آج مرغی اور کبوتروں کی افزائش جیسے موضوعات کی ضرورت ہے


آپ کا وقت بچانے کے لئے آغاز ہی میں بتائے دیتا ہوں کہ میں اس کالم میں نواز شریف کو پیرکے روز سنائی سزا کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہارکرنے نہیں جارہا۔ بہت عرصہ قبل یہ دریافت کیا تھا کہ ہم بطور قوم اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوچکے ہیں۔ اس تقسیم کی شدت کا علم ہونے کے باعث مجھے خبر ہے کہ میں غیر جانبدارانہ صحافت کے تمام اصولوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سیاسی تقسیم سے بالاترقانونی ماہرین سے رجوع کرنے کے بعد اگر اس نتیجے پر پہنچوں کہ سابق وزیر اعظم کو بالآخراپنے کیے کی سزا مل گئی تو موصوف کی محبت میں مبتلا لوگ اعتبار نہیں کریں گے۔ میری رائے کو رد کردیا جائے گا۔ کئی لوگ اس ضمن میں ہوئے صحافتی لیگ ورک کو دیکھ نہیں پائیں گے۔ میری کاوش کو بلکہ حکمران وقت کی توجہ اور شفقت حاصل کرنے کی مشق ٹھہرایا جائے گا۔

میری رائے اس کے برعکس ہو تو اسے نواز شریف کے مخالفین تسلیم نہیں کریں گے۔ ”لفافہ صحافت“ کے طعنے دیے جائیں گے۔ فلسفے کا طالب علم ہوتے ہوئے ”معروضی حقیقت“ جاننے کے مختلف النوع تصورات کو رٹا لگاکریادرکھنا ضروری تھا۔ وہ یاد تو اب بھی ہیں لیکن عملی زندگی میں کام نہیں آرہے۔ کم از کم سیاسی حوالوں سے ”حقیقت“ وہی ہے جو آپ ذاتی طورپر سمجھتے ہیں اور صحافیوں سے فقط اس کا اثبات چاہتے ہیں۔

نواز شریف کو بظاہر اس وجہ سے جیل جانا پڑا ہے کیونکہ وہ لندن میں موجود اپنے بچوں کے فلیٹوں اور کاروبار کی منی ٹریل نہیں دے پائے۔ ان کا جرم مگر مالیاتی جرائم میں شمار ہوگا۔ ہمارے ایک وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو مگر قتل جیسے سنگین جرم کا مرتکب ٹھہراکر پھانسی پہ چڑھادیا گیا تھا۔ انہیں سزا دینے والوں کو کامل یقین تھا کہ وہ ایک فسطائی حکمران تھے۔ ریاستی اداروں کو اپنے سیاسی مخالفین کی بیخ کنی کے لئے مافیا کی طرح استعمال کرتے تھے۔ اس پیغام کو اجاگر کرنے کے لئے کئی جلدوں پر مشتمل ”ظلم کی داستانیں“ بھی شائع ہوئی تھیں۔ ٹیلی وژن پر بھی اسی عنوان سے کئی پروگرام چلے۔ بھٹو کے جیالوں نے مگر اس الزام کو آج تک تسلیم نہیں کیا ہے۔

ایک عام پاکستانی ہوتے ہوئے مجھے فکر تو یہ لاحق ہے کہ ہمارے قدآور سیاست دانوں کے خلاف چلے مقدمات کو غیر سیاسی افراد کے خلاف چلائے مقدمات سے مختلف کیوں تصور کیا جاتا ہے۔ اس ضمن میں آئے فیصلے ”متنازعہ“ کیوں ہوجاتے ہیں۔ اگرچہ یہ حقیقت پاکستان ہی سے مختص نہیں۔

امریکہ ایک بہت ہی ترقی یافتہ ملک تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کے اداروں کی تکریم بھی اپنی جگہ مسلم ہے۔ صدر ٹرمپ کو اپنے کاروبار اور روسیوں سے تعلق رکھنے کے سبب لیکن یکے بعد دیگرے کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ موصوف کے دو قریب ترین مصاحبین اس ضمن میں عدالتی فردجرم کا نشانہ بھی بن چکے ہیں۔ کئی الزامات کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ کانگریس کو جوابدہ خصوصی پراسیکیوٹر اس حوالے سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکی میڈیا کاطاقت ور ترین حصہ یہ دعویٰ کررہا ہے کہ شاید آئندہ سال کسی وقت ٹرمپ کو اپنی پارلیمان میں تحریکِ مواخذہ کا سامنا کرنا ہوگا۔

حال ہی میں امریکی صدر نے شام سے اپنے ملک کی فوج واپس بلانے کا ”اچانک“ اعلان کیا تو وہاں کے وزیر دفاع میٹس نے استعفیٰ دے دیا۔ یہ جرنیل بہت اساطیری شمار ہوتا تھا۔ اس نے جو استعفیٰ لکھا اس کا متن کئی لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کررہا ہے کہ امریکہ کی ڈیپ سٹیٹ یا سلطنت عثمانیہ کی متعارف کروائی ”دریں دولت“ ٹرمپ مخالف ہوگئی ہے۔

ٹرمپ کے حامی مگر اس کے خلاف لگائے الزامات کو وقعت نہیں دے رہے۔ حال ہی میں ایک سروے ہوا ہے جس کے نتائج بتاتے ہیں کہ امریکی رائے عامہ کا 38 فی صد حصہ بہت شدت سے یہ محسوس کرتا ہے کہ ان کے ملک کی روایتی اشرافیہ ”عام آدمی (یعنی سفید فام متوسط اور نچلے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا امریکی مسیحی) کی سوچ اور خواہشات کی نمائندگی کرنے والے“ ٹرمپ سے خوش نہیں۔ نیویارک ٹائمز اور سی این این جیسے میڈیا گروپس روایتی اشرافیہ کے ہتھیار ہیں۔ ٹرمپ کو بدنام کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ اس کے خلاف جھوٹی کہانیاں گھڑتے ہیں۔ اس کا مذاق اُڑاتے ہیں۔ امریکی رائے عامہ میں ٹرمپ کی ذات اور خیالات کے حوالے سے ہوئی تقسیم کئی لکھاری بہت فکرمندی سے ”قبائلی“ قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کئی حوالوں سے مختلف النوع تعصبات پر مبنی تقسیم سے کبھی آزاد ہی نہیں ہوا تھا۔ سیاسی منظر نامے پر تقسیم بہت شدت سے حاوی ہے اور مجھے اس تقسیم سے بالاتر رہتے ہوئے صحافت جاری رکھنے کا طریقہ نظر نہیں آرہا۔

اندھی نفرت وعقید ت میں تقسیم ہوئے معاشرے میں صحافت کی محدودات کے بارے میں سوچتے ہوئے چند روز قبل پڑھی ایک خبر نے ہرگز حیران نہیں کیا۔ وہاں ان دنوں جو حکومت ہے وہ قوم پرستی کے جذبات کو بھڑکاتی ہوئی تبدیلی برپاکرنے کے جنون میں مبتلا ہے۔ وہاں کی حکمران جماعت نے تمام صحافتی ادارے اپنے دولت مند حامیوں کے ذریعے خریدلئے ہیں۔ ”آزاد صحافت“ فقط انٹرنیٹ کی بدولت چلائی Sitesتک محدود ہوچکی ہے۔ سرکاری ٹیلی وژن ہی ”حقائق“ جاننے کا واحد ذریعہ رہ گیا ہے۔

دوہفتے قبل مگر اشیائے صرف کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے مجبور ہوکر شدید برفباری کے باوجود ہزاروں مظاہرین دوردراز دیہات اور قصبات سے سفر کرتے ہوئے ہنگری کے دارالحکومت پہنچ گئے۔ فرانس میں جاری ”پیلی جیکٹ تحریک“ سے یہ لوگ متاثر نظر آئے۔

دارالحکومت پہنچ کر مظاہرین نے مگر وزیر اعظم ہاؤس یا پارلیمان کے بجائے سرکاری ٹیلی وژن کے گھیراؤ کا فیصلہ کیا۔ سکرین پر اس وقت ”کرنٹ افیئرز“ کے نام پر جو پروگرام چل رہا تھا اس کے شرکاء بہت شدت سے یہ طے کرنے میں مصروف تھے کہ کبوتروں کی افزائش سے ان کا ملک کتنازرمبادلہ کماسکتا ہے۔ کبوتر کاگوشت سرد ممالک میں مقبول کیوں ہورہا ہے۔

مظاہرین اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود سرکاری ٹیلی وژن کی عمارت میں گھس نہیں پائے۔ پولیس سے مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ ہوا کہ ان کا ایک نمائندہ کبوتروں کی افزائش کے بارے میں جاری Liveبحث میں حصہ لیتے ہوئے یہ بتائے گا کہ ہنگری کے ”اصل مسائل“ کیا ہیں۔ وہ نمائندہ جب عمارت میں داخل ہوکر سٹوڈیو میں پہنچا تو حکمران جماعت کے ایک نمائندے سے اس کی بحث تلخ ہوگئی۔ حکمران جماعت کے نمائندے نے غصے میں اسے زمین پر پٹخ دیا۔ مظاہرین کو اپنے نمائندے کو عمارت سے باہر نکلواکر ہسپتال پہنچانے کی فکرلاحق ہوگئی۔ کبوتروں کی افزائش پر بحث جاری رہی۔

مجھے بھی ان دنوں کبوتروں کی افزائش جیسے موضوعات درکار ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے مرغی پال سکیم متعارف کروائی تھی۔ دیسی انڈوں کے فضائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ ”واشنگٹن پوسٹ“ کی مشہور نامہ نگار پامیلا کانسٹیبل نے اس پر ایک تفصیلی خبر بھی لکھی ہے اور تاثر یہ دیا ہے کہ پاکستانی متوسط طبقے کی اکثریت دیسی انڈوں کی اہمیت جانتی ہے اور اپنی حکومت کے اس فیصلے سے بے پناہ خوش کہ مرغیوں کی افزائش کی سرپرستی کی جائے گی۔ حیرت ہوئی کہ مجھ جیسے دیسی کالم نگار دیسی مرغی اور ا نڈوں کی اہمیت کو دریافت کیوں نہ کر پائے۔

میں اس ضمن میں خود کو ملامت اس لئے بھی کررہا ہوں کہ گزشتہ پانچ برسوں سے تقریباً ہر مہینے بازار میں جاکر دیسی مرغیوں کی تلاش میں وقت ضائع کرتا رہا۔ مجموعی طورپر کم از کم 300 مرغیاں ضرور خریدی ہوں گی۔ اب صرف پندرہ باقی رہ گئی ہیں اور وہ بھی انڈے نہیں دیتیں۔ اسلام آباد کے نواح میں واقع شاہ اللہ دتّا کے چند بزرگوں سے ”ٹوٹکے“ حاصل کرتا تھک گیا ہوں۔ شاذہی دیسی انڈے وافر مقدار میں نصیب ہوئے۔ جو میسر ہوں انہیں گھر لاتا ہوں تو بچیاں انہیں کھانے سے انکارکردیتی ہیں۔ انہیں دیسی انڈے سے ”بو“ آتی ہے۔ صرف میں ہی بہت سارے دھنیا کے ساتھ بنائے آملیٹ کے لئے استعمال کرتا ہوں۔
بشکریہ نوائے وقت۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں