ایک شعلہ بیان مولوی، بریانی، کشمیری چائے اور قلندرِ لاہوری
آج عشاء کی نماز مسجد میں پڑھی تو نماز کے اختتام پر امام مسجد نے اعلان کیا کہ حضرت علامہ، فخرِ اوکاڑہ، خطیبِ اہل سنت صاحب مسجد میں تشریف فرما ہیں آپ سب سے التماس ہے کہ ان کا بیان سن کر جائیں۔
پہلے تو دل کیا پتلی گلی سے نکل لیا جائے لیکن امام صاحب کے اعلان کا آخری حصہ بڑا قابل غور اور دل عزیز تھا جس میں انھوں نے فرمایا کہ بیان کے بعد آپ لوگوں کی بریانی اور کشمیری چائے سے سیوا بھی کی جائے گی اس لالچِ عزیم کے بعد بھلا کون کم بخت گھر جاتا لہذا مسجد میں ایک کونہ چن لیا فخرِ اوکاڑہ کو سننے کے لیے دل بے تاب تو تھا ہی ساتھ میں بریانی کی مہک نے مسجد سے ہلنے نہ دیا۔
ایک گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد چمن میں دید ور پیدا ہوا اور حضرت مولانا فخر اوکاڑہ نے اپنا خطاب شروع کیا۔ ساتھ میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس ایک گھنٹے میں مقامی نعت خوانوں نے نعت خوانی کی۔ خیر مولانا صاحب نے اپنی تقریر کا آغاز کیا ابتدا میں ہی بتا دیا کہ میں زیادہ وقت نہیں لوں گا بس زیادہ سے زیادہ 20 منٹ میں اپنی تقریر ختتم کر دوں گا ان کے اس ابتدائیہ نے تو دل ہی خوش کر دیا کہ بریانی اور چائے کے بیچ اب صرف 20 منٹ کی دوری پر ہوں۔
مولانا صاحب کی تقریر کا موضوع کیا تھا یہ میں ان کے پورے بیان میں سوچتا رہا کہ وہ اصل میں کہنا کیا چاہ رہے ہیں بدقسمتی سے وہ خود ہی نہیں سمجھ پائے کہ وہ کہنا کیا چاہ رہے ہیں مولانا صاحب اپنی تقریر پرنم آواز میں کرتے رہے جس میں مختلف شعراء کے اشعار بھی شامل تھے۔ دوران تقریر مولانا صاحب نے تنقید والا گیر لگایا اور سیدھا کلین شیو حضرات پے چڑھ دوڑے ساتھ ہی ساتھ میں مغربی لباس پے بھی شروع ہو گئے۔ مولانا صاحب نے اپنی تقریر میں قلندرِ لاہوری کا بڑا ذکر کیا ان کے اشعار بار بار پڑھے میرے جیسے نالائق آدمی کو تو پہلے قلندر لاہوری کی سمجھ ہی نہیں آئی کہ یہ شخصیت ہیں کون پھر جب انھوں نے قلندرِ لاہوری کے شعر کا یہ مصرعہ پڑھا کہ
تم سید بھی ہو مرزا بھی ہو افغان بھی ہو
تو تب سمجھ میں آیا کہ یہ قلندرِ لاہوری اور کوئی نہیں بلکہ علامہ اقبال ہیں۔ اب دلچسپ بات تو یہ ہوئی کہ ادھر مولانا صاحب داڑھی نہ ہونے کا طعنہ دیتے ادھر علامہ اقبال کا شعر پڑھ دیتے۔ دوران تقریر بہت بار دل کیا کہ مولانا صاحب کو زندہ رود کتاب پڑھنے کا مشورہ دوں، یا بیچ میں ٹوک دوں کہ حضرت تھوڑا رحم کریں داڑھی تو علامہ اقبال کی بھی نہیں تھی اور مغربی لباس تو وہ بھی پہنتے رہے جن کے اشعار کے بغیر آپ کی تقریر نامکمل ہے لیکن بریانی اور کشمیری چائے کے نہ ملنے کے خوف سے چپ کر کے بیٹھا رہا۔
مولانا صاحب کی بے موضوع تقریر تو میرے پلے نہ پڑی البتہ ایک خوب صورت منظر دیکھنے کو ضرور ملا۔ ہوا یوں کہ مولانا صاحب جب شعر ختم کرتے تو ان پر نوٹوں کی بوجھاڑ کی جاتی میرے سامنے ایک بھائی صاحب بیٹھے تھے ان کو مولانا صاحب کا ایک شعر بہت پسند آیا انھوں نے انعام کے طور پہ 50 روپے کا نوٹ اپنے سامنے بیٹھے چھوٹے بچے کو دیا کہ جاؤ یہ مولانا صاحب کو دے آو لیکن وہ کوئی اپنی طرح ڈھیٹ ہی نکلا باپ کی بار بار منتیں کرنے پے بھی نہ گیا اسی اثنا میں اس کی معصوم سی چھوٹی سی بچی جو کہ گود میں لیٹی فخرِ اوکاڑہ کو سن رہی تھی اس سے سب کے سامنے باپ کی یہ بے عزتی برداشت نہ ہوئی اور وہ پیسے خود جا کے دے آئی یہ دیکھ کے اندازہ ہوا کہ بیٹیاں کس قدر ماں باپ پہ قربان ہوتی ہیں۔
خیر مولانا صاحب کی 20 منٹ کی تقریر ایک گھنٹے 20 منٹ میں جا کے ختم ہوئی جس میں بدقسمتی سے کوئی بھی نئی یا کام کی بات نہ ملی۔ یہ سوچ کے افسوس ہوا کہ منبر رسول پے بیٹھ کے کیا درس دیا جا رہا ہے؟ دین اسلام تو ایک عالمگیر دین ہے دنیا کا کوئی مذہب مخصوص لباس اور مخصوص حلیے کا درس نہیں دیتا پھر نہ جانے کیوں ہمارے علماء اسی چیز پر ہی زور دیتے ہیں کہ داڑھی رکھ لو، شلوار ٹخنوں سے اوپر کر لو بس یہی دین ہے۔ اگر یہی دین ہے تو پھر داڑھی رکھ کے لوگ جھوٹ کیوں بولتے ہیں، شلوار کے ٹخنے اوپر رکھ کے بھی مسلمان کسی کا مال کیوں کھاتے ہیں؟ حق تلفی کیوں کرتے ہیں؟ رشوت اور حرام خوری کیوں کرتے ہیں؟
کیا ان لوگوں نے سورہ بقرہ کی یہ آیت نہیں پڑھی جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے
ساری اچھائی مشرق ومغرب کی طرف منھ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتاً اچھا وھ شخص ہے جو اللہ تعالی پر، قیامت کے دن پر، فرشتوں پر، کتاب اللہ پر اور نبیوں پر ایمان رکھنے واﻻ ہو، جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سوال کرنے والے کو دے، غلاموں کو آزاد کرے، نماز کی پابندی اور زکوٰة کی ادائیگی کرے، جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے، تنگدستی، دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے، یہی سچے لوگ ہیں اور یہی پرہیز گار ہیں۔
کاش کوئی فخر اوکاڑہ اپنی تقریروں کی زینت ایسی آیات مبارکہ بنائے جس میں پورے کا پورا اسلام بیان ہوا ہو۔


