عورت اور لطیفہ
ہمارے ایک جاننے والے ہیں جو چالیس سے تجاوز کرگئے ہیں اور ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں،ابھی تک شادی نہ کرنے کی وجہ پوچنھے پر موصوف نے بتایا کہ خواتین سے واسطہ پڑنے کے بعد تو شاید سب کو ڈر لگتاہو لیکن ہم نے اُن کا نگیٹیو پہلو اتنا سُن اور پڑھ رکھا ہے کہ اب بن دیکھے بھی ان سے ڈر لگنے لگا ہے،
ہم نے عرض کیا آپ کو کس طرح خاتون درکار ہے(خاتون اس لئے کہا کہ لڑکی سے شادی کے تو وہ رہے نہیں) کہنے لگے جو ہمارے کسی فیصلے میں ٹانگ اڑائے اورنہ ہی ہماری کسی حرکت پر دلبرداشتہ ہو، بڑی تحمل والی ہو، بےاختیار، کم گو اور باہر کم نکلنے والی ہو۔
ہم نے عرض کیا: دراصل آپ کو ہمارے سابق صدر ممنون حسین کے مزاج کی طرح مزاج رکھنے والی خاتون درکار ہے اور ایسی خاتون ڈھونڈنے کے لئے بڑے میاں کی خدمات حاصل کرنی ہونگیں جو کم ازکم ہماری بس کی بات نہیں، ہم نے فنِ حکمت سے نابلد ہونے کے باوجود چونکہ نبض صحیح پکڑا تھا اس لئے جناب کے ہونٹوں پر یکدم مسکراہٹ چمکنے لگی، ہم نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے عرض کیا کہ آپ کے مائنڈسیٹ کو سوفی صد درست نہیں کہا جا سکتا، بلکہ مرد ہی کی طرح عورت میں بھی مثبت اور منفی دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں، ہر عورت میں اچھی صفات بھی ہوتی ہیں اور بری بھی، تب ہی تو حدیث میں بتایا گیا ہے کہ کوئی مومن مرد ایمان دار عورت سے نفرت نہ کرے، اگر اس کی کوئی ایک عادت یاصفت اسے ناپسند ہوگی تو دوسری کسی صفت سے وہ خوش بھی ہوگا،
آج کل کچھ لوگوں نے اپنے لطیفوں اور مزاح کے لئے عورت ذات کو تختہِ مشق بنایا ہوا ہےاور اُس کے منفی پہلو کو سامنے لانے پرتلے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بعض شادی کے خواہشمند حضرات بھی شادی کرنے سے کتراتے ہیں، جو صنفِ نازک کے ساتھ انتہائی بے انصافی ہے، بعض شوہروں کو تو واقعی کسی بھوتنی سے واسطہ پڑا ہوگا جس پر وہ دنیا کی ساری عورتوں کو قیاس کرتے ہیں جبکہ بعض کسی سازش یا نادانی کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں، لیکن ہے یہ عمل بہرحال نامبارک اور نقصان دہ، ہمیں بحیثیت مسلمان کوئی بھی عمل کرنے سے پہلے یہ دیکھنا چاہئے کہ ہمارا دین اس بارے میں کیا کہتا ہے، سرورِعالم صلی اللہ علیہ وسلم(فداہ روحی) نے نیک عورت کو دنیا کی بہترین متاع قرار دیا ہے چنانچہ فرمایا: دنیا ساری کی ساری متاع ہے اور دنیا کی سب سے بہترین متاع (پونجی) نیک بیوی ہے۔
عورت جس روپ میں بھی ہو اسلام نےاُس کو بڑا مقام بخشا ہے لیکن لطیفے بنانے والوں کو عورت صرف گرل فرینڈ کی شکل میں ہی اچھی لگتی ہے کیونکہ اُس صورت میں اُن کا مقصد بھی پورا ہوجاتا ہے اور کسی قسم کے حقوق بھی نہیں دینے پڑتے، گرل فرینڈ کو دھوکہ بھی دیا جاسکتا ہے اور جھوٹ بھی بولا جاسکتا ہے۔
جبکہ لائف پاٹنر کے لئے بااعتماد ہونا ضروری ہوتا ہے، بیوی حیادار ہوتی ہے اس لئے پیار ہوگا لیکن گھر میں وہ بھی شائستگی سے اور پردے میں جبکہ گرل فرینڈ کسی بھی پردے اور مکان کی قید سے آزاد ہوتی ہے اس لئے اُس کے ساتھ سرِراہ یا کسی پارک میں بھی چھیڑخانی کی جا سکتی ہے، کیونکہ شرم وحیا تو وہ پہلے ہی دفن کرچکی ہوتی ہے ، جب چاہا دل بہلایا اور جب چاہا یہ جا اور وہ جا
"جب اوڑھ لی لوئی تو کیا کرے گا کوئی،
لطیفہ گو حضرات سے گزارش ہے کہ اپنے چٹکلوں کے لئے کسی اور چیز کا انتخاب کریں، اپنی سوچ و فکر کو کسی تعمیری کام پرلگائیں تاکہ آپ کا بھی فائدہ ہو اور قوم کے بھی کچھ پلے پڑے،
ہماری گزارشات سننے کے بعد دوست نے شادی کا ارادہ تو کرلیا ہے لیکن چونکہ اُن کو صدر ممنون والی بات بہت پسندآئی تھی اسلئے ساتھ ساتھ صدر ممنون کے ہم مزاج خاتون کی تلاش میں ہم سے مدد کی اپیل بھی کی ہے، ہمارے علم میں چونکہ اس قسم کی کوئی نایاب خاتون نہیں تھی اس لئے موصوف کو مندرجہ ذیل اشتہار شائع کرنے کا مشورہ دے ڈالا
اشتہار
بندہ کو ایک عدد جورو کی ضرورت ہے جو پاکستانی سابق صدر ممنون حسین کی ہم مزاج ہو، بے اختیار، کم گو اور باہر کم نکلنے والی ہو، مماثلت صرف مزاج کی حد تک شرط ہے، شکل و صورت اور عمر میں نہیں…
المشتہر……………….
فون نمبر……………
ختم شد
ہم اپنے قارئین سے گزارش کرتے ہیں کہ اگر اس قسم کا اشتہار آپ کی نظر سے گزرے تو مشتہر کی ہر ممکن مدد فرما کر ثواب دارین حاصل کریں


