ایس پی طاہر خان داوڑ کا قتل اور حکومت کی غیر سنجیدگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 16
  •  

27 اکتوبر کی شام چار بجے کسی کام سے جی الیون مرکز میں واقع تھانہ رمنا ابھی جا کے بیٹھا ہی تھا کہ ایک پچاس سالہ شخص پریشانی کے عالم میں رپورٹنگ روم میں آیا اور ڈیوٹی پر موجود افسر کو بتانے لگا کہ اس کا بھائی چوبیس گھنٹوں سے لاپتہ ہے، جب میں نے اس شخص سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ پشاور پولیس رورل زون کے ایس پی طاہر خان داوڑ کی گمشدگی کی رپورٹ کرنے آئے ہیں۔ اس وقت کے ایس ایس پی آپریشن سید امین بخاری گمشدہ ایس پی کے گھر پہنچے اور تسلی دی۔

میں وہیں سے طاہر خان داوڑ کے جی ٹین میں واقع گھر پہنچا جہاں پر ان کے باورچی اور گارڈز موجود تھے۔ معلوم ہوا کہ دو روز قبل طاہر خان اپنے باورچی کو مٹن بنانے اور دس منٹ میں واپس آنے کا کہہ کر نکلے تھے۔

سنجیدگی کا اندازہ لگائیں کہ اس وقت تک وقوعہ کو دو دن گزر چکے تھے اور وفاقی پولیس نے ابھی تک پشاور پولیس کو آگاہ تک نہیں کیا تھا۔ پشاور پولیس کے ترجمان سے رابطہ کیا تو وہ بولے کہ ہمیں تو ابھی تک معاملے کی خبر ہی نہیں ہے۔

اور پولیس بجائے طاہر خان کے اغوا کی اطلاع دینے کے یہ کہتی رہی کہ شاید کسی دوست کے گھر گئے ہوں واپس آ جائیں گے۔ اسی دوران کمال مہارت سے شاطردشمن نے جہلم سے طاہر خان کے گھر خیریت کا پیغام بھیج کر پولیس کو مزید سست کردیا۔

اغوا کے سترہ روزا بعد تیرہ نومبر کی شام کو طاہر خان داوڑ کی افغانستان سے مسخ شدہ لاش بر آمد ہوئی۔ قومی و بین الاقوامی میڈیا پر ہر طرف اس ہائی پروفائل قتل کی باتیں چلیں اور یوں جا کے قتل کے بعد ہماری حکومت کو ہوش آیا۔

غیر سنجیدگی کی داستان ابھی یہیں ختم نہیں ہوتی، حکومت نے معاملے کی تحقیقات کے لئے ایس پی انویسٹیگیشن کی سربراہی میں پندرہ نومبر کو چھ رکنی جے آئی ٹی تشکیل دی جس میں حساس اداروں کے افسران کو بھی شامل کیا گیا اور رپورٹ پینتالیس دنوں میں جمع کروانے کی ہدایت بھی کی گئی۔

پانچ روز تک جے آئی ٹی کا ایک بھی اجلاس نہ سکا، غیر سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے چیف کمشنر اسلام آباد نے جے آئی ٹی کی سربرائی ڈی آئی جی فیصل راجہ کے سپرد کر دی۔ نئے سربراہ کے بعد جے آئی ٹی کے بارہ سے زائد اجلاس ہوئے لیکن قتل کیس میں مزید پیش رفت تو درکنار ابھی تک اس بات کا ہی تعین نہیں کیا جاسکا کہ انہیں اغوا کہاں سے کیا گیا۔

اقتدار میں آنے کے باوجود اپوزیشن کی ایکٹنگ کرنے والی حکومت کو بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے واقعات کو شروع سے ہی سنجیدہ لینا چائئے اور متعلقہ ادارے جو طاہر خان داوڑ کے اغوا کو موبائل فون کی بندش قرار دے رہے تھے انہیں بھی چائئے کہ ہوش کے ناخن لیں اگر کروڑوں روپے کے سیف سٹی کیمروں کے دارالحکومت سے پولیس کا ایک اعلی افسر اس طرح باآسانی اغوا کیا جاسکتا ہے تو پھر عوام کا تو اللہ کی حافظ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 16
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں