تھر کا ڈاکٹر اور ایک بوری کھجور


میں نے بھی خوشی سے حامی بھرلی تھی۔ نہادھوکر پہلے دن جب میں ڈاکٹر کے ساتھ کھانا کھا کر امجد کی بنائی ہوئی چائے کے مزے لے رہا تھا تو ڈاکٹر نے پوچھا کہ کون ہے تمہارا ڈبلیو ایچ او میں جس نے تمہیں یہاں بھیجا ہے۔

”میں سمجھا نہیں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ “ میں نے سوال کیا تھا۔

”ارے کوئی جاننے والا ہوگا ڈبلیو ایچ او میں جس نے تمہیں یہاں کچھ پیسہ بنانے بھیج دیا ہے۔ کوئی رشتہ دار، دوست ہوگا تبھی ناں۔ ارے بھائی ہر تین چار سالوں کے بعد یہی ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ہیڈ کوارٹر میں ایسی رپورٹیں جمع ہوتی رہتی ہیں پھر کوئی نیا افسر آتا ہے، نئے پلان بناتا ہے اور پھر نئے لوگ بھرتی کیے جاتے ہیں بڑی تنخواہوں پر نئی رپورٹیں بنتی ہیں اور ہوتا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہر نیا آنے والا پرانی رپورٹوں کو الگ رکھ دیتا ہے۔ اقوام متحدہ بھی سرکار کی طرح ہی ہے۔ یہ چھوٹی سرکار، وہ بڑی سرکار دونوں بے حساب، دونوں بے کار۔ “

ڈاکٹر نے ایک لمبی سانس لی اور مسکرا کر مجھے دیکھا تھا۔ بات تو شاید صحیح ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہے مگر یہ صحیح نہیں ہے کہ میرا کوئی جاننے والا ڈبلیو ایچ او میں ہے۔ میں نے تو اخبار میں اشتہار دیکھ کر درخواست بھیجی تھی اورجب انٹرویو کے بعد میرا انتخاب ہوگیا تومجھے پتہ چلا کہ ایسے سروے پہلے بھی ہوئے ہیں، دل میں تو آیا تھا کہ میں منع کردوں لیکن پھر یہ سوچ کر کہ انتخاب کے اتنے پیچیدہ طریقوں سے گزرنے کے بعدایسا کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ شاید میں کوئی بہتر رپورٹ لکھ سکوں، اچھا کام کرسکوں شاید اس کا کوئی فائدہ ہوجائے۔

ڈاکٹر نے میری بڑی مدد کی، گذشتہ پچاس سالوں کا تجربہ تھا ان کے پاس، صحرا کے ہر ذرّے سے شناسائی تھی ان کی۔ چھوٹے چھوٹے گاؤں میں لوگ پوجتے تھے ان کو۔ ان گنت جانیں بچائی تھیں انہوں نے۔

مجھے ان کی عزت کا اندازہ اس وقت ہوا جب میں ان کے ساتھ چند جگہوں پر گیا تھا۔ جیپ کے رُکتے ہی قصبوں، دیہاتوں، گاؤں میں جیسے کرنٹ دوڑجاتا، جوق در جوق لوگ چلے آتے تھے ان کی پذیرائی کے لیے، کوئی ہاتھ ملاتا کوئی گلے ملتا، کوئی ہاتھ چومتا، کوئی پیروں پر جھک جاتا۔ ایسا لگتا جیسے ہر کوئی مقروض ہے ان کا۔

اس وقت میری سمجھ میں آیاکہ ڈاکٹر اپنی بیٹیوں کے گھر پر شہر جا کے کیوں نہیں رہتے ہیں۔ کیا تھا شہر میں ان کے لیے۔ دو بیٹیوں کے عالیشان مکانات، دو بہت معروف داماد، اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوئے نواسے، صبح سے شام تک زندگی جمخانے میں نہیں گذاری جاسکتی ہے، ڈاکٹر کی زندگی تو یہاں تھی۔ مٹی کے بنے ہوئے گوشت پوست کے انسانوں کے درمیان۔ جنہیں سانپ کاٹتے، جو خون کی اُلٹیاں کرتے ہوئے آتے اور ڈاکٹر کے ایک انجکشن کے بعد ہنستے ہوئے گھر چلے جاتے تھے۔ مچھروں کے ڈسے ہوئے بچّے، بوڑھے، عورتیں جوان بخار اور کپکپاتے ہوئے جسم کے ساتھ موت اپنی آنکھوں میں لے کر آتے اورڈاکٹر سے علاج کے بعد دُعائیں دیتے ہوئے چلے جاتے تھے۔ جاتے جاتے جو جس کے بس میں ہوتا وہ ڈاکٹر کی نذر کرتا، مانگے بغیر بہت اصرار کرکے فیس دی جاتی تھی۔

ڈاکٹر نے ساری زندگی یہاں کام کیا، یہاں کی ہی آمدنی سے شہر میں گھر رکھ کر اپنی دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کو پڑھایا، انہیں ذمہ دار، اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان بنایا۔ بیٹا انگلینڈ گیا پھر وہاں ہی کاہوگیا اور اب سال کے سال باپ کو دیکھنے آتا ہے اور بیٹیوں کی شادی کے بعد ڈاکٹر کی بیوی بھی اس صحرا کے اس چھوٹے سے شہر میں رہنے کو آگئی تھی۔ سال بھر پہلے یکایک اسے دل کا دورہ پڑا اور انتقال ہوگیا تھا۔ تب سے ڈاکٹر اکیلا تھا اپنے نوکر امجد کے ساتھ۔

میرے سروے کے دوران لوگوں نے بتایا تھا۔ گاؤں کے چوراہے پر، چائے خانوں میں، پان کی دکانوں پر، کنویں سے پانی نکالنے والے لوگوں نے قصبوں کے بازاروں کی دوکانوں میں کہ کیا کیا تھا اس ڈاکٹر نے نہ جانے کتنے لوگوں کو زندگی بانٹی تھی۔ ان کے درد کو سہا تھا، جہاں سرکار نہیں تھی وہاں ڈاکٹر تھا جہاں صرف دُعائیں تھیں وہاں وہ اپنے انجکشن لگا لگا کر دماغی ملیریا اور سانپ کے کاٹے کا علاج کرتا رہا، اس نے اپنی تصویریں نہیں چھپوائیں اخباروں میں، کوئی عام سا آپریشن کر کے ٹیلی ویژن پر انٹرویو نہیں دیا، سرکار سے کوئی تمغہ نہیں لیا، پی آر کی فرموں اور ایجنسیوں سے گٹھ جوڑ کرکے جعلی نام نہیں بنایا۔ ذلتوں کے مارے ہوئے غریب لوگوں کی سانسوں میں سانس ملائی، ان کے ہاتھوں کو پکڑ کر انہیں کھڑا کردیا، ان کے زخموں کو اپنا زخم سمجھا، حکومتیں، وزارتیں، بین الاقوامی ادارے اور سماج کے ٹھیکے داروں کے لیے یہ کوئی کام نہیں تھا۔

امجد نے مجھے بتایا کہ آہستہ آہستہ ڈاکٹر کی صحت خراب ہوتی جارہی ہے، ابھی بھی اس خراب صحت کے باوجود صبح ہوتے ہی مریض آنا شروع ہوجاتے اور ڈاکٹر اپنے کمپاؤنڈر اور امجد کی مدد سے صبح سے شام تک مریضوں کو دیکھتا رہتا۔ سگریٹ پی پی کر، کھانس کھانس کر اپنے وجود کو ہلکان کرنے کے باوجود۔ لگتا تھا ڈاکٹر کی طاقت میں کمی ہوگئی ہے جنون میں کمی نہیں۔

میرا کام تقریباً ختم ہونے پر تھا۔ میں نے پورے صحرا کا ایک سروے کیا تھا، مختلف قسم کے سانپوں کی درجہ بندی کی تھی۔ اچھی بات یہ تھی کہ زیادہ تر سانپ زہریلے نہیں تھے۔ چند قسمیں ایسی تھیں جن میں بلا کا زہر تھا اور جن کے کاٹے کا علاج اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا کہ جلدازجلد زہر کے خلاف انجکشن لگائے جائیں۔

حکومت کا کوئی انتظام نہیں تھا، سارے بنیادی صحت کے مرکز خالی پڑے تھے۔ صرف عمارتیں، دیواریں چھتیں، میز اور کرسیاں جن کی چوکیداری کے لیے عام طور پر ایک آدمی ہوتا۔ کسی جگہ پر بھی ڈاکٹر نرس یا مڈوائف موجود نہیں تھی۔ بڑے قصبوں کے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر ضرور تھے مگر زیادہ تر اپنے پرائیویٹ کاموں میں مصروف، غریب مریض کے لیے زندگی کو سنبھالنا ایک مسئلہ ہی تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3