میاں جاوید کی موت، ذمہ دار نیب یا کوئی دوسرا؟


یونیورسٹی آف سرگودھا لاہور کیمپس کے چیف ایگزیکٹو میاں جاوید کی لاش کی تصویر پر احتجاج جاری ہے۔ شور مچا ہوا ہے کہ ایک استاد سے ایسا کیا ڈر تھا کہ اس کی لاش کی ہتھکڑی بھی نہ کھولی گئی۔ نیب پر لعن طعن کا سلسلہ جاری ہے۔

نیب نے معصوم بن کر کہہ دیا ہے کہ ہمارا تو اس سے کوئی لینا دینا ہی نہیں۔ یہ صاحب تو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں تھے۔ جیل والے انہیں بیمار ہونے پر ہسپتال لے گئے۔ ہم تو اس معاملے میں کہیں ہیں ہی نہیں۔ ہم بے قصور ہیں۔

بات تو بالکل منطقی ہے۔ معاملہ بس یہ ہے کہ اکتوبر کے اوائل میں 45 سال کے میاں جاوید کو نیب نے حراست میں لیا تھا۔ 19 اکتوبر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔ جس جگہ قید کیا گیا، اس کا نام انصار عباسی کی خبر کے مطابق ”نیب بیرک“ ہے۔ سپریم کورٹ کو نیب نے 19 نومبر کو یقین دلایا تھا کہ بس تین سے چار ہفتے میں ہم ان کے خلاف ریفرینس فائل کر دیں گے۔ تین چار ہفتے سے زیادہ گزرنے کے باوجود ریفرینس فائل نہیں ہوا۔ دوران حراست ڈیتھ سرٹیفیکیٹ فائل ہو گیا۔

ریفرینس فائل نہ ہونے کی کیا وجہ تھی؟ کیا ڈھائی مہینے میں نیب کو ثبوت نہیں ملے تھے؟ کیا ثبوت کے بغیر ہی ان افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا؟ کیا نیب پہلے بندہ اٹھاتی ہے اور اس کے بعد ثبوت تلاش کرتی ہے یا کسی مہذب ملک کے ادارے کی طرح پہلے ثبوت تلاش کرنے کے بعد کسی شخص کو گرفتار کیا جاتا ہے؟

مسئلہ نیب کے قانون میں ہے۔ مہذب دنیا کا قانون ہے کہ کسی شخص کو اس وقت تک معصوم سمجھا جاتا ہے جب تک ریاست اس پر جرم ثابت نہ کر دے۔ جرم ثابت کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ نیب کے معاملے میں یہ اصول الٹا ہے۔ نیب کے قانون کے تحت ہر شخص اس وقت تک مجرم ہے جب تک وہ خود کو معصوم ثابت نہ کر دے۔

نیب کے متعلق یہ تاثر تو جنرل مشرف کے زمانے میں پیپلز پارٹی پیٹریاٹس بنائے جانے کے وقت سے بن گیا تھا کہ یہ سیاسی انتقام لینے کا ایک آلہ ہے، اور یہ تاثر وقت کے ساتھ ساتھ پختہ ہوتا جا رہا ہے۔ کنگز پارٹی میں کبھِی کوئی کرپٹ نہیں ملتا اور اپوزیشن ہی کرپٹ ہوتی ہے۔ مگر اب یہ تاثر بھی بننے لگا ہے کہ بعض دوسرے اداروں کی طرح نیب بھی ٹاک شوز کی رونق بننے کا سامان کرنے کی شیدائی ہو گئی ہے۔ اس مقصد کے لئے کچھ بھی کیا جا سکتا ہے، خواہ ستر پچھتر سال کے ایسے اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگا کر نیب کورٹ لے جایا جائے جو سہارے کے بغیر چلنے پھرنے سے بھی قاصر ہیں یا خود ٹاک شوز میں جا جا کر ان افراد کا میڈیا ٹرائل کیا جائے جن پر ریفرینس ہی فائل نہیں کیا گیا ہے۔

جیل کا حساب کتاب دیکھ کر فلم ”منا بھائی ایم بی بی ایس“ یاد آ رہی ہے۔ اس فلم میں اس چیز کا مذاق اڑایا گیا تھا کہ بندہ مر بھی رہا ہو تو اسے طبی امداد نہیں دی جاتی، بلکہ پہلے کاغذی کارروائی پوری کرتے ہوئے پرچی بنائی جاتی ہے جو خواہ بعد میں لاش پر چسپاں کرنے کے کام ہی آئے۔ میاں جاوید کے کیس میں بھی جیل کا یہی پہلو سامنے آیا ہے۔ اس موت کی جتنی ذمہ داری نیب پر ہے، اتنی ہی جیل کے فرسودہ طریقہ کار پر بھی ہے۔

دنیا اخبار کی خبر کے مطابق میاں جاوید کو دل کا دورہ پڑنے سے فوری متعلقہ حکام کو آگاہ کیا گیا، انتظامیہ کی جانب سے فوری ایکشن نہ لینے کے باعث میاں جاوید کی حالت غیر ہو گئی، کچھ دیر بعد متعلقہ انتظامیہ میاں جاوید کو ہسپتال منتقل کرنے لگی لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔

جیل میں بند ایک دوسرے ملزم، جو خود بھی دل کے مریض ہیں، کے عزیز نے انصار عباسی کو بتایا کہ جیل کا ضابطہ کار ایسا ہے کہ کسی مریض کو طبی امداد ملنے میں کم از کم ایک گھنٹہ لگتا ہے۔ یعنی کسی کو دل کا دورہ پڑ جائے تو اس کی موت پکی ہے۔ جیل خانہ جات کے آئی جی شاہد بیگ نے ڈان کو بتایا کہ میاں جاوید نے سینے میں درد کی شکایت کی تھی جس پر انہیں سروسز ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ طبی امداد ملنے سے پہلے ہی دم توڑ گئے۔ سروسز ہسپتال کی پرچی اس دعوے کا منہ چڑا رہی ہے جس پر جلی حروف میں لکھا ہوا ہے ”لاش وصول ہوئی“۔

میاں جاوید کے انتقال کے بعد ان کے ورثا کی جانب سے پولیس سے درخواست کی گئی کہ لاش کی ہتھکڑیاں اتار دی جائیں لیکن لاہور پولیس کے ملازمین نے ہتھکڑیاں اتارنے سے انکار کر دیا، مجسٹریٹ کے آنے کے بعد میاں جاوید کے ہاتھوں سے ہتھکڑیاں اتاریں گئیں۔

سوال یہ ہے کہ ہزاروں افراد کو قید رکھنے والی جیل میں ایسا بندوبست کیوں نہیں ہے کہ دل کا دورہ پڑنے کی یا دیگر ایمرجنسی ہونے پر ابتدائی طبی امداد دے کر فوراً ہسپتال پہنچانے کا بندوبست ہو؟ اگر جیل میں ڈاکٹر موجود ہے تو کیا اس کی تشخیص کے باوجود کہ دل کا دورہ پڑا ہے، لاچار پڑے مریض کو پھر بھی ہتھکڑی لگا کر ہسپتال پہنچانا ضروری ہے؟ سب سے بڑا لطیفہ تو یہ ہے کہ ڈاکٹر کی طرف سے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ کے باوجود لاش کی ہتھکڑی اس وقت تک نہیں اتاری جا سکتی جب تک مجسٹریٹ صاحب یہ تصدیقی سرٹیفیکیٹ نہ دے دیں کہ لاش بھاگے گی نہیں۔

نیب اور جیل خانہ جات کے فرسودہ قوانین کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری موجودہ حکومت کی بھی ہے، لیکن اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر مسلم لیگ نون کی سابقہ حکومت کی بھی ہے جو اس خام خیالی میں بیٹھی تھی کہ عدالت اور نیب اس سے اس قدر محبت کرتے ہیں کہ یہ ظالمانہ قوانین صرف اس کے مخالفین کے خلاف ہی استعمال کیے جائیں گے، اور وہ خود محفوظ رہے گی۔ امید ہے کہ اب میاں نواز شریف کو یہ علم ہو رہا ہو گا کہ وقت سدا ایک سا نہیں رہتا۔ میاں صاحب کو ابھی ٹھیک سے علم نہیں ہوا تو 24 دسمبر کو ہو جائے گا۔ لیکن کم از کم تحریک انصاف یہ سبق لے کہ کچھ عرصے بعد یہی قوانین اس کے خلاف بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar