مولانا فضل الرحمن کے پیروکار اور مولانا طارق جمیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 2
  •  

ایک سال قبل یعنی 2017 کی بات ہے میرے ساتھ چند دوست تشریف فرما تھے۔ مولانا فضل الرحمن صاحب کا جلسہ جاری تھا اور ہم ان کے تقریر کو بڑے غور سے سن رہے تھے۔ ان دوستوں میں ایک کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن سے اور دوسرے کا جمیعت اور اس وقت تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی اور یہ دونوں جماعتیں اقتدار میں تھی۔ خیر مولانا صاحب کی تقریر جاری تھی اور نشانے پر عمران خان تھا۔ مولانا صاحب نے جن الفاظ سے عمران خان کو نوازا وہ یہاں لکھنے کے قابل بھی نہیں۔ میرے دونوں دوست بڑے خوش اور مسکراتے ہوئے تقریر سے لطف اندوز ہورہے تھے اور میں ان سے یہی گزارش کررہا تھا کہ نہیں ایک عالم کو ایسی زبان نہیں استعمال کرنی چاہیے، اس وقت میرے منہ سے بھی مولانا صاحب کے لیے کچھ ایسے الفاظ نکلے جو کہ میرے دوست کو انتہائی ناگوار گزری، اور مجھے علماء کے عزت اور ان کے بارے میں غلط الفاظ استعمال پر سزا کی وعیدیں سناتے رہیں اور میں انکو بڑے غور سے سنتا رہا، اور بار بار مجھے یہ باور کراتے رہے کہ دیکھئے بھائی علماء انبیاء کے ورثاء ہیں انکے بارے میں اللہ سے ڈرو، اس وقت میں نے ان کو کہا آئندہ احتیاط کیا کروں گا، لیکن وہ ایک عالم ہیں مانتا ہوں اور وہ ایک سیاستدان بھی ہے لہذا میں تو ان کے فیصلوں اور رائے سے اختلاف کرنے اور ان پر تنقید تو کرسکتا ہوں، لیکن میرے دوست نے مجھے اس سے بھی روک دیا کہ عالم ہیں۔

مولانا طارق جمیل نے کچھ دن پہلے وزیر اعظم جناب عمران خان سے ملاقات کی۔ اس کے بعد مولانا طارق جمیل صاحب نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام جاری کیا اور عمران خان کے ساتھ تعاون کی اپیل کی۔ اس پر دو مکتبہ فکر کے جانب سے خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جن میں جمیعت علماء اسلام کے کارکنان بشمول علماء کرام اور اس کے ساتھ عمران خان کے مخالف پاکستان مسلم لیگ ن بھی پیش پیش ہیں۔

کل ہی میری ملاقات اسی دوست سے ہوئی اور ماشاءاللہ وہ خود بھی عالم بن چکے ہیں۔ میں نے ان کو مولانا طارق جمیل صاحب کا وڈیو کلپ سنایا اور اس کے بعد جو انہوں نے کہا وہ میں جانتا ہوں۔ میں خاموش رہا اور ان کو دیکھتا رہا، جب وہ خاموش ہوا تو میں نے اپنے دوست کو وہی نشست وہی تقریر اور وہ میرے الفاظ یاد دلانے کی کوشش کررہا تھا جو میں نے بے ساختہ  مولانا فضل رحمن کے لیے استعمال کیئے تھے۔ اور میں ان کو وہی باتیں سنا رہا جو انہوں نے خود مجھے ایک عالم کے عزت کے بارے میں بتائی تھی۔ لیکن یہاں میرا دوست انتہائی شاطر بالکل اپنے لیڈر مولانا کی طرح سب کچھ الٹ کر رکھ دیا اور کھبی ایسے عالم کے بارے میں قول سناتے رہیں کھبی حدیثیں۔ میں اس کشمکش میں اس وقت سے مبتلا ہوں کہ دین میں جہاں آپ کا فائدہ ہو دوسروں کو روک دو جہاں نہ ہو، وہاں ٹوک دو اور جہاں پھنس جاؤ تو من پسند دلائل ڈھونڈو۔ یہ ایک زندہ مثال ایک سال قبل مجھے میرا دوست علماء کے بارے میں کیا درس دے رہا تھا اور کل مجھے علماء کے بارے کیا حدیثیں سناتا رہا۔ بس میں سبحان اللہ ہی کہہ سکتا ہوں۔

یہی صورتحال سوشل میڈیا پر بھی نظر آتا ہے اور ایک قول تو زبان زد عام ہیں کہ “اگر کسی عالم کو حکمران کے در پہ دیکھو تو ان سے دین مت سیکھو”

مولانا طارق جمیل صاحب کی پہچان ایک داعی کی ہے۔ کسی عام شخص کے لیے انتہائی مشکل عمل کہ وہ ایک حکمران کے پاس داعی کے نسبت سے ملے۔ یہ وہی مولانا طارق جمیل ہے جو رائے ونڈ میں نواز شریف کے ساتھ ملاقات کے لیے جاتا رہا، یہ وہی مولانا طارق جمیل جو سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات کے لیے جاتا رہا، یہ وہی مولانا طارق جمیل ہے جو مشرف سے ملتا رہا، کیونکہ وہ ایک داعی ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ جب نواز شریف سے ملتا ہے تو پی ٹی آئی والے آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں اور جب عمران خان سے ملتا ہے تو ن لیگ والے طوفان اٹھا دیتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ اضافہ جمیعت کے صورت میں ہوا، لیکن ابھی سوچتا ہوں کہ شاید اس واقعہ کی صورت میں ان لوگوں کے لیے انہوں خود راہ ہموار کردی جو مولانا فضل الرحمن کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتے تھے، کیونکہ اب ان کے پاس بھی یہ دلیل ہوگا کہ مولانا طارق جمیل صاحب کے بارے میں جو آپ الفاظ استعمال کرتے تھے کیا وہ ایک عالم نہیں تھا؟

اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ پچھلے پانچ سالوں سے تو میں مولانا فضل الرحمن کے زبان سے یہودی یہودی کا راگ سن رہا ہوں، ایسے میں ان کی جماعت کے قائدین سے لیکر ایک عام ورکر تک کہاں مولانا طارق جمیل صاحب کا بیان برداشت ہوگا، کیونکہ یہودی ایجنٹ کے دھبہ پر جو پانی پھیر دیا، اور شاید ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ مولانا طارق جمیل کے پرستار ہر شعبہ میں موجود ہیں اس لیے ہر طرف ہم ہی زوال پذیر ہونگے۔ لیکن بنیادی فرق اب ملاحظہ کیجئے تبلیغ اور جمعیت جماعت میں:

تبلیغ میں اگر آپکا وقت لگا ہو تو آپ کو معلوم ہوگا کہ وہ چاہے جس سے ملے خواہ امیر ہو یا غریب جوان ہو یا بوڑھا، کالا ہو یا گورا بس ایک ہی بات ان سے کہتے ہیں “کہ اللہ سے ہوتا ہے، غیر اللہ سے کچھ نہیں ہوتا”

اور ہم یہ یقین بنانے کے لیے اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں۔

دوسری طرف جمیعت علماء اسلام جس طرح انہوں نے مولانا طارق جمیل صاحب کو آڑے ہاتھوں لیا، اس سے صاف ظاہر کہ شخصیت پرست ہونے کا یقین ان کا کامل ہے۔

اور اس سے بھی بڑھ کر مضحکہ خیز صورتحال یہ ہیں کہ مولانا طارق صاحب کی ایک تصویر چند فوجی آفسروں کے ساتھ وائرل ہیں جن میں وہ چائے پیتے نظر آتے ہیں، اس پر بھی طنزیہ جملے استعمال کررہے ہیں۔

اس سے مجھے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جب انسان خود کسی منزل سے گزرا ہو اسی منزل پر جب کسی اور کو دیکھتا ہیں تو وہ اپنے آپ کو پرکھ کر دوسروں کے بارے میں بھی وہی گمان کرتا ہے یہ ایک فطری عمل ہیں۔ کیونکہ ماضی میں یہ دونوں صاحبان چائے نہیں بلکہ کھانے کے ٹیبل پر سابقہ جرنیلوں کے بھرپور نشستوں سے لطف اندوز ہوکر بعد میں وہی کرتے تھے جو وہ کہتے تھے، اس لیے ان کے وسیع تر تجربہ کے مطابق ان کا غالب خیال یہی ہے کہ یہ سب کچھ انہی کے کہنے پر ہوا۔

جب یہ تمام حربے ناکام ہوئے تو اب ایک نیا شوشا چھوڑا گیا کہ چونکہ مولانا طارق جمیل صاحب کا تعلق پنجاب سے اور کیونکر وہ ایک پشتون عالم کی حمایت کرے گا، نادانی کا یہ حال ہے۔

اللہ ہم سب کو ہدایت اور نیک راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرماییں۔ آمین

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 2
  •