بے نظیر بھٹو کے قتل کے عالمی محرکات


عالمی بالادستی کے سفاکانہ کھیل میں انسانی تاریخ میں ایسے بیشمار قتل ہوئے ہیں جنہوں نے انسانی تاریخ کے دھارے کو موڑ دیا ہے۔ 1919ء میں ایک آسٹرین شہزادے کے قتل نے دنیا کو عالمی جنگ میں دھکیل دیا۔ اسی طرح ماضی قریب میں رفیق حریری، جمال خشوگی، پیٹریک لوممبا اور چلی کے سلواڈور الاندے کا قتل چند ایسی مثالیں ہیں جو عالمی سامراجی طاقتوں کی سازشوں سے رونما ہوئے۔ محترمہ بنیظیر بھٹو کا قتل بھی اسی طویل اور گھناﺅنے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کا قتل پاکستان کی وجود پر سانحہ ڈھاکہ کے بعد دوسرا بڑا وار ہے۔ محترمہ بینظیر ایک منقسم اور منتشر پاکستان میں طالبانئزیشن اور مذہبی شدت پسندی کے خلاف واحد ڈیفنس لائن تھیں۔ ان کے قتل کے پیچھے ایک سے زیادہ ملکی اور غیر ملکی مفادات کا ایک ناپاک گٹھ جوڑ تھا۔ شاید یہ تاریخ کاجبر تھا کہ وہ عالمی سامراجیوں اور مقامی شدت پسندوں کا مشترکہ ہدف بنیں۔ بظاہر مختلف مفادات کی حامل قوتیں ان کے قتل پر اتحاد کر چکی تھیں۔ اور وہ ایک کثیر الجہتی مشترکہ بین الاقوامی سازش کا حصہ بنیں، جس کا طویل مدتی مقصد جنوبی ایشیا کی آنے والی سیاست پر اثر انداز ہونا تھا۔

درحقیقت پاکستان آج تک 5جولائی 1977ء کی جانکاہ فکری /نظریاتی اور سیاسی پولرائزیشن سے باہر نہیں نکل سکا۔ آج بھی پاکستان اپنی فکری اور نظریاتی اساس میں ضیاءالحق کی مذہبی شدت پسندی اور ذوالفقار علی بھٹو کی سوشل ڈیموکریسی کی ایک ناتواں لہر کے درمیان اپنے وجودی معرکے سے دوچار ہے۔ پاکستان کا آج کا تمام تر سیاسی اور سماجی انتشار 5جولائی 1977ءکا تاریخی تسلسل ہے۔ پاکستان آج بھی ان دو مخالف کیمپوں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف ضیا الحق کے نظریاتی وارث ہیں، وہ چاہے مسلم لیگ کی نام نہاد پارلیمانی جمہوری روایت کے حامل ہوں یا تحریک انصاف کی طالبان نواز حکومت جو درحقیقت طالبان ہی کا ایک سیاسی ونگ ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی روشن خیال ترقی پسند اورمذہبی رواداری پر مبنی قوتیں ہیں۔ جو انتہائی نامساعد حالت میں امن اور انسان دوستی کی جدوجہد میں شریک ہیں۔

محترمہ بینظیر کا قتل اصل میں پاکستان کے اندر اس سوشل ڈیموکرٹیک سوچ کا قتل تھا۔ جو پاکستان کو اکیسویں صدی کی دنیا میں ایک مہذب مقام دے سکتی تھی۔ محترمہ بینظیر بھٹو ایک جمہوری، ترقی پسند اور روشن خیال پاکستان کی وارث سیاسی نسل کی آخری نمائندہ تھیں۔ جن کے قتل سے پاکستان ایک گہری تاریکی کے گڑھوں میں لڑھک گیا۔

محترمہ بینظیر بھٹو اکیسویں صدی کے ایک انتہائی پسماندہ، مذہبی شدت پسندی اور فرقہ واریت کے شکار ملک کی انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور جدید نظریات کی حامل لیڈر تھیں۔ جو اپنے کیرئیر کے آخری ایام میں عالمی سیاسی معاملات میں اپنے لیے ایک اہم مقام پیدا کرچکی تھیں۔ ان کا شمار عالمی مدبروں میں ہوتا تھا۔ وہ اپنی جلاوطنی کے دور میں عالمی فورمز میں کثرت سے شریک ہوتی تھیں۔ اور اپنی سیاسی سفارتی اور نظریاتی اہلیت کی وجہ سے دنیا بھر کے سفارتی اور سیاسی حلقوں میں بڑے احترام سے دیکھی جاتی تھیں۔ محترمہ بینظیر بھٹوکا جرم ان کی اہلیت اور روشن خیالی تھی وہ پاکستان میں قدامت پسندی اور مذہبی دقیانوسیت کے خلاف آخری دفاعی لائن تھیں۔ اور بدقسمتی سے جب پاکستان عالمی سامراجی طاقتوں کی باہمی کشکمش کا میدان جنگ بنا تو اس وقت صرف محترمہ بینظیر بھٹو ہی وہ واحد لیڈر تھیں۔ جو اس خطے کے امن اور سلامتی کی ضمانت دے سکتی تھیں۔ لیکن یہی وہ تاریخی لمہ تھا جب سپرپاور کی باہمی کشکمش میں اندورنی اور بیرونی رجعت پسند طاقتوں کے مفادات محترمہ بینظیر بھٹو کو منظر سے ہٹانے پر یکجا ہو گئے۔ کیونکہ محترمہ بینظیر بھٹو کی موجودگی میں پاکستان اس عالمی تنہائی اور سیاسی انتشار کا شکار نہ ہوتا جس سے وہ اج گذر رہا ہے۔

محترمہ بینظیر بھٹوکے قتل سے پاکستان ایک مہذب اور منظم جمہوری کلچر سے یکسر محروم ہو گیا۔ محترمہ کے ساتھ ساتھ وہ عہد بھی دفن ہوگیا جو سیاسی رواداری، تہذیب اور برداشت کی نمائندگی کرتا تھا۔ محترمہ بینظیر بھٹو ایک انتہائی اعلیٰ تہذیبی اور سیاسی ماضی کی پیداوار تھیں۔ وہ 1960ء کی انقلابی شورش کی نوجوان شاہد تھیں۔ انہوں نے اپنی والد کی عملی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے 1960ء کی عالمی جمہوری بیداری کے لہر کو اپنے عہد طفلی میں بڑے قریب سے دیکھا تھا۔ کیونکہ وہ 1970ء کی دہائی میں یورپ کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم رہ چکی تھیں۔ اس وقت پورا یورپ ایک انقلابی ہیجان سے دوچار تھا۔ ملکوں ملکوں ہڑتالیں ہورہی تھیں۔ اجتجاجی مظاہرے ہو رہے تھے۔ یورپ کے دارالخلافے طلبا، مزدورں اور محنت کشوں کے ہنگاموں کے زد میں تھے۔ نوجوان نسل انقلاب کے گیت گا رہی تھی۔ ایک عہد کروٹ لے رہا تھا۔ ایک مضطرب ہلچل تھی جو امریکہ سے لیکر جاپان کی یونیورسٹیوں تک پھیل چکی تھی۔ ظاہر ہے اس عہد کے انمٹ اثرات محترمہ کے اولین بچپن پر اپنے نقوش مرتب کر چکے تھے۔ خاص طور پر جب خود ان کا والد اس عالمی شورش کا ایک جاندار کردار رہا ہو۔ انقلاب اس دور کا سب سے مقبول نعرہ تھا۔ اس دور میں بڑے بڑے خوبصورت لوگ انقلاب کے لیے اپنی جانیں ایک رومانوی لگن کے ساتھ پیش کر رہے تھے۔ برطانیہ کا کرسٹو فر کاڈویل ہو٬ کیوبا کا چی گویرا ہو٬ افریقہ کا پیٹرک لوممبا ہو٬ یا چلی کا الاندے ہو سب انقلاب کی لگن میں اپنی اپنی جانوں کے نذرانے دے رہے تھے۔ محترمہ نے یہ عظیم رزمیہ اپنے بچپن میں برپاہوتے دیکھااور ان کی نظریاتی تربیت میں اس عہد نے بڑے توانا اثرات مرتب کئے۔ مگر بدقسمتی سے جب وہ خود اس ملک میں برسراقتدار آئیں۔ تو وہ عالمی انقلابی لہر اتر چکی تھی اور محترمہ کو اپنا راستہ ایک انتہائی رجعتی اور رد انقلابی ماحول میں ڈھونڈھنا پڑا۔ محترمہ کا دور فری مارکیٹ اکانومی، پراویٹائزیشن، ریگن اور مارگریٹ تھیچر کی دائیں بازو کی پالیسوں کا اور دیوار برلن کے گرنے کا دور تھا۔

محترمہ بینظیر بھٹوکے قتل نے بھٹوز کی کرشماتی سیاست اور قیادت کا یکخلت خاتمہ کردیا۔ اس سے پاکستان کی سیاست کے اندر جو خلا پیدا ہوا وہ بدقسمتی سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ڈسٹرکٹ کونسل سطح کی قیادت اور پارٹی کے اندر جمہوری کلچر کی عدم موجودگی کی وجہ سے پورا نہ ہوسکا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اپنی سیاسی ارتقاء کی تاریخ میں مارشل لاﺅں سے مسلسل تصادم اور ٹکراﺅ کے باعث اپنے اندر ایک مضبوط اور مربوط جمہوری ڈھانچہ پیدا نہ کرسکی جو محترمہ کی ناگہانی دوری کی صورت میں ایک متبادل جمہوری قیادت سامنے لاسکتی۔ ایسے میں پارٹی کی سطحی لیو ل کی قیادت نے الیکشنوں میں کامیابی تو حاصل کر لی۔ مگر نااہلی اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے ایک عظیم جمہوری پارٹی کا تیاپانچہ کرکے رکھ دیا۔ پاکستان کی تاریخ کی سب بڑی جماعت سمٹ کر ایک صوبے کی حد تک محدود ہو کر رہ گئی۔ اور آج اس کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔

آج محترمہ بھٹو کی گیارہویں برسی ہے۔ آج جہاں دنیا بھر میں محترمہ کو زبردست خراج تحسین پیس کیا جارہا ہے وہاں یہ سوال بھی بڑی سنجیدگی سے اٹھا جارہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کے سب سے معتبر خاندان” بھٹوز”کے سیاسی ورثے کا مقدر کیا ہوگا۔ آیا پاکستان پیپلز پارٹی کا وہ شاندار ماضی جوکہ تیسری دنیا کے کسی بھی ملک میں جمہوری جدوجہد میں سب نمایاں رہا ہے۔ جس نے اپنے اپنے عہدکے تین فوجی آمروںسامنا کیا ہے، جس کا لیڈر آج کی مصلحت پسند دنیا میں پھانسی پر جھول گیا۔ جس کی بیٹی اپنی موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مردانہ وار لڑتی ہوئی شہید ہوگئی۔ اس کا ورثہ ماضی کی گرد کا حصہ بن جائے گا۔ یا پھر بلاول بھٹو کی شکل میں ایک نئے ذوالفقار علی بھٹو کو جنم دے گا۔

Facebook Comments HS