وہ لڑکی لعل قلندر تھی، وہ کائنات اندر سمیٹے تھی
منحوس 27 دسمبر ایک بار پھر آ گیا۔ ایک بار پھر وہ درد، وہ کرب، وہ اذیت، وہ دکھ ذہنوں، دلوں پہ بسیرا کرنے کے لئے پر تول رہا ہے، جس نے 27 دسمبر کی شام پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ یہ کہانی 1971 میں پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد سے شروع ہوئی، اس نے 1979 میں بھٹو شہید کی شہادت کے موقع پر مزید تقویت پائی اور پھر 27 دسمبر 2007 کو لیاقت باغ راولپنڈی میں اپنے انتہائی درد ناک اور کرب ناک انجام کو پہنچی۔
آج محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے یوم شہادت کے موقع پر ان کو یاد کرتے ہوئے دل کو تھامنا پڑتا ہے کہ اگر آج وہ اس ملک کی قیادت کے لئے دست یاب ہوتیں تو شاید پاکستان کی سمت اور منزل کا ہمیں صحیح ادراک ہوتا۔
آج ہم مصائب و مسائل کی دلدل میں دھنسے نہ ہوتے۔ شاید ایسا ہی وقت ہوتا ہے جب ملک و قوم کو ایک صحیح جرات مند، نڈر اور بڑے بے باک لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے، ایسا لیڈر جس پر پوری قوم کو اندھا اعتماد ہو، ادارے اس کی اہلیت و ذہانت، اس کی ملکی و بین الاقوامی معاملات پر گرفت و مکمل آگاہی اور اس کی صلاحیتوں کے معترف ہوں۔ اور وہ لیڈر اپنی خداداد قابلیت کی بنا پر ایک منتشر و مایوس قوم کو اتحاد و امید کی منزل پہ پہنچا سکے۔
یہ تمام خوبیاں اور خصوصیات محترمہ بے نظیر بھٹو شہید میں بدرجہ اَتم موجود تھیں۔ اپنے والد کے عدالتی قتل کے بعد انتہائی مشکل و نا مساعد حالات کا کمال دلیری، ثابت قدمی، عزم و ہمت استقلال سے سامنا کر کے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کندن بن چکی تھیں۔ محترمہ شہید کی جس معرکتہ آلارا سیاسی زندگی کا اختتام 27 دسمبر کی منحوس شام کو لیاقت باغ راولپنڈی میں ہوا، در اصل اس کی منظر کشی کا کچھ خلاصہ تو انھوں نے اپنی کتاب میں خود ہی کیا تھا، جب انھوں نے امریکا کے سابق صدر جان ایف کینیڈی کی بیٹی کیتھلین کینیڈی کا تذکرہ کیا کہ ”میں چھوٹے جیلر کے سامنے بے بس کھڑی تھی اور میرے ہاتھوں میں اپنے والد کے بچے کچھے سامان کی ایک پوٹلی تھی جس میں ان کی قمیص بھی تھی، جس سے کولون شالیمار کے عطر کی خوش بو ابھی تک آ رہی تھی اور میں نے ان کی قمیص کو اپنے ساتھ بھینچ لیا؛ اس وقت مجھے کیتھلین کینیڈی یاد آ گئیں؛ جنھوں نے اپنے سینیٹر والد کے قتل کے بعد اس کا لباس پہن لیا تھا۔“
بی بی شہید پاکستان واپسی کے بعد یہ مصمم ارادہ کر چکی تھیں کہ اگر ان کے کندھوں پہ ملک کے جمہوری نظام کو چلانے کی ذمے داریاں آئیں، تو وہ ملک کو ایک روشن خیال اور ترقی یافتہ پاکستان بنائیں گی۔ بالکل نئی سوچ کے ساتھ مثبت سیاسی ماحول کو پروان چڑھائیں گی۔ مگر شومئی قسمت کہ ان کے روشن خیال ترقی یافتہ پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا اور انھیں جسمانی طور اپنے کروڑوں چاہنے والوں سے جدا کر دیا گیا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اپنے والد کی شہادت کے بعد انتقام کو اپنی مشعل راہ نہیں بنایا بلکہ اپنے عظیم والد کے چھوڑے ہوئے مشن کو مکمل کرنے کے عہد کو اپنی مشعل راہ بنایا۔ انھوں نے اپنے عظیم غم کو عزم میں بدل دیا، کیوں کہ وہ سمجھتی تھیں کہ اگر انھیں اپنے والد کی موت بدلہ لینا ہے، تو ایٹمی پاکستان کو ان کے خیالات ان کی خواہشات کے مطابق بنا کے وہ ان کے قتل کا بدلہ لے سکتی ہیں۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اپنے والد کی پنکی کس طرح مضبوط و فولادی بے نظیر میں ڈھل کر ان کے روشن و ترقی پسند پاکستان اور خوش حال و کامران قوم کے لئے دن رات کام میں جت گئیں۔
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں
لیکن شہید بینظیر بھٹو جیسی عظیم مفکر اور اپنے عوام کی خوش حالی اور ملک کے امن، تعمیر و ترقی کے لئے جد و جہد کرنے والے درد مند سیاسی لیڈر کا اس بے دردی اور سفاکی سے قتل پوری دنیا کی انسانیت کے منہ پر تمانچہ ہے۔ پوری دنیا نے محترمہ کے قتل کو نہ صرف انسانیت کا قتل قرار دیا بلکہ ان کا قتل پاکستان کی روشن خیالی سالمیت اور یک جہتی کا قتل قرار پایا۔ اتنے وسیع پیمانے پر اس قدر شدید عوامی رد عمل آیا کہ جس کی مثال دنیا کی سیاسی تاریخ میں ملنا مشکل ہے۔
بے نظیر بھٹو شہید صرف پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کی سربراہ نہیں تھیں، بلکہ وہ ایک دانا عالمی مدبر کی حیثیت اختیار کر چکی تھیں۔ پوری دنیا میں بڑی بڑی درس گاہوں میں دنیا کے ہر موضوع پر انتہائی مدبرانہ اور مفکرانہ لیکچرز دیتیں۔ دنیا کو اپنے ملک کے سیاسی اور معاشی حالات اور در پیش مشکلات سے آگاہ کرتیں۔ وہ دنیا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم اور افواج کی عظیم قربانیوں سے آگاہ کرتیں اور انھیں پاکستان کی مدد اور امن کے لئے قائل کرتیں۔
وہ اپنی ذات اور صفات میں پورے عالم کے لئے امن و انسانیت کی علم بردار بن چکی تھیں۔ انھوں نے سیاست، قوموں اور ملکی جغرافیائی حدود سے بالا تر ہو کر انسانیت کی خدمت و عبادت کے طور اپنا لی تھی، ان کے ارادے بلند اور سوچ و خیالات بہت وسیع تھے۔ وہ دنیا کے انسانوں کی فلاح، امن سلامتی، ترقی و خوش حالی اور دہشت گردوں اور دہشت گردی کی سرکوبی کے لئے اتنی وسیع سوچ رکھتی تھیں کہ ان کی قدموں میں کھڑے ان کے انتہا پسندانہ سوچ کے حامل دشمن نظر ہی نہیں آئے۔ ان کا قتل در اصل ظلم کے ہاتھوں انصاف کا قتل تھا۔ غنڈہ گردی اور بد قماشی کے ہاتھوں شرافت کا قتل، درندگی کے ہاتھوں انسانیت کا قتل تھا، بدی کے ہاتھوں نیکی کا قتل تھا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی عمر صرف 24 سال کی تھی، جب شہید بھٹو کا عدالتی قتل ہوا۔ وہ نہ سیاست سے آگاہ تھیں، نہ پارٹی لیڈروں اور کارکنوں سے کوئی شناسائی، مگر پھر بھی شہید بھٹو نے جیل سے انھیں جو آخری خط لکھا، اس میں انھوں نے اپنے اس عظیم عوامی ورثے پیپلز پارٹی کی وراثت شہید بی بی کو سونپ دی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ایک لیڈر بن کے انھوں نے اپنی پارٹی کو ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت میں بدلا اور کس طرح ایک بڑی بہن، ایک ماں بن کے انھوں نے اپنے کارکنوں کی سیاسی پرورش کی۔
آج جب محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو جدا ہوئے گیارہ برس بیت چکے ہیں، تو ان کو یاد کر کے میرے آنکھیں نم ہو چکی ہیں۔ وہ ساری سیاستیں، مخالفتیں، حمایتیں، نفرتیں، محبتیں اور وہ سب کچھ جو بی بی شہید کی ولولہ انگیز و معرکتہ آلارا زندگی کا خاصہ تھا، ماضی کے اندھیروں میں کہیں گم ہو چکا ہے۔ بی بی شہید نے 54 سال کی عمر پائی۔ انھوں نے زندگی کے 30 قیمتی سال صرف اور صرف جد و جہد کی۔ آکسفورڈ سے فارغ التحصیل تھیں۔ یونین کی پہلی خاتون صدر کا اعزاز پایا۔ اپنے والد شہید کے ساتھ شملہ معاہدے کے موقع پر ان کے ساتھ رہیں۔ تعلیم مکمل کر کے جون 77 میں واپس آئیں اور پھر 5 جولائی 77 سے مصائب و آلام، مشکلات و تکالیف بھرے تیس سالوں پر محیط دن 27 دسمبر 2007 کو ان زندگی کے خاتمے کے ساتھ تمام ہوئے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اپنے دو بار ایام اقتدار میں پاکستان کی عوام کی خوش حالی اور ملک کی ترقی کے لئے ان گنت فلاحی منصوبے شروع کیے، ملک کو میزائل ٹیکنالوجی دی، خارجہ پالیسی کو ملٹری اور سول بیورو کریسی کے تسلط سے آزاد کرنے کی کوششیں کیں، انھوں نے اپنے سیاسی حریف میاں نواز شریف سے مفاہمت کر کے میثاق جمہوریت کیا، تا کہ پاکستان کو جدید ترین جمہوری اصولوں سے روشناس کرایا جا سکے اور پاکستان دنیا کے تیز ترین ترقی کرنے والے ممالک میں شامل ہو سکے۔
بی بی شہید اس بات سے قائل تھیں کہ آمروں کے ہاتھوں مسخ شدہ آئین کا پاکستان مزید متحمل نہیں ہوسکتا، اسی لئے وہ میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر 1973 کا آئین جدید تقاضوں کے ساتھ بحال کرنے کی خواہش مند تھیں۔ وہ مسلسل خراب سول ملٹری تعلقات کو از سر نو بہتر کرنے کی خواہاں تھیں۔ وہ پیپلز پارٹی اور ملٹری تعلقات کو بھی بہتر کرنا چاہتی تھیں، تا کہ پاکستان اور عوام کی ترقی و خوش حالی کے راستے میں حائل رکاوٹیں دور کی جا سکیں۔ میاں نواز شریف سے تعلقات کی بہتری کا بھی ایک بہت بڑی وجہ یہی تھی کہ دائیں بازو کی سیاسی قوتیں بھی ہم نوا ہو جائیں گی تو ملکی معاملات چلانے اور عوام کی خوش حالی اور ترقی کی مسدود راہیں وا ہو سکیں گی۔
مگر کسے معلوم تھا کہ ان کی یہ سب خواہشیں، صرف خواہشیں ہی رہ جائیں گی اور اپنے کروڑوں چاہنے والوں کو روتا بلکتا، دنیا کو حیران و ششدر، اپنوں پرایوں کو افسردہ چھوڑ کر یوں اچانک دنیا سے چلی جائیں گی۔ آج ان کی شہادت کے گیارہ برس بعد پاکستان اس دوراہے پر آ کھڑا ہوا ہے، کہ اسے شہید بے نظیر بھٹو جیسے زیرک، مدبر، ملکی و عالمی معاملات سے شناسائی رکھنے والے دور اندیش رہنما کی ضرورت ہے، جو پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکال سکے۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر ایک ہندستانی اخبار نے اپنی اخبار کی لیڈ اسٹوری لگائی تھی، کہ آج پاکستان اپنے شناختی کارڈ سے محروم ہو گیا۔ میں آخر میں صرف یہ کہوں گا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے بعد پاکستان کی سیاست ایک حقیقی لیڈر اور رہنما سے محروم ہو چکی ہے۔ رب العالمین ان کی مغفرت فرمائے، اور ان کی روح کو جنت میں باغ ارم عطا فرمائے۔ آمین۔



