ایک نہتی لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلاول بھٹو کا انیس دسمبر 2018 کا ایک ٹویٹ

ڈرتے تھے بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے۔ ڈرتے ہیں ان کے حواری اب اس کے نام سے

اس کی سوچ سے۔ اس کے نظریے سے
اس کے ذکر سے۔ اس کی فکر سے
اس کی وراثت سے۔ اس کے وارث سے
اس کے نام سے۔ اس کے کام سے
اس کی آن سے۔ اس کی شان سے
اور آج بھی ڈرتے ہیں بی بی شہید سے

وہ بی بی جسے 27 دسمبر 2007 کی خونین شام، راولپنڈی کی ایک سڑک پر سر عام قتل کر دیا گیا۔ وہ بے نظیر جو وفاق کی علامت اور چاروں صوبوں کی زنجیر تھی۔ اس کے قتل کی سازش رچنے والے سمجھے تھے کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینا کافی نہیں تھا بلکہ اس کی وراثت کا خاتمہ ضروری ہے۔ لیکن انھیں کیا معلوم کہ شہیدوں کی وراثت منتقل ضرور ہوتی ہے، ختم نہیں ہوتی۔ کسی کو یقین نہ ہو تو کربلا کی تاریخ اٹھا کر صرف ایک نظر دیکھ لے۔

لیکن آمریت پسند سوچ کا تاریخ سے کیا واسطہ، ورنہ فرعون، نمرود اور شداد کا تذکرہ ہی ان کی عبرت کے لئے کافی تھا۔

منیر نیازی نے کہا تھا۔
آدمی تنہا کھڑا ہے ظالموں کے سامنے!

ہر قبول شدہ اصول، مروج دستور اور واقع کو چیلنج کرنے کا خواب دیکھنے سے بھی آنکھیں انکاری ہوئیں۔ زبانیں گنگ، ماضی کی جرأتیں خاموش، سچے لوگ مر کھپ گئے، شور و غوغا کے علم بردار پاکستان کے آسمانوں پہ چھا گئے، تاریخ کی روشن مثالوں کو انھوں نے اپنے نفس پرستانہ تقدس کے آئنوں میں استعمال کیا۔ عامتہ الناس عقیدے کی خود ساختہ شدتوں میں پیدا ہو رہے اور مر رہے ہیں اور

آدمی تنہا کھڑا ہے ظالموں کے سامنے!
شہادت کے مرتبے پر فائز ہونے والی چہیتی بیٹی کو اس کے عظیم باپ نے لکھا تھا۔

” میری بیٹی جواہرلال نہرو کی بیٹی کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔ اندرا نے تیرہ سال کی عمر میں اس زمانے کی سیاست میں اپنا کردارادا کیا تھا، لیکن تب تک وہ سیاست کی آگ میں سے ہو کر نہیں گزری تھی، جب کہ تمھارے گرد یہ آگ اوائل ہی میں جلا دی گئی ہے۔ یہ آگ تباہ کن اور ہول ناک ہے۔ مجھے اگر کسی طریقے سے سیاست کے میدان سے ہٹا دیا گیا، تو مجھے یقین ہے کہ میرے مقابلے میں تم زیادہ بہتر طور پر یہ جنگ لڑ سکو گی۔ تمھاری تقاریر، میری تقاریر کے مقابلے میں زیادہ فصیح و بلیغ ہوں گی۔ تمھاری جد و جہد میں زیادہ توانائی اور جد و جہد کا جوش ہو گا۔ تمھارے اقدام زیادہ جرأت مندانہ ہوں گے“۔

وہ ذوالفقار علی بھٹو کی بہادر بیٹی تھی اور ان لوگوں کی ہم نشین جنھوں نے حرماں کی زنجیریں توڑنے کا علم اٹھایا اور الم سے گذرتے، ایک وہبی کیفیت میں انھوں نے غربت کی تعریف متعین کرتے ہوئے کہا، غربت کا مطلب یہ ہے کہ عین اس وقت جب بچے پروان چڑھنے لگیں، آپ کے بچوں کو آپ سے چھین لیا جائے، آپ کی بیوی کو جلد بوڑھا ہوتے دیکھنے اور آپ کی ماں کی پیٹھ کو زندگی کے بوجھ تلے جھکتا اور پھر اندر جانے کی اجازت نہ ملنے کا نام ہے۔ یہ بھوک، مایوسی، سوگ اور بے اثری کا نام ہے جس میں کسی قسم کا حسن نہیں۔

