قصور وار بکری کے بچے ہیں یا بھیڑیے

بچپن میں اماں ہم بہن بھائیوں کو بکری کے بچوں کی حکایت سناتیں۔ جس میں ایک بکری بازار جانے سے قبل، بھیڑیے کے خوف سے، اپنے بچوں کو دروازہ نہ کھولنے کی بار ہا نصیحت کرتی اور اس کے جاتے ہی بھیڑیا دروازے پر وارد ہو جاتا۔ وہ بچوں کو حیلے بہانے سے دروازہ کھولنے پر اُکساتا۔ کبھی ان کی ماں کی نقل اتارتا تو کبھی کوئی چال چلتا، پر سمجھ دار بچے فوراً ہی تاڑ جاتے اور دروازہ کھولنے سے انکاری ہو جاتے۔ کہانی کا سب سے دکھی کر دینے والا حصہ وہ ہوتا، جب بکری کے بچے بھیڑیے کے مکر و فریب میں گرفتار ہو جاتے اور اپنی ماں کی سی مماثلت رکھنے والی آواز پر دروازہ کھول بیٹھتے اور بھڑئیے کا نوالہ ٔ شکم بن جاتے۔

ہم سب منہ بسور کر کہانی کے اختتام پر ایک دوسرے سے کہتے ؛ سارا قصور بکری کے بچوں کا ہے جو نہ دروازہ کھولتے اور نہ مارے جاتے، تب اماں پیچھے سے چپت لگاتیں اور پوچھتیں : اور بھیڑیا؟ اُس کا کوئی دوش نہیں؟ ہم عذر تراشتے : ’ہے نا! پر بکری کے بچوں کا دوش زیادہ ہے! انھوں نے دروازہ کھولا ہی کیوں؟ ‘

Read more

دسویں دن کا شیر اور پروفیسر خالد حمید

ایک دفعہ کا ذکر ہے کچھ شیروں کو جنگل سے پکڑ کر لایا گیا۔ سدھانے والے نے پہلے ہی دن، پُرسکون اور تحکم بھرے انداز میں لوگوں کو دکھایا کہ یہ مہان جانور جو جنگل کا شیر کہلاتا ہے، ذرا دیکھیے تو! کتنا خود سر جانور ہے۔ دیکھنے والوں نے پنجرے میں قید شیر کو غصے سے بپھرا دیکھا۔ سدھانے والے نے اُن سے محض دس دن مانگے۔ اُس نے ابتداء میں شیر کو بہت کچھ کھانے کو دیا۔ پھر ہر بار کھانا دینے سے قبل اپنی شرائط پیش کرتا گیا۔

پہلی بار اُس نے شیر سے کہا تمہیں بس اتنا کرنا ہے جب میں کہوں رک جاؤ تو رُک جانا اور جب کہوں چل پڑو تو چل پڑنا۔ شیر نے اِسے معمولی سا کام جانا۔ ایسی چند مشقوں کے بعد چوتھے دن سدھانے والے نے شیر سے بلی جسیی آواز نکالنے کی فرمائش کی، شیر نے اسے بھی معمولی بات جانا۔ مفت کی تواضع، عزت اور خیال کے بدلے یہ سودا مہنگا نہ تھا۔ چھٹے دن اُس سے گدھے کی آواز نکالنے کی فرمائش کی گئی۔ جسے اُس نے تھوڑی حیل و حجت سے قبول کیا اور پھر اُس میں اُسے مہارت حاصل کرائی گئی۔

Read more

ہیروشیما کی سداکو ساساکی اور امن کی کونجیں

سرحد پار دونوں اطراف کی کشیدگی اور گھمبیرتا دیکھ کر خوف آتا ہے۔ سوچتی ہوں بچپن سے لے کر آج تک ہم نے ہمیشہ جنگ کا ذکر، بڑے تفاخر سے سنا ہے۔ ہمارے مطالعہ پاکستان کے نحیف سے استاد، سینہ ٹھوک کر ہمیں بتایا کرتے تھے کہ کس طرح ہم نے پینسٹھ کی جنگ میں،…

Read more

ایمان کو ویلنٹائن ڈے سے خطرہ؟ کچھ حیا چاہیے!

آج ویلنٹائن ڈے تھا، گذشتہ برسوں کے برعکس اِس سال، اِس ممنوعہ دن کے حوالے سے بکثرت تنبیہی پیغامات موصول ہوئے۔ اِن پیغامات کی کثرت اُن ویڈیوز اور پیغامات پر مشتمل تھی جو اِس دن کو یومِ حیا و بے حیائی سے منسوب کئے ہوئے تھی۔ پیغامات میں اِس بات کی تکرار کی گئی تھی کہ:

” اِس دن کی نحوست سے ہمارا شخصی واجتماعی ایمان تباہ و برباد ہو رہا ہے نیز ہماری قوم، (جو ہماری نظر میں تو پہلے ہی شدید بے راہ روی کا شکار ہے) اب اُسے دل جیسی شکل کے غباروں، سرخ پھولوں ، معصوم بھالوﺅں اور جابجا تحائف کی شکل میں بے راہروی کی نئی جہات و خرافات میسر آ گئی ہیں، سو اپنے پیاروں کو، (جو ہمارے نزدیک اس طوفانِ بلا خیز میں کود پڑنے کو بے تاب و بے قرار ہیں) بچانے کے لیے اس دن کا بائیکاٹ کیجیے۔ کچھ حیا خود کیجئے اور کچھ اپنے عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں کو آج مستعار دے دیجئے وغیرہ وغیرہ۔ “

Read more

بد دعا تو ایک ہی بہت بھاری ہوتی ہے، یہ تو تین ہیں!

وہ ایک قیامت تھی جو آکر گزر گئی ہے اور اب یہ منظر! جو خود ایک قیامت ہے۔ وہ ایک نہیں تین ہیں! ظالموں نے اُن تینوں کی ننھی معصوم آنکھوں کے سامنے، اُن کے پیارے ماں باپ کو بڑی بے دردی سے گولیوں سے بھون ڈالا اور انھیں لمحہ لمحہ مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ لوگ آتے ہیں، بار بار اُن سے، اُن پہ بیتنے والی کتھا پوچھتے ہیں اور تاسف سے اپنا سر ہلاتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں، انھیں اتنا بھی ترس نہیں آتا کہ ہر بار ایک گزری قیامت کو بیان کرنا خود قیامت ہے۔ ان کے ننھے ننھے سرخ گال اورہونٹ بار بار پھڑکتے ہیں اور ہم دیکھنے والوں کی آنکھیں، بہت سا نمکین پانی ایک دم ہی بہانے لگ جاتی ہیں۔

وہ چھوٹی سی لڑکی جو ہر وقت اپنے بڑے بھائی سے جھگڑتی رہتی ہے آج بہت چُپ ہے، اُس کی آنکھوں میں قیامت کا آخری منظر نقش ہو کر رہ گیا ہے۔ اُس کے بھینچے ہوئے ہونٹ اور خلاوؤں کو گھورتی آنکھیں کسی سے کچھ نہیں کہتیں۔ ہسپتال کی تمام نرسیں اور ڈاکٹر تاسف سے اُسے دیکھتے ہیں، ارد گرد کے لوگ دل تھام کر ان کی کہانی سنتے ہیں، جسے سنانا اب اُس ننھے زخمی لڑکے کو دو بھر لگ رہا ہے۔ ننھی بچی اپنے خالی فیڈر کو پکڑے بار بار سوالیہ نظروں سے سب کو دیکھتی ہے۔ اُسے شاید سمجھ نہیں آرہا کہ وہ لوگوں سے اپنے خالی فیڈر کا پوچھے یا اس فیڈر کو دودھ سے بھر کر دینے والی ماں کا۔ جسے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کچھ سیاہ پوشوں نے بڑی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

Read more

اوچ شریف: زندہ عقیدت اور مردہ شعور کے دوراہے پر

  بچپن میں ہماری نانی ہمیں ہر گز محبت میں نہیں، بلکہ کسی قدرغصے اور خفگی کی کیفیت میں ’پرانی روح‘ کہا کرتی تھیں۔ نانی کے اِس جلال کی وجہ ہمارا گرمیوں کی تپتی سنسان دوپہر میں، گھر بھر میں بھٹکتے پھرنا تھا، جس کی وجہ اور کچھ نہیں ہماری طبیعت کا وہ اضطراب تھا…

Read more

قلعہ دراوڑ: کس خرابے میں مجھے چھوڑ گئی درباری

جب بجے راؤ کے بیٹے دیو راج نے ایک پروہت بابا رت کے کہنے پر خود کو جوگی بنایا اور علم کا سنیاس لیا، تب جانے اُس کے من میں کیا بات سمائی ہوگی، جو اُس نے چولستان کے اِس لق و دق صحرا میں اپنی چھوٹی سی کٹیا بنائی؟ اور جب اُس کا سنیاس…

Read more

کرپشن فری پاکستان اور ہتھکڑی میں پھنسا مردہ استاد

کہنے کو یہ گزرنے والا وقت پورا ایک سال تھا۔ ہنگامہ خیز تبدیلیوں کا حامل، ایک ایسا سال جس نے وقت کی ہر بساط پر، اپنی ایک نئی چال چلی۔ وطنِ عزیز کو بدعنوانیوں سے پاک کرنے اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے، کئی سورما اپنی تجاویز اور آراء سمیت میدان میں اترے۔ چُن چُن کر کالی بھیڑوں کو نکالا گیا اور ایک فلاحی ریاست کی نئے سرے سے تشکیل کی گئی۔ جہاں امن و امان کا ایسا عالم تھا کہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پہ پانی پیتے دیکھے گئے۔ وطنِ عزیز کی دیواریں تو کجا، بد عنوانی کے عالمی دن پر نئے جاری کیے گئے سکوں پر بھی یہی مقدس عبارت درج کی گئی :
”ہمارا ایمان، کرپشن فری پاکستان“

لوگوں کو بارہا موبائل فون پر ایک ہی میسج روانہ کیا جاتا :
”Say No to Corruption“

Read more

ساہیوال میں ادب و ثقافت، شاہ محمد مری کی محبت اور رانا اظہر کے فنی نقوش

کہا گیا: محبت ایک عالمگیر جذبہ ہے، جب اڑان بھرتا ہے تو رستے سے گزرنے والے ہر مسافر کو اپنا آپ دان کرتا چلا جاتا ہے، اور پھر بھی اِس کا دامن کبھی خالی نہیں ہوتا، بس بھرتا ہی چلا جاتا ہے۔ پوچھا گیا: محبتیں کامل کہاں ہوا کرتی ہیں؟ ان کی تشنگی تو ہر…

Read more

نواب کے پراٹھے اور وزیر کی لوٹ مار

ہم نے بچپن میں سنا تھا کہ سانچ کو آنچ نہیں! آج تک آنکھیں بند کیے اس قول ِ زریں پہ ایمان لاتے رہے۔ پر اب جو حالات دیکھتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام اقوالِ زریں ضخیم کتب میں چُن دیے گئے ہیں اور ان پر نئے سرے سے غورکیے جانے کی اشد ضرورت ہے۔ مثلاً اب آپ با آسانی اپنے بچوں کو سکھا سکتے ہیں ”سانچ میں ہی آنچ ہے! “، ”غرور کا سر بہت اونچا“، ”جھوٹ کے پاؤں ہی نہیں پر بھی ہوتے ہیں“، ”کر برا ہو بھلا“، ”ڈوبتے کو تنکا بھی نہ دو“، ”باتوں کے بھوت لاتوں بلکہ ڈنڈوں سے ہی باز آتے ہیں“۔ یقین مانیں اِس سے اور کچھ نہیں تو کتابی لفظوں کے درد ناک معنی و حقائق کے رشتے سے ضرور آزادی نصیب ہو گی۔

Read more
––>