نواز شریف سے پیسے کیسے نکلوائیں؟
نواز شریف کو جج ارشد ملک نے العزیزیہ ریفرینس میں سات برس قید کی سزا سنا دی ہے۔ ویسے جج صاحب نے نہایت رحم دلی سے کام لیا ہے ورنہ وہ اگر فلیگ شپ پر بھی سختی کی نگاہ ڈالتے تو چودہ برس کی مجموعی سزا دی جا سکتی تھی۔ حکمرانوں کا چودہ برس کا بن باس روایت ہے۔ رامائن میں بتایا گیا ہے کہ رام چندر جی اور ان کے برادر خورد لکشمن کو بھی چودہ برس کا بن باس دیا گیا تھا اور ان کی غیر موجودگی میں ان کے بھرتی کے سیاسی حریف نے، کہ اس کا نام ہی راجہ بھرت پڑ گیا تھا، لکڑی کے بوٹ تخت پر رکھ کر ان کے نام پر حکومت چلائی تھی۔
بہرحال ہماری رائے یہ ہے کہ نواز شریف کو ایسی سزا دینے سے پیسہ نہیں ملے گا۔ جب تبدیلی آئی تو مراد سعید نے وعدہ کیا تھا کہ ”جس دن عمران خان نے حلف لیا، تو میرا پاکستان کا دو سو ارب ڈالر دبئی پڑا ہوا ہے، عمران خان اس کو اگلے دن پاکستان واپس لے کر آئے گا۔ میرے ملک کے اوپر قرضہ کتنا ہے؟ سو ارب ڈالر۔ پہلے دن سو ارب ڈالر باہر دنیا کے منہ پر دے مارے گا اور سو ارب ڈالر آپ کے اوپر لگائے گا۔ اگلے دن جب عمران خان آفس جائیں گے تو سب کی فائلیں بلائیں گے۔ سب کی فائلیں بلائیں گے اور حساب کتاب شروع۔ کہ بیٹا ذرا بتاؤ، یہ نہیں کہ منی ٹریل ہے، نیب جاؤ، سپریم کورٹ جاؤ، یہ لمبی کہانی نہیں چاہیے۔ ذرا بتاؤ کہ آپ کی تنخواہ اتنی تھی، مہینے کے اتنے، سال کے اتنے، یہ باقی پیسہ کہاں سے آیا؟ نہیں بتایا؟ لٹکاؤ ان کو! لٹکاؤ ان کو! “
اب عمران خان کو حلف اٹھائے سو سوا سو دن ہو گئے ہیں لیکن دبئی سے دو سو ارب ڈالر نہیں آ پایا ہے جسے بین الاقوامی مہاجنوں کے منہ پر مارا جائے۔ الٹا قوم کے وسیع تر مفاد میں ان ہی مہاجنوں سے گڑگڑا گڑگڑا کر مزید قرضہ مانگنا پڑ رہا ہے۔ نہ ہی کرپٹ افراد سے پیسہ نکلوایا جا سکا ہے۔ ادھر سے صرف علیمہ خان کے ہی کچھ کروڑ روپے آنے کی خبر آئی ہے۔ اس کی وجہ طریقہ کار کی خامی ہے۔ مراد سعید کے مشورے کے مطابق الٹا لٹکانا مشکل ہو گا۔ دنیا کیا کہے گی؟ نواز شریف سے پوچھیں تو وہ جیبیں جھاڑ کر دکھا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ”کرپشن میرے قریب سے نہیں گزری، کبھی کمیشن نہیں لی، کبھی اختیارات کا غلط استعمال نہیں کیا، ہمیشہ قوم کی خدمت کی“۔
ان عدالتوں وغیرہ کے پیچھے جانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔ پہلے بھی احتساب عدالت کا فیصلہ آیا تھا تو ہائی کورٹ میں نواز شریف کے چالاک وکیلوں نے نیب کو خوب شرمندہ کروایا تھا۔ وہ مکار دوبارہ وہی کریں گے۔ الٹے سیدھے قانون دکھا دکھا کر چھیڑیں گے اور نواز شریف کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال کر لے جائیں گے۔ ویسے بھی چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ میں تین ہفتے ہی رہ گئے ہیں۔ اس کے بعد انصاف کی فراہمی کا بابا رحمت ماڈل ختم ہو جائے گا۔
لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے ذہن میں چند تجاویز ہیں جو نہایت مددگار ہو سکتی ہیں۔ ان کے نتیجے میں تمام ملزم کرپشن کا کیا اپنا حق حلال کا پیسہ بھی بلا جبر و اکراہ دے دیں گے۔ اس کے لئے ہمیں عرب شریف کی جدید ریاست مدینہ سے راہنمائی لینی پڑے گی۔
عمران خان بھی اگر عرب شریف کی جدید ریاست مدینہ کے حکمران شہزادہ محمد بن سلمان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دارالحکومت کے سب سے بہترین ہوٹل میں تمام کرپٹ افراد کو بند کر دیں اور کہیں کہ ہم حساب کتاب نہیں جانتے کہ کتنا پیسہ کرپشن کا ہے اور کتنا تمہارے بزنس کا، بس ہر بندہ اتنے ارب ڈالر سرکاری خزانے میں جمع کروا دے۔ کسی پر جسمانی تشدد وغیرہ کرنے یا الٹا لٹکانے کی ضرورت نہیں ہے۔ سب کو عرب شریف کے ماڈل پر چلتے ہوئے ڈائننگ ہال میں فوم کے گدے ڈلوا دیں اور ان کو فائیو سٹار ہوٹل کا کھانا کھانے پر ہی مجبور کیا جائے۔ امید ہے کہ دیسی خوش خوراکی کے لئے مشہور نواز شریف برگروں سے اتنے بیزار ہو جائیں گے کہ وہ ہر قیمت ادا کر کے اس ہوٹل سے باہر نکلنا چاہیں گے۔ اس ماڈل سے سعودی شہزادے تیر ہو گئے تو نواز شریف کیا شے ہیں۔
کوئی کرپٹ شخص زیادہ ہی ڈھیٹ پنے کا ثبوت دے تو اسے جدید ریاست مدینہ کی استنبولی کونسلیٹ کا ماڈل بھی دکھا دیا جائے۔ بلکہ ہم تجویز کریں گے کہ ڈائننگ ہال میں جمال خشوگی کی بڑی سی تصویر لگا دی جائے تاکہ کہے بغیر ہی پیغام پہنچ جائے۔
ان تجاویز پر عمل کر کے ہی کرپٹ عناصر سے پیسہ نکلوایا جا سکتا ہے۔ ورنہ وہ قانونی داؤ پیچ کھیل کر بچ نکلیں گے۔ ان کے پاس کرپشن کی ایک پائی بھی ثابت نہیں ہو سکے گی۔ نیز عوام میں مزید مقبول بھی ہوتے جائیں گے۔
اب یہی دیکھ لیں کہ سات برس کی سزا سن کر بھی نواز شریف گانے گاتے ہوئے جیل گئے ہیں۔ جیل روانگی سے قبل میاں نواز شریف عدالت سے نکل کر اپنے حامیوں کو گانا سناتے رہے ”اے میرے دل کہیں اور چل، غم کی دنیا سے جی بھر گیا ڈھونڈ لے اب کوئی گھر نیا“۔ ظاہر ہے کہ وہ مقدمہ کمزور دیکھ کر اپنی رہائی کے بارے میں پرامید ہیں اور اب لندن کے بعد کسی دوسرے علاقے میں نیا گھر خریدنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔


