رونق انجمن گل تھا جو لالہ، نہ رہا: مولانا احمد محمود اصلاحی
مدرستہ الاصلاح میں علم وادب کی جوت جگانے اور اساتذہ و طلبا کے درمیان لکھنے پڑھنے کا ذوق بیدار کرنے میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ مدرسے کے طلبا کا ترجمان سالانہ ’مجلہ‘ کو معیاری بنانے میں ان کا معتدبہ حصہ ہے، جو آج بھی بلا انقطاع تقریبا دہائیوں سے جاری ہے۔ اردو کے نئے لکھنے والے اصلاحی فضلا کے قلم کو صیقل کرنے اور ان کے اندر تحریری صلاحیت کو پروان چڑھانے میں اس مجلہ نے جو کردار انجام دیا ہے اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
معلوم نہیں کیوں، مولانا اپنی تحریروں کے اشاعت کے معاملے میں بعد کے دنوں میں بہت زیادہ کسر نفسی سے کام لیتے تھے۔ ان کی اسی شان بے نیازی کی وجہ سے ان کے تخلیقات کا بڑا خزانہ منظر عام پر نہ آ سکا۔ یقینا اب وہ ان کے ورثا کے پاس موجود ہو گا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ اس سرمائے کا کیا ہو گا، لیکن اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ اگر اس کی اشاعت عمل میں آتی ہے تو ادب میں ایک بڑا اضافہ ضرور ہو گا۔
افسوس کہ میرے پاس مولانا کی چند غزلوں اور نظموں کے علاوہ، جو ان کے چاہنے والوں نے فیس بک اور سوشل میڈیا پر شیئر کر رکھی ہیں، کچھ بھی نہیں ہے، ورنہ قارئین کی خدمت میں اسے پیش کیا جا سکتا تھا۔ ہم جب مدرسے میں تھے تو پرانے رسائل و جرائد کی ورق گردانی کے دوران وافر مقدار میں ان کا کلام نظر سے گزرا۔ اس جانب اگر کوئی توجہ دے تو مستقل کام کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ ان کی شاعری محض شاعری نہیں، بلکہ ایک تہذیب کی نشانی تھی۔ ایک ایسی تہذیب جہاں زندگی اور تحریکیت دھڑکتی اور سانس لیتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ ان کی شاعری میں متانت کی لو، شرافت کی ضیا، شایستہ آمیز شگفتگی کی تابندگی، وضع دارنہ روایت کی پاس داری، اصلاح کے جذبے اور درد سے مملو طنز کی چبھن ہے۔ جہاں خوش ذوقی و خوش گفتاری، محبت و صداقت اور اساتذہ سخن کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ وہ صورتہََ بھی اس کے عکاس تھے۔ دبلے، پتلے، لمبے مخملی ٹوپی اور شیروانی زیب تن کیے ہوئے چلتے تو پرانے زمانے کے اساتذہ، جن کے بارے میں کتابوں میں پڑھا یا اساتذہ سے کہانیوں کی صورت سنا، یاد آ جاتے۔
تلبیۃ الشوق کے عنوان سے ان کی ایک طویل نظم ہے، اس کا آخری حصہ ملا حظہ فرمائیں:
حضور ( ﷺ) ! آیا میں دامانِ تار تار لیے
خزاں گزیدہ، بخم عہد نو بہار لیے
دلِ خجستہ لیے، چشم اشک بار لیے
جہانِ شوق لیے، جانِ بے قرار لیے
دراز دامن رحمت کا دیکھ کر سایہ
حضور ( ﷺ) !
آیا میں آیا
حضور ( ﷺ) !
میں آیا
حضور (ﷺ) ! مجھ سا تہی دست و سوختہ ساماں
اسیر حلقہء زنجیر صد غم ِ دوراں
رہین شوق فراوان و کشتہء ہجراں
نہ سیم و زر نہ بہائے گہر نہ لعل گراں
بنام نذر دل زار و چشم ِ تر لایا
حضور ( ﷺ) !
آیا میں آیا
حضور ( ﷺ) !
