کرپشن فری پاکستان اور ہتھکڑی میں پھنسا مردہ استاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 362
  •  

بقول ہرمن ہیسے اُس شام جب سدھارتھ دریا سے ہم کلام ہوا، تواُس نے سب سے پہلے سننے کا فن سیکھا۔ ایسا انوکھا فن جس میں اُسے بہتے پانی میں، وہ سب سنائی دیا، جو اُس نے نہ تو پہلے کبھی سنا تھا اور نہ ہی سننے کی سعی کی تھی۔

”وہ ان آوازوں میں تفریق نہیں کر سکتا تھا، کہ ہنسی کی آواز کون سی ہے اور روتی کون سی؟ بچکانہ آواز کون سی ہے اور مردانہ کون سی؟ وہ سب آوازیں ایک دوسرے کی تھیں : حسرت ناک نوحے، داناؤں کی ہنسی، غصے کی چیخ اور مرنے والے کی آخری سسکی، یہ تمام آوازیں آپس میں جڑی ہوئی اور بندھی ہوئی تھیں۔ یہ سب جیون دھارا اور جیون راگ تھے۔ “

کبھی کبھی مجھے بھی ایسی ہی کئی اجتماعی آوازیں ایک دوسرے میں ضم ہوتی سنائی دیتی ہیں، جن میں کچھ دکھ ہیں، کچھ درد اور کچھ آزار، کچھ نوحے ہیں اور کچھ فریاد۔ اور کچھ اِن سب کے اشتراک سے وجود میں آنے والے ایسے دردناک المیے ہیں، جو میری دھرتی اور اس میں بسنے والوں کی سماعتوں سے جڑ کر رہ گئے ہیں۔ شاید اسی لیے سدھارتھ اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ ’جیون بھید تمام دکھ ہے‘ ۔ اُس کی عمر بھر کی تپسیا کا حاصل یہی ایک راز تھا، جسے اُس نے سنبھال کر اپنے سینے میں رکھا اور باقی عمر خاموشی میں گزار دی۔

کہنے کو یہ گزرنے والا وقت پورا ایک سال تھا۔ ہنگامہ خیز تبدیلیوں کا حامل، ایک ایسا سال جس نے وقت کی ہر بساط پر، اپنی ایک نئی چال چلی۔ وطنِ عزیز کو بدعنوانیوں سے پاک کرنے اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے، کئی سورما اپنی تجاویز اور آراء سمیت میدان میں اترے۔ چُن چُن کر کالی بھیڑوں کو نکالا گیا اور ایک فلاحی ریاست کی نئے سرے سے تشکیل کی گئی۔ جہاں امن و امان کا ایسا عالم تھا کہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پہ پانی پیتے دیکھے گئے۔ وطنِ عزیز کی دیواریں تو کجا، بد عنوانی کے عالمی دن پر نئے جاری کیے گئے سکوں پر بھی یہی مقدس عبارت درج کی گئی :
”ہمارا ایمان، کرپشن فری پاکستان“

لوگوں کو بارہا موبائل فون پر ایک ہی میسج روانہ کیا جاتا :
”Say No to Corruption“

وطنِ عزیز کے سکولوں، کالجوں اور جامعات میں اس اہم موضوع پر عرصۂ دراز سے ایسے معلوماتی سیمینارز، تقاریر اور علمی و ادبی مذاکرات و مقابلہ جات پے در پے منعقد کرائے جاتے رہے۔ استاد اور شاگرد دونوں کو، تب سے اب تک بار ہا سکھایا گیا کہ کرپشن کو ’نا‘ کیسے کرنی ہے اور ’نئے قانون‘ کو قبول کیسے کرنا ہے۔

تو صاحبو! خیر کے اِن دنوں میں جب راوی سکھ، چین اور امن کی شانتی رقم کررہا تھا، ریاست کے محافظوں کو اطلاع ہوئی کہ چند بوڑھے اور باغی اساتذہ، بدعنوانی کے مرتکب ہوئے ہیں، سو اربابِ اختیار نے اُن بزرگ اور معمر اساتذہ کو، بلا تخصیصِ ملزم و مجرم، ہتھکڑیوں میں جکڑ کر، یوں میڈیا کی زینت بنایا کہ ہر دیدہ عبرت نگاہ ہو اور ہر صاحبِ ذی شعورجو تقدس کے اس پیشے سے وابستہ ہے، جان لے کہ اِس پیشے کے چناؤ میں اُس سے ضرورکوئی غلطی ہوئی ہے اور یہ بھی کہ اساتذہ کو تکریم دینے اور تدریس کو شیوۂ پیغمبری ماننے کے زمانے اب لد گئے ہیں۔

قصہ مختصر، جب اربابِ اختیار کو زبانِ خلق کی ایسی پسماندہ و باغیانہ سوچ کی ہوا لگی تو شاید برائے نام مداوا کرنے یا اپنا بھرم رکھنے کو، اساتذہ کی تکریم کے خطاب اور سٹیکرز کے کئی ہوائی قلعے بھی تعمیر کیے گئے۔ اگر بات ان ہوائی محلات و قلعات تک بھی محدود رہ جاتی تو کیا ہی اچھا ہوتا، کم از کم ایک استاد کی ہتھکڑی لگی میت تو نہ دیکھنے کو ملتی۔ صد افسوس! کہ میڈیا پہ گردش کرتی یہ تصویر، ایک استاد کی تکریم کا نہیں بلکہ انسانیت کا نوحہ ہے۔

سمجھ نہیں آتا ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے بار ہا ایسے دردناک واقعات، کیوں اور کب تک پیش آتے رہیں گے؟ تو کیا مان لیا جائے کہ ہر آنے والا سال ہمیں اخلاقی و سماجی ارتقاء میں واپس پیچھے دھکیل دیتا ہے؟ کہنے کو اس ایک مختصر سال میں، ایسے لا تعداد واقعات پیش آئے جو ہمارے اجتماعی ضمیر پر بوجھ بن کر رہ گئے۔ سڑک پر پڑی انصاف کی منتظر ماں بیٹی کی لاشیں، جبری گمشدگیاں، مذہبی شدت پسندی، جنسی درندگی کی مکروہ مثالیں، عدل و انصاف کے مؤخر ہوتے فیصلے، اخلاقی، سیاسی و معاشرتی زوال سے مشروط آزار۔ جانے کتنے داغ ہیں اس دھرتی ماں کے، جن سے ہم نظریں چرائے چلے جاتے ہیں۔ ٹی ایس ایلیٹ نے سچ کہا تھا:

دریا ہمارے اندر ہے، سمندر نے ہمیں گھیر رکھا ہے
خاتمہ کہاں ہے، بے آواز چیخوں کا
خزاں میں خاموشی سے مرجھاتے پھولوں کا
جو چپ چاپ اپنی پنکھڑیاں گراتے ہیں
جہاز کے بہتے ہوئے شکستہ ٹکڑوں کا خاتمہ کہاں ہے؟
خاتمہ کہیں نہیں، صرف اضافہ ہے۔

تو صاحبو! کیا سچ مچ جیون بھید سوائے دکھ اور اس میں اضافے کے اور کچھ نہیں؟ کیا بنجر خوابوں کی زمین میں روشن امیدیں بوئی جا سکتی ہیں؟ ہر سال دسمبر کے ان آخری دنوں میں، ہم اساتذہ اپنے بچوں کو دھرتی سے جڑے امن اور خوشی کے خواب دکھاتے ہیں، جن میں نئے سال کا چمکتا دمکتانیا سورج، نئی امید کی آشا لیے طلوع ہو تا ہے۔ جہاں سب خوش ہیں، جہاں سب خوش حال ہیں۔ امن و سلامتی کے یہ ایسے خواب ہیں جنھیں ہم اپنی بصارت کی آخری رمق تک دیکھنا اور دکھاناچاہتے ہیں۔ اجازت صرف اتنی چاہیے کہ یہ خواب دکھانے والی سب آنکھیں، ہتھکڑیوں کی تذلیل کے آزارسے آزاد ہوں وگرنہ خوابوں کو بھی پابندِ سلاسل کرنے کے دن اب دور نہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 362
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں