ٹاور پر چڑھا شخص جو پاکستان کا وزیراعظم بننا چاہتا تھا
ابھی کل 22 دسمبر کو ایک شخص قومی پرچم اٹھائے اسلام آباد کے بلیو ایریا کے ایک موبائل ٹاور پر چڑھ گیا۔ اس نے قومی پرچم کو اسلام آباد کی بلندیوں پر لہرا دیا اور چھلانگ لگا کر خودکشی کرنے پر آمادہ ہوا۔ مجمع اکٹھا ہو گیا۔ پولیس آئی۔ اس شخص کو موبائل پہنچایا گیا کہ میاں بات تو کرو تم چاہتے کیا ہو؟ اس وقت تک سب یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ کوئی دیوانہ تھا جس کے دماغ میں خناس سمایا ہوا تھا۔ فون پر بات ہوئی تو یہ کھلا کہ وہ دیوانہ ضرور تھا مگر اس کی دیوانگی کا سبب ملک و قوم سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ ملک کو تباہی کے گڑھے میں گرتے دیکھنے سے پہلے خود چھلانگ لگا کر جان دینے پر آمادہ تھا۔
پتہ چلا کہ اس محب وطن شخص کا نام فیاض ہے اور وہ بھلوال سے آیا ہے۔ اس کا مطالبہ تھا کہ اسے وزیراعظم بنایا جائے تاکہ وہ پاکستان کے معاشی حالات ٹھیک کرے اور اپنی لاثانی صلاحیتوں کے ذریعے چھے ماہ میں ملک کا قرضہ اتار دے۔
پولیس نے استقامت کے اس پتلے کو بہکانے کی بہت کوشش کی کہ تم نیچے اتر آؤ، اتنی سردی میں اتنی اونچی جگہ پر بیٹھے ہو، قلفی جم رہی ہے، ایک کپ گرما گرم چائے پیو۔ مگر اس وفا کے پتلے نے کسی قیمت پر بکنا گوارا نہ کیا۔ اس نے پولیس کے سرکاری پیسوں پر لعنت بھیجی اور اپنے ذاتی پیسوں سے خریدی ہوئی ڈبی سے سگریٹ کے کش پر کش لگاتا رہا اور اس نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ پاکستان کو اس ابتلا میں چھوڑ کر عیاشی نہیں کر سکتا، وہ اپنے عظیم معاشی مقاصد کے حصول کے لئے صرف وزیراعظم عمران خان سے بات کرے گا یا پھر سرگودھا کے ڈی پی او سے۔ بات تو معقول تھی۔ پولیس والے لاجواب ہو گئے۔ واقعی اتنے ہائی لیول کا قومی فیصلہ صرف وزیراعظم پاکستان یا ایک اعلی ضلعی پولیس افسر ہی کر سکتے ہیں۔ کسی دوسرے شخص سے فیاض کے مذاکرات بیکار تھے۔
خیر اسے خوشخبری سنائی گئی کہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب اس سے بات کرنے کو تیار ہیں۔ فیاض بھلوالی نے وزیراعظم سے بات کی۔ بتایا کہ اس کے پاس ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کا بہترین منصوبہ موجود ہے۔ ملک کی خاطر وزیراعظم اپنی کرسی چھوڑ دیں اور فیاض بھلوالی کو اپنا راج پاٹ سونپ دیں۔ وہ سب ٹھیک کر دے گا۔
وزیر اعظم نے فیاض بھلوالی کو کہا کہ ”میں خود بھی ملک کی معاشی حالت ٹھیک کرنے کے لئے کوشاں ہوں، آپ میرے وزیر خزانہ بن جائیں اور اپنی مرضی کے مطابق معیشت ٹھیک کریں، میں پورا ساتھ دوں گا، اب تک میرے سامنے صرف معاشی مسائل ہی ہیں“۔
فیاض بھلوالی وزیراعظم بننے کا متمنی تھا مگر وہ جانتا تھا کہ اس ملک کا نظام ٹیلنٹ کی قدر نہیں کرتا۔ اسے وزیراعظم بننے کے لئے یا تو شیطان کے ہاتھوں اپنی روح بیچنی پڑے گی یا پھر بائیس سال جدوجہد کرنے کے بعد ایسا کرنا ہو گا۔ جبکہ معاشی معاملات اتنے گمبھیر ہیں کہ پاکستان کے پاس چھے ماہ سے زیادہ وقت نہیں ہے۔ اس لئے اس نے وزیراعظم کی آفر قبول کر لی کہ وہ ایک با اختیار وزیر خزانہ بن کر معاشی محاذ سنبھال لے۔ وہ ٹاور سے نیچے اتر آیا۔ پولیس نے اسے وزیراعظم ہاؤس کے قریب ایک ہائی سیکیورٹی سرکاری رہائش میں منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ وطن دشمن قوتیں اسے نقصان نہ پہنچا سکیں۔ کوئی فیاض بھلوالی کے معاشی منصوبے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتا ہے تو اس سے تھانہ سیکرٹریٹ کے ہیڈ محرر کے توسط سے ملا جا سکتا ہے۔
اب میڈیا پر بعض افراد یہ دعوی کر رہے ہیں کہ فیاض بھلوالی سے وزیراعظم پاکستان نے نہیں بلکہ ایک کامیڈین نے بات کی تھی۔ یہ انتہائی مضحکہ خیز دعوی ہے اور ہم اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ فیاض بھلوالی ایک جینئیس ہے۔ کیا وہ یہ جج نہیں کر سکتا کہ اس سے معیشت کے بارے میں اس کے لیول کی گفتگو کرنے والا عمران خان جیسا نابغہ نہیں بلکہ ایک کامیڈین ہے؟ فیاض بھلوالی نے برسوں عمران خان کو ٹی وی پر سنا ہو گا۔ جلسوں میں دیکھا ہو گا۔ کیا اسے عمران خان کی گفتگو اور ایک کامیڈین کی گفتگو ایک جیسی لگتی ہے؟ پہلے ہی خبریں اڑ رہی ہیں کہ وزیراعظم پاکستان اپنے وزیر خزانہ جناب اسد عمر سے خوش نہیں اور وہ کسی وقت بھی تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔ ہمیں تو یہی لگ رہا ہے کہ فیاض بھلوالی کی عمران خان سے مفید گفتگو ہوئی ہے اور اب وہی بطور ایک با اختیار وزیر خزانہ پاکستان کے معاشی معاملات کو دیکھیں گے۔
معیشت کے بارے میں اتنا فکرمند ہم نے پورے پاکستان میں اس سے پہلے صرف دو افراد کو دیکھا ہے۔ ایک وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان اور دوسرے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار۔ عمران خان کبھی کسی سے قرضہ مانگتے ہیں، کبھی سمندر میں جا کر گیس تلاش کرتے ہیں، کبھی کرپٹ عناصر کو پکڑ کر ان سے پیسہ اگلوانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ برادر ممالک قرضہ دینے سے انکاری ہو جاتے ہیں، گیس لیک کر جاتی ہے اور کرپٹ عناصر کے پلے سے دھیلا نہیں نکلتا۔
چیف جسٹس پورے ملک کے لئے سراپا رحمت ہیں۔ ایک طرف انہوں نے چھوٹے سے چھوٹے معاملے پر انصاف فراہم کرنا ہوتا ہے، دوسری جانب وہ ڈیم بنوانے کے لئے قریہ قریہ ملک ملک چندہ مانگتے پھر رہے ہیں، تیسرے محاذ پر وہ آبادی روکنے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔ بہرحال ان دونوں عمائدین کے لئے اگلے چھے ماہ میں ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنا ناممکن امر ہے۔
ایسے میں اگر فیاض بھلوالی کے پاس ایک نادر منصوبہ ہے، تو اسے ٹاور سے اتار کر ایک چانس تو دینا چاہیے۔ وہ کرپٹ نہیں ہے۔ معیشت کو سمجھتا ہے۔ ملک کی خاطر اپنی جان وارنے کو تیار ہے۔ سب کو چانس دیا ہے تو ایک چانس اسے بھی دینا چاہیے۔
نوٹ: فیاض بھلوالی کی سیکیورٹی کو اس قدر بڑا قومی راز سمجھا جا رہا ہے کہ ملک کے تین بڑے میڈیا کے اداروں نے اس کی موجودہ سرکاری رہائش گاہ کے بارے میں الگ الگ اطلاع دی ہے۔ ایک کے مطابق وہ تھانہ سیکرٹریٹ میں موجود ہے، دوسرے کے مطابق تھانہ آب پارہ میں اور تیسرا بتا رہا ہے کہ وہ تھانہ کوہسار میں محفوظ ہے۔ ہم نے تین ہی دیکھے ہیں۔ گمان ہے کہ مزید خبریں دیکھیں گے تو اسلام آباد کے باقی تھانوں کے نام بھی لئے گئے ہوں گے۔


