فال نکالنے، راگ الاپنے والے طوطے اور زرداری کا بیانیہ
کچھ طوطے ایک بار پھر فال نکالنے کے کام میں جتے نظر آ رہے ہیں تو کچھ گرفتاری گرفتاری کا ڈھول پیٹنے میں۔ یہ وہی طوطے ہیں جو ٹی وی چینلوں پہ بیٹھ کر آصف علی زرداری کے خلاف لمبے لمبے مفروضوں پہ مشتمل کہانیاں سنا کر عوام کو زرداری سے متنفر کرنے کی ذمے داریاں ادا کرتے تھے، کبھی انہیں بیمار دکھا کر ایئر ایمبولینس کے ذریعے ملک سے باہر منتقل کرنے کی خبر پہ شور مچاتے تو کبھی کسی کرپشن کیس میں ان کی گرفتاری کا۔
آج ایک بار پھر وہی طوطے نظر آتے ہیں۔ آصف علی زرداری اور فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت تحقیقات شروع کی گئیں وجہ کچھ بے نامی اکاؤنٹس میں پائے گئے کروڑوں اربوں روپے کی رقوم تھیں۔ تحقیقات جیسے ہی شروع ہوئیں تو بولنے والے طوطے بھی شروع مچانے کے کام میں لگ گئے کبھی کسی دھی بھلے والے کے اکاؤنٹ میں ملنے والی رقم کو زرداری صاحب سے جوڑا جاتا تو کبھی کسی رکشے والے کے، جو بھی بے نامی اکاؤنٹ ملتا اس کا سرا زرداری اور فریال تالپور سے جوڑ دیا جاتا۔
یہاں تک کہ کے پی کے اور ملک کے دوسرے علاقوں سے ملنے والی رقوم بھی پیپلز پارٹی قیادت سے جوڑی جاتی رہیں اور پھر اسی بنیاد پر جولائی میں اومنی گروپ اور زرداری گروپ کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لئے پاناما طرز کی جے آئی ٹی بنانے کی استعدا کی گئی جس پر آصف علی زرداری نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نجف قلی مرزا کی شمولیت پر شدید اعتراضات اٹھائے تھے جس پر نجف مرزا کو جے آئی ٹی کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
جے آئی ٹی کو سپریم کورٹ نے پابند بنایا کہ وہ اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائے گی اور اس سے پہلے رپورٹ کے مندرجات میڈیا کی زینت نہیں بنیں گے۔ عمران خان صاحب اور ان کی جماعت اقتدار میں تو کرپشن کے خاتمے کا دعویٰ کر کے آئی مگر محض چار ماہ میں ہی کرپشن سے انتقام کی سڑاند آتی محسوس ہونے لگی ہے۔ اپوزیشن کی اہم جماعتوں کے خلاف سرگرم نیب اور ایف آئی اے نیازی راج کے کرتاؤں دھرتاؤں کے اشاروں پہ ناچتے نظر آ رہے ہیں۔
ایک طرف اداروں کے عدم تعاون کا رونا رویا جاتا ہے دوسری جانب رات کے اندھیرے میں اداروں کے سربراہان اور مرکزی دفاتر کے دورے کر کے انہیں صرف اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی لانے کے احکامات جاری کیے جاتے رہے۔ خان صاحب اور ان کے وزراء کبھی نیب چیئرمین تو کبھی ایف آئی اے تو کبھی جے آئی ٹی پر اثرانداز ہونے کے لئے ان سے خفیہ ملاقاتیں کرتے رہے۔ ابھی کل ہی خان صاحب کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر ایک ایسے وقت میں ایف آئی اے ہیڈکوارٹر کا دورہ کرتے اور جے آئی ٹی ارکان سے ملاقات کرتے ہیں جب آصف علی زرداری صاحب اپنی ضمانت میں توسیع کے لئے بینکنگ کورٹ میں پیش ہونے جا رہے تھے۔
خان صاحب اور ان کی ٹیم اپنی مشکوک حرکتوں اور کردار سے سارے احتساب کے پراسس کو ہی متنازعہ بنا چکے ہیں۔ ان کے سیاسی انتقامی اقدامات نے اپوزیشن کو بھی جارحانہ رویے اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔ حالانکہ جب قومی اسیمبلی میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری نے حکومت کو مثبت اقدامات پر حمایت کی پیش کی تھی اور بلاول بھٹو زرداری نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کے لئے قدم بڑھاؤ عمران خان، ہم تمہارے ساتھ ہیں، لیکن خان صاحب کی حکومت نے اسے اپوزیشن کی کمزوری اور مجبوری سمجھ کر اپنی انتقامی کارروائیاں مزید تیز کردیں، جبکہ ان کے دست آموز طوطے گرفتاری گرفتاری کا راگ الاپنے لگ گئے۔
حکومت کی ناعاقبت اندیشی کی حد تو یہ ہے کہ احتسابی ادارے روزانہ کی بنیاد پر اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف کیس بناتے ہیں تو دوسرے دن سے مختلف وزراء ان کی ممکنہ گرفتاریوں کی پیش گوئیاں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ دوسری جانب مختلف چینلز پر بیٹھے پالتو طوطے اطلاعات تک رسائی کے قانونی حق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے خفیہ رپورٹوں کے مندرجات کو بنیاد بناتے ہوئے اپوزیشن کی کردارکشی میں لگ جاتے ہیں۔ اسی دوران پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف علی زرداری نے بھی اپنا لب ولہجہ تبدیل کردیا ہے اور ان قوتوں کو واضح پیغام دینا شروع کردیا ہے جو پی ٹی آئی اور عمران خان کے ناتواں کندھے استعمال کرکے ملک کی دو بڑی سیاسی قوتوں کی قیادت کو مائنس کرنے کے درپے ہیں۔
رداری صاحب نے بہت واضح مگر سخت زبان میں خلائی مخلوق کو متنبہ کرنا شروع کر دیا ہے کہ آپ کا کردار سیاسی نہیں ہونا چاہیے آپ ایک مختصر عرصے کے لئے با اختیار ہوتے ہو مگر سیاستدان جب تک زندہ ہے اور عوامی حمایت رکھتا ہے وہ طاقتور ہے۔ انہوں نے اداروں کو آئینی دائرۂ اختیار میں رہنے کا مشورہ بھی دیا ہے۔ آصف علی زرداری کی موجودہ سیاسی سرگرمیوں سے تحریک انصاف کی صفوں میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور ان کے پیادہ دستے آصف علی زرداری کی کردارکشی اور انتہائی رکیک اور گھٹیا الزام تراشی پر اتر آئے ہیں۔
تحریک انصاف حکومت احتساب کے نام پر انتقام میں اتنی اندھی ہو چکی ہے کہ وہ یہ بھی فراموش کر بیٹھے ہیں کہ پاکستان کی عوام ان سے بلا امتیاز احتساب کی توقع کیے ہوئے ہیں۔ حکومت میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے وزراء اور اہم رہنماؤں کے خلاف اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی تحقیقات سردخانے کی نذر ہے۔ شاذونادر ہی کسی متحدہ رہنما کو حاضری کے سمن جاری کیے جاتے ہیں تاکہ کیس میں پیشرفت دکھا کر عوام اور عدلیہ کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا سکے۔
خود وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت کے خلاف کئی سالوں سے الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس زیر التوا ہے جس پر کوئی کارروائی کرنے سے الیکشن کمیشن ابھی تک بے بس نظر آتا ہے۔ وزیراعظم کی ہمشیرہ علیمہ خان کی اربوں روپے کی جائداوں کا معاملہ بھی جانبداری کی بدترین مثال بنا ہوا ہے، جس میں سپریم کورٹ نے انہیں تین کروڑ روپے کے لگ بھگ جرمانہ عائد کرکے پورے معاملے سے ہی پہلو تہی کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ ان پر جرمانہ عائد کر کے بادی النظر میں ان کی جائیدادوں کی حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے مگر ان سے ان جائیدادوں کی منی ٹریل نہ پوچھ کر انصاف کے تقاضوں کی نفی بھی کی گئی ہے۔
جہانگیر ترین کا چوبیس پچیس سالہ بیٹا ایک ارب روپے کی کرکٹ ٹیم خریدتا ہے تو کوئی سوال نہیں ہوتا۔ دوسری جانب اپوزیشن کے جدی پشتی رئیس اولادوں سے آمدنی کے ذرائع پوچھ کر انصاف کو داغدار کیا جا رہا ہے۔ عمران خان صاحب شاید یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جس احتساب کا نعرہ لگا کر اقتدار میں لائے گئے وہ اس کو شرمندۂ تعبیر کر رہے ہیں ہیں، مگر ایسا ہے نہیں ان کے کندھوں پر احتساب کی بندوق تان کر تاک تاک کر اپوزیشن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو پاکستان کے سیاسی استحکام اور سالمیت کو خطرات سے دوچار کرنے کی بھونڈی کوشش نظر آتی ہے۔
آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی طلب کیا گیا جو کبھی کسی بھی طرح اپنے والد کے کسی بھی کاروبار سے منسلک نہیں رہے مگر صرف پیپلز پارٹی قیادت کو زچ کرنے اور کارکنوں میں مایوسی اور افراتفری پھیلانے کے لئے یہ تمام کارروائی اں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی تمام کارروائی اں رپورٹ پیش کرنے تک خفیہ رکھنے کا حکم صادر کیا تھا مگر پوری دنیا نے دیکھا کہ حکومتی وزراء اور ان کے پالتو طوطے کس طرح عدالت عالیہ کے احکامات کی دھجیاں اڑاتے رہے۔
ابھی کچھ دن پہلے ایک مشہور سرکاری طوطا ایک ٹی وی چینل پر بیٹھ کر خفیہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مندرجات سپریم کورٹ میں جمع ہونے سے پہلے افشا کر رہا تھا اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف زہر اُگلتا رہا تھا، جبکہ پی ٹی آئی کے وزراء جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاری کی پیش گوئیاں کرتے نظر آتے رہے ہیں۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فرض ہے کہ حکومتی وزراء اور ٹی وی چینلز پر بیٹھے زرخرید سرکاری طوطوں کے ان دعووں اور عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزیوں پر توہین عدالت کا نوٹس لے اور اگر ان کے دعوے صحیح ثابت ہوتے ہیں تو پھر جے آئی ٹی کے خلاف بھی خفیہ سرکاری رپورٹ افشا کرنے پر سخت کارروائی کرے اور احتساب کو انتقام کا روپ اختیار کرنے کے تاثر کی نفی کرے، دوسری صورت میں عوام کا احتساب کی شفافیت پر سے اعتماد ہی اٹھ جائے گا۔


