وہ ایک قیامت تھی جو آکر گزر گئی ہے اور اب یہ منظر! جو خود ایک قیامت ہے۔ وہ ایک نہیں تین ہیں! ظالموں نے اُن تینوں کی ننھی معصوم آنکھوں کے سامنے، اُن کے پیارے ماں باپ کو بڑی بے دردی سے گولیوں سے بھون ڈالا اور انھیں لمحہ لمحہ مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ لوگ آتے ہیں، بار بار اُن سے، اُن پہ بیتنے والی کتھا پوچھتے ہیں اور تاسف سے اپنا سر ہلاتے ہوئے لوٹ جاتے ہیں، انھیں اتنا بھی ترس نہیں آتا کہ ہر بار ایک گزری قیامت کو بیان کرنا خود قیامت ہے۔ ان کے ننھے ننھے سرخ گال اورہونٹ بار بار پھڑکتے ہیں اور ہم دیکھنے والوں کی آنکھیں، بہت سا نمکین پانی ایک دم ہی بہانے لگ جاتی ہیں۔
وہ چھوٹی سی لڑکی جو ہر وقت اپنے بڑے بھائی سے جھگڑتی رہتی ہے آج بہت چُپ ہے، اُس کی آنکھوں میں قیامت کا آخری منظر نقش ہو کر رہ گیا ہے۔ اُس کے بھینچے ہوئے ہونٹ اور خلاوؤں کو گھورتی آنکھیں کسی سے کچھ نہیں کہتیں۔ ہسپتال کی تمام نرسیں اور ڈاکٹر تاسف سے اُسے دیکھتے ہیں، ارد گرد کے لوگ دل تھام کر ان کی کہانی سنتے ہیں، جسے سنانا اب اُس ننھے زخمی لڑکے کو دو بھر لگ رہا ہے۔ ننھی بچی اپنے خالی فیڈر کو پکڑے بار بار سوالیہ نظروں سے سب کو دیکھتی ہے۔ اُسے شاید سمجھ نہیں آرہا کہ وہ لوگوں سے اپنے خالی فیڈر کا پوچھے یا اس فیڈر کو دودھ سے بھر کر دینے والی ماں کا۔ جسے ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی کچھ سیاہ پوشوں نے بڑی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا ہے۔
Read more