جنرل ضیا کی جعلی تلاوت اور بے نظیر بھٹو کی سادگی

ممتازسیاست دان اعتزاز احسن کسی زمانے میں کہا کرتے تھے کہ اس ملک میں دو فوجی ٹرکوں کی مدد سے اقتدار پر قبضہ ہوجاتا ہے۔ ایک ٹرک وزیراعظم ہاؤس روانہ ہوتا ہے، دوسرا پی ٹی وی کا رخ کرتا ہے اورملک میں مارشل لا لگ جاتا ہے۔ اس بیان سے ماضی میں پی ٹی وی کوحاصل سیاسی اہمیت کا پتا چلتا ہے ۔ اس ادارے کی تاریخ جب بھی لکھی گئی اس میں حکمرانوں کا ذکر ضرور آئے گا، جنھیں

Read more

بے نظیر بھٹو کی قیادت اور دیانت کیسے ثابت ہوئی؟

چوہدری نثار علی خان میں ایک خوبی بہت کمال کی ہے۔ بڑی سے بڑی خبر کو قومی مفاد میں اپنے سینے میں بند رکھتے ہیں۔ چوہدری صاحب نے جولائی 2017ء میں ایک بڑی پریس کانفرنس کرنا تھی۔ اگست گزر گیا۔ ستمبر آن لگا، چوہدری صاحب نے پریس کانفرنس نہیں کی۔ ایک انٹرویو البتہ سلیم صافی کو دیا ہے۔ تفصیلات اس انٹرویو کی نشر ہونے کے بعد سامنے آ سکیں گی۔ البتہ پورا بحیرہ عرب کھنگال کے اور پوٹھوہار کی پہاڑیوں

Read more

بے نظیر بھٹو۔ ہمت کا استعارہ

ایک ایسے فرد کے لیے کہ جس نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ وقت گزارا ہو، ان کی سالگرہ کا دن ایک ایسا موقع ہے کہ جب یادوں کا ایک سیل رواں اشک بن کر بہنے لگتا ہے۔ بے نظیر بھٹو کی زندگی درحقیقت ایک ایسی روشنی کی مانند تھی جو نہ صرف پاکستان بلکہ بدلتی دنیا کی بھی راہنمائی کرتی تھی۔ ہم جانتے ہیں کہ بہت ساری چیزوں کی طرح انہوں نے جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے طویل

Read more

محترمہ بینظیر بھٹو: ایک مثالی ماں

ڈاکٹر نسرین نمل یونیورسٹی میں عربی زبان و ادب کی پروفیسر ھیں ایک سرکاری میٹنگ جب ملتوی ہوئی تو ان سے مختلف موضوعات پر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا۔ دوران گفتگو یہ حیرت انگیز انکشاف ھوا کہ ڈاکٹر نسرین محترمہ بینظیر بھٹو کے بچوں بلاول اور بختاور کو قرآن مجید کی ناظرہ تعلیم پر مامور رھی ھیں ان دنوں محترمہ بینظیر بھٹو وزیراعظم پاکستان تھیں اور بحثیت ماں بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے فکر مند بھی رھتی

Read more

وہ لڑکی لال قلندر تھی

پانچ دن پہلے گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کے مزار پر مجھے ان کی سوانح حیات میں لکھا گیا ایک واقعہ یاد آیا۔ جس میں بی بی لکھتی ہیں کہ وہ بہت چھوٹی تھیں جب ایک بار ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو ان کو شام کے وقت اپنے گھر کے ساتھ ملحق قبرستان میں لے گئے اور کہا ”پنکی یہاں پر ہمارے آباؤ اجداد دفن ہیں۔ تم دنیا میں جہاں بھی چلی جاؤ مگر تمھیں لوٹ کر یہیں

Read more

بے نظیر بھٹو کا قاتل کون؟ ۔۔۔ اوئن بینیٹ جونز کا تجزیہ

بینظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون تھیں جنھیں کسی ملک کی سربراہی کا موقع ملا۔ مگر دسمبر 2007 میں قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوجانے کے بعد اگلے دس سالوں میں یہ زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ آیا کہ پاکستان کا نظام کیسے کام کرتا ہے بجائے یہ معلوم ہونے کے کہ ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم کو قتل کرنے کا حکم کس نے دیا تھا۔ 27 دسمبر 2007 میں بینظیر بھٹو کو 15 سالہ بلال نے خود کش

Read more

بے نظیر بھٹو کی شادی؛ چند یادیں

پاکستان میں بہت کم سیاستدان ایسے گزرے ہیں جن کی شادیوں پر عوام بھی شریک ہوئے ہوں گے۔خاص طور پرکسی خاتون سیاستدان کی شادی پر تو یہ سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ وہ دلہن بن کر کسی جلسے سے خطاب کرنے لگ پڑے گی ۔لیکن یہ انہونی 1987 میں بے نظیر بھٹو کی شادی پر رونما ہوئی جب انہوں نے شادی کے دن دور دراز سے آئی ہوئی اپنی عوام کے سامنے سٹیج پر جئے بھٹو کے نعرے بھی لگائے

Read more

بے نظیر سے میری آخری ملاقات

2007 کے نومبر کی بات ہے، مشرف کا دوسرا مارشل لاء چل رہا تھا اور وکلا تحریک زوروں پر تھی، شام چھ یا سات بجے کا وقت ہو گا میں اپنے گلبرگ میں واقع دفتر میں کام سمیٹ کر گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ محبوب صاحب کی کال آئی۔ بولے بےنظیر سے ملنا ہے؟ مجھے یقین تو نہ آیا لیکن فورا کہا جی بالکل۔ کہنے لگے شام آٹھ بجے عاصمہ جہانگیر کے گھر آ جاؤ۔ آٹھ بجے سے دس پندرہ منٹ پہلے ہی وہاں پہنچ گیا۔ اور بھی کچھ لوگ جنھیں ان دنوں سول سوسائٹی کے طور پر جانا جاتا تھا وہاں موجود تھے۔ سب کو تو میں نہیں جانتا تھا لیکن حسین نقی، مدیحہ گوہر، رحیم، رابعہ باجوہ اور پروفیسر قزلباش سمیت چند ایک دیگر کے ساتھ میری شناسائی تھی

Read more

بے نظیر کو لفٹ دینے کا قصہ

10 اپریل 1986 کا دن چڑھا لاہور ائیرپورٹ جانے والے آخری چوک میں گزری رات سے ڈیرے ڈالے تھے، ہزاروں بلکہ ملک بھر سے آئے لاکھوں افراد کو اس لمحے کا شدت سے انتظار تھا جب وہ جلاوطنی ختم کرکے وطن آنے والی بھٹو کی بیٹی کی ایک جھلک دیکھنا چاہتے تھے۔ ٹرک پر پارٹی کی قیادت کے ساتھ سر پر دوپٹہ اوڑھے خوبصورت چشمہ پہنے بڑے پراعتماد اور فخر کے ساتھ کھڑی بے نظیر بھٹو نے جب ہاتھ ہلاکر

Read more

بھٹائی کی ایک بیت بے نظیر کے نام

شاہ عبدالطيف بھٹائی کے ایک بیت کا ترجمہ آج میری طرف سے بینظیر بھٹو کے نام. بیت کا کردار عشق کے دریا میں اتری ہوئی "سوہنی(سھڻي)” ہے. (ترجمہ: نورالہدیٰ شاہ) شوقِ سفرِ عشق میں جاں کچے گھڑے پر دھرے معاملہِ دل، رب پے رکھے بپھرے دریا میں اترے گی لڑکی گرجتی، لپکتی موجوں کے ہنگامہ و غوغا میں کوئی نہ ہوگا جو سنے اس کی آہ و بکا دریا میں چھپ بیٹھا مگر مچھ منہ پھاڑے منتظر ہو گا کہ

Read more

بے نظیر اور تین دریا

افتخار عارف نے کہا ہے ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں آج اُس بدقسمت ستائیس دسمبر کو گزرے بارہ سال ہونے کو آئے لیکن وہ ساعتیں اب بھی نہیں بھولتی جب میں اور میرا کزن مانچسٹر کے سٹاک پورٹ ٹاؤن میں لگی کرسمس کی سیلوں سے خریداری کر رہے تھے تب یہ اندوہناک خبر سننے کو ملی تھی اور ہم سب کچھ چھوڑ کر گھر کی طرف بھاگے تھے کہ

Read more

وہ لڑکی لعل قلندر تھی، وہ کائنات اندر سمیٹے تھی

منحوس 27 دسمبر ایک بار پھر آ گیا۔ ایک بار پھر وہ درد، وہ کرب، وہ اذیت، وہ دکھ ذہنوں، دلوں پہ بسیرا کرنے کے لئے پر تول رہا ہے، جس نے 27 دسمبر کی شام پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ یہ کہانی 1971 میں پاکستان کے دو لخت ہونے کے بعد سے شروع ہوئی، اس نے 1979 میں بھٹو شہید کی شہادت کے موقع پر مزید تقویت پائی اور پھر 27 دسمبر 2007 کو لیاقت

Read more

جب بی بی شہید ہوئی تو میں۔۔۔ چھت پر جا کر رو دیا!

ہمارے جیسوں کی سیاسی وابستگیاں نہیں ہوتیں انسانی وابستگیاں ہوتی ہیں۔ ہمارے گھر اور رشتہ داروں میں پاکستان پیپلز پارٹی سے ہمدردی کی گنجائش کم تھی۔ نوے کی دہائی میں جب بی بی کے خلاف کردار کشی مہم چلی تو پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ گنے چنے جاننے والے منہ چھپاتے پھرتے تھے۔ بی بی کے خلاف بازاری زبان میں شعر زباں زد عام تھے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ کسی بھی عورت جس سے ہم کسی بھی حوالے سے وابستہ ہوں اس پر کیچڑ اچھالا جائے جھوٹی کردار کشی کی مہم چلائی جائے اور سب جانتے بھی ہوں کہ یہ جھوٹ ہے تب بھی ہمارے سر شرم سے جھک جاتے ہیں جبکہ بی بی کے مقابلے میں نواز شریف تو بہر حال مرد تھے۔ مرد کی کردار کشی زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتی ہے کہ رنگ رلیاں مناتے ہوئے پکڑا گیا تو کیا ہوا مرد ہے شہزادہ ہے کچھ تو کرے گا۔ یہ میں آپ کو روایتی دیہی سوچ کے تناظر میں بتا رہاہوں۔ تو اس وقت ایک شہزادے اور ایک شہزادی۔۔ نہیں بلکہ ایک شہزادے اور ایک عورت کے درمیان سیاسی جنگ عروج پر تھی۔ اور ہمارا خاندان اور بیشتر گاؤں کی آبادی شہزادے کے ساتھ تھی۔ تو اس پس منظر کے حامل کو پیپلز پارٹی سے کیا ہمدردی ہو سکتی تھی؟

Read more

بندوقوں کے سائے میں بے نظیر کا غریب ووٹر

ایک دن گپ شپ کے دوران عائشہ صدیقہ نے پوچھا کہ بی بی کی لیگیسی کیا ہے؟ فوری جواب تو یہ بنتا تھا کہ پیپلز پارٹی! پر پتہ نہیں کیوں ایک فضول سا جواب لگا یہ۔ حال ہی میں بلاول کو دیکھتے ہوئے اپنے ہی دماغ نے یہ سوال دہرایا اور جواب سوچا کہ کیا بلاول بی بی کی لیگیسی ہے؟ اس جواب پر بھی دل نہ مانا۔ کچھ روز پہلے جب حیدرآباد سے کراچی واپس آ رہی تھی اور

Read more

بینظیر بھٹو کی جیل میں سالگرہ

بیگم نصرت بھٹو، کراچی سینٹرل جیل میں قید ہیں۔ بے نظیر بھٹو کو سکھر جیل میں محبوس کیا گیا ہے جہاں وہ 12 مارچ سے تھیں۔ ایسے میں 21 جون کو بینظیر بھٹو کی سالگرہ قریب آتی ہے تو بیگم نصرت بھٹو ان کو خط لکھتی ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو کراچی سنٹرل جیل 9 جون 1981 بنام مس بے نظیر بھٹو سکھر سنٹرل جیل میری دلاری بے بی! جب تمہیں میرا یہ دوسرا خط ملے گا تو تمہارا یوم پیدائش

Read more

بینظیر کی مصلحت پسندی اور پاکستانی سیاست

بینظیر بھٹو نے پاکستانی سیاست میں جمہوریت کے لیے جو جدوجہد کی ہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے بینظیر بھٹو اگر کچھ عرصہ اور زندہ رہتی تو کیا ہوتا! اس بارے میں کافی قیاس آرائیاں ہو سکتی ہیں۔ لیکن وہ ماضی میں کیا تھیں بہت کچھ یقین سے کہا جا سکتا ہے۔ ان پر کرپشن کے الزامات لگے، ان پر خراب حکمرانی کی آوازیں بھی کسی گئیں، مگر ان کے نڈر ہونے پر کسی نے شک نہیں کیا۔ شاید

Read more