ہان کانگ اور انسانی اعمال

2024 ء میں اپنے ناول ”دی ویجیٹیرین“ کے سبب بلا شرکتِ غیرے ادب کا نوبل انعام حاصل کرنے والی پہلی ایشیائی خاتون اور جنوبی کوریا کی معروف مصنفہ ہان کانگ کو ان کے منفرد اندازِ تحریر، انوکھے موضوعات، انسانی نفسیات کی داخلی پیچیدگیوں، شاعرانہ اسلوب اور انسانی درد و کرب کو حساس کو لفظوں میں سمو لینے کی حیرت انگیز صلاحیت کے سبب ایک خاص عالمی شہرت حاصل ہے۔ ان کے لکھنے کی ابتداء کہانی ’اسکارلٹ اینکر‘ ( 1993 ء

Read more

بچوں کا ادب اور جان کے دشمن

ایک زمانہ تھا جب ہمارے گھر میں بچوں کا اخبار ’پھول اور کلیاں‘ ، ماہنامہ پھول، تعلیم و تربیت اور بچوں کی دنیا جیسے ادبی رسائل باقاعدگی سے آیا کرتے تھے۔ جس دن اس اخبار یا رسالے نے آنا ہوتا، ہماری نظر اور ہمارے قدم صبح سے ہی گھر کے مرکزی دروازے کا طواف شروع کر دیتے۔ آج ہمہ وقت موبائل فون کی دنیا میں گم رہنے والے اس ڈیجٹل عہد کے بچے اس خوشی کی سرشاری کو کبھی محسوس

Read more

دیار و دشت میں بھٹکتی کہانیاں

کچھ کہانیاں فقط کہانیاں نہیں ہوتیں، یہ وقت اور تاریخ کا ایسا ملاپ ہوتی ہیں جن میں انسان اپنے ماضی کی کوتاہیوں، کمزوریوں، حکام کے غلط فیصلوں، ان کے تعصبات اور ذاتی مفادات کے تحت رونما ہونے والے المیوں کو کسی فلم کی مانند اپنے سامنے رونما ہوتا دیکھتا ہے اور کف افسوس ملتا ہے۔ ماضی کی کچھ ایسی ہی درد ناک کہانیوں کو ذکی نقوی نے اپنے حساس قلم سے یوں زندہ کیا ہے جیسے وہ خود زمانوں قبل

Read more

ناول لہو رنگ فلسطین (آخری حصہ)

فلسطینی ادیبوں کا ذکر کیا جائے اور فلسطین کے عظیم عاشق، کہانی کار، مصور، صحافی، مزاحمت کار و قائد غسان کنفانی کی بات نہ کی جائے، یہ ممکن نہیں۔ 1948 کی عرب اسرائیل جنگی تباہی اور ان کے خاندان کی جلاوطنی و دربدری ان کی بچپن کی یادوں کا ہمیشہ حصہ رہی۔ یہی وہ دن تھے جن کے مصائب و تکالیف ان کی تخلیقی کائنات کا حصہ بنے۔ 1959 میں انھیں بیروت آنے اور آزادی فلسطین کے لیے کام کرنے

Read more

ناول لہو رنگ فلسطین (دوسرا حصہ)

فلسطین سے محبت کی سرشاری میں جب ناول میں اس دھرتی کے شعرا کا ذکر آیا، تب بے اختیار میرا دل چاہا کہ میں ان نظموں کا مطالعہ کروں جو ان جری شعرا  نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر اس مٹی کی محبت میں اپنا قلم دکھ، درد اور رائیگانی کی سوز بھری روشنائی میں ڈبو کر، محبت سے رقم کیں۔ جن شعرا نے اپنی شاعری میں ابتدا ہی سے عرب اسرائیل تنازعے کو بیان کیا، ان میں نزار

Read more

ناول لہو رنگ فلسطین

تاریخ کو فکشن کے ساتھ جوڑ کر پڑھنا اور سمجھنا میرا محبوب مشغلہ ہے۔ اس لیے کہ جو سچ اکثر تاریخ کی کتب میں طاقتور حکمرانوں کی منشاء و صوابدید پر ان کے من پسند مؤرخین اپنی مرتبہ تاریخی کتب میں درج کرتے ہیں، وہ وقت کے حقیقی سچ سے مختلف و متضاد ہوا کرتا ہے۔ تاریخ گہنانے کے صدیوں سے جاری عمل میں اگر کہیں تاریخ اپنی حقیقی صورت میں دکھائی دیتی ہے تو فقط انہی ادیبوں اور شعراء

Read more

امرتا پریتم اور دکھوں کے پنجر

  ہندوستان کی تقسیم، فسادات اور ہجرت پر لکھی جانے والی بعض کہانیاں ایسی سوہان روح  ہیں کہ جنھیں پڑھ کر کوئی حساس انسان سکون کی نیند نہیں سو سکتا، درد و رقت کے یہ زخم خودبخود روح کی گہرائیوں میں اتر کر آپ کا قلبی و ذہنی سکون تہس نہس کر دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم جب جب سرحدی اطراف میں پھیلی نفرت کی وجوہات کا تعین کرنا چاہیں گے ہمیں تب تب تاریخ کے اس

Read more

جنگ اور اداسی کے دن

گرمی کی رت میں یہ املتاس کے درختوں پر پیلے پھول کھلنے کے دن ہیں۔ چند روز قبل جب گلِ موہر کی سرخ بہار اپنے جوبن پر تھی، تب ہم نے سرحد کی دونوں اطراف جنم لینے والی جنگی کشیدگی کے سبب تشویش، خطروں اور پھر اندیشوں میں گھرے وہ دن بھی دیکھے کہ جن کا ذکر اب تک تاریخ کی کتب یا ادب کے فن پاروں میں پڑھتے آئے تھے، اور پھر جب سیز فائر کے نقارے پر سکون

Read more

بلوچ دانش سے ایک بھید بھرا مکالمہ

  زندگی میں بہت کم ایسے لوگ ملتے ہیں جن کی سادگی و منکسرالمزاجی پہلی ملاقات میں ہی دل میں گھر کر جاتی ہے۔ جن کے ساتھ گزرا وقت آپ کی زندگی کا اثاثہ اور جن کی شخصیت، ذہانت خوش طبعی اور خوش مزاجی آپ کو زندگی کو دیکھنے، برتنے اور جینے کا ایک نیا سلیقہ و زاویہ دے جاتی ہے۔ جو مشکل حالات کی سختیوں کو بھی مسکرا کر جھیلتے ہیں اور سماجی شعور کو پروان چڑھانے میں اپنی

Read more

نظمیں نکلتے ہوئے دنوں کی

من پسند راستوں پر چلتے اور کبھی نہ تھکتے آپ کے قدموں نے شاید ہی کبھی زمین کی اس دھڑکن کو سنا ہو، جو آپ کے پیروں کے نیچے ہمہ وقت سرسراتی ہے۔ اسے سننے کا انوکھا دعویٰ بھی شاید کبھی کسی نے نہ کیا ہو کہ زمین کے دھڑکتے احساسات و جذبات کو فقط وہی شخص اپنے دل سے سن سکتا ہے، جسے گیان و آگہی کے لمحوں میں ایسی بصیرت و عاجزی ودیعت کی گئی ہو، جو اپنی

Read more

کہانیاں جہان گم گشتہ کی

  بڑے عرصے بعد کوئی ایسی چونکا دینے والی کتاب پڑھی جس نے اپنے فکری موضوعات سے ہی نہیں بلکہ اپنے زرخیز تخلیقی اسلوب سے بھی بے حد متاثر کیا۔ مطالعے سے قبل یہ میرے لیے فقط ایک تخلیقی نثری کتاب تھی، مگر ان کہانیوں میں اتر جانے کے بعد یہ میرے لیے دکھ درد کی ایسی بپتا بن گئی کہ جس میں نگہت سلیم صاحبہ نے جانے کتنی محرومیوں، حسرتوں، خواہشوں اور خاک ہوتی تشنہ انسانی آرزوؤں کو یکجا

Read more

بچوں کے ادب کی فرانسیسی کہانیاں

نٹ کھٹ اور چلبلے بچپن کے شرارتی کارناموں کے نمائندے ننھے نکولس کی کہانیاں پڑھتے ہوئے آپ کو اپنے بچپن کی البیلی یادیں امڈ کر نہ آئیں یہ ممکن نہیں۔ ہم سب کی زندگی کا سب سے سنہرا دور بچپن کا ہوا کرتا ہے، شاید اس کی وجہ ہمارے ان پیاروں کا تب ہماری زندگی میں موجود ہونا ہے، جو وقت کے بے رحم ہاتھوں زندگی کی اگلی منزلوں میں ہم سے چھن جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو ترس آتا

Read more

اُدین واجپئی اور شمس الرحمٰن فاروقی : ایک تاریخی مکالمہ

ایک ادیب کا تخلیقی و تنقیدی سفر کن کٹھن راستوں سے ہو کر گزرتا ہے؟ اس میں کون سے اور کیسے دشوار مقام آتے ہیں؟ کہاں عزت نفس کو چوٹ لگتی ہے؟ تو کہاں اس کے لفظوں کی تیزی نت نئے مخالف کھڑے کر دیتی ہے؟ پھر جب یہ آپ بیتی جب جگ بیتی کا روپ دھارتی ہے تو سننے میں دلچسپ مگر محسوس کرنے میں کیسی تلخ و تکلیف دہ ہو جاتی ہے کہ اس ادیب کے زمانے کے

Read more

بورخیس کی جادو نگری اور بابل کا کتب خانہ

  تحریر آمیز ہستی بورخیس کا شمار ان ادیبوں میں ہوتا ہے، جنھیں میں پہروں پڑھ سکتی ہوں۔ جن کی ایک ایک سطر، ایک ایک کہانی میں چھپے معنی کے نت نئے جہان دیر تک میرے ذہن پہ نقش رہتے ہیں۔ یہ معنی بھی عجب ہیں کبھی بنتے ہیں، کبھی الجھتے ہیں اور کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے جیسے مجسم ہو کر میرے سامنے آ کھڑے ہوئے ہوں۔ یوں جیسے بورخیس کی بھول بھلیاں صرف کہانی میں ہی نہیں

Read more

مچ البوم اور ننھے لڑکے کے سفید جھوٹ

”اسے زور سے مارو۔“ سپاہی چلایا۔ ”نہیں تو میں تمہاری چمڑی ادھیڑ دوں گا۔ ”سیبسٹین نے اپنی طرح کے اس قیدی کو کوڑا مارا، جسے وہ جانتا تک نہ تھا۔ یہاں پہ ٹرین سے اترنے والے دوسرے لوگوں کی طرح اس کے کپڑے بھی اتار لیے گئے تھے۔ اس کے جسم کے سب بال مونڈ دیے گئے تھے۔ رات بھر اسے غسل خانے میں کھڑا رہنے کے لیے چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس کے ننگے پاؤں سردی میں تاحال بھیگے

Read more

ہیچ ہیں سب درد مرے

یہ شاید میرے ہی ساتھ ہوتا ہو کہ جب کوئی اچھی کتاب ختم کر لی جائے تو اس پر جلد کوئی رائے یا تبصرہ تحریر نہیں ہو پاتا۔ کچھ دن اس کتاب کو محسوس کرنے میں گزر جاتے ہیں۔ چند دن تک ذہن اس کی باز آفرینی اور فکری باریکیوں میں الجھا رہتا ہے اور معنی کی نت نئی تہیں خاموشی سے کھلتی چلی جاتی ہیں۔ لکھنے والے کی فنی مہارت سے تخلیق کیے گئے کئی دلگداز مناظر بار بار

Read more

دستوئیفسکی کا ایڈیٹ

ایک ادیب کی پھانسی کا تصور کیجیے اور سوچیے کہ اس پر اس وقت کیا بیتی ہوگی جب اسے اپنے انقلابی خیالات اور جاگیردارانہ سماج کے خلاف سچ گوئی پر سزائے موت کا حکم سنا دیا جائے اور طویل وقت کی قید و بند کے بعد ، تختہ دار پر لٹکے پھانسی کے پھندے تک لے جایا جائے۔ تب گلے میں پڑا موت کا پھندا اور نظروں کے سامنے تیزی سے گزرتے زندگی کے سبھی پل کیسے سوہانِ روح ہو

Read more

کتاب ”جس کی تھی بات بات میں ایک بات“ پر تبصرہ

محمود الحسن صاحب کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی حقیقی عمر سے ذرا کچھ تاخیر سے پیدا ہوئے۔ ان پر بھری جوانی میں بھی بزرگی طاری رہی، انتظار حسین صاحب، شمیم حنفی صاحب، زاہد ڈار صاحب، مستنصر حسین تارڑ صاحب، شمس الرحمٰن فاروقی صاحب، محمد سلیم الرحمٰن صاحب، وجاہت مسعود صاحب اور آصف فرخی صاحب جیسے معتبر نابغوں اور بزرگانِ علم و ادب کی محفلوں میں بڑی عقیدت سے بیٹھنے والے، ان کی گفتگو کو سعادت

Read more

کیا آپ نے وقت کے دروازے پر کبھی دستک دی ہے؟

کیا آپ نے وقت کے دروازے پر کبھی دستک دی ہے؟ فرض کریں آپ کے کھٹکھٹانے سے یہ دروازہ کھل بھی جائے تو آپ اپنے ماضی کے کس دور میں جانا پسند کریں گے؟ وہاں جہاں کی بیش قیمت یادوں کی مہک کسی عطر کی ماند ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی ہو، یا اس مقام پر جہاں ماضی کی کسی ہولناک لغزش نے آپ کا حال گہنا دیا ہو، یا پھر وقت کا وہ دوراہا جو ابھی آیا نہ ہو،

Read more

سجاد اظہر کی راول راج نگری

”سادھو: نہیں خدا اپنے مظاہر سے بات کرتا ہے اور جس پر کھلتا ہے، اس کی زبان کی لکنت ختم کر کے اس میں علم پھونک دیتا ہے۔ ہمیں یہ علم وجدان سے ملا ہے۔ ہمارا علم دلوں سے منتقل ہوتا ہے اور تمہارا کتابوں سے۔ ہو سکتا ہے کوئی کتابی کیڑا یا نفرت تمہارے کتابی علم کو راکھ بنا دے، مگر ہمارے دلوں کے علم تک کسی کیڑے یا آگ کی رسائی نہیں۔ “ ہزاروں سال قدیم ہندوستان کے

Read more

چاند کو گل کریں تو ہم جانیں

ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی ناول پر لکھنے کا ارادہ کیا جائے مگر یہ سوچ کر اسے واپس رکھ دیا جائے کہ جانے حق ادا ہو بھی پائے گا یا نہیں! ایسا ہی ایک حیرت انگیز، دلچسپ، وقت کی اڑان پر سفر کرتا اور ماضی میں گم بستیوں کو پھر سے آباد کرتا منفرد اور انوکھا ناول اسامہ صدیق صاحب کا ہے، جس نے وقت کے بے حد طاقتور دائروی گھماؤ کو بڑے سلیقے سے اپنے اندر سمیٹ

Read more

سلمیٰ اعوان اور کہانیاں دنیا کی

دنیا جہان کے قصے کہانیاں سننے کا شوق کسے نہیں؟ اور پھر جب آپ کے ہاتھ ایک ایسی کتاب لگ جائے جس میں دیس دیس کے قصے ہوں اور نگر نگر کی کہانیاں ہوں، وہ کہانیاں جن میں آپ کو وہ دیس ایک دم جیتا جاگتا نظر آئے، یہی نہیں بلکہ مصنف وہاں کے ماضی کو بھی حال کے لبادے میں لپیٹ کر آپ کے سامنے رکھ دے، تو اس سے بڑھ کر آپ کو اور کیا چاہیے ہو گا؟

Read more

وفا اور بے وفائی کی داستان اینا کاریننا

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ایم اے میں عالمی کلاسیک کا مضمون پڑھتے ہوئے ہمارے استاد محترم ساجد خانصاحب نے کلاس میں سے ہر طالب علم کے ذمے عالمی کلاسیک کی ایک کتاب لگائی، جس پر اسے اپنی پریزینٹیشن پیش کرنا تھی۔ تب شیکسپیئر اور اس کا ڈرامہ ہیملٹ ہمارے حصے میں آیا تھا۔ اپنے مجوزہ موضوع پر گفتگو کرنے کے بعد جب ہماری ایک ساتھی کلاس فیلو نے ٹالسٹائی اور اس کے شہرہ آفاق ناول اینا کاریننا

Read more

نمک کی جیون نگری

”کسی شہر کا کلام جاگ اٹھے تو لوگ پہلے سے بڑھ کر حسین ہو جاتے ہیں۔“ ایسی انوکھی بات کرنے والا کوئی جادوئی حقیقت نگار ہی ہو سکتا ہے جو اپنے قاری کو اس دھرتی کے ایسے شہر طلسمات میں داخل کر دے، جہاں نہ خدا ہو، نہ جنگ اور نہ ہی موت! ملتان کی زرخیز فکری دانش سے تعلق رکھنے والے اور مقامی آدمی کے موقف بڑے سلیقے سے پیش کرنے والے ہمارے منفرد تخلیق کار اور جادوئی حقیقت

Read more

جنوبی ایشیا کی متخب نظمیں اور یاسمین حمید

آپ کسی کتاب کی سرسری ورق گردانی کریں اور اچانک کوئی ایسی نظم سامنے آ جائے جو من و عن آپ کے گرد و پیش کے احوال سے میل کھاتی ہو تو یقیناً آپ چونک جائیں گے۔ ذرا نظم ملاحظہ کیجیے : میں اس وقت کیا کر رہا تھا جب سب کہہ رہے تھے ’زندہ باد‘ ؟ میں بھی کہہ رہا تھا ’زندہ باد‘ اور خوفزدہ تھا، دوسروں کی طرح میں اس وقت کیا کر رہا تھا جب سب کہہ

Read more

ہنری کسنجر کی ڈپلومیسی

ہنری کیسنجر سے ہمارا پہلا تعارف کئی برس قبل اپنے ایم فل کے دنوں میں ہوا تھا، جب مغرب کے جدید تنقیدی و فکری مباحث پڑھنے کے دوران ہمیں اقبال احمد کے مضامین اپنے نصاب میں پڑھنے کو ملے۔ معروف فلسطینی مستشرق ایڈورڈ سعید کے قریبی دوست اور سامراجی ممالک کے سخت ترین نقاد اقبال احمد جن کے نام ایڈروڈ سعید نے اپنی معروف کتاب ثقافت اور سامراج کا انتساب کیا تھا، تیسری دنیا کی مزاحمتی تحریکوں کے سرخیل اور

Read more

اک ردائے سایہ فگن

جب ایک ماں پیار سے اپنی بیٹی کے بال سہلاتے ہوئے اس کے کان میں سرگوشی کرتی ہے کہ تم میرا فخر ہو، میرا مان ہو، میری سب سے قیمتی متاع ہو، تو وہ اپنی بیٹی کے لیے کائنات کا ایسا روشن معتبر حوالہ بن جاتی ہے، جو بیٹی کے کردار میں پختگی، اعتماد میں مضبوطی اور شخصیت میں کسی مقدس نور کی مانند دمکتا ہے۔ جب ایک ماں اپنے ہاتھ سے بنے، محبت بھرے نوالے اپنے بیٹے کو کھلاتے

Read more

جنگ، کھنڈر، بچے اور کھیل کا میدان

جنگ اور امن کے درمیان فرق کو سمجھنے کے لئے یہ جان لینا کافی ہے کہ امن میں بچے ماں باپ کے زیرِ سایہ تحفظ اور خوشحالی کے خوش بخت حصار میں رہتے ہیں۔جبکہ جنگ میں یہی بچے اپنی خوفزدہ آنکھوں سے اپنے پیاروں کو سفاک اورغیر انسانی رویوں کی بھینٹ چڑھتا دیکھ کر دہشت سے گنگ ہو جاتے ہیں۔بد قسمتی سے ذاتی اغراض و مقاصد اور طاقت کے بد ترین اظہارکے تحت لڑی جانے والی مہذب ملکوں کی جنگوں میں

Read more

سنہری گھڑی جس کے پاؤں کٹ گئے

رکو! ٹھہرو! ارے کوئی تو دیکھو۔ وہاں کیا ہو گیا آخر؟ آن کی آن میں پلیٹ فارم پر مچنے والے غل نے ایک ہجوم کی شکل اختیار کر لی، جو ایک دوسرے کو دھکیلتے ہوئے اس پٹری پر جھکے چلے جاتے تھے، جہاں ابھی پل بھر میں ایک حادثہ رونما ہو چکا تھا۔ لگتا ہے کوئی ٹرین تلے آ گیا۔ چچ چچ! افسوس! جانے کون مائی کا لعل تھا۔ بھلا یہ بھی کوئی طریقہ ہوا اپنی جان لینے کا !

Read more

آمریت سے لڑنے والا شاعر اور محبت کی تاریخ لکھنے والی صحافی

اگر ٹائم ٹریولنگ ممکن ہو جائے تو میں تاریخ کی بھول بھلیوں میں اُتر کر اُن تمام شخصیات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہوں گی جو آج نہ ہوتے ہوئے بھی، اپنے جری کارناموں کی بدولت ہمارے درمیان موجود ہیں۔ جن کے نام اپنے اپنے عہد کے روشن ستارے ہیں۔ اوریانا فلاشی کے معروف تاریخی شخصیات کے تاریخی انٹرویوز تو یقیناَ آپ نے پڑھ رکھے ہوں گے،دو دن قبل بیکن بکس کے جبار صاحب کی وساطت سے اوریانا فلاشی کا

Read more

برگد

آپ نے کبھی بوڑھے برگد کو غور سے دیکھا ہے؟ سرد و گرم موسموں میں چپ چاپ کھڑا صابر، شاکر، گھنا چھتنار برگد! جو منہ سے کبھی کچھ نہیں بولتا لیکن سفر کی کلفتوں سے تھکے، پژمردہ، پریشاں مسافروں کو اپنی پناہ اور چھاؤں دیتا ہے، انھیں موسموں کی حدت سے محفوظ رکھتا ہے اور علم، آگہی اور نروان کا دھیما دھیما درس دیتا ہے۔ وہ جس کی ریش دراز جب زمین کو چھوتی ہے تو اپنے جیسے کئی برگد

Read more

بابو چوڑی والے کا تعزیہ

بچپن میں ہم شرارتی بچوں کا ٹولہ دوپہر میں آرام کرتے بڑوں سے نظریں بچا کر چھت پر جا نکلتا اور اپنے قد سے دوگنی اونچی دیواروں سے پرے کی دنیا کو دیکھنے کے لیے کئی جتن کرتا۔ چھت پر پڑی مختلف کباڑ نما چیزوں مثلاً ٹوٹی ہوئی کرسیوں، بےکارپیڑھیوں، پرانی اینٹوں یا ٹوٹے ہوئےگملوں میں سے چند کا انتخاب کیا جاتا اور انھیں الٹا سیدھا ترتیب دے کر ایک ایسا چبوترہ تشکیل دیا جاتا جس سے لمبے قد والے

Read more

منت کا تعزیہ اور دل کا بند دروازہ

بچپن میں ہم شرارتی بچوں کا ٹولہ دو پہر میں آرام کرتے بڑوں سے نظریں بچا کر چھت پر جا نکلتا اور اپنے قد سے دوگنی اونچی دیواروں سے پرے کی دنیا کو دیکھنے کے لیے کئی جتن کرتا۔ چھت پر پڑی مختلف کباڑ نما چیزوں مثلاً ٹوٹی ہوئی کرسیوں، بے کار پیڑھیوں، پرانی اینٹوں یا ٹوٹے ہوئے گملوں میں سے چند کا انتخاب کیا جاتا اور انھیں الٹا سیدھا ترتیب دے کر ایک ایسا چبوترہ تشکیل دیا جاتا جس سے لمبے قد والے بچے نصف کمر تک اور چھوٹے قد والے دونوں ہاتھ دیوار پر رکھے ایڑیوں کے بل اچک کر پاس پڑوس کے گھروں میں جھانک سکتے تھے۔

Read more

جنگ کی تباہی اور امن کی کاغذی کونج

چپن سے لے کر آج تک ہم نے ہمیشہ جنگ کا ذکر، بڑے تفاخر سے سنا ہے۔ ہمارے مطالعہ پاکستان کے نحیف سے استاد، سینہ ٹھوک کر ہمیں بتایا کرتے تھے کہ کس طرح ہم نے پینسٹھ کی جنگ میں، شب خون مارنے والے دشمن کو، ناکوں چنے چبوائے۔ لیکن اکہتر کی جنگ کا احوال سناتے وقت وہ ہمیشہ کنی کتراجایا کرتے تھے۔ ہمارے جیسے کئی بچوں کو آج بھی، سکولوں میں اساتذہ کرام، جب مطالعہ پاکستان کی کتب رٹواتے

Read more

بوڑھی چڑیاں مرنے کے لیے کہاں جاتی ہیں؟

’بوڑھی چڑیاں مرنے کے لیے کہاں جاتی ہیں؟ ‘ ارون دھتی رائے کے حالیہ ناول کے آغازمیں جب مولوی صاحب اور انجم کے مابین تکلیف دہ جملوں کے تبادلے میں یہ مکالمہ ادا ہوا تو مجھے اپنے بچپن میں، ایک بڑے سے آنگن میں لگا انار کا وہ درخت یاد آیا جس کی نہفتہ شاخوں پر، گھنے پتوں کے درمیان کئی چڑیاں رہا کرتی تھیں۔ صبح صبح ہماری آنکھ چڑیوں اور گلہریوں کے شور سے کھلتی، چھوٹی چھوٹی سرمئی دھاری دار گلہریاں پھرتی سے پھدکتی ہوئی، ایک شاخ سے دوسری اور دوسری سے تیسری پر لگے اناروں کو منہ مار کر، شور مچاتے ہوئے، ایک دوسرے کے پیچھے دوڑتی چلی جاتیں۔

Read more

زندگی دھوپ تم گھنا سایہ

21 جون کو فادرز ڈے پر جب ساری دنیا اپنے والد کی عظمتوں کے گن گا رہی تھی، تب دن بھر کی مصروفیات کی بدولت میں نے ابو کو فون کرنے کا ارادہ شام تک موخر کر دیا تھا کہ تب تک وہ آفس سے گھر آ کر خود بھی تازہ دم ہو جاتے تھے۔ عصر کے بعد آنے والے طوفان نے مجھے یہ سوچنے کی قطعی مہلت نہ دی کہ بعض طوفان دبے پاؤں انسان کی اپنی زندگی میں بھی داخل ہو جاتے ہیں۔ طوفان اور بارش کی وحشت نے میرے سب ضروری کام ملتوی کر ڈالے تھے۔

Read more

محبت کا حقیقی اور اصلی چہرہ

آپ نے جے ایم کوئٹزی کی کہانی ’بڑھیا اور بلیاں‘ تو پڑھی ہوگی۔ جس میں ایک بوڑھی عورت جس کے پاس ڈھیروں ڈھیر بلیاں ہیں، وہ اپنے بلیوں سے اکتائے ہوئے بیٹے کو سمجھاتی ہے کہ:

’بلیوں کے چہرے نہیں ہوتے، پرندوں کے بھی نہیں ہوتے اور نہ ہی مچھلیوں کے ہوتے ہیں۔ جس واحد مخلوق کا چہرہ ہوتا ہے وہ انسان ہے۔ یہ ہمارے چہرے ہی ہیں جو ہمیں انسان ثابت کرتے ہیں۔

Read more

نانی کی ہنسانے رلانے والی کہانیاں

جب بورخیس کی ایک کہانی ’خفیہ معجزہ‘ میں، اس کے مرکزی کردار ہلادک نے، اپنی موت کو سامنے دیکھ کر ، خدا سے محض وقت کی حقیقت جاننے کے لیے ایک سال کی مہلت مانگی، کہ کہیں یہ وقت ایک مغالطہ تو نہیں؟ تو عین اپنی موت کے اس لمحے، جب زندگی اور موت کے مابین محض ایک لمحے کی دوری تھی، تب اس کے لیے اس انتہائی قلیل لمحے کو ، یکلخت ایک برس سے بدل دیا گیا۔ اس پورے ایک برس میں، نہایت غور و خوض کے بعد اس نے جانا کہ اس کے وہ دلائل جو وقت کی حقیقت کو محض ایک مغالطہ ثابت کرتے تھے، خود نہایت کمزور اور بودے تھے۔ وقت اور مقام کی اسراریت تو ابدیت کے ان پردوں میں نہاں تھی، جو ابھی بھی اس کے ذہن رسا سے بہت دور تھے۔

وقت کے اسی اسرار بھرے آئینے سے مصروفیات زمانہ کی گرد ہٹاؤں تو لمحے طویل ہو کر برسوں پر محیط ہو جاتے ہیں۔ وقت میرے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسلتا ہے اور آخر میں وہ چاندی سی ریشم رہ جاتی ہے، جسے ایک ننھی سی لڑکی کسی دھیان میں گم، اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے، دو چٹیوں کی صورت سنوارتی جاتی ہے۔ یہ ایک گدگدا دینے والا احساس ہے، جب ایک آرام دہ کرسی پر بیٹھی بوڑھی نانی تنقیدی نظروں سے ہاتھ میں پکڑا شیشہ دیکھتے ہوئے مصنوعی خفگی سے کہتی ہیں، لو بھلا یہ مجھے کیا بنا ڈالا؟ اور پھر ننھی لڑکی کے ساتھ، نانی خود بھی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتی ہیں۔

Read more

نجیب محفوظ اور غیر محفوظ مصر

نوبل انعام یافتہ مصری ادیب نجیب محفوظ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ سماج کے ایک اعلیٰ دانشور کے ساتھ روا رکھے جانے والے روایتی سلوک کے عین مطابق ان کے ناول بھی عربی اورمصری سماج کے بنیادی مسائل کی عمدہ تشخیص اور حق گوئی کے باعث متنازعہ قرار پائے۔ عرب ممالک میں ان کی کتب کو ضبط کرنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ 1994ءمیں انتہا پسندوں کے ایک حملے میں وہ شدید زخمی بھی ہوئے۔ ان کا عربی

Read more

قصور وار بکری کے بچے ہیں یا بھیڑیے

بچپن میں اماں ہم بہن بھائیوں کو بکری کے بچوں کی حکایت سناتیں۔ جس میں ایک بکری بازار جانے سے قبل، بھیڑیے کے خوف سے، اپنے بچوں کو دروازہ نہ کھولنے کی بار ہا نصیحت کرتی اور اس کے جاتے ہی بھیڑیا دروازے پر وارد ہو جاتا۔ وہ بچوں کو حیلے بہانے سے دروازہ کھولنے پر اُکساتا۔ کبھی ان کی ماں کی نقل اتارتا تو کبھی کوئی چال چلتا، پر سمجھ دار بچے فوراً ہی تاڑ جاتے اور دروازہ کھولنے سے انکاری ہو جاتے۔ کہانی کا سب سے دکھی کر دینے والا حصہ وہ ہوتا، جب بکری کے بچے بھیڑیے کے مکر و فریب میں گرفتار ہو جاتے اور اپنی ماں کی سی مماثلت رکھنے والی آواز پر دروازہ کھول بیٹھتے اور بھڑئیے کا نوالہ ٔ شکم بن جاتے۔

ہم سب منہ بسور کر کہانی کے اختتام پر ایک دوسرے سے کہتے ؛ سارا قصور بکری کے بچوں کا ہے جو نہ دروازہ کھولتے اور نہ مارے جاتے، تب اماں پیچھے سے چپت لگاتیں اور پوچھتیں : اور بھیڑیا؟ اُس کا کوئی دوش نہیں؟ ہم عذر تراشتے : ’ہے نا! پر بکری کے بچوں کا دوش زیادہ ہے! انھوں نے دروازہ کھولا ہی کیوں؟ ‘

Read more

دسویں دن کا شیر اور پروفیسر خالد حمید

ایک دفعہ کا ذکر ہے کچھ شیروں کو جنگل سے پکڑ کر لایا گیا۔ سدھانے والے نے پہلے ہی دن، پُرسکون اور تحکم بھرے انداز میں لوگوں کو دکھایا کہ یہ مہان جانور جو جنگل کا شیر کہلاتا ہے، ذرا دیکھیے تو! کتنا خود سر جانور ہے۔ دیکھنے والوں نے پنجرے میں قید شیر کو غصے سے بپھرا دیکھا۔ سدھانے والے نے اُن سے محض دس دن مانگے۔ اُس نے ابتداء میں شیر کو بہت کچھ کھانے کو دیا۔ پھر ہر بار کھانا دینے سے قبل اپنی شرائط پیش کرتا گیا۔

پہلی بار اُس نے شیر سے کہا تمہیں بس اتنا کرنا ہے جب میں کہوں رک جاؤ تو رُک جانا اور جب کہوں چل پڑو تو چل پڑنا۔ شیر نے اِسے معمولی سا کام جانا۔ ایسی چند مشقوں کے بعد چوتھے دن سدھانے والے نے شیر سے بلی جسیی آواز نکالنے کی فرمائش کی، شیر نے اسے بھی معمولی بات جانا۔ مفت کی تواضع، عزت اور خیال کے بدلے یہ سودا مہنگا نہ تھا۔ چھٹے دن اُس سے گدھے کی آواز نکالنے کی فرمائش کی گئی۔ جسے اُس نے تھوڑی حیل و حجت سے قبول کیا اور پھر اُس میں اُسے مہارت حاصل کرائی گئی۔

Read more

ہیروشیما کی سداکو ساساکی اور امن کی کونجیں

سرحد پار دونوں اطراف کی کشیدگی اور گھمبیرتا دیکھ کر خوف آتا ہے۔ سوچتی ہوں بچپن سے لے کر آج تک ہم نے ہمیشہ جنگ کا ذکر، بڑے تفاخر سے سنا ہے۔ ہمارے مطالعہ پاکستان کے نحیف سے استاد، سینہ ٹھوک کر ہمیں بتایا کرتے تھے کہ کس طرح ہم نے پینسٹھ کی جنگ میں، شب خون مارنے والے دشمن کو، ناکوں چنے چبوائے۔ لیکن اکہتر کی جنگ کا احوال سناتے وقت وہ ہمیشہ کنی کتراجایا کرتے تھے۔ ہمارے جیسے

Read more

ایمان کو ویلنٹائن ڈے سے خطرہ؟ کچھ حیا چاہیے!

آج ویلنٹائن ڈے تھا، گذشتہ برسوں کے برعکس اِس سال، اِس ممنوعہ دن کے حوالے سے بکثرت تنبیہی پیغامات موصول ہوئے۔ اِن پیغامات کی کثرت اُن ویڈیوز اور پیغامات پر مشتمل تھی جو اِس دن کو یومِ حیا و بے حیائی سے منسوب کئے ہوئے تھی۔ پیغامات میں اِس بات کی تکرار کی گئی تھی کہ:

” اِس دن کی نحوست سے ہمارا شخصی واجتماعی ایمان تباہ و برباد ہو رہا ہے نیز ہماری قوم، (جو ہماری نظر میں تو پہلے ہی شدید بے راہ روی کا شکار ہے) اب اُسے دل جیسی شکل کے غباروں، سرخ پھولوں ، معصوم بھالوﺅں اور جابجا تحائف کی شکل میں بے راہروی کی نئی جہات و خرافات میسر آ گئی ہیں، سو اپنے پیاروں کو، (جو ہمارے نزدیک اس طوفانِ بلا خیز میں کود پڑنے کو بے تاب و بے قرار ہیں) بچانے کے لیے اس دن کا بائیکاٹ کیجیے۔ کچھ حیا خود کیجئے اور کچھ اپنے عزیزوں، دوستوں اور رشتہ داروں کو آج مستعار دے دیجئے وغیرہ وغیرہ۔ “

Read more

بد دعا تو ایک ہی بہت بھاری ہوتی ہے، یہ تو تین ہیں!

وہ ایک قیامت تھی جو آکر گزر گئی ہے اور اب یہ منظر! جو خود ایک قیامت ہے۔ وہ ایک نہیں تین ہیں! ظالموں نے اُن تینوں کی ننھی معصوم آنکھوں کے سامنے، اُن کے پیارے ماں باپ کو بڑی بے دردی سے گولیوں سے بھون ڈالا اور انھیں لمحہ لمحہ مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ لوگ آتے ہیں، بار بار اُن سے، اُن پہ بیتنے والی کتھا پوچھتے ہیں اور تاسف سے اپنا سر ہلاتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں، انھیں اتنا بھی ترس نہیں آتا کہ ہر بار ایک گزری قیامت کو بیان کرنا خود قیامت ہے۔ ان کے ننھے ننھے سرخ گال اورہونٹ بار بار پھڑکتے ہیں اور ہم دیکھنے والوں کی آنکھیں، بہت سا نمکین پانی ایک دم ہی بہانے لگ جاتی ہیں۔

وہ چھوٹی سی لڑکی جو ہر وقت اپنے بڑے بھائی سے جھگڑتی رہتی ہے آج بہت چُپ ہے، اُس کی آنکھوں میں قیامت کا آخری منظر نقش ہو کر رہ گیا ہے۔ اُس کے بھینچے ہوئے ہونٹ اور خلاوؤں کو گھورتی آنکھیں کسی سے کچھ نہیں کہتیں۔ ہسپتال کی تمام نرسیں اور ڈاکٹر تاسف سے اُسے دیکھتے ہیں، ارد گرد کے لوگ دل تھام کر ان کی کہانی سنتے ہیں، جسے سنانا اب اُس ننھے زخمی لڑکے کو دو بھر لگ رہا ہے۔ ننھی بچی اپنے خالی فیڈر کو پکڑے بار بار سوالیہ نظروں سے سب کو دیکھتی ہے۔ اُسے شاید سمجھ نہیں آرہا کہ وہ لوگوں سے اپنے خالی فیڈر کا پوچھے یا اس فیڈر کو دودھ سے بھر کر دینے والی ماں کا۔ جسے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کچھ سیاہ پوشوں نے بڑی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

Read more

اوچ شریف: زندہ عقیدت اور مردہ شعور کے دوراہے پر

  بچپن میں ہماری نانی ہمیں ہر گز محبت میں نہیں، بلکہ کسی قدرغصے اور خفگی کی کیفیت میں ’پرانی روح‘ کہا کرتی تھیں۔ نانی کے اِس جلال کی وجہ ہمارا گرمیوں کی تپتی سنسان دوپہر میں، گھر بھر میں بھٹکتے پھرنا تھا، جس کی وجہ اور کچھ نہیں ہماری طبیعت کا وہ اضطراب تھا جو ہمیں دم بھر کو چین نہ لینے دیتا۔ اِدھر نانی کی آنکھ لگی اور اِدھر ہم اپنے بستر سے نکل کر بھاگے۔ یہ اضطراب

Read more

قلعہ دراوڑ: کس خرابے میں مجھے چھوڑ گئی درباری

جب بجے راؤ کے بیٹے دیو راج نے ایک پروہت بابا رت کے کہنے پر خود کو جوگی بنایا اور علم کا سنیاس لیا، تب جانے اُس کے من میں کیا بات سمائی ہوگی، جو اُس نے چولستان کے اِس لق و دق صحرا میں اپنی چھوٹی سی کٹیا بنائی؟ اور جب اُس کا سنیاس پورا ہوا اور وہ دیوراج سے دیوراول (جوگی) کہلایا، تب اِس گرد اُڑاتے بیابان صحرا میں، جہاں دریائے ہاکڑا ہولے ہولے بہا کرتا تھا، ایسے

Read more

کرپشن فری پاکستان اور ہتھکڑی میں پھنسا مردہ استاد

کہنے کو یہ گزرنے والا وقت پورا ایک سال تھا۔ ہنگامہ خیز تبدیلیوں کا حامل، ایک ایسا سال جس نے وقت کی ہر بساط پر، اپنی ایک نئی چال چلی۔ وطنِ عزیز کو بدعنوانیوں سے پاک کرنے اور معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے، کئی سورما اپنی تجاویز اور آراء سمیت میدان میں اترے۔ چُن چُن کر کالی بھیڑوں کو نکالا گیا اور ایک فلاحی ریاست کی نئے سرے سے تشکیل کی گئی۔ جہاں امن و امان کا ایسا عالم تھا کہ شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ پہ پانی پیتے دیکھے گئے۔ وطنِ عزیز کی دیواریں تو کجا، بد عنوانی کے عالمی دن پر نئے جاری کیے گئے سکوں پر بھی یہی مقدس عبارت درج کی گئی :
”ہمارا ایمان، کرپشن فری پاکستان“

لوگوں کو بارہا موبائل فون پر ایک ہی میسج روانہ کیا جاتا :
”Say No to Corruption“

Read more

ساہیوال میں ادب و ثقافت، شاہ محمد مری کی محبت اور رانا اظہر کے فنی نقوش

کہا گیا: محبت ایک عالمگیر جذبہ ہے، جب اڑان بھرتا ہے تو رستے سے گزرنے والے ہر مسافر کو اپنا آپ دان کرتا چلا جاتا ہے، اور پھر بھی اِس کا دامن کبھی خالی نہیں ہوتا، بس بھرتا ہی چلا جاتا ہے۔ پوچھا گیا: محبتیں کامل کہاں ہوا کرتی ہیں؟ ان کی تشنگی تو ہر جگہ موجود ہوتی ہے۔ ہمارے دلوں کے خالی ، بنجر اور ویران صحراؤں سے بڑھ کراِ س کا ثبوت اور کیا ہوگا؟ کہا گیا: کیونکہ

Read more

نواب کے پراٹھے اور وزیر کی لوٹ مار

ہم نے بچپن میں سنا تھا کہ سانچ کو آنچ نہیں! آج تک آنکھیں بند کیے اس قول ِ زریں پہ ایمان لاتے رہے۔ پر اب جو حالات دیکھتے ہیں تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ تمام اقوالِ زریں ضخیم کتب میں چُن دیے گئے ہیں اور ان پر نئے سرے سے غورکیے جانے کی اشد ضرورت ہے۔ مثلاً اب آپ با آسانی اپنے بچوں کو سکھا سکتے ہیں ”سانچ میں ہی آنچ ہے! “، ”غرور کا سر بہت اونچا“، ”جھوٹ کے پاؤں ہی نہیں پر بھی ہوتے ہیں“، ”کر برا ہو بھلا“، ”ڈوبتے کو تنکا بھی نہ دو“، ”باتوں کے بھوت لاتوں بلکہ ڈنڈوں سے ہی باز آتے ہیں“۔ یقین مانیں اِس سے اور کچھ نہیں تو کتابی لفظوں کے درد ناک معنی و حقائق کے رشتے سے ضرور آزادی نصیب ہو گی۔

Read more

بندر، جگنو اور سماجی اقدار کی مسخ شدہ لاش کا نوحہ

’’سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔ ‘‘کیا ہوتا ہے؟ اور کیوں ہوتا ہے؟ یہ ہم سے بہتر اور کون جانتا ہو گا؟ یقین نہ آئے تو ایرانی افسانہ نگار ’’جمال میر صادقی‘‘ کا فارسی افسانہ ’’بوزینہ ہاؤ کرم شب تاب‘‘ (جس کا ترجمہ ڈاکٹر معین نظامی نے ’’بندر اور جگنو‘‘ کے نام سے کیا ہے) پڑھ کر دیکھ لیجیے۔ یہاں آپ کو جنگل اور اپنے سماج میں اگر کہیں مشابہت نظر آئے تو اس میں قصور نہ

Read more

مارکیز کی ایک کہانی اور تماشے کا انسانی شوق

بہت دن ایسے گزرے کہ میں خود اس بات کا تعین نہ کر پائی کہ تیزی سے بدلتے حالات و واقعات نے مجھے کہاں لا کھڑا کیا ہے؟ مجھے اعتراف ہے کہ میں گذشتہ صدی کی آخری دہائیوں میں جنم لینے والی ایک پرانی روح ہوں، شاید اسی لیے، مجھے اس نئی صدی کے ابتدائی عشروں کی انقلابی اور برق رفتار تبدیلیوں کو سمجھنے میں کچھ وقت لگے گا۔ کیونکہ اب میں اپنی ریاست میں، قوم کے نام پر، ایک

Read more

سردارچرنجیت سنگھ کے چرنوں میں ندامت کے پھول

ایک تکلیف ہے جس کی اذیت کا بیان ممکن نہیں کہ اس درد کوسمجھنے کے لیے ایک ایسا نرم دل چاہئے، جس میں سارے جہان کی محبت سما سکے، وہ محبت جس کے بارے میں بائبل میں لکھا ہے کہ: ”اگر میں سارے جہاں کی بولیاں بولوں اور تمام دنیا کے علم حاصل کر لوں، لیکن محبت نہ کروںتو میں ٹھنٹھناتا ہوا پیپل اور جھنجھناتی ہوئی جھانجھ ہوں۔“ کچھ عرصے سے مجھے محسوس ہو رہا ہے جیسے میرے اِردگرد سے

Read more

لیوجی پیراندلو کی کہانی”جنگ‘‘

پتہ نہیں کیوں لیکن مجھے ہمیشہ ایسا لگتا ہے جیسے انسان کی زندگی کا سب سے خوبصورت زمانہ اُس کے بچپن کا ہوتا ہے۔ جب وہ نرم چاندنی راتوں میں، بنا پروں کے، بادلوں میں اڑان بھرتا ہے، بارش کی چھینٹوں میں خوب اُچھلتا ہے، دوڑتا ہے، شراتیں کرتا ہے اور اپنے ہم جولیوں کے ساتھ مل کر ننھی منی ناؤ کو پانی پر، ہولے ہولے احتیاط سے، تن تنہا روانہ کرتا ہے۔ سکول اور ساتھیوں کی ڈھیروں نہ ختم

Read more

بچوں کو "سویا ہوا محل” نامی کہانی سنانے کا وقت

بچپن میں ایک کہانی پڑھی تھی ’سویا ہوا محل‘ جس میں ایک خوفناک پری کی بدعا سے، ایک خوبرو شہزادی کو پورے سو سال سو کر گزارنا پڑتے ہیں، اس دوران بادشاہ، ملکہ اور دیگر کرداروں کے سونے کے ساتھ ساتھ، نہ صرف محل کا ہر کام رک جاتا ہے بلکہ ہر چیز بھی اپنی جگہ ساکت ہو کر رہ جاتی ہے۔ سچ پوچھیں تو کہانی میں شہزادے کی آمد سے شہزادی کی بیداری اور شادی کی بجائے، ہمیں ہمیشہ

Read more