قانون برائے لوہے کی چڈی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ کئی دہائیوں سے سال نو کا اغاز دنیا بھر کے تمام چھوٹے بڑے ممالک میں شور شرابے اور بینڈ باجے کے ساتھ کیا جاتا ہے، جب کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ نئے سال کی خوش آمد کرنے کے لیے شور شرابے اور بینڈ باجے میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس عظیم خوشی کے موقع پر دنیا بھر کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں کانسرٹس کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں معزز گھرانوں سے تعلق رکھنے والے شہری اپنے پسندیدہ موسیقار کو سننے کے لیے نہا دھو کر، چہرے پر اچھی سے لاپا پوچی کرنے کے بعد فیشن سے بھرپور لباس میں ملبوس ہو کر لطف اندوزی حاصل کرنے کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔ ایسے موقع کو سنہری موقع سمجھتے ہوئے چند آٹے میں نمک برابر معزز گھرانوں سے تعلق رکھنے والوں میں ایسے افراد بھی شامل ہو جاتے ہیں جو دراصل ہوس کے پجاری ہوتے ہیں۔

جیسا کہ آج کے زمانے میں ہر باشعور انسان جانتا ہے کہ ہوس کے شکاری ہر قسم کے چھوٹے اور بڑے اداروں میں عورت کو مختلف نوعیت میں ہراساں کرتے ہوئے پائے جا رہے ہیں، جن میں سے اکثر پکڑے جاتے ہیں اور اکثر اپنی دو نمبری میں اعلی مہارت رکھنے کی وجہ بچ جاتے ہیں۔ ویسے ہی ہوس کے شکاری اکثر ایسے کانسرٹس میں بھی پائے جاتے ہیں جہاں عوام جدید موسیقی سنتے ہوئے اپنے ہوش و ہواس کھو بیٹھتے ہیں۔ جس سے ہوس کے شکاریوں کو ایسا شکار ملنے میں آسانی ہو جاتی ہے، جس سے ہراسمنٹ بھی ہو جاتی ہے اور سامنے والے کو محسوس بھی نہیں ہوتا، کیوں کہ انھیں معلوم ہوتا ہے کہ ایسے موقعوں پر ہراساں کرنے والوں کو پکڑنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے اور شاید انھیں ایسے عمل کرنے سے کوئی بھی طاقت نہیں روک سکتی۔

جناب وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی کے مطابق پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں ستر فی صد طالب علم آئس نامی نشہ کر رہے ہیں اور ایسا نشہ کرنے سے وہ ایک الگ اور نئی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ بھی با آسانی تصور کیا جا سکتا ہے کہ اگر آئس کا نشہ کرنے والے مد ہوش طالب علم مزید مد ہوش ہونے کانسرٹس کی جانب رخ کریں تو اس کانسرٹ میں کتنا بینڈ باجا بج سکتا ہے۔ جب کہ خاکسار نے طویل غور و فکر کے بعد اس کا واحد حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ ہے لوہے کی چڈی۔

نیو ییئر کی رات میں تمام ممالک بشمول پاکستان میں چھوٹے بڑے کانسرٹس کا بھرپور انعقاد کیا جاتا ہے، جن میں آٹے میں نمک کے برابر ایسے بھوکے افراد بھی شمولیت اختیار کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں مگر یہ نمک کے برابر افراد پورا آٹا بھی کھا سکتے ہیں۔ اس نازک صرت احوال کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے اپنے چیف جسٹس اور اعلی حکام سے مطالبہ کرنا چاہوں گا کہ آپ کانسرٹس پر پابندی بے شک مت لگائیں مگر برائے مہربانی کانسرٹس میں لوہے کی چڈی پہننے کا حکم لازمی دے دیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں