آصف زرداری کی متوقع گرفتاری: طوفانی اور ہیجانی کیفیت!
وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد پیش گوئی سیاست کے ماہر سمجھے جاتے ہیں اور اب انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ میاں شہباز شریف نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کاچیئرمین بن کر گوٹی فٹ کرلی ہے۔ شیخ رشید احمدنے ساتھ ہی اسمبلی کی ”اوقات“ پر بھی ماتم کیا ہے کہ اب ہم نے دودھ کی رکھوالی کے لئے بلا بیٹھا دیا ہے جو اپنے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کرسکے گا اور ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کو اپنے دربار میں طلب بھی کرنے کا مجاز ہو گا۔ ایک ایسا شخص جو سب سے بڑا چور ہے اسے معتبر عہدے پر بیٹھا دیا گیا ہے۔ میاں شہباز شریف کے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس ٍکمیٹی بننے سے پی ٹی آئی کی حکومت کی بے بسی سامنے آگئی ہے۔ یہی عہدہ اگر پیپلزپارٹی حاصل کرتی تو مسلم لیگ (ن) آسمان سر پر اٹھا لیتی کہ عمران اور زرداری کا گٹھ جوڑ ہے۔
حالانکہ پی ٹی آئی کی کمزوری یا مجبوری کے باعث میاں شہباز شریف یہ بلند مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اگرچہ پی ٹی آئی کو اقتدار نصیب ہو چکا ہے لیکن سٹیٹس کو کا سحر ابھی تک توڑنے میں وہ کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔ میاں شہباز شریف اورخواجہ سعد رفیق کے معاملے میں ہی پارلیمنٹ کے دو الگ الگ پیمانے صاف نظر آرہے ہیں جب میاں شہباز شریف کو نیب کی گرفت ڈھیلی کرکے قومی اسمبلی میں لانا ضروری تھا تو سپیکر اسمبلی نے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہوئے اتنا وقت بھی نہیں لیا جتنا ویٹر گاہکوں سے کھانے کا آرڈر لیتے ہوئے لیتے ہیں۔
دوسری جانب جب خواجہ سعد رفیق کا معاملہ آیا تو سپیکر قومی اسمبلی پروڈکشن آرڈر جاری کرتے ہوئے ہچکچاہٹ کا شکار دکھائی دیے۔ قومی اسمبلی کے فلور پر پہلے اپوزیشن لیڈر نے پروڈکشن آرڈر کا مطالبہ کیا اور پھر باقی اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس میں حصہ ڈالا لیکن سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اس کو زیادہ سنجیدہ نہیں لیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ خواجہ سعد رفیق مسلم لیگ (ن) میں دوسری صف کے لیڈر ہیں اس لئے انہیں ان کی حد میں رکھنے کے لئے تاخیر سے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے ورگرنہ قانون تو سب کے لئے ایک ہی جیسا لکھا ہوتا ہے البتہ اس کی عملدرآمد کی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔
خواجہ سعد رفیق نے قومی اسمبلی کے مہمان کے طور پر خطاب کیا اوراس میں انہوں نے بھی سیاسی پیش گوئیوں کی بھرمار کے ساتھ ساتھ خود کو دور اندیش سیاستدان بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر آصف علی زرداری کو گرفتارکیا گیا تو ملک بھر میں طوفانی اور ہیجانی کیفیت پیدا ہوجائے گی۔ خواجہ سعد رفیق کے اس پر انکشاف خطاب کا جائزہ لیا جائے تو اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ملک میں نہ تو ہیجانی کیفیت پیدا ہوگی اور نہ ہی طوفانی کیفیت جنم لے گی کیونکہ اس وقت پیپلزپارٹی سے مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بنک کہیں زیادہ ہے اور اس کے تاحیات قائد جیل سے ہو کر دوبارہ جیل جانے والے ہیں جبکہ صدر محترم میاں شہباز شریف پہلے ہی نیب کی تحویل میں ”زیرعلاج“ ہیں۔ مقبول جماعت کے مقبول لیڈروں کی گرفتاریوں پر کہیں ہیجانی اور طوفانی کیفیت نہیں پائی گئی بلکہ عدالتی ٹرائل سے یہ تاثرزیادہ مضبوط ہوا ہے کہ میثاق جمہوریت کے ذریعے اقتدار کے مزے لوٹنے والی دونوں پارٹیوں کی قیادت کرپشن کی دلدل میں دھنسی ہوئی ہے۔
میاں نواز شریف اور محترمہ مریم نواز اقتدار سے نکل جانے اور پھر گرفتار ہونے کے بعد سرتوڑ کوششوں کے باوجود ہیجانی اور طوفانی کیفیت پیدا کرنے میں ناکام ہوئے اور آخر یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ہنسنا تو دور کی بات ہے ہمیں تو رونے بھی نہیں دیا جارہا ہے۔ البتہ مسلم لیگ (ن) کی گرفتاریوں سے پیپلزپارٹی میں ہیجانی اور طوفانی کیفیت نے جنم لیا اور یہ کیفیت اس وقت اپنے عروج پر ہے اور عالم یہ ہے کہ ”دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی“۔ خواجہ سعد رفیق نے ایک اور پیش گوئی یہ بھی کی ہے کہ اب حساب برابر کرنے کے لئے حکومتی صفوں سے بھی گرفتاریاں کی جائیں گی اور ہم مخالفین کو جیل میں نہیں دیکھنا چاہتے۔
خواجہ سعد رفیق کے اس انکشاف کے پیچھے بھی ایک سیاسی چال پوشیدہ ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کالی بھیڑوں کے خلاف آپریشن ملک گیر ہونا چاہیے اور کالی بھیڑیں جس جماعت میں بھی موجود ہیں انہیں قانون کے شکنجے میں کس دیا جائے۔ اپوزیشن کو علم ہے کہ اگر احتساب بلا تفریق شروع ہوگیا تو عمران خان کاقد بھی بڑا ہوگا اور پی ٹی آئی کا ووٹ بنک بھی بڑھے گا اس لئے وہ قبل از وقت پراپیگنڈہ کرکے حکومتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں پورا ملک اس وقت سردی کی لپیٹ کے علاوہ سیاسی پیش گوئیوں اور سیاسی اشاروں میں گھرا ہوا ہے، میاں نواز شریف کے خلاف پیر 24 دسمبر کو فیصلہ آرہا ہے۔ اسلام آباد کے سیاسی حلقے 7 سال قید کی پیش گوئی کررہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے بریت کی امید کا بھی اظہار نہیں کیا جارہاہے۔
اسی طرح آصف علی زرداری اور محترمہ فریال تالپور کی گرفتاری کی خبریں عام ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے اکابرین میاں نواز شریف کی متوقع ازسر نو گرفتاری سے ڈرانے کی بجائے آصف علی زرداری کی متوقع گرفتاری سے حکومت کو خوف زدہ کررہے ہیں۔ سندھ کے ”قدیم“ وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو بھی نیب کی طرف سے متوقع گرفتاری کے سیاسی اشارے ملے تھے اس لئے انہوں نے بھی قبل از وقت گرفتاری ضمانت کروالی ہے۔ سیاسی اشارے بتا رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں موسمی درجہ حرارت صفر سے بھی کم ہوسکتا ہے لیکن سیاسی درجہ حرارت جون جولائی کی گرمی سے بھی زیادہ ہوگا۔
خواجہ سعد رفیق نے آصف علی زرداری کے حوالے سے قومی اسمبلی میں یو ٹرن لیا ہے اس سے پورا ملک ہیجانی کیفیت کا شکار ہوا ہے کیونکہ خواجہ سعد رفیق تھوڑا عرصہ پہلے آصف علی زرداری کے بارے میں جوکچھ کہتے تھے وہ ٹی وی چینلز دکھا رہے ہیں اور اب انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کی گرفتاری سے معاملات خراب ہو جائیں گے۔ نیب کی طوفانی کارروائیوں نے تمام سیاستدانوں کے لئے ہیجانی کیفیت پیدا کردی ہے اس تناظر میں خواجہ سعد رفیق کا بیان صورتحال کے عین مطابق ہے۔


