تھر کا ڈاکٹر اور ایک بوری کھجور


بوڑھے ڈاکٹر نے سگریٹ کا بھرپور کش لیا اور پھر کھانسنا شروع کردیا۔ کھانسی آہستہ آہستہ تیزتر ہوتی چلی گئی، اتنی تیز کہ کانوں کو بُری لگنے لگی۔ میں پانی کا گلاس لے کر اندر پہنچا تو کھانس کھانس کر بوڑھے ڈاکٹر کی آنکھوں میں آنسو بھرگئے تھے اس کی تشکر بھری آنکھوں نے مجھے خوش آمدید کہا۔

بابا سگریٹ بھی نہیں چھوڑوگے اور مروگے بھی نہیں۔ میرے دل نے جیسے سرگوشی کی تھی۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مرجائے مگر یہ تکلیف، یہ دکھ، یہ جسم کا عذاب، یہ کھانسی کا جہنم تو ایک مستقل تکلیف بن کر رہ گیا تھا۔ مجھے ان کے اس طرح سے کھانسنے پر شدید تکلیف ہوتی تھی۔

”اپریل بھی ختم ہوجائے گا۔ “ انہوں نے پانی کا گلاس ختم کرکے مجھے دیتے ہوئے کہا۔ اپریل سے پہلے انہیں اپریل کا انتظار تھا اور اب جب اپریل کے دن بھی تیزی سے گزر رہے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ ان کی جان انہی دنوں میں پھنسی ہوئی ہے۔

”ہاں بابا اپریل بھی نکل رہا ہے لیکن آپ فکر نہ کرو گرمی کا اچھا انتظام ہے۔ بجلی جاتی رہے گی مگر جنریٹر اور آپ کا ایئرکنڈیشنر کام کررہا ہے آپ کو تکلیف نہیں ہوگی۔ “

”نہیں موسم کا معاملہ نہیں ہے۔ میں نے گرمی میں ہی زندگی گزاری ہے۔ “ انہوں نے بڑی بڑی مگر سوکھی ہوئی آنکھوں کو پورا کھول کر بڑے زور سے کہا تھا۔ ”گرمی کیا کرلے گی میرا، یہ تو ہر سال آتی ہے اس سال بھی آئے گی چلی جائے گی۔ بس اپریل گزرجائے تو پتہ چل جائے گا۔ “

میرے چہرے پر ان کی نگاہ رُک گئی پھر آہستہ آہستہ انہوں نے انگلی کو میرے چہرے کی طرف لہراتے ہوئے کہا۔ ”وہ بوڑھا ہوگیا ہوگا میری طرح سے۔ نہ جانے زندہ بھی ہے کہ نہیں۔ میں تو زندہ ہوں، شاید وہ بھی زندہ ہو۔ “

ڈاکٹر کی عمر 70 سال سے اوپر ہی ہوگی۔ تمام عمر انہوں نے اس صحرا میں لگادی تھی۔ کسی بڑے شہر سے آکر یہاں رہ گئے تھے، اس وقت جب یہاں کچھ بھی نہیں تھا نہ ہسپتال، نہ دواخانے اور نہ ہی ڈاکٹر۔ میں اکثر سوچتا کہ اس بوڑھے کو سالوں پہلے جب شہر میں بھی ڈاکٹروں کی شدید کمی تھی نہ جانے اس صحرا میں، اس چھوٹے سے شہر میں، گاؤں میں صحرا صحرا دھول چاٹنے میں کیا مزا ملا تھا۔ شہر میں تو آج بھی ڈاکٹروں کی کمی ہے اور آج سے پچاس سال پہلے تو اور بھی کمی ہوگی۔ وہ سب کچھ چھوڑ کر یہاں آگئے تھے۔

مہینے میں دو دفعہ ڈاکٹر کی بیٹیاں باری باری آتی تھیں، ایک پہلے ہفتے میں دوسری تیسرے ہفتے میں۔ ضرورت کا سارا سامان لے کر کبھی اپنے شوہر کے ساتھ کبھی اپنے بچوں کے ساتھ۔ پورا دن وہ لوگ بابا کے پاس ہوتے، ساتھ کھاتے، ساتھ پیتے، صبح سے شام تک ان چند گھنٹوں میں ڈاکٹر جیسے کسی پھول کی طرح کھِلا کھِلا ہوتا۔

امجد بڑی خدمت کرتا، بالکل صاف ستھرا تیار رکھتا تھا انہیں، لیکن دونوں لڑکیاں پھر بھی آکر ایک ایک چیز دوبارہ صاف کرتی تھیں۔ باپ کو ٹہلاتیں، ساتھ ساتھ گھومتیں ان کے ذاتی کام کرتیں۔ صرف بیٹیاں ہی باپ کے ساتھ ایسا کرتی ہیں مگر دن نکل جاتا اور شام ہوجاتی اور پھر وہ گلے لگ کر بھاری قدموں سے اپنے بابا سے نہ چاہتے ہوئے بھی رخصت ہوجاتی تھیں۔ امجد کو بار بار ہدایات ملتیں۔ ایسا ہوجائے تو ایسا کرنا، یہ گھر کا نمبر ہے، یہ موبائل کا نمبر ہے، یہ آفس کا نمبر ہے نہ جانے کیا کیا اندیشے ہوتے ہوں گے دونوں کے دلوں میں۔ ہر دفعہ ان کے جانے کے وقت میرے دل پر بھی بوجھ سا ہوتا تھا۔

امجد بوڑھے ڈاکٹر کا پرانا ملازم تھا۔ اسے بہت اچھی تنخواہ مل رہی تھی۔ شہر میں سندیافتہ ڈاکٹروں کو بھی اتنے پیسے نہیں ملتے ہیں جتنے پیسے امجد کو دیے جارہے تھے۔ ڈاکٹر کے بچوں کا خیال شاید صحیح تھا کہ اب عمر کے آخری سالوں میں زیادہ سے زیادہ آرام دینے کے لیے جتنا بھی خرچ کیا جائے کم ہے، اچھا نوکر، اچھا گھر، جنریٹر، ایئرکنڈیشنر، پنکھا اور ضرورت کی سب چیزیں۔ میرے دل میں بوڑھے کے بچوں کے لیے بہت اچھے جذبات تھے۔

میں خود یہاں تھوڑے ہی مہینوں کے لیے آیا تھا۔ اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے ڈبلیو ایچ او نے مجھے اس صحرا میں پائے جانے والے سانپوں کے متعلق کچھ بنیادی تحقیقی کام کرنے بھیجا تھا۔ اس علاقے میں اموات کی دو بنیادی وجوہات تھیں، ایک ملیریا اور دوسرے سانپ کا کاٹنا۔ صحرا میں سانپ تھے اور صحرا میں موجود نخلستانوں میں ملیریا کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ۔ دنیا بہت آگے بڑھ گئی تھی، شہروں میں آسمان کو چھولینے والی عمارتیں تھیں، سڑکیں ایسی تھیں کہ کاروں پر سفر کرتے ہوئے لگتا تھا جیسے پانی پر پھسلتے ہوئے چلے جارہے ہیں، ایئرپورٹ ایسے تھے کہ جیسے خود چھوٹے موٹے شہر ہوں مگر ہزاروں سالوں سے بسنے والے ان گاؤں، دیہاتوں کے لوگ ویسے ہی پسماندہ تھے، ویسے ہی بیمار جیسے اوپر والے نے انہیں ہزاروں سال پہلے بنایا تھا۔

ڈامر کی لمبی چوڑی چکراتی ہوئی چار لائنوں، چھ لائنوں والی سڑکیں، بڑی بڑی عمارتیں، خاکی، دھلی دھلائی استری شدہ وردی پہنے ہوئے باوقار سپاہی، جنرل، آسمان پر اُڑنے والے ایف سولہ جیسے جہاز اور دھرتی کو ہلادینے والے ایٹم بم کے دھماکوں کے باوجود یہ زمین بانجھ تھی۔ یہاں کے لوگ غریب تھے، سانپ کے کاٹے ہوئے، ملیریا کے مچھروں کے مارے ہوئے۔ میرے دل میں غصہ اُٹھتا اور نفرت کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اُبلنے لگتا، ان زمینی خداؤں کے خلاف جو موت اور بدحالی کے آقا بن کر رہ گئے تھے۔ غریبوں، دھرتی کے بیٹوں، جوان بچّیوں، ماؤں اور بہنوں کی قسمت میں کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اداروں کی خیرات، یو ایس ایڈ کی امداد، جاپان، سویڈن اور دوسرے ممالک کی جانب سے آنے والی گرانٹ اور ان کے قرضوں سے دی جانے والی خوراک۔

ڈاکٹر سانپوں اور ملیریا کے بارے میں سب کچھ جانتا تھا۔ میں سب سے پہلے اسی سے آکر ملا۔ ڈاکٹر نے مجھے اپنے مکان میں ہی جگہ دے دی اورکہا کہ کوئی گھر تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، یہاں ہی اپنا ہیڈ کوارٹر بنالو چند مہینوں کی بات ہے۔ یہ گھر تو خالی ہی پڑا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں