لاشے، عدل کے چشمے اور ازل کے پیاسے


(پردہ اٹھتا ہے۔ یہ چوتھی سماعت ہے)

ہمارے ایک پیارے دوست کا، جنہیں بارہا ہم نے عدل و انصاف کے لئے اپنی آنکھوں سے تڑپتا دیکھا، کہنا ہے کہ ”نیب دس کروڑ سے کم مالیت کی کرپشن کے کیسز کی تحقیقات نہیں کرتا۔ نیب سیاسی لوگوں کے خلاف تحقیقات تو شاید کسی دباؤ کے تحت کرتا ہو گا لیکن سرکاری ملازمین کے خلاف تحقیقات اور پھر ان کی گرفتاریاں واقعتاً کرپشن کرنے کی بنا پر ہوتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ ایسے کیس نیب والوں کے لئے مال پانی بنانے کا ذریعہ ہوتے ہیں اور وہ ملزموں کو ایک لمبے عرصے تک نچوڑتے رہتے ہیں۔ اور آخرکار کیس کا ستیاناس ہو جاتا ہے۔ عموماً ایسے لوگ جو نیب افسران کو اپروچ نہیں کر سکتے جو زیادہ تر چھوٹے درجے کے ملازم یا افسر ہوتے ہیں گرفتار کر لئے جاتے ہیں جن کی نوے دن کا ریمانڈ پورا ہونے کے باوجود نا صرف ہائیکورٹ بلکہ سپریم کورٹ بھی مشکل سے ضمانت لیتی ہے۔ انکوائری اور انوسٹیگیشن سٹیج پر گرفتار ہونے والے ایسے ملزمان کئی کئی سال تک جیل میں سڑتے رہتے ہیں اور ساتھ ساتھ سپلیمنٹری ریفرنسز بھی دائر ہوتے رہتے ہیں اور نیب کے افسران باقی ملزموں کو اطمینان سے نچوڑتے رہتے ہیں۔ “

نیب کو مغرب کی نقالی میں اس لیے بنایا گیا تھا کہ وہ پولیس بنے نہ پنچایت، وہ خاموشی سے وائٹ کالرڈ کی محسوس و غیر محسوس انداز میں انکوائری کرے، مغرب کی طرح ورک آوٹ ایسا کریں کہ پھر جرم اور صحت جرم سے انکار کی گنجائش نہ ہو۔ یہ کام نیب کا نہیں کہ وہ پکڑنے کے بعد پولسیانہ اور جابرانہ تفتیش کرے۔ اور ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ کوئی مولوی ہو یا ماسٹر کسی کو جرم اور ظلم کی اجازت نہیں۔ مگر وہ 7 تا 28 تک تمام آئینی دفعات پر جو پردہ ڈالے ہوئے ہیں ان کا پردہ چاک ہونا بھی لازم ہے ان کو بھی کوئی سر بازار لائے کہ، وہ لاشیں بچھانے والے ہیں!

( پردہ اٹھتا ہے۔ یہ پانچویں رونمائی ہے )

لاش سے پردہ نہیں اٹھتا۔ کیونکہ کتنی دیر تک مین سٹریم میڈیا بھی لاش سنگ لاش رہتا ہے۔ خبر نہیں اٹھاتا کہ، اس پر ”جرم“ نہ آجائے۔ آخر ایک نیوز پروڈیوسر اور اس کا میڈیا ہاوس سوچ بچار اور طویل انتظار کے بعد ہمت پکڑتا ہے۔ سوشل میڈیا ٹھک ٹھک بجتا ہے، تو بڑا میڈیا غفلت کی نیند سے جاگتا ہے۔ مگر جا گا تو پھر درست جاگا۔ یہ پردہ اٹھ گیا، مگر حق اور حقائق کا پوسٹ مارٹم اور پردہ چاک ابھی ادھار ہے!

المختصر، آخر پردہ یوں اٹھتا ہے جیسے پردہ چاک ہو، اب کے پردے کا اٹھنا ہی لازم تھا ڈالنا نہیں، ورنہ جرم بچے جنتا رہے گا اور لاشیں سوال ہی کرتی رہیں گی۔

معتبر ذرائع کہتے ہیں کہ سرگودھا یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق نے عزت مآب چیف جسٹس سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کیس کے تناظر میں عدالت عظمی میں غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے ذاتی پسند و ناپسند اور انا کی پاداش میں حقائق کو مسخ کر پیش کیا۔ اور قابل احترام عدالت نے ایک وائس چانسلر کو حسن نظر اور حسن ظن کے زمرے میں رکھا۔ اتفاق سے اس وقت مناسب جواب پیش کرنے والا عدالت میں کوئی نہیں تھا۔ یونیورسٹی ذرائع نے نام اخفا میں رکھنے کی شرط پر بتایا کہ 5 ارب کا عدالت کے سامنے اظہار معزز عدالت کو دھوکا دینے کے مترادف تھا۔

بارگینگ پراسس چل رہا تھا معاملہ 2 کروڑ سے 3 کروڑ تک کے لین دین تک محدود تھا۔ ہر گز ہرگز 5 ارب یا اربوں کا معاملہ نہ تھا۔ مسٹر اشتیاق کی وائس چانسلرشپ کی تعیناتی چیلنج کا کیس عدالت عظمی میں ہے، آن جناب ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں اور وہ بھی ٹینیور ٹریک تجربہ پر، فل پروفیسر تو گویا موصوف بھی نہیں۔ اور، میاں جاوید احمد یقینا فرشتہ نہیں تھا، بندہ بشر تھا، بندہ بشر سے کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں۔ مگر جرموں ودھ سزاواں کیوں؟

بہرحال اس لاش، اس میت کے بارے میں، جس کی ہتھکڑی اتارنا تو درکنار اس کو ڈھانپا بھی نہ گیا، نیب والے کہتے ہیں معاملہ جوڈیشل تھا، جیل والے کہتے ہیں ہم نے ہتھکڑی لگائی نہیں۔ اور کوئی بول نہیں رہا، آہ! زندہ لاشیں خاموش اور ہتھکڑیانہ لاش کی بازگشت ہر سو ہے۔ زندہ جاوید تو نہ جان سکا کہ جس نیب کو کام مکمل کرکے حراست میں لینا چاہیے تھا مگر جاوید لاش زنجیر عدل ہلاتی ہے کہ یہ نیب اتنے دن جرم ثابت کیوں نہ کرسکی؟

کچھ پلے ہی سے ڈال دے اس لاش پر کہ یہ لاش سب وزن سہہ لے گی کیوں لاش کی قوت مدافعت زندہ لاش سے بڑھ چکی۔ ہم کو معلوم ہے کہ نیب چیف، وزیر قانون، چیف منسٹر یا پرائم منسٹر کچھ نہ کر پائیں گے کہ یزیدیت بے رحم ہے سدا سے اور حسینیت مظلوم مگر جناب چیف جسٹس ہمیں آپ سے امید ہے، اور امید پر دنیا قائم۔ کب تک ستم بھی ہم سہیں، پیاس ہم اٹھائیں، لاشیں بھی ہم اٹھائیں اور لاشوں کی بے حرمتی بھی۔ پیاس ابھی باقی ہے۔ عدل کے چشمے کا سراب کرنا ابھی باقی ہے!

(بالآخر پردہ گرتا ہے)

لاش دیکھ کر یزیدیت کو ایک بار پھر سے جیتتے دیکھا۔ اور وہی 14 سو سال سے ماتم جو کبھی پس پردہ، کبھی پس آئینہ، سر آئینہ، تو کبھی سربازار!

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2