میں آیا
مولانا کی ایک غزل سے دو شعر:
اہتمام بزم کرنا تھا ہمیں ہم کر چلے
ہم سے کیا اب جب لنڈھے خم، دور میں ساغر چلے
تب کہیں ہوتی ہے جا کر عشق میں معراج غم
سانس کہتے ہیں جسے، جب صورت نشتر چلے
ایک اور غزل سے چند اشعار:
نام لیا ہے ان کا، لیں گے، ہونٹ ہمارے سلوا دو
ہم مجرم ہیں جرم وفا کے، دیواروں میں چنوا دو
کس میں کتنا ظرف ہے ظالم یہ بھی کچھ معلوم تو ہو
ہاتھ بڑھاتے ہیں ہم اپنے، ہتھ کڑیاں تم لگوا دو
نا ممکن ہے راہ وفا میں پاوں بڑھا کر واپس لیں
خواہ زن و فرزند ہمارے کولہو میں تم پلوا دو
جب میں مدرسے میں تھا تو کئی اساتذہ کی زبانی سنا کرتا تھا کہ ایمرجنسی کے دوران پیدا شدہ حالات اور قید و بند کی نثری روداد بہت سے لوگوں نے مرتب کی تھی، مولانا کوثر اعظمی نے بھی ایمرجنسی کی پوری روداد منظوم لکھی تھی، جو نثر کے مقابلے بہت زیادہ مقبول ہو سکتی تھی، لیکن مولانا نے اسے بھی بے اعتنائی کی بھینٹ چڑھا دیا اور وہ شایع نہ ہو سکی، اگر ان کی منظوم روداد منظرعام پر آ گئی ہوتی تو یقیناً ایک شہ پارہ قرار پاتی۔
مولانا جس قدر ذہین تھے، ان کا قلم بھی اتنا ہی رواں اور شستہ تھا۔ وہ بہت کم وقت میں قلم برداشتہ طویل افسانے اور کہانیوں کے علاوہ نظمیں اور غزلیں کہنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ انھیں اردو اور فارسی زبانوں پر عبور حاصل تھا اور وہ ان میں نثر و نظم کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ ان کا قلم نہ کبھی رک سکتا ہے، نہ تھک سکتا ہے۔ وہ جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے اس کے مالہ و ماعلیہ کا احاطہ کر لیتے تھے، ان کی معمولی رپورٹ بھی رپورتاژ کی شکل اختیار کر لیتی۔ مدرسۃ الاصلاح میں اسٹرائک کے بعد جو فیکٹ فائڈنگ کمیٹی بنائی گئی؛تو اس کے ذمہ دار بھی مولانا ہی تھے، معروف تھا کہ مولانا نے جو رپورٹ پیش کی تھی وہ اپنے آپ میں ایک کتاب تھی۔
چند سال قبل مدرستہ الاصلاح میں تشویش ناک حد تک داخلہ کی شرح میں کمی کے بعد اس کی وجوہ جاننے اور اصلاح نصاب کے حوالے سے سفارشات تیار کرنے کے لیے منتظمین نے جو کمیٹی تشکیل دی تھی، مولانا اس کے چیئرمین مقرر کیے گئے تھے، ارکان میں ڈاکٹر علا الدین اصلاحی سمیت، علی گڑہ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق احمد ظلی بھی شامل تھے۔ کمیٹی نے طلبہء قدیم کے نام ایک خط ارسال کیا تھا، جس میں ان سے ذاتی تجربات کی روشنی میں رائے اور مشورے طلب کیے گئے تھے۔ میں نے بھی مولانا کوایک تفصیلی خط ارسال کیا تھا، جسے پڑھ کر انھوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔ یہ بات مجھے ڈاکٹر علا الدین اصلاحی صاحب کے ذریعے معلوم ہوئی۔
بعد میں پتا چلا کہ پوری دنیا سے متعدد فاضلین نے اپنی تجاویز اور مشورے ارسال کیے تھے، میری گذارش پر مدرسۃ الاصلاح کے فاضل اور شاعر جناب ضیا الرحمان اعظمی، جو میرے سینئر اور بہت مخلص دوست ہیں، انھوں نے بھی ایک طویل خط لکھا تھا، جس کی ایک کاپی میرے پاس بھی محفوظ ہے، بہر حال ان تمام مکاتیب، اساتذہ و طلبا سے انٹرویو اور جائزے کی روشنی میں کمیٹی نے سفارشات انتظامیہ کو پیش کر دیں۔ مجھے معلوم ہوا کہ اس میں خصوصی دل چسپی لیتے ہوئے مولانا نے خاصی محنت کی تھی، جس کی رپورٹ بھی خاصی ضخیم تھی، لیکن اسے بد نصیبی ہی کہا جائے گا، کہ انتظامیہ نے اب تک اس کو نافذ نہیں کیا۔ حالاں کہ اگر وہ سفارشات نافذ ہو جاتیں تو مدرسے کی حالت میں یقیناً تبدیلی آتی اور اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے۔
ان کے ایک قریبی رفیق، دوست اور ہم درس ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی نے اپنی کتاب ’ذکر فراہی‘ ( صفحہ 938 ) میں جس کو دار التذکیر اردو بازار لاہور نے 2002 میں انتہائی اہتمام کے ساتھ شایع کیا تھا، اپنے دوست کے بارے میں جس جذبے کا اظہار کیا ہے، وہ ان کی علمیت کے لیے ایک طرح سے حوالہ کا درجہ رکھتا ہے۔ اس کتاب کو دائرہ حمیدیہ (سرائے میراعظم گڑھ، ہندوستان) نے بھی 2001ء میں چھَاپا ہے، لیکن ہندوستانی نسخے کو مولانا نے دائرہ حمیدیہ کے ذمہ داران پر جاہلانہ تصرفات، کانٹ چھانٹ اور علمی بد دیانتی کا الزام لگاتے ہوئے نا معتبر قرار دے کر رد کر دیا تھا۔ درج ذیل اقتباس میں نے پاکستانی نسخے سے نقل کیا ہے، ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی نے ’احمد محمود کوثر اعظمی‘ عنوان کے تحت لکھا ہے:
”احمد محمود صاحب مدرستہ الاصلاح میں میرے ہم جماعت تھے۔ شاعر اور افسانہ نویس وہ بہت پرانے ہیں، زمانہ طالب علمی ہی سے انھیں ان چیزوں کا شوق تھا۔ اب ایک پریس لگا کر طابع بھی ہو گئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے ساتھ ان کی وابستگی بھی زمانہ طالب علمی ہی سے قائم ہے۔ کسی زمانہ میں ضلع کے ناظم بھی تھے، اب صرف رکن ہیں۔ مدرستہ الاصلاح کے نائب ناظم جب سے ہوئے ہیں، ان پر ذمہ داریوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے۔ یہ خدمات وہ بلا معاوضہ انجام دیتے ہیں۔ معاش کے لیے اپنے چھوٹے سے پریس کی تھوڑی بہت آمدنی پر قناعت کرتے ہیں۔ اس دور میں ان کا یہ جذبہ قابل ستایش ہے۔ انھیں جب صلے کی پروا نہیں تو ستایش کی پروا کیا ہو گی۔ مدرستہ الاصلاح اور فکر فراہی سے قریبی تعلق کے علاوہ حکیم یوسف صاحب ساکن بندول کے عزیز بھی ہیں۔ حکیم صاحب نے مولانا فراہی کی صحبت میں وقت گزارا ہے۔ احمد محمود صاحب کی بیوی حکیم صاحب کی نواسی ہیں، کئی زبانی رویات انھی کے واسطے سے مجھ تک پہنچیں۔ مولانا فراہی کے بعض خطوط بھی انھوں نے ڈھونڈ نکالے؛ جن کی نقلیں مجھے فراہم کیں۔ ان کا وطن سرائے میر کے قریب ایک گاؤں موضع طویٰ ہے جو ضلع کی مشہور مسلمان بستیوں میں سے ہے۔ سیدھے سادے قسم کے مسلمان ہیں۔ ان کو بر سرکار دیکھ کر“ الکاسب حبیب اللہ ”کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ 79ء اور 80ء کے سفر میں ان کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ رہا۔ اکثر انھیں کمپوزنگ ریک پر کھڑے ہینڈ کمپوزنگ میں مصروف پایا۔ چھوٹے بھائی کے ساتھ ہاتھ سے چھاپے کی مشین چلاتے دیکھا“۔
ایسے جملہ حسنات و صفات اور خوبیوں والے شخص کا چلے جانا یقیناًافسوس ناک ہے، اللہ انھیں جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ مولانا ہی کے چند اشعار سے میں اپنی تحریر کو ختم کرتا ہوں۔
بن پڑا جو، کیا وہ کام، چلا
ہو گئی زندگی کی شام، چلا
مے کشو! مے کدہ سلامت باش
لینا ہاتھوں سے میرے جام، چلا

