پولیس اتنا آسان ہدف کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمیں جانتے نہیں ہو، دیکھ لیں گے تمھیں، یہ تمہارے افسران ہم سے رشوت لیتے ہیں، یہ وہ چند شہرہ آفاق جملے ہیں، جو کہ پولیس اہل کاروں کو ہر گلی کوچے، نکڑ پر سننا پڑتے ہیں۔ آخر وجوہ کیا ہیں؟ کیا پولیس اتنی ہی بری ہے؟ سردی، گرمی، بارش میں ہمہ وقت شہریوں کے لئے دست یاب وردی میں ملبوس انسان اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے ڈیوٹی کرنے کے بعد ذہنی طور پر مفلوج ہو چکا ہوتا ہے، لیکن ہم اسے انسان ماننے کے لئے کسی بھی طور تیار نہیں ہیں۔

چوک، چوراہوں میں کھڑا اہل کار، ہر کسی کا آسان ہدف ہوتا ہے۔ ایک عام اہل کار قانون کے مطابق کام کر کے بھی افسروں کے سامنے بے عزت ہی ہوتا ہے۔ ایک پولیس والے سے میں نے پوچھا بڑی گاڑیاں کیوں نہیں روکتے ہو؟ کہنے لگا چند روز پہلے ایک بڑی گاڑٰی روکی، تلاشی لینے لگا شراب کی بوتلیں بر آمد ہوئیں، تو وہ صاحب کہنے لگے کہ تمھارے افسر ویک اینڈ پہ شراب پینے میرے پاس آتے ہیں۔ پولیس والے نے وائرلیس چلا دی۔ خیر تھوڑی دیر میں افسروں کی طرف سے سخت قسم کی جھاڑ پلائی گئی اور قانون کو اپنے گھر کی لونڈی سمجھنے والا شخص مسکراتا ہوا، اپنی بوتلیں لے کر وہاں موجود پولیس اہل کار کو منہ چڑاتا ہوا روانہ ہو گیا۔

اس پولیس والے کا کہنا تھا، کہ میں نے اس دن سے تہیہ کر لیا ہے، کہ بڑی گاڑی میں کوئی میرے سامنے خود کش جیکٹ پہن کے بھی بیٹھ جائے، میں نے نہیں روکنا۔ جان ہتھیلی پر رکھے اہل کاروں کو اس بات کا یقین کامل ہوتا ہے، کہ ہمارے ساتھ کچھ بھی ہو جائے، افسروں نے ساتھ کھڑا ہونے کی بجائے فوری فوری نوکری سے فارغ کرنے کی سفارش کرنی ہے۔ پولیس کے بعض افسر اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے ڈیوٹی دینے والے جوانوں کو شودر سمجھتے ہیں۔ گذشتہ دورحکومت میں پولیس اہل کاروں کے علاج معالج کے لئے چودھری نثار علی خان نے اعلی معیار کا اسپتال بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، جس کا ابتدائی نقشہ بھی بنوا لیا گیا تھا اور فنڈز بھی جاری ہوئے، لیکن پولیس کے اعلی افسروں کی عدم توجہی کی بنا پر وہ منصوبہ ابھی تک آگے نہیں بڑھ پایا۔

چند روز پہلے ایک تھانے میں بیٹھا تھا، وہاں کے منشی سے گپ شپ چل پڑی۔ تبدیلی کی باتیں ہونے لگیں تو وہ صاحب کہنے لگے کہ ہم کیا کریں، افسروں کی فرمایشیں پوری کرنے کے لئے پیسے تو لینے پڑتے ہیں۔ استفسار پر انھوں نے بتایا کہ صاحب نے نیو امریکن پسٹل کی فرمایش کی ہے، جس کی مارکیٹ میں قمیت ڈھائی لاکھ روپے ہے۔ پھر وہ بتانے لگے کہ کیسے اور کہاں سے وہ پسٹل لی۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایسے کام کروا کے یہ اہل کار بھی افسروں کو یرغمال بنا لیتے ہیں اور یوں علاقہ میں اپنی مرضی کرتے ہیں۔

آپ کو پولیس میں نوے فی صد اہل کار یہی بات کرتے نظر آئیں گے، کہ ادارہ اسٹینڈ نہیں کرتا۔ پولیس اہل کاروں پر جب سیدھی فائرنگ کی جا رہی ہو اور وہ جوابی کارروائی کریں تب بھی معاشرے کا ہر فرد قصور وار ان اہل کاروں کو ٹھہرا کے، اس بات کی توقع کر رہا ہوتا ہے کہ اس گولی کے بدلے پولیس والے کو پھول پھینکنے چاہیے تھے۔ اور تو اور ان کے افسر بھی بجائے اپنے اہل کاروں کو اسپورٹ کرنے کے، میڈیا پر ان کے خلاف انکوائری کی باتیں کر رہے ہوتے۔

وفاقی دار الحکومت کو لے لیں، یہاں کے ناکے دیکھیں؛ کہیں پر بارش یا سردی سے بچنا تو دور کی بات، ان کے بیٹھنے کی بھی کوئی جگہ آپ کو دکھائی نہیں دے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کا ادارہ اپنے جوانوں کی ذمہ داری لے، اور ہتھیار پکڑا کر روڈ پر وردی میں ملبوس اہل کار کو روبوٹ سمجھنے کی بجائے انسان کا درجہ دے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں