے عاری ہونے کی آزمائش ہے، اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف، ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم، ایک عظیم اصول، جو اپنے اندر بہت سے اخلاق جمع کر لیتا ہے، انسانیت کا شرف بھلائیوں کا سرچشمہ، ادب کا جامع اور آزاد اور باوقار زندگی کا ضامن ہے، یہ تمام بھلائیوں اور کمالات کا مجموعہ ہے۔ حسن اخلاق کی بدولت ایک شخص ہزار لوگوں کے برابر ہو جاتا ہے۔
لوگوں کی مثال سونے اور چاندی کے ذخائر کی طرح ہے، یا پھر باڑے میں موجود ان سو اونٹوں کی مانند ہے کہ جن میں سے بمشکل ہی کوئی سواری کے قابل اونٹ نظر آتا ہے اور دوسروں کو فائدہ پہنچانے والا وہی ہوتا ہے جو اپنے آپ کو انسانیت کے کمال سے مزین کر لیتا ہے، وہی کمال انسانیت کہ جسے بڑے لوگ پسند کرتے ہیں، عظیم اور دانشمند لوگ جس کی قدر کرتے ہیں اور جس کی وجہ سے انسان لوگوں کے دل میں گھر کر لیتا ہے چاہے، وہ معاشرتی اعتبار سے ان سے کم ہی کیوں نہ ہو۔
Read more