ایف آئی اے کا ڈی جی بشیر میمن آخر ہے کون؟


اس سوال کا جواب لکھنے سے پہلے میں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ بشیر میمن صاحب سے میری قربت اور نیازمندی کافی قریبی ہونے کے باوجود ہماری آخری ملاقات دس سال پہلے سندھ کے شہرروہڑی میں میرے گھر پر ہوئی تھی، اس کے بعد فون، واٹس ایپ پر دعا سلام رہی ہے مگر ایک ہی شہر، اسلام آباد میں رہتے ہوئے بھی دس سال میں ان سے میں ایک مرتبہ بھی نہیں ملا۔ روبرو ملاقات اس لئے نہیں ہوسکی کہ میری کوشش رہتی ہے کہ پوسٹنگس پر بیٹھے ہوئے دوستوں سے مل کر ان کا وقت ضائع نہ کیا جائے تو بہتر ہوگا۔

ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن آخر ہے کون؟ پیپلز پارٹی کے ساتھ اُن کی دشمنی کیا ہے کہ ابھی تھوڑا عرصہ پہلے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے الیکشن سیل کے انچارج تاج حیدرکی جانب سے اس وقت کے نگران وزیراعظم، چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے گئے علیحدہ علیحدہ خطوط میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ڈی جی ایف اے بشیر میمن کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ الیکشن تو گزر گئے مگر پیپلز پارٹی مسلسل بشیر میمن کے خلاف اس کوشش میں رہی ہے کہ ان کو اس عہدے سے ہٹایا جائے۔

ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن کا ایک سادہ تعارف یہ ہے کہ وہ سندھ پولیس کے نوجوان سی ایس پی آفیسروں کے گُرو رہے ہیں۔ ان کا دوسرا تعارف یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت جب بھی آئی ان کی پوسٹنگ اکثر عتاب میں رہی ہے یا ان کو سندھ سے باہر پوسٹ کیا جاتا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ وجہ یہ ہی ہے کہ بشیر میمن اپنے آپ کو پولیس کے ملازم سمجھتے رہے ہیں نہ کہ کسی پارٹی کے۔ جس صوبے میں ایس ایس پی وردی پہنے، پارٹی کے ایم این اے کی گاڑی ڈرائیو کرتے ہوں وہاں بشیر میمن جیسا پولیس آفیسر مس فٹ ہی ہوتا ہے اور پھر نتیجہ یہ ہی ہوگا کہ کبھی ان کو آزاد کشمیر کا آئی جی بنا کے بٹھا دیا جاتا کہ حسین وادیوں کی جا کر سیرکرو اورکبھی کسی سائیڈ پوسٹ پر۔ حالات کچھ بھی رہے بشیر میمن نے سندھ پولیس میں بہرحال نوکری جتنا وقت بھی کی ایک بہترین پولیس آفیسر بن کے کی اور دوسرے افسروں کو بھی بتایا کہ ایک پروفیشنل آفیسررہ کر، ایم این ایز اور وزیروں مشیروں کی ڈرائیونگ سیٹوں پر نہ بیٹھ کر بھی اور ناجائز باتیں نہ مان کر بھی نوکری کی جا سکتی ہے۔

پیپلز پارٹی کو معلوم ہے کہ بشیر میمن کرپشن اورمنی لانڈرنگ کیسزمیں ان کے ساتھ کسی قیمت پر سمجھوتہ یا رعایت نہیں کرے گا یہ ہی وجہ ہے کہ جیسے ہی اگست 2017 ء میں پولیس سروس گروپ کے گریڈ 21 کے افسر بشیر احمد میمن کو ڈی جی ایف آئی اے تعینات کیا گیا تو پیپلز پارٹی نے ان کی شدید مخالفت کرنی شروع کردی۔ میڈیا، عدالتوں، الیکشن کمیشن ہر فورم پر کوشش کی گئی کہ ان کو ڈی جی ایف آئی اے کے عھدے سے ہٹوایا جائے، مگر سپریم کورٹ آف پاکستان نے ملک کے طاقتورسیاستدانوں کے کرپشن اور منی لانڈرنگ کیسز کی تفتیش ایف آئی اے کے حوالے کی۔

یہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی وفاقی وزارت داخلہ کے ماتحت تحقیقاتی ایجنسی ہے، جو ملک کے کسی بھی حصے میں قتل اور دہشتگردی سے لے کر منی لانڈرنگ، بینکنگ کرائم سمیت اہم نوعیت کے مقدمات میں تحقیقات کے وسیع اختیارات رکھتی ہے۔ ایف آئی اے کی بڑی کارروائی 35 ارب روپے مالیت کے منی لانڈرنگ سکینڈل میں تحقیقات کے لیے سمٹ بینک کے سابق صدر اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے چئیرمین حسین لوائی کو حراست میں لینا تھا، اس کارروائی نے آصف علی زرداری صاحب، ان کی بہن فریال ٹالپر صاحبہ اور ان کے قریبی کاروباری دوستوں، پراپرٹی ٹائیکون کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا دروازہ کھولا۔

ایف آئی اے کرائم سرکل کراچی نے تقریبا 3 سال قبل چار بے نام کمپنیوں کے اکاؤنٹس کا سراغ لگایا تھا جن میں تقریباً 20 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز کی گئی تھیں۔ ایف آئی اے حکام کی تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ تینوں کمپنیوں کے ایڈریس جعلی ہیں۔ تحقیقات کے دوران یہ بھی معلوم ہوا کہ جعلی کمپنیوں کے بے نام اکاؤنٹس میں آنے والے اربوں روپے پاکستان کے سب سے بڑے پراپرٹی ٹائکون اور سندھ حکومت سے اربوں روپے کے ٹھیکے لینے والی دیگر کمپنیوں کے اکاؤنٹس سے منتقل کیے گئے ہیں جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ یہ رقوم کرپشن کی مد میں ادا کی گئی ہیں۔

ایف آئی اے نے جعلی کمپنیوں کے اکاؤنٹس کی چھان بین کی تو انکشاف ہوا کہ یہ رقوم پاکستان پیپلز پارٹی سے قربت رکھنے والی کاروباری شخصیت انور مجید اور اس وقت سمٹ بینک کے صدر حسین لوائی کے دست راست آپریٹ کر رہے ہیں اور رقوم کو مختلف بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر کے پاکستان پیپلز پارٹی کی اہم شخصیات کی ایئر ٹکٹس، گاڑیوں کی خریداری اور دیگر اخراجات پر خرچ کیے گئے جبکہ بڑے پیمانے پر رقوم کیش بھی کرائی گئیں۔ پر کچھ دن بعد ہی اس وقت کے ڈی جی ایف آئی اے محمد املیش نے تحقیقات کو بند کر دیا تھا۔

گزشتہ سال دسمبر میں بشیر میمن کی بطور ڈی جی ایف آئی اے تعیناتی کے بعد جنوری میں ایک مرتبہ پھر تحقیقات کو دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی درخواست پر اسی طرح کی 6 مزید کمپنیوں سمیت دس کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس میں ہونے والی منی لانڈرنگ کی تحقیقات ایف آئی اے کے سپرد کی گئیں۔ یہ تحقیقات آگے چل کر سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے معاملے کی تہ تک پہنچنے کے لئے جے آئی ٹی کی تشکیل کا سبب بنی اوراس جے آئی ٹی کے سربراہ کے طور پر بشیر میمن نے 827 صفحات پر مبنی ایک جامع رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی ہے جس میں منی لانڈرنگ، اومنی گروپ، بحریہ ٹاؤن اورانورمجید کے نیٹ ورک کی مکمل تفصیل دی گئی ہے۔

یہ ہی وہ رپورٹ ہے جس کی بنا پر آصف زرداری صاحب اوران کی بہن فریال ٹالپر صاحبہ نے اپنے گرفتارہونے کے خدشے کے سبب پیپلز پارٹی کو ان کی غیر موجودگی میں کیسے چلایا جائے جیسے پلان بنانے شروع کیے ہیں۔ بہرحال رئیل اسٹیٹ کا بادشاہ ملک ریاض، سندھ کا ڈی فیکٹو وزیر اعلی انور مجید اوران کا پورا خاندان، پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے سربراہ آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال ٹالپر اس کیس میں ایسے جکڑے ہوئے ہیں کہ ان کو کوئی این آر او یا ڈیل ہی بچا سکتی ہے ورنہ قانونی طور پر توان کی سیاست، ملکیت اور باقی زندگی سب انصاف کے شکنجے میں آ چکے ہیں۔

آصف علی زرداری اور بشیر میمن ایک ہی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، زرداری صاحب کے نوابشاہ سے بشیر میمن کا گاؤں ہالا پُرانا صرف ایک گھنٹے کی ڈرائیو پر ہے مگر وقت بڑا بادشاہ ہے، میمن صاحب جیسے اکیس بائیس گریڈ کے افسر کے ہاتھ میں جس کو پیپلز پارٹی سالہا سال ملازمت کے دوران دربدرکرتی رہی سب پہ بھاری ایک زرداری کی کُنڈلی آگئی ہے، سوشل میڈیا پر اربوں روپے کی منی لانڈرنگ نیٹ ورک کو پکڑنے پر بشیر میمن صاحب کی تعریف ہو رہی ہے اور پیپلز پارٹی کی قیادت اور ان کے وکیل صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں اور اجلاس پہ اجلاس ہو رہے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں