فیض کا تصورِ شناخت اور ثقافت، اورقومیت سے متعلق اکہترواں ابہام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 1
  •  

تصورِ شناخت اور عدم شناخت کے بیانیے مابعد نو آبادیات کلامیوں کا ایک بنیادی جُزو رہے ہیں، فیض کے ہاں شناخت کا تصور دو مختلف فکری منطقوں میں ایک طے شدہ مگر منقسم سطح پر دکھائی دیتا ہے۔ فیض تاریخ کو دورانیہ، جغرافیے کو توسیع، علاقے، طبقات اور زبانوں کو ثقافت کی روح گردانتے ہیں۔ فیض کے نزدیک ثقافت، کسی بھی سماجی اکائی کے مکمل طرزِ حیات کا نام ہے۔ ثقافت کے دو بنیادی لازمے ہیں : نمبر 1 ”ذریعہ“ : جس میں زبان، اطوار، محاورہ اور دیگر فنکارانہ اظہاریے شامل ہوتے ہیں۔

نمبر 2 ”جوہر“ : جس میں اقدار، فکریات، اور اداراتی نظریات شامل ہوتے ہیں۔ فیض فن اور ثقافت کے بارے میں کہتے ہیں : ”فن! برعکس ثقافت کے خام مواد نہیں ہوتا، یا سماجی زندگی نہیں ہوتا جو سماجی اکائیوں کے تابع ہوتی ہے، یہ آزاد ہوتا اور اس کے جوہر میں ایک قدرتی ترفع موجودہوتا ہے چونکہ اس کو متشکل کرنے والے خاص لوگ ہوتے ہیں“۔ (حوالہ : فیض کے مضامین)

عمومی طور پر ثقافت کسی بھی سماج کی مہذب اور تعلیم یافتہ اکائیوں کی سماجی زندگی کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن فیض کے نزدیک ثقافت کو متشکل کرنے والے عام لوگ ہوتے ہیں فیض کہتے ہیں : ”چونکہ ثقافت کسی بھی سماج میں موجود حدود کو توڑ نہیں سکتی اس لیے وہ فن کی نسبت پیچھے رہ جاتی ہے“۔ گویا ثقافت سماجی حدود یعنی وہ طے شدہ سماجی اور آفاقی مہابیانیے جن کو سماج اپنی سماجی زندگیوں کا حصہ بنالیتے ہیں کے متوازی ایک اور پروگریسو مگر مختلف الجہت بیانیے بھی تشکیل پا رہا ہوتا ہے جسے ”ثقافت“ کہتے ہیں۔ ثقافت عمومی طور پر سماجی اکائیوں کے فکری میلان سے متصادم نہیں ہوتی لیکن اگر ہو تو سماج ایسے ثقافتی اجتہاد کو ترک کر دیتے ہیں۔

دوسری جانب فن کو تشکیل کرنے والے چونکہ ”خاص“ لوگ ہوتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہوسکتا ہے کہ ان کا فن عمومی سماجی ثقافتی رویوں سے متصادم ہو لیکن چونکہ ان اظہاریوں میں عمومی سطحیت نہیں ہوتی اس لیے ثقافت کو پیچھے چھوڑ جاتے ہیں۔ اس کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں جیسے کہ اقبال کی نظم ”شکوہ“ اور صادقین کی عمومی پینٹنگز وغیرہ۔ فیض کے تصورِ فن میں ایک چیز جو متن کے درون موجود ہے وہ یہ کہ فن کار عام لوگوں سے مختلف ہوتا ہے وہ سماجی بیانیوں اور سماجی زندگی کے تابع نہیں ہوتا ہے۔

ہمیں فیض کا تصورِ فن اور تصورِفن کار سمجھنے میں، فن کار کے فکری اور فنی اظہاریے کی تفہیم سے بھی مدد ملتی ہے۔ ایک رواں معاصر فکری تحریک کی لہر یا کوئی معاصر فکری بیانیہ عمومی طور پر سماج کو ”بُری“ طرح سے متاثر کرتے ہیں اور عموی طور پر سماجی اظہاریے بھی تقریباً ایک سے دکھائی دیتے ہیں اور اگر ایسی صورتِ حال ادب یا فن میں بھی دکھائی دے رہی ہو تو یہ بات پریشان کن ہوتی ہے کہ فکری میلان عبوری بیانیوں کی زد پر دکھائی دیتے ہیں۔

لہٰذا کسی بھی سماج کی ”نمائندگی“ کا اختیار سماجی اکائیوں کی بجائے ”فن کاروں“ کے ہاتھ میں آ جاتا ہے اور وہ زبان کے توسیعی اختیار کے طفیل نمائندگی کو بہتر طور سے حنوط کر سکتے ہیں۔ شاعری کو اگر ہندوستان میں سماجی حیات کی زبان سمجھا جائے تو جو فن کار ہندوستانی سماج کی نمائندہ ثقافتی شبیہہ بنانے میں سامنے آتے ہیں، ان میں امیر خسرو، غالب اور اقبال سب سے اہم ہیں۔ امیر خسرو خاص طور پر ہندوستانی سماجی میں ہندو مسلم ثقافت کے تشکیلی دور کے مبصر اور مصور کے طور پر بہت اہم شاعر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔

 ایسے ہی غالب اسی ثقافتی دور کے زوال کے شاہد کے طور پر سامنے آتے ہیں، اگرچہ فیض، غالب کو فلسفی یا مفکر نہیں سمجھتے لیکن غالب کے ہاں اس کے سماج پوری طرح سے ظاہر ہوتا ہے اور سماج محض تصویری سطح پر نہیں بلکہ اپنے پوری فکری شعور، کرب اور جمالیات کے ساتھ نمایاں ہوتا ہے۔ اقبال کے بارے میں فیض کا رویہ ایک مشفق تابع کا ہے، اقبال کی فلسفیانہ فکر کے قائل ہونے کے ساتھ ساتھ فیض اقبال کی شاعری کے ہاں جذباتی لگاؤ کے بھی قائل ہیں۔

فیض اور اقبال کے ہاں بہت سی قدریں مشترک ہیں، مثلاً اقبال اور فیض دونوں کا تعلق سیالکوٹ سے ہے، دونوں کے استاد ایک یعنی میرحسن، دونوں عربی کے استاد، دونوں نے مضامین انگریزی میں لکھے، دونوں نے لیکچرر شپ کی، بلکہ ایک پروگرام جس کی صدارت اقبال کررہے تھے اس پروگرام کی ابتدا فیض نے تلاوتِ کلامِ پاک سے کی۔ دونوں کے ہاں ایک دلچسپ تفاوت ہونے کے باوجود ایک خاص فکری تعلق بھی نظر آتا ہے۔ ایک بات طے ہے کہ کوئی بھی ”فنکار“ تب تک بڑا فن کار نہیں بن سکتا جب تک وہ اپنے عہد کو اپنی تخلیقی حیات کا بنیادی بیانیہ نہیں بناتا، دنیا کا کوئی بھی بڑا ادیب اٹھا لیں اس کو بڑا بنانے والے عوامل میں سے اس کے ہاں عہد کی سماجی زندگی پر اس کا بیانیہ بھی ہو گا۔

اور یہ سماجی زندگی ہی کسی بھی سماجی اکائی کی ثقافتی تشکیل کا باعث بنتی ہے۔ فیض نے ٹی وی پر ایک تقریر میں ثقافت اور تہذیب کے بارے میں کچھ یوں کہا تھا: ”ہماری زبان میں کلچر کا ہم معنی لفظ موجود ہی نہیں ہے، یعنی وہ لفظ جس کو ہم بالکل اس کے مترادف کہہ سکتے ہیں ہمارے ہاں موجود نہیں ہے۔ میں ثقافت کی بجائے پرانا لفظ تہذیب استعمال کروں گا جس سے ہم سب مانوس ہیں، تہذیب سے میری مراد وہی ہے جو لفظ کلچر کا ہے۔

اردو زبان میں لفظ کلچر کے ہم معنی لفظ موجود نہ ہونے پر ہمیں حیران نہیں ہونا چاہیے اس لیے کہ آج سے دو سو برس پہلے یہ لفظ خود انگریزی میں بھی موجود نہیں تھا“۔ بقول فیض ہر قوم یہ خود طے کرتی ہے کہ اسے اپنی تاریخ اور ثقافت کا آغاز کس نقطے سے کرنا ہے، مثلاً بقول فیض فرانسیسی اپنی تاریخ اس وقت سے شروع کرتے ہیں جب گالز نے سب سے پہلے فرانس کی طرف ہجرت کی، ایرانی تختِ جمشید سے شروع کرتے ہیں۔ غرضیکہ ہر قوم خود تصور کرتی ہے کہ اور خود فیصلہ کرتی ہے کہ اس کی تاریخ وقت کے کس نقطے سے شروع ہوتی ہے۔

اسی طرح ہر قوم کے کلچر کا بھی ارض ہوتا ہے، یعنی کوئی قوم اپنی جغرافیائی حدود کہاں تک مقرر کرتی ہے، وہ جہاں تک بھی اپنی جغرافیائی حدود متعین کرتی ہے اس کے کلچر کی ارضی حد کہلاتی ہے ”۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا شناخت کا تعلق قومیت سے ہے؟ کیا قومیت کوئی ایسے مرئی شے ہے جسی ثقافتی بیانیوں یا ثقافتی حیات میں عملی طور پر ظاہر کیا جاسکتا ہے۔ جوزف ارنسٹ رینوں ایک فرانسیسی دانش ور تھا جس نے تصورِ قوم کی یوں تعریف کی تھی“ قومیت لوگوں کی اکٹھے رہ کر کچھ بڑا کرنے کی خواہش کا نام ہے ”۔

جرمن ادیب فشٹ نے قوم کو یوں بیان کیا ہے“ قوم سے مراد وعوامی اجتماع جو مشترکہ خصائص رکھتا ہے یعنی کہ نسل، زبان، نظریہ وغیرہ ”، جمہوریہ چیک سے تعلق رکھنے والے کارل ڈیوشے کے مطابق“ قوم سے مراد افراد کا گروہ جواپنے ماضی سے متعلق غلط فہمی پر مشتمل نظریات کی وجہ سے اکٹھا ہو گیا ہو اور یہ کہ اپنے پڑوسیوں سے نفرت اس کا مرکزی بیانیہ ہو”۔ ارنسٹ رینوں کے نزدیک imperial stewardship یعنی سامراجی نگراں سازی“ گورے ”لوگوں کا بنیادی حق تھا۔

گویا ثقافتی منطقہ اور شناختی بیانیہ جغرافیائی سطح پر اپنی تعریف تبدیل کرلیتا ہے۔ فیض کے نزدیک“ فن ”جغرافیائی منطقے سے علاحدہ ہوتا ہے یعنی اس پر علاقائی سرحدوں کا اطلاق نہیں ہوتا تاہم بینیڈکٹ اینڈرسن اپنی کتاب “تصوراتی سماجی گروہان” میں لکھتا ہے“جدید تصورِ قوم سترہویں اور اٹھارویں صدی کے تصورِ قوم کی موت ہے جس کو مقدس متون، الوہیات، اور تاج کے جبر نے متشکل کیا تھا ”۔ ایسے ہی مادی معروضی صورتِ حال اور مطقی پیش بینی نے نئے انسانی سماج کو متشکل کیا“۔ اس سارے منظر نامے میں آج آزادی کے اکہترویں برس ہم اپنی شناخت اور تصورِ قوم کے حوالے سے معروضی طور پر ایک ایسے ابہام کے رُوبرُو ہیں جس کو اختراع کرنے میں ہمارے دانش ور وں کا بھی پورا پورا کردار رہا ہے کہ ہم بحیثیتِ قوم اپنے تاریخی ارض کی تعین سازی کرنے میں ناکام رہے ہیں اور یہ بہت بڑا سانحہ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 1
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں