کٹھ پتلی کے بہت روپ ہوتے ہیں
گھر آکر شرجیل چارپائی پر لیٹ گیا۔ اس کے کان میں یہ آواز ابھی تک گونج رہی تھی۔ ‘تمہارا مستقبل ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے گا۔ تم کب تک پتلیاں نچاتے رہو گے ؟ کبھی بوڑھے بھی تو ہونا ہے۔ پھر کہاں سے کھاؤ پیؤ گے ؟’
شرجیل کو یہ بات معقول لگی تھی۔ اور دوسری طرف اسے اپنی کالونی والوں کے چہرے نظر آرہے تھے، خاص طور پر روپا کا چہرہ جسے وہ جذباتی طور پر پسند بھی کرتا تھا۔ رات کے تیسرے پہر میں جا کر کہیں اس کی آنکھ لگی تو دو گھنٹے کے بعد فضل دین کے مرغے کی بانگ اور ہمسایوں کے بچوں کے شور شرابے نے اسے اٹھا دیا۔ ‘نہیں میں ان لوگوں کو دھوکا نہیں دے سکتا۔ یہ میرے اپنے لوگ ہیں۔’ اس نے بستر سے اٹھتے ہوۓ زور سے کہا۔
‘تمہارا مستقبل ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے گا۔ تم کب تک پتلیاں نچاتے رہو گے ؟ کبھی بوڑھے بھی تو ہونا ہے۔ پھر کہاں سے کھاؤ پیو گے؟ ‘ شنکر کی آوازشرجیل کےکانوں میں گونج رہی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ اس گونج کے نیچے دب کر ہاں کر دے وہ جلد از جلد شنکر کے پاس جا کر اس کو منع کرنا چاہتا تھا۔ اگلی صبح وہ شنکر کے دفتر پہنچ گیا۔ شنکر نے اسی تھو ڑی دیر انتظار کروانے کے بعد اندر بلا لیا۔ شرجیل نے نمستے کہنے کے فورا بعد پوچھا۔’کیا سب کو دو دو فلیٹ ملیں گے؟ ‘
شنکر نے مسکرا کر جواب دیا۔ ‘ہمارا بس ہو تو سب ہی کو دو دو فلیٹ دے دیں لیکن ہمیں بھی تو دو پیسے کمانے ہیں۔ یہ پیشکش صرف تمہارے لئے ہے۔ ‘
‘ شنکر جی کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں کہ ایک میدان چھوڑ دیں تا کہ لوگ اپنے فن کی پریکٹس کر سکیں کیونکہ فلیٹ میں تو یہ ممکن نہیں؟ ‘
شنکر نے بڑے رعب سے جواب دیا۔ ‘ زمانہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ اب لوگ شو دیکھنے کے لئے تھیٹر جاتے ہیں۔ تم لوگوں کے فن کو انگریزوں نے ایک سندر نام دے دیا ہے اسٹریٹ آرٹ۔ لیکن اس کا کوئی مستقبل نہیں ہے تم لوگ پیسے کمانے کے لئے کچھ اور دھندا سیکھو۔ میں سب کو اپنی کمپنی میں بھرتی کر لوں گا۔ مجھے اس پروجیکٹ کے لئے کافی مزدور وغیرہ چاہیئیں۔’ شنکر نے گھور کر شرجیل کو دیکھا۔ ‘ تم بہت ہوشیار دکھائی دیتے ہو اگر میرے پاس اتنی زمین فالتو ہوتی تو میں یہی کرتا جو تم کہہ رہے ہو۔ میں تمہاری ہوشیاری کے صلے میں تمہیں دوسرا فلیٹ دے رہا ہوں۔’
شنکر نے اپنا ہاتھ فون کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ‘ تم دوسرے فلیٹ کی آفر کا کسی سے ذکر نہیں کرنا تو بہتر ہو گا۔’
شنکر کا ڈرائیور اندر آیا اور اشارہ سے شرجیل کو چلنے کے لئے کہا۔ دفتر سے باہر نکل کر شرجیل نےڈر کے مارے فوراً یہ فیصلہ کیا کہ وہ دو فلیٹ کی پیشکش کا کسی سے ذکر نہیں کرے گا۔ لیکن وہ اپنی بستی والوں کے ساتھ دغا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
شرجیل نے فیصلہ جلد کرنا تھا۔ وہ اس بحث کے ساتھ جو اس کے دماغ کو چاٹ رہی تھی اور نہیں جی سکتا تھا۔ صبح اٹھتے ہی اس نے شنکر کے دفتر کا رخ کیا۔ شرجیل نے اندر جاتے ہی فوراً کہا ‘شنکر جی، مجھے یہ پیشکش منطور نہیں ہے۔ آپ ہم کو انہی ٹوٹے پھوٹے مکانوں میں رہنے دیں۔ بھگوان آپ سے خوش ہو گا۔’
شنکر کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا ‘ٹھیک ہے۔ تمہیں یہ پیشکش پسند نہیں تو کوئی بات نہیں ‘۔ شنکر نے یہ کہتے ہوئے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
‘تو شنکر جی، آپ اس کالونی کو خالی تو نہیں کرائیں گے؟ ‘
‘میں اس بارے میں سوچ کر کالونی کے لوگوں کو بتا دوں گا۔ ‘
شنکر کو جواب دینے کے بعد شرجیل کا بوجھ ہلکا ہو گیا تھا۔ گھر واپس آ کر وہ اپنے کام کاج میں مصروف ہو گیا۔
دو دن بعد بارش شروع ہوگئی، مون سون کی موسلا دھار بارش۔ کالونی میں ہر طرف پانی ہی پانی تھا۔ شرجیل نے کٹھ پتلی اں اس کمرے میں رکھ دیں جو پانی سے محفوظ تھا۔ یہی شرجیل کی جائیداد تھی، یہ اور ان کے کھیل۔ پھر وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگا جیسے بھگوان سے باتیں کرنا چاہتا ہو۔ اس کی آنکھوں میں شکایت تھی، شکریہ بھی اور دعا بھی کہ بارش رک جائے۔ دفعتاً مکان کے پچھلے حصّے کی دیوار گر گئی۔ اس کی کٹھ پتلی اں اس دیوار کے نیچے دب گیٔں۔ شرجیل بے اختیار چلّایا ‘یہ دیوار تو میں ٹھیک کروالوں گا لیکن یہ میرے پیارے گڈّے اور گڈّیاں ! میرا تو سب کچھ لٹ گیا ‘۔ وہ کٹھ پتلیوں کے کے نام لے لے کر ان کو پکارنے لگ گیا۔ شاید وہ ان کے جواب کا منتظر تھا۔
پھر شرجیل کو شنکر کیے دو فلیٹ کی پیشکش کا خیال آیا۔ وہ صبح ہوتے ہی شنکر کے دفتر جائے گا اور اس کی دو فلیٹ کی پیشکش کو مان لے گا۔ لیکن کیا اب شنکر اس کو دو فلیٹ دے گا؟
اب باہر بارش رک گئی تھی لیکن شرجیل کی آنکھوں سے بوندیں ٹپک رہی تھیں۔ بادلوں کی گھن گرج اور تیز ہوگئی۔ کئی جگہ آس پاس کے میدانوں میں بجلی بھی گری۔ ایک دم شور و غل ہوا۔ شرجیل تیزی سے باہر نکلا تو دیکھا کہ کھیتوں کی سمت کالونی کے مکانوں میں آگ لگی ہوئی تھی۔ آہستہ آہستہ دوسرے مکانات بھی آگ کی زد میں آگئے تھے۔ تنگ گلیوں کی وجہ سے آگ بجھانے والے انجن جلتے ہوئے مکانوں کو بچا نہ پا رہے تھے۔ ہر طرف سے آہ و بکار اور چیخوں کی ہولناک آوازیں آرہی تھیں۔ لوگ جلتے ہوئے مکانوں میں اندر جانے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ اوروں کو بچا سکیں۔ ایک قیامت کا منظر تھا۔ فضل دین دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا۔ اس کی بیوی مکان کے ساتھ ہی جل گئی تھی۔
تھوڑی دیر بعد پولیس کے لوگ پیدل ہی آگ بجھانے والے عملے اور کچھ نرسوں کے ساتھ آئے۔ شرجیل کو تھانے دار نظر آیا تو وہ فوراً اس کی طرف لپکا۔ ‘صاحب جی، غضب ہو گیا۔ کسی نے پوری کالونی جلا دی۔’
پولیس افسر نے جھلّا کر جواب دیا ‘شرجیل جی، آپ تو بڑے حوش و حواس والے آدمی ہیں۔ کیسی باتیں کرتے ہیں! آج رات اس کالونی کے ایک یا دو مکانوں پر بجلی گری ہے۔ میں سویرا ہوتے ہی پوری تفصیل پتا کرتا ہوں اور رپورٹ تیار کرتا ہوں۔’
شرجیل کا سر چکرانے لگا۔ وہ بڑبڑا رہا تھا ‘میں تو ہمیشہ نقلی کٹھ پتلی ؤں کو نچاتا ہوں اور خود کو بہت بڑا فنکار سمجھتا ہوں۔ لیکن کچھ لوگ تو زندہ انسانوں کو کٹھ پتلی بنا لیتے ہیں۔ کیا میں بھی کسی کی کٹھ پتلی بن سکتا ہوں؟ ‘ شرجیل اس دوزخ میں ایک کٹھ پتلی کی طرح اچھل رہا تھا۔