خون توبے پناہ بہا اور بہہ رہا ہے مگر اس المیے کا رشتہ اسی کی دہائی سے پاکستان کے خاکی اور نوری عناصر، پوشیدہ اسلامسٹوں اور پاکستان کی دینی و مذہبی جماعتوں کے نظریاتی سفرکی انتہا پسندیوں سے ہے؛ جس نے وطن کی دھرتی کے ہر ذرے کے اوپر بندوق کی نوک چبھوئے رکھی۔ صرف وقت ہی ان سے پاکستان اور پاکستانیوں کی جان چھڑا سکتا ہے۔ انسانی جد و جہد ان لوگوں اور جماعتوں کی دہکائی ہوئی آگ بجھا نے میں چڑیا کی چونچ سے ٹپکے ہوئے پانی کے ایک قطرے سے زیادہ کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی۔

یہ بات تو واضح طور پر سمجھ میں آ سکتی ہے، کہ افسر شاہی کے شہزادوں، اعلیٰ فوجی افسروں، احساس کمتری کی شدت سے احساس برتری میں مبتلا ہو جانے والے سیاسی بالشتیوں اور قانونی تحفظ اور استثنیٰ کے ذریعے عزت و آب رُو پانے والے عہدوں پر براجمان لوگوں کی ایک بڑی تعداد سیاستدانوں کو زمین پر رینگنے والی مخلوق سمجھتے ہیں؛ کیوں کہ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونے والوں کو اعلیٰ عہدوں تک پہنچانے کی تربیت کے دوران یہی باور کرایا جاتا ہے، کہ وہ عام خاکی اور فانی انسانوں سے کہیں بہتر، برتر اور اعلیٰ نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور لوگوں پر حکمرانی کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔

اسی مائنڈ سیٹ نے بی بی شہید کی پوری زندگی اسے پاکستان کی خدمت نہ کرنے دی مگر شکست کھائی، بد نام ہوئے، نا کام ٹھہرے کہ بی بی شہید نے پاکستان کی خدمت کر کے دکھائی۔ پاکستان ہی نہیں، عالم اسلام کی ممتاز ترین شخصیت تسلیم کی گئی، وہ بین الاقوامی استعارہ بنی اور آج اس کے بد ترین مخالف کردار اسی کرہ ارض پر منہ چھپاتے پھرتے ہیں اور ان کے لئے کوئی جائے اماں نہیں۔

پھانسی کی کوٹھڑی سے ذوالفقار علی بھٹو کے ایک سندیسے کی چند سطریں ملاحظہ ہوں۔ ”یہ بات کرتے ہیں۔ میں جو کچھ لکھتا ہوں وہ کم زوریوں سے پر ہے۔ میں بارہ مہینے سے قید تنہائی میں ہوں اور تین مہینے سے موت کی کوٹھڑی میں ہوں اور تمام سہولتوں سے محروم ہوں، میں نے اس خط کا کافی حصہ نا قابل برداشت گرمی میں اپنی رانوں پہ کاغذ رکھ کر لکھا ہے۔ میرے پاس حوالہ دینے کا کوئی مواد یا لائبریری نہیں ہے۔ میں نے نیلا آسمان بھی شاذ و نادر ہی دیکھا ہے۔

حوالہ جات ان چند کتابوں سے لئے گئے ہیں جن کو پڑھنے کی اجازت تھی اور ان اخبارات و رسائل سے لئے گئے ہیں جو تم یا تمھاری والدہ اس دم گھونٹنے والی کوٹھڑی میں مجھ سے ہفتے میں ایک بار ملاقات کرنے کے وقت ساتھ لے کر آتی ہو، میں اپنی خامیوں کے لئے بہانے نہیں تراش رہا، لیکن اس قسم کے جسمانی اور ذہنی حالات میں گرتی ہوئی یاد داشت پر بھروسا کرنا مشکل ہوا کرتا ہے۔ میں پچاس سال کا ہوں اور تمھاری عمر مجھ سے نصف ہے۔ جس وقت تم میری عمر کو پہنچو گی، تمھیں عوام کے لئے اس سے دگنی کام یابی حاصل کرنی چاہیے، جس قدر کہ میں نے ان کے لئے حاصل کی ہے، یہ غلام مرتضیٰ جو میرا بیٹا اور وارث بھی ہے، وہ میرے ساتھ نہیں ہے اور نہ ہی شاہنواز اور صنم میرے ساتھ ہیں۔ میرے ورثے کے حصے کے طور پر اس پیغام میں ان کو بھی شریک کیا جائے‘‘۔

سب سے ز یادہ افسوس کی بات ہے کہ ہم جمہوری سیاست کو بھی اقتدار کی دوسری لڑائیوں کی طرح ایک لڑائی سمجھتے ہیں اور ایسی جنگ قرار دیتے ہیں، جس میں کچھ بھی کرنا جائز ہے مگر یہ حقیقت نہیں۔ پاکستان میں جمہوری سیاست کی بحالی کے باوجود اگر غیر جمہوری عناصر غلبہ حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں، تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ ہم نے اور ہماری سیاسی جماعتوں نے جمہوری سیاست کے تقاضوں کا احترام نہیں کیا، جس کی وجہ سے غیر جمہوری عناصر کو آگے بڑھنے کی سہولت نصیب ہوئی اور انھوں نے اس سہولت سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

غیر جمہوری عناصر آپس میں متحد اور متفق ہیں، جب کہ جمہوریت پسند عناصر اختلافات اور آویزشوں کے نرغے میں پھنسے، ایک دوسرے پر کرپشن اور بد دیانتی کی افواہوں کے الزامات کی بھرمار کرتے ہوئے، یہ نہیں سوچتے کہ وہ اپنے اس عمل کے ذریعے جمہوری سیاست کے خلاف سازش کر رہے ہیں اور اپنے دشمنوں کی راہیں ہم وار کر رہے ہیں۔ اس معاملے میں ا ن کا کردار خود کش حملہ آوروں کے کردار سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔

بے نظیر پاکستان کے محکوم عوام کے حقوق کی بازیابی کے لئے کہاں کہاں نہ گئی، کیا کیا نہ کیا۔ جمہوریت کا سندیسہ لے کر میاں نواز شریف کے پاس گئی، صرف اور صرف پاکستان کے لئے، پاکستانی عوام کے لئے، نواز شریف سے کہا آؤ! میں بھولتی ہوں، میں برداشت کرتی ہوں، میں اپنے زخم سینے لگی ہوں، ساتھ چلو وطن کی دھرتی ہمیں بلا رہی ہے۔ جس نے ضیا کی موت پر کہا تھا۔ میں اس کا معاملہ اللہ کے سپرد کرتی ہوں۔ جو ملک کے آئین اور آئینی سفر سے کھلواڑ کا اندازہ کرتے ہوئے اس وقت کے سپریم کورٹ کو مخاطب کر کے کہتی ہے۔ مجھے آپ پر مکمل اعتماد ہے می لارڈ! اور پھر اسی فیصلے پر تختہ دار کو سرفراز کر دیتی۔

پاکستان کی ساری تاریخ میں نیکی کے آسیبوں اور طاقتوروں کی مقدس نفس پرستیوں کے ملبے تلے انسانیت روندی گئی، رسوا ہوئی، اس کی تدفین کر دی گئی، معلوم نہیں وہ لوگ کون ہیں جو ان قرضوں کی ادائی کی بات کرتے ہیں، جو واجب الادا بھی نہیں۔ یہاں پاکستان میں تو صرف ایک قومی ذریت نے قرضے چکائے، اس کا نام ہے بھٹو خاندان، بی بی کی یاد۔

کچھ لوگوں کے لئے جو چڑھائی چڑھنے اور اترائی اترنے کے قابل نہیں ہوتے راہیں ہموار کرنی پڑتی ہیں، جیسے وطن عزیز میں چار مرتبہ مارشل لاوں کی راہیں ہموارکی گئیں اور پھر ان سے نجات پانے کے لئے بھی چار مرتبہ سول حکومتوں کی راہیں ہموار کی گئیں۔ جیسے پیپلز پارٹی کو اقتدار سے دور رکھنے اور اسلامی جمہوری اتحاد کے لئے خفیہ اور آہنی ہاتھوں نے راہیں ہموار کی تھیں۔ جیسے پاکستان کے کالے کوٹوں کی تحریک نے عدلیہ کی آزادی کی راہیں ہموار کیں اور تا حال یہ کھیل جاری ہے۔ اصل جھگڑا ہی یہ ہے کہ پاکستان کی دھرتی پہ اس کے باشندوں کی طے کردہ حکمرانی کا حق کس نے دینا ہے؟ پاکستان کی سرزمین پر جنھیں یہ حق ہے، ان کی مسلسل کردار کشی کا باب کیوں بند نہیں ہوتا۔

عباس اطہر مرحوم نے کہا تھا۔
سارے ملک، گنہ گاروں کے میرے ہیں
ساری قومیں، مجبوروں کی میری ہیں
جتنے نام ہیں، گم نامی کے میرے ہیں

میں بے بس ہوں
سارے رسے
اس کے ہاتھ میں پکڑے ہیں
جس نے صبح کا تین دفعہ انکار کیا
اور ساری گردنیں میری ہیں
تاریکی کے تخت پہ جس نے
رسہ گلے میں باندھ کے بھی
اقرار کیا ہے

میرا کوئی نام نہیں ہے
میں نے پھانسی کے تختے پر جنم لیا ہے
رات نے میری گواہی دی ہے
صبح نے میری صفائی دی ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •