گورنر و وزیرِ اعلیٰ سے وفاقی امنگ تک

دیکھا اسد کو خلوت و جلوت میں بارہا دیوانہ گر نہیں تو ہشیار بھی نہیں دیوانگی و ہشیاری کو ذرا نظر انداز کرتے ہوئے، مدِنظر فقط یہ رکھئے کہ جس ریاست میں سربراہ ریاست کی اہمیت سے انحراف ہو یا سربراہ مملکت کو سربراہانِ حکومت بنتی ہوئی توقیر نہ دیں کیا وہاں جمہوریت یا مکالمہ کا کہیں بسیرا ہو گا؟ آئین، قانون، پَرسونا ڈیزِگنیٹا (Persona Designata) ، روایات اور اخلاقیات کے بغیر ریاستیں چل سکتی ہیں نہ معاشرے۔ ہمارا مسئلہ

Read more

ایک قراردادِ غیر مقاصد

ایک فُل بٹہ فُل پروفیسر اپنے وائس چانسلر کے حضور حاضر ہوئے، تو ادب کی تمام تر توانائیوں کو بروئے کار لا کر بولے، ”سر! آپ کی ٹائی بہت پیاری ہے، آپ پر بہت سُوٹ کر رہی ہے!“ وی سی صاحب حسبِ عادت بہت خوش ہوئے اور وی سی آفس میں داخل ہوتے ہی انٹرکام پر پی اے کو حکم کیا، باہر منتظر پروفیسر عبدالگپ پگنگف خان کو اندر بھیج دیجئے۔ پروفیسر ذی وقار نے گفت و شنید کی ابتدا

Read more

کتابیں جب روٹھ جاتی ہیں

کتابوں نے سوال کرنے شروع کر دیے تو مجھے خیال آیا، یار! یہ جنہیں بِن پڑھے ہم سجائے رکھتے ہیں، انہیں شو کیس میں زندہ دفناتے ہیں۔ یہ کتابیں ہمیں سوال کرتی ہیں، آپ لوگوں کو تو زندہ درگور کرنے سے منع کیا گیا تھا، جنہوں نے فرمایا تھا کہ بیٹیوں کو زندہ نہیں دفناتے، آپﷺ کی بیٹیوں کی حد تک مان لی، لیکن تحقیق اور تعلیم کی اہمیت، اور اس وقت آپﷺ نے اہتمام کیے وہ ہم بھول گئے۔

Read more

مکالمہ ایک پروڈیوسر سے

میڈیا کنٹرولر دراصل اذہان کو کنٹرول کرتے ہیں۔ جب کوئی یہ نہیں سمجھ پاتا کہ وہ رپورٹنگ بزنس کر رہے ہیں یا ذہن سازی کا پروپیگنڈا، تو پھر باشعور لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ ہمیں انفارمیشن کے لئے ”ناسمجھ“ کو چھوڑ کر سمجھ کی جانب جانا ہے، کسی سمجھوتہ کی جانب نہیں۔ پرنٹ میڈیا ایک معتدل مزاج رفتار کا حامل تھا جس میں رک رک کر چیک کیا جاتا، غور کیا جاتا اور سمجھ لیا جاتا تاہم الیکٹرانک میڈیا وہ

Read more

جنوبی پنجاب کی دو یونیورسٹیاں

  دنیا کو ”ورلڈ یونیورسٹیاں“ درکار ہیں جو عملی مظاہرے کی دانش گاہیں ہوں اور تنقیدی سوچ کی آماج گاہیں ہوں۔ میں بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کو ایک دہائی سے آسیب کے سایوں میں دیکھ رہا ہوں، میں وائس چانسلر خواجہ علقمہ جیسی جہاندیدہ شخصیت اور ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان ”ثالثی“ پر بھی اترا۔ عبداللہ سنبل اس وقت سیکرٹری تھے اور ان کی شدید خواہش تھی علقمہ صاحب معاملات کو اصولی اور سیدھی ڈگر پر لے آئیں۔ ایک ملاقات

Read more

نظرکَش: سمارٹ ڈیڈلاک

جہاندیدہ ڈیڈلاک کو خاطر ہی میں نہیں لاتے کہ وہ راستہ نکالنے یا بنانے کا ہنر رکھتے ہیں۔ اپنی ذاتی تمنا پر کنٹرول کے لئے جو لوگ صحیح طرح اپنے اندر جھانک لیتے ہیں وہ سوسائٹی اور سیاست میں اطمینان کے قریب تر ہوتے ہیں۔ ڈیڈلاک کو تعطل اور بّن بست سمجھئے۔ سمارٹ ڈیڈلاک پر شکیل بدایونی کا ایک مصرع صادق آتا ہے : ”جہاں بے خودی میں قدم لڑکھڑائے وہی راہ مجھ کو دکھائی گئی ہے“ ۔ کسی بھی

Read more

پنجاب بیوروکریسی اور مریم حکومت؟

محض تقرری و تبادلے کبھی عمدہ گورنس کی ضمانت نہیں ہوئے، گڈ گورنس کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر ہونا مشکل ہے جب تک بیوروکریسی میں ہر لیول پر اصلاحات نہیں ہو جاتیں۔ بہرحال گڈ گورنس میں سول سرونٹس کا کردار ریڑھ کی ہڈی سا ہوتا ہے، مرکز میں افسران کا معاملہ قدرے مختلف تاہم صوبائی سطح پر ان کی حقیقت اور افادیت ”افسر شاہی“ کے فلسفہ سے میل کھاتی ہے۔ عرف عام میں زیادہ تر بیوروکریٹس جلیبی کی

Read more

مولانا سیاست کے ٹِچ بٹن مگر اقتدار کا لالچ نہیں

مولانا کی کچھ ادائیں سب کا دل لبھاتی ہیں، ان کی تقریر میں ایک پورا سیاسی چسکا ہوتا ہے صرف جنت کی بشارت یا جہنم سے ڈرانا ہی نہیں۔ اپنی تقریر میں کھڑکا دھڑکا تو خیر ہر مولوی کرتا ہے مگر مولانا کی خوبی یہ بھی ہے کہ اسٹیج پر اگر ان کے دائیں بائیں سب ملا ہوں تو تقریری مقابلہ یہی لوٹتے ہیں جیسے کوئی قادرالکلام مشاعرہ لوٹے، وہ ایم ایم اے کے علمائے کرام لوٹنا یاد ہے ذرا

Read more

سراج الحق کا 17 واں حملہ!

ستم تو یہ ہے کہ ”جانم“ سخن شناس نہیں سو کہیں تو کس سے کہیں؟ جناب سراج الحق کو اس وقت بھی دیکھا جب وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ تھے، اور آج بھی دیکھ رہے ہیں جب وہ امیر جماعت اسلامی ہیں۔ تب ہم ”رفیق“ تھے، بدقسمتی سے اب رفیق نہ شفیق۔ سادگی میں اس وقت بھی کمال تھے اور آج بھی باکمال، اس وقت جمعیت کے جمال سے مالا مال تھے اور آج جماعت کے جمال سے۔

Read more

نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف

کہتے ہیں پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کی نگران وزارت اعلیٰ کی حقیقی طبعی اور طبی زندگی ختم ہو چکی، اور جو چل رہی ہے وہ بونس ہے۔ بہرحال، راقم الحروف کی عدم دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ ان کے حوالے سے کسی ایک خوبی کی کھوج لگائی نہ کسی ایک ناپختہ کاری ہی کو سپرد قلم کیا۔ کہنے کو یہ بھی کہا جاسکتا تھا کہ وہ آصف علی زرداری کے صحافتی گیٹ وے ہیں لیکن راقم کے لئے

Read more

کیا زرداری اور نواز فیل ہو گئے؟

کچھ عہدوں کی اندھی طاقت اور ان کے پیادوں کی بے لگام قوت نے ہمیں ہی نہیں، ہماری ”جدید“ پود کو بھی غیر حقیقی کر دیا ہے! مجبور اقوام کو اکثر سبز باغ دکھا اور انتخابات کا علم اٹھا کر استحصال کی نذر کر دیا جاتا ہے، حقیقت سے روگردانی کا تعلق صرف جادو ٹونا ہی سے نہیں، سائنس کا وہ طالب علم جس کی کہانی انفارمیشن سے مفروضہ، چھان پھٹک کے بعد قیاس (ڈیڈکشن) کا سرا پکڑتی ہے، پھر،

Read more

پولیس اب تو بدل جانی چاہیے!

کچھ آپ بیتی اور کچھ جگ بیتی کا موازنہ اور اجتماعی و انفرادی مطالعہ، پھر تھوڑی سی توجہ ڈیٹا لینے اور اس پر غور کرنے سے جو ریسرچ کا دریچہ آپ کے سامنے کھلتا ہے وہ کسی معروف ریسرچ جرنل کے کوالٹی پیپر سے کم نہیں ہوتا۔ سیاسی و سماجی کسوٹی کے ادراک کے سنگ نفسیاتی و طبعی رجحانات کا تھوڑا سا جائزہ آپ کو بڑے اسباق سمجھانے اور کئی معاشی و معاشرتی گتھیاں سلجھانے میں معاون ہوتا ہے! ایک

Read more

آئین : گنجائش، آزمائش اور فرمائش!

نہیں معلوم اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا تاہم یہ صاف دکھائی دے رہا ہے کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ عمران خان کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔ اس کی وضاحت کچھ یوں ہے، بار ہا فاضل جج کہہ چکے کہ آئین نوے دن میں الیکشن کی بات کرتا ہے، الیکشن کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ لیکن کل فرما رہے تھے اگر تما پارٹیاں متفق ہوں تو عدالت کوئی راستہ نکال سکتی ہے۔ مطلب یہ ہوا راستے نکلتے ہیں، راستے نکالے

Read more

ججوں کا گٹھ جوڑ اور ریاست کی جڑیں

وہ دوست جو حقیقتاً تاریخ بیزار مگر بظاہر "تحریک بیدار” یا تحریک شہسوار نظر آتے ہیں، ان پر بہت ترس آتا ہے، ترس اس لئے نہیں آتا کہ وہ خالم بدہن ناقص العقل ہیں، ترس اس لئے آتا ہے کہ، پی ایچ ڈی، انجنئیرنگ اور ماڈرن ماسٹر ڈگریوں نے انہیں تحقیق کی روح نہیں دی، محض فیسوں کی ادائیگی کا ٹوکن تھما دیا۔ یہاں سے بات شروع کریں گے : "اجی آئین تو فوت ہوگیا، دفنانا اور قبر پر گھاس

Read more

اسپیکر راجہ سے شروع، وزیر پٹیل پر ختم؟

کتنا معصوم ہے راجہ ریاض، فرماتا ہے مسلم لیگ نواز مجھے پہچانتی ہی نہیں، راجہ کو پیپلز پارٹی سے بھی ایسا ہی شکوہ تھا، لیکن بھول گئے کہ، پنجاب میں سینئر وزیر بھی تو پیپلز پارٹی ہی نے بنایا تھا۔ خیر، راجہ ریاض نے پرسوں ترسوں جو تقریر فلور پر کی، کمال کی۔ بہرحال آئینی بحران کے موسم میں بولنا راجہ ریاض کا، وہ بھی مقبول لیڈر کے خلاف کوئی عام سی بات نہیں، دلیری اور سیاست ہتھیلی پر رکھنے

Read more

ہم نے فیصلے عجیب کر لئے ہیں!

حقیقت چیختی رہ جاتی ہے، فطرت کا کلیجہ منہ کو آ جاتا ہے جب ایک عالم اس ضد پر کھڑا ہو جاتا ہے کہ صرف اس کا مسلک درست ہے اور دیگر مسالک کم و بیش دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ جب ایک دانشور اپنی انا کے فراز پر کھڑا مخالف رائے کو نشیب سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا سیاسی و سماجی قبلہ درست ہے اور باقی محض بتوں کی پوجا کر رہے ہیں، تو افق سے

Read more

عمران خان کی شیروانی ؟

تاہم یہ سب باتیں خاکسار کے ذہن میں اس وقت آئیں جب تین پروفیسر اور ایک انجینئر، اور سبھی امریکی و برطانیہ سے ڈگری یافتہ اکٹھے بیٹھے عمران خان کو خراج تحسین پیش کر رہے تھے ، ان میں سے ایک صاحب تیسری دفعہ وائس چانسلر کے مسند پر براجمان تھے، جب ان سے ایک سوال کیا گیا کہ، آپ عمران خان پر کس لئے فریفتہ ہیں ، کوئی دلیل یا کوئی وجہ تو ہو گی، ان کا جواب تھا

Read more

عمران اور زرداری کا پرویز الٰہی …

پرویزالٰہی وہ سبق کبھی بھولے ہی نہیں جسے یاد رکھنے سے 12واں کھلاڑی بھی اوپنر بن سکتا ہے۔ جہانگیر ترین اور علیم خان نے بھی ایسا کھلاڑی بننے کی کوشش کی مگر وہ دونوں ون مین آرمی ہیں جب کہ پرویزالٰہی کے سر پر چوہدری شجاعت حسین کی شکل میں ایک شجر سایہ دار موجود ہے۔ نوجوانوں کو بتاتا چلوں ، کہ چوہدری شجاعت حسین بھی چند روز وزیرِ اعظم رہے۔ جنرل مشرف کے ظفر اللہ جمالی کو ہٹانے اور

Read more

وہ میثاق جمہوریت والی…

ھم اس دیس کے باسی تھے اور ہیں، جہاں خواتین کو قومی دھارے میں لانے اور سمجھنے پر سینکڑوں سوال اٹھتے اور اٹھائے جاتے ہیں۔ انہی باسیوں میں سے ایک میں بھی ہوں، جسے یقیں نہ تھا کہ کوئی خاتون فہم و فراست میں اس قدر باکمال، جرات میں اس قدر بے مثال اور سیاست میں اتنی زیرک بھی ہو سکتی ہے۔ پھر میں وہ باسی کہ جو یہ سمجھتا کہ بھٹو کا سابقہ و لاحقہ لگنے سے کوئی ذوالفقار

Read more

سرگودھا یونیورسٹی زوال کا شکار کیوں ہوئی؟

شاہینوں کے شہر کی بڑی پہچان تو سنگترے مالٹے تھے، اور ہیں، جن کا ثانی پوری دنیا میں نہیں، اہم یہ کہ ائر فورس کی پاداش میں اس شہر کو شاہینوں کی آماجگاہ قرار دیا جاتا ہے۔ تاریخی حوالے اور بھی ہوں گے تاہم جدید تحریکی و تاریخی حوالوں میں یونیورسٹی آف سرگودھا نے بھی اس شہر کو چار چاند لگائے۔ جدتوں میں موٹر وے نے بھی اس شہر کو بہت اہم بنا دیا، کہ ایم ٹو کم و بیش

Read more

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) کی صوبائی سیاست کے رنگ

سیاست کے صوبائی موسموں کی تصویر گزشتہ 37 برس سے کچھ یوں ہے کہ تمام بڑی سیاسی پارٹیاں کم از کم ایک صوبے پر انحصار کرنے کی حکمت عملی کو مدنظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ تحریک انصاف مسلسل دو دفعہ سے خیبر پختونخوا کی زمام اقتدار سنبھالے ہوئے ہے اور پیپلز پارٹی مسلسل 2008، 2013 اور 2018 میں سندھ میں فاتح رہی۔ مسلم لیگ (نواز) جو 1985 کے غیر جماعتی انتخابات سے متعدد بار پنجاب کی

Read more

55 سالہ پیپلز پارٹی کی بزرگی؟

سیاست پر بھلے ہی بہار اور خزاں کے موسم آتے جاتے رہیں تاہم پارٹیوں کو نظریہ ضرورت سے اجتناب اور اور پارٹی نظریہ سے جڑے رہنا چاہیے۔ نظریہ کبھی شب بھر میں نہیں بنتا، یہ فراست، ریاضت اور مزاحمت کی چکی میں پس کر، ریاست کی نزاکتوں اور انسانی حقوق کی صداقتوں کو مدنظر رکھ کر جہاں قوم کی فلاح اور وفا کا بیڑا اٹھایا جاتا ہے وہاں سے نظریہ کی ابتدا جنم لیتی ہے! اگر کسی ریاست کے نصیب

Read more

پنجاب اور کے پی کی صوبائی حکومتیں!

مرکز میں تحریک عدم اعتماد کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا میں حکومتی انتظام و انصرام ہر خاصا زوال اور سیاسی سرگرمیوں پر کافی عروج ہے۔ وزراء کی کثیر تعداد فرائض کی شاہراہ کم تاہم ”ڈیوٹی“ کی راہ زیادہ پکڑے ہوئی ہے۔ قانون کے متعلق معروف ہے، کسی ریاست یا ملک میں صاحبان اقتدار یا اتھارٹی کے بنائے ہوئے وہ اصول و ضوابط جن کا انتظامی و عدالتی، رسومات یا حکمت عملی کی شکل میں لوگوں پر اطلاق ہو، مقصد

Read more

دلیل کے فقدان میں تنقید کا طوفان!

سیاست کی روح جتنی نازک اور مزاج جتنا حساس ہے اتنی ہی اس کی طبیعت بھی ناساز ملتی ہے، مگر کیا کیجئے، اسی جمہوری و غیر جمہوری دھوپ چھاؤں ہی میں زندگی گزار دی ہے، اور نجانے مزید کتنی گزرے۔ جو لوگ جمہوریت کو محبوب یا معشوق کے اعلیٰ درجہ پر رکھتے ہیں، ہمیں ان پر ترس آتا ہے، ترس تو اپنے آپ پر بھی آتا ہے مگر ہم نے پچھلی تین سے زائد دہائیوں میں جتنی ’سیاست زدہ‘ جمہوریت

Read more

’چھوٹے‘ لوگوں کی ’بڑی بڑی‘ باتیں!

کسی کو افسانے چاہئیں، کوئی چاپلوسی کا متلاشی، کوئی خوشامد کو ترس رہا ہے، اور ہمارا کمال بھی دیکھئے کہ ہم ان سب کے پیچھے پیچھے۔ قصور ہمارا کتنا ہے یا قصور ہمارا ہی ہے، اس پر بات ضروری ہے مگر پہلے یہ طے کرنا ہو گا کہ، متوازن معاشرے کے قیام کے لئے انصاف چاہیے اور یہ فراہم کرے گا کون؟ عمران خان کو حکومت، شہرت اور ”سیاسی فلاح“ کے لئے دولت چاہیے سو ہم عوام حاضر ہیں، یہ

Read more

سیاسی گتھم گتھا میں یونیورسٹیوں کا حشر نشر

اپنی قوم کے شوق تو ہمیشہ نوابوں ہی والے ہوئے وہ الگ بات ہے کہ نواب بڑھتے جا رہے ہیں اور ریاستیں ہیں سکڑنے کے درپے۔ نوابی کا یہ عالم کہ، ہر شہر میں ایک دانش گاہ ہوں، اور ہر دانش گاہ میں سینکڑوں پی ایچ ڈی۔ یونیورسٹیوں کا قیام بری بات نہیں بشرطیکہ یونیورسٹیوں میں آئیوڈین اور آئرن کی کمی نہ ہو اور آکسیجن بھی برابر ملے۔ اگر جامعاتی دانشوروں کی طبع نازک پر گراں نہ گزرے تو یہ

Read more

گورنر راج نہیں گورننگ راج

جو لوگ پرویز الٰہی کو عمران خان کے فرمانے کی بنیاد پر ڈاکو کہتے ہیں انہیں نظرثانی کرنا ہوگی، عمران خان نے جب 35 پنکچر کی بات کی تھی، تو الیکشن 2013 میں دھاندلی کے ثبوت فراہم نہ کر پانے کی پاداش میں انہوں نے عدالت میں کہہ دیا تھا کہ، وہ ایک سیاسی بیان تھا۔ اور عدالت نے مان بھی لیا تھا۔ پرویزالٰہی کو آصف علی زرداری نے کبھی اپنی حکومت میں ڈپٹی وزیر اعظم بھی بنایا تھا جب

Read more

چیئرمین ایچ ای سی : علامت نگاری سے تصور نگاری تک!

بیس جون 2022 کو چئرمین پنجاب ایچ ای سی آفس میں احباب کے درمیان فہم عامہ والی ہلکی پھلکی بحث کی سرگوشی تھی اور فہم و فطن پر مبنی بازگشت بھی، کہ چئرمین ایچ ای سی کے لئے سابق وی سی پنجاب یونیورسٹی (پروفیسر آف فزکس ) میدان مار لیں گے، یہ دوستوں کی ”علامت نگاری“ تھی۔ اس موقع پر فقیر بھی بھی تصور نگاری کا بم پھوڑے بغیر نہ رہ سکا، اور، ہماری تصور نگاری ہم سے دو ہاتھ

Read more

دلبروں سے بیوروکریٹس ملتے کہاں ہیں

میری پہلی ملاقات تھی چنانچہ میں حسب عادت ان کے مزاج کو سمجھ ہی کر ملنا چاہتا تھا، مدنظر یہ بھی تھا کہ، ملنا بھی چاہیے کہ نہیں؟ ، دوسری طرف ہمارے دوست مرتضیٰ درانی کی خواہش اور حکم کئی ماہ سے تھا کہ ڈاکٹر آصف حسین سے ہم کلام ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ گفت و شنید جہاں کئی سوالوں کو جنم دے گی وہاں کئی گتھیاں سلجھائے گی بھی۔ خیر، میں نے پرنسپل سیکرٹری وزیراعظم آزاد جموں و

Read more

خط خطرناک سہی مگر کارکردگی کا محبت نامہ

احتجاج کا بازار اپنی جگہ گرم، وزیراعظم چیلنجز سے الگ نبردآزما، سابق حکومت اور تازہ ترین اپوزیشن استعفوں کی چال کی چالبازی کے سنگ مخصوص کھیل میں مصروف، یہ ہے آج کل کی سیاست۔ علاوہ بریں تحریک انصاف کی جانب سے شائستگی کے علاوہ سب کچھ ہے۔ رہی بات مخلوط حکومت کی تو اس میں کچھ لوگ اوپر اوپر سے کہہ رہے ہیں کہ، وزارتیں نہیں لیں گے مگر اگلے ایک دو روز میں یقیناً کابینہ سامنے آ جائے گی۔

Read more

تصادم جنون اور قانون کا؟

جو یہ کہتے ہیں عمران خان کی ناکامی کا سبب فلاں فلاں ہیں، اہل نظر ان سے اتفاق نہیں کرتے۔ لیڈر عمران خان ہے بابر اعوان، فواد چوہدری یا شیخ رشید نہیں، نہ لیڈر شہباز گل اور شبلی فراز ہی تھے، یہ سب سیاسی قوال تھے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ، لیڈر تو بند گلی سے راستہ بناتا ہے، لوگوں کو، مشیروں کو، وزیروں کو اور قوالوں کو پیچھے لگاتا ہے، پیچھے لگتا نہیں! اس میں قوالوں کا

Read more

حالیہ جمہوری بحران کے چیختے چلاتے 14 نکات

( 1 ) عمران خان صاحب کس بنیاد پر وزیراعظم بنے؟ کیا دھرنا، بڑے جلسوں یا احتجاجوں کے سبب وزیراعظم کا حلف اٹھا سکے تھے؟ یا پاناما کیس کی وجہ سے وزارت عظمیٰ مل گئی تھی؟ نہیں! صرف اور صرف ووٹ کی پرچی میں گنتی اور بعد ازاں پارلیمنٹ میں ممبران کے اعتماد کے ووٹ نے مہر ثبت کی! ( 2 ) کیا عمران خان کے خلاف کبھی ثبوت اور کبھی مفروضے نہیں آئے کہ، وہ سلیکٹڈ ہے؟ کیا کوئی

Read more

قوم کو تحریک عدم برداشت مبارک ہو

وہ عوام جنہوں نے تازہ ہوا اور تبدیلی کے شوق میں اتنے در بنا لئے کہ پوری دیوار چھلنی ہونے کے بعد گرنے کے درپے آ گئی، ان کے فیصلہ کا وقت آ گیا ہے کہ شکر کریں یا صبر۔ مگر اپنا تو یہ عالم کہ اب عادت سی ہو گئی ہے، کوئی تعریف کرے یا تنقید، فوری اس پر خوش یا نالاں اب نہیں ہوا جاتا۔ غمی ہو یا خوشی جب یہ دہلیز پار کر کے اندر آئے تو

Read more

18 اکتوبر: گرتے ہیں لفظ ورق پر لہو لہو ہو کر

سانحہ کارساز کراچی، ایک وہ نامکمل مشن تھا جس میں ایک سو اٹھہتر زندگیوں کی کہانی مکمل ہوگئی۔ ایک لاش نہ ملی مگر بیسیوں لاشیں اپنے اور ساتھیوں کے لہو میں لت پت ہوگئیں۔ وہ ہستی جسے لاش بنانا کسی جمہور دشمن و ملک دشمن اور انسان دشمن کو مقصود تھا، وہ اس روز تو کامیاب نہ ہوسکا، وہ ہستی وطن کی محبت میں اور جمہوریت کی تقویت کیلئے پاک سر زمین پر واپس لوٹی تھی، مگر اس کو صفحہ

Read more

پنجاب کے ہائیر ایجوکیشن کے وزیر راجہ یاسر ہمایوں سرفراز سے گفتگو

*پنجاب ایچ ای سی کا فائدہ نہیں انٹرنیشنلزم اور کوالٹی کے لئے ایچ ای سی پاکستان کافی ہے * : *راجہ یاسر ہمایوں * *وزیراعظم سے ہائیر ایجوکیشن پر بات ہوتی رہتی ہے وہ میرٹ کے متمنی ہیں * *وائس چانسلرز میرٹ پر بھرتی کیے ، ٹریننگ کا فقدان ہے، ریسرچ پر توجہ نہ دے سکا* *پرائیویٹ یونیورسٹیوں کا بل اسمبلی سے پاس بھی ہو جائے تو انہیں بنیادی ڈھانچہ پورا کیے بغیر اجازت نہیں ہوگی، راستے میں لاء کھڑا

Read more

جادو!

سوچ کے آگے ذرا چڑھنے کی دیر ہے کہ مصنّفین سے زیادہ تصانیف کی حق تلفی کی تعزِیر چابک لئے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ ہر کتاب کی ابتدا پورے ناز نخروں اور توجہ کے تمام تر پروٹوکول کے ساتھ ہوتی ہے، پھر تکمیل کے مراحل کی اس کی نزاکتیں اور نازکی الگ تکلفات رکھتی ہیں اور تو اور مکمل ہو جانے کے بعد بھی اس کی حساسیت و جاذبیت اور افادیت ہزار تقاضے کرتی ہے۔ بہرحال تصنیف کے پس منظر

Read more

جادو!

سوچ کے آگے ذرا چڑھنے کی دیر ہے کہ مصنفین سے زیادہ تصانیف کی حق تلفی کی تعزیر چابک لئے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ ہر کتاب کی ابتدا پورے ناز نخروں اور توجہ کے تمام تر پروٹوکول کے ساتھ ہوتی ہے، پھر تکمیل کے مراحل کی اس کی نزاکتیں اور نازکی الگ تکلفات رکھتی ہیں اور تو اور مکمل ہو جانے کے بعد بھی اس کی حساسیت و جاذبیت اور افادیت ہزار تقاضے کرتی ہے۔ بہرحال تصنیف کے پس منظر

Read more

خان کے سبز باغ سے اسد عمر برآمد!

کہتے ہیں جب کسی  ”ماہتڑ ساتھی“ کو ٹرک نے ٹکر ماری تو وہ باقاعدہ غل گپاڑوی انداز میں روتا جائے، روتا جائے۔ ایسے میں کسی دوست نے پوچھا  ”یار تو مر تو نہیں گیا۔ صبر کر۔ نہ اتنا رو“ رونے والے نے جواب دیا۔ ستم یہ نہیں کہ وہ ٹکر مار کر چلا گیا، افسوس یہ ہے کہ اس کے پیچھے لکھا ہوا تھا  ”دوست پھر ملیں گے“ ۔ اجی خیال تھا غالب کے ایک شعر سے کالم کا دریچہ

Read more

ہائیر ایجوکیشن وزراء کے نام ایک خط!

ہمیں آپ سب کی تعلیم دوستی اور اخلاص پر شک نہیں لیکن گلوبل ایمرجنگ ٹرینڈز آف ہائر ایجوکیشن اس بات کے متقاضی ہیں کہ یونیورسٹیاں انٹر پرنیورشپ، انڈسٹریل لنک اور تحقیق و تفتیش کی بنیاد پر چلیں، سربراہان میں مارکیٹنگ اور فنانشیل مینجمنٹ کا سلیقہ، ریسرچ اور درس و تدریس کا طریقہ ہو، انہیں یہ بھی معلوم ہو کہ یونیورسٹی اپنے ریجن کا کمیونٹی سنٹر کس طرح بن سکتی ہے۔ وائس چانسلر وہ ہوتا ہے جس میں افسرانہ اور باسی رویوں کی کمی تاہم قائدانہ صلاحیتوں کی فراوانی ہو گویا ضروری نہیں اچھا ریسرچر یا عمدہ معلم ایک اچھا وائس چانسلر بھی ہو۔

عموماً ایک فوجی افسر یا ٹیچر کو ”سر سر“ کہلوانے کی اڈکشن ہو گئی ہوتی ہے۔ جتنا سر سر کہلوانے کا معاملہ من پسند ہوتا جائے اتنی اپر سٹوری میں فہم و فراست کا بسیرا کم ہوتا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں فیشن ہے لوگ حقوق اور ایکو سسٹم ترقی یافتہ ممالک والے مانگتے ہیں اور فرائض کی ادائیگی میں تھرڈ ورلڈ کے باسی بن جاتے ہیں۔ یہ وہ تضاد ہی جو لیڈرشپ کو پنپنے نہیں دیتا!

Read more

پنجاب سے پیپلز پارٹی کا نام و نشان کیوں مٹا؟ (حصہ اول)۔

پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے چیف آرگنائزر سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے علاوہ نیر بخاری، مصطفےٰ نواز، رانا فاروق سعید اور دیگر جینوئن پیپلز پارٹی قیادت اس تحریر کو دل پر نہ لے (لے بھی لے تو کوئی بات نہیں ) تاہم یہ بحث کا وہ دریچہ ہے جو پیپلز پارٹی کو ازخود بطور خود احتسابی کھولنا چاہیے :

پنجاب تنظیم کو میڈیا اور عوام میں اپنے وکیل تک دستیاب نہیں۔ پنجاب پیپلز پارٹی خود ہی ملزم، خود ہی مدعی اور خود ہی وکیل مگر۔ خود ہی بھٹو نہیں! وجہ؟
چراغ لے کر ضلع اٹک سے چلیں، اور پیپلز پارٹی کو ڈھونڈنے نکلیں تو پورا راولپنڈی شہر بھی گزر آئیں، بس اللہ ہی اللہ ہے۔ ضلع اٹک۔ میں قومی اسمبلی کے تین حلقے ہیں۔

Read more

پیپلزپارٹی پنجاب کو پیپلز پارٹی سندھ کا سہارا درکار؟

جب تک کوئی پارٹی عام آدمی کیلئے باعثِ کشش نہیں ہوتی یا اس کی قیادت عوام کے دلوں میں اپنا مقام اور اعتبار نہیں بٹھا لیتی تب تک اس کا عروج کی شاہراہ پر گامزن ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس جدید دنیا میں جو جدتوں کے تیز ٹریک پر چل کر گلوبل ویلج بن چکی ہے، اِس پر کوئی سیاسی پارٹی اپنے اثرات مرتب کیسے کرے؟ اس ضمن میں کثیر الجہتی حربوں اور سلیقوں

Read more

گیلانی ناگزیر نہ نواز شریف!

راوی کہتا ہے بھٹو سے قبل سیاست میں عوام اسٹیک ہولڈر تھے ہی نہیں۔ سیاست اور ریاست کی سہولت اس وقت تک اشرافیہ ہی کے لئے مختص ہوگی جب تک جمہوریت ناگزیر نہ ہو گئی۔ خیر اب جب عوام سیاست کے اسٹیک ہولڈر ہیں، وہ دن دور نہیں جب جمہوریت میں بھی ”مکمل“ اسٹیک ہولڈر ہو جائیں گے۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ آگے بڑھیں، آگے بڑھنے کے لئے لازم ہے کہ کسی بھی گیلانی اور ربانی کا

Read more

بےنظیر بھٹو کی شہادت: کچھ خیالات

کبھی کبھی تو میں سوچتا ہوں کہ، بے نظیر بھٹو کی شہادت ہی ان کیلئے بہتر تھی،  اور شاید شہادت ہی ان کا بہترین مقدر ! اس بات کا ادراک ابھی اس طرح بہرحال نہیں جس طرح کا بی بی کا حق بنتا ہے، کیونکہ خواتین کو قومی دھارے میں پوری طرح شامل کرنے کے ابھی ہم حق میں نہیں۔  ابھی ہم کوٹے سے خلا پورا کرنے کے ارتقا تک پہنچے ہیں۔  کاروکاری ابھی باقی ہے۔  ہراسگی کی نفسیات ابھی

Read more

عید کہیں دبے پاؤں نہ گزر جائے !

صرف خوشیاں منانے ہی نہیں خوشیاں بانٹنے کا نام عید ہے۔ہر معاشرے اور کلچر میں شادمانیوں و مسرتوں کے رنگ سمیٹنے اور بکھیرنے کا اپنا انداز اور خاص ایام ہیں مگر فلسفہ ایک ہی ہوتا ہے کہ ان دکھوں کی نفی کرکے سُکھوں کو ضرب دی جائے کہ کوچہ و بازار اور در و دیوار بھی شہنائیوں اور رعنائیوں کا حصہ بنیں۔رنگ و بو کا ایک باقاعدہ ایکوسسٹم تراشا جاتا ہے کہ محبتیں، احساس اور اخلاص محدود نہ رہیں بلکہ

Read more

اور راجہ نے "سزا” بھگت لی !

محنت کرنے کے عادی کو محض ثمرات سمیٹنے ہی پر خوشی نہیں ہوتی وہ محنت کے لمحات سے بھی لطف اندوز ہوتا ہے. بات ہے سنہ 2017 کی جب راجہ پرویز اشرف پنجاب کی تنظیم سازی کے دورہ پر تھے۔ ان کی ہم قدم ٹیم بھی ان کی رفاقت کے سبب پراعتماد تھی۔ جب پوچھا گیا کہ صاحب پنجاب میں مایوسی کا سامنا کس ضلع میں ہوا تو جواب ملا کہ میانوالی اور بھکر کے اضلاع میں چیلنجز ہیں تاہم مایوسی

Read more

حکومت سنڈیکیٹ ایکٹ پاس کرانے میں بےبس یا بےچین ؟

وہ دن اور یہ دن، حکومت جب سینٹ میں کم حکومتی اراکین ہونے کے باوجود 2019 میں جیت گئی اور اکثریت سے مالامال اپوزیشن شکست سے دوچار ہوئی تب سے "فتح” سے ہمارا پیار کا رشتہ ہے۔ ہر کام میں بےشک حکومت دیر کر دے، ہم پھر بھی سمجھتے ہیں کہ آخری فتح حکومت ہی کی ہے۔ نیب سے استفادہ کرنا ہو، کورونا سے لڑائی، سندھ کو سبق سکھانا ہو یا برے بجٹ پر بھی واہ واہ کرانا ہو، بہرصورت

Read more

بلاول نے تو وہی کہا جو۔ ۔

بلاول بھٹو زرداری نے ایسا کیا کہہ دیا کہ حکومتی اراکین آپے سے باہر ہوگئے؟ یہی کہا کہ عمران خان کنٹینر سے اتر آئیں۔ ہاں تو اتر آنا چاہیے۔ بلاول نے یاد ہی دلایا ہے کہ آپ اب وزیراعظم ہیں۔ یہ بات تو کچھ عرصہ گھر بیٹھے عمران خان کو خاتون اول نے بھی کہی تھی کہ ”آپ وزیراعظم ہیں!“ خان صاحب نے یہ بات خود بھری بزم میں لوگوں کو چسکا لے لے کر سنائی بھی تھی۔ یہی بات

Read more

پنجاب ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کا کریک ڈاؤن!

پنجاب کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اچانک گرینڈ آپریشن کرکے ماہرین کو حیران اور پرائیویٹ سیکٹر کو پریشان کردیا۔ حالانکہ ایک طبقہ یہ مسلسل پراپیگنڈا کر رہا تھا کہ وزیر موصوف کا جھکاؤ پرائیویٹ سیکٹر کی جانب زیادہ ہے مگر حالیہ فیصلے سے گنگا الٹی بہہ گئی۔  پنجاب کی معروف یونیورسٹیوں، یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب  (UCP)، یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی  (UMT)، سپیرئیر کالجز، قرشی یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لاہور، ہجویری یونیورسٹی اور نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس کے

Read more

پیپلز پارٹی کی حقیقت۔۔۔؟

سیاست میں تغیر، اور تغیر میں قلیل المدتی و طویل المدتی معاملات کا جائزہ بتاتا ہے کہ کس کا کیا مقام ہے ! پاکستان کی کم و بیش تمام سیاسی پارٹیاں شخصیات یا بانیان کی چھتری تلے سے باہر نکلنے سے قاصر ہیں۔ ایسی صورت حال میں اپنی اپنی بحث اور اپنی اپنی وکالت ہے، کوئی موروثیت کے عنصر پر تنقید کرتا ہے، اور کوئی اسے میراث گردان کر اپنا رانجھا راضی کرلیتا ہے۔ مسلم لیگ کل تک پیپلزپارٹی کو

Read more

بلاول سیاست اور فلسفۂ ابن خلدون آمنے سامنے !

کوئے جاناں سے سُوئے مقتل کا سفر ہو یا یتیم دھرتی کے قاتلوں سے قصاص مانگنے کی بات، یہ سب تن تنہا ممکن نہیں۔ لازم ہے کہ کوئی ہم نوا ہو اور کچھ فکر و نظر بھی! آستینوں میں پلتے سیاسی ناگوں کو ٹھکانے لگانا اور آندھیوں کی شب میں دیے جلانا جسے آ گیا ہو, صرف وہی تحریک برپا کر سکتا اور تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔ چل چلاؤ کی روش یا بیساکھیوں کے سہارے دو گام تو

Read more

مخبر کی اطلاع

یاد ہیں وہ دن جب یہ بات چھُپتی نہیں چھپتی تھی کہ "مخبر کی نشاندہی پر مجرم گرفتار” زمانے کے انداز بدلے گئے، اب تو کوچہ و بازار میں یہ زبان زد خاص و عام ہوتا ہے کہ "مجرم کی نشاندہی پر مخبر گرفتار”۔ سو اب ہمیں بھی زمانے کے ساتھ چلنا ہے "بےسمت” چلیں گے تو جہنم واصل کر دیئے جائیں گے پس ہمیں مقام اعراف ہی کافی ہے، ہمیں نہ سمجھاؤ یارو ! جہاں معاملہ یہ ہو جائے

Read more

لاشے، عدل کے چشمے اور ازل کے پیاسے

(پردہ اٹھتا ہے) ایک بندے کو اچانک اور خوش قسمتی سے موقع ملتا ہے، اس کی ”پرفارمنس“ غضب ڈھاتی ہے۔ وہ وقت کے قاضی سے کہتا ہے : میں سن آف سائل ہوں۔ میں آکسفورڈ سے ”پرفارم“ کرنے آیا ہوں۔ میں نے ”پانچ ارب“ کا سکینڈل پکڑا ہے۔ سکینڈل پکڑنا گر میرا جرم ہے تو مجھے گرفتار کر لیں۔ در و دیوار بھی متوجہ ہوتے ہیں، اور قاضی وقت بھی۔ ظاہر ہے، پردہ اٹھا ہے، تو حب الوطنی سے سرشار

Read